ZIDDI · ORIGINAL URDU NOVEL

Ziddi (ضدی) — Episode 09

Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 9

قسط 9 · کہانی

حاشر اس کے بازو پر ہاتھ رکھتا بولا۔۔کونسا سکون۔۔؟حیدر نے حیران ہو کر اس سے پوچھتے حنان کو دیکھا تو اس نے بھی مسکراتے ہاں میں سر ہلایا۔۔یہ جو آپ نے ایک ہفتے کے لیے حویلی کے ملازموں کو چھٹی دی ہے نا آپ نہیں جانتے آپ نے کتنا بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔۔حاشر کے کہنے پر حیدر نے حنان کی طرف دیکھا۔۔یار پتہ ہے ہم نے نا اپنے گھر کی عورتوں کو ضرورت سے زیادہ سہولتیں دے کر سروں پر چڑھا لیا ہے اور ان کے خالی دماغوں کو شیطان کا گھر بنا دیا ہے۔۔پانی کا گلاس پینے تک ان کو ملازم رکھ کر دیے ہوئے ہیں فارغ رہ کر سارا دن سوائے سازشیوں کے ان کے دماغوں میں آتا ہی کچھ نہیں۔۔یاد کر ماں کے ہوتے صرف کچن میں رشیدہ آپا ان کے ساتھ مدد کرواتی تھی باقی ساری فیملی کے لیے ماں خود کھانا تیار کرتی تھیں۔۔اور اب دس ملازم کچن میں کام کرتے ہیں اور ہماری ڈھیل کا یہ حال ہے کہ تین ٹائم ٹیبل پر کھانا کھانا ان عورتوں نے حرام کیا ہوا ہے۔۔اوپر سے پھپھو اور چچی نے دادی کے ساتھ مل کر حویلی میں الگ ہی محاذ کھولا ہوا ہے۔۔پوری حویلی کا سکون تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔۔

گھر کی عورتیں اتنی ڈھیٹ ہو چکی ہیں کہ ان کو شوہروں اور بڑوں کا ڈر رہ ہی نہیں گیا۔۔دادا جان اور بابا جان نے ویسے ہی گھر کے کسی معاملے میں نہ بولنے کی قسم کھا لی ہے۔۔اسی چیز کا پھپھو اور چچی پورا فائدہ اٹھا رہیں ہیں۔۔ابھی میری بابا جان سے یہی بات ہو رہی تھی وہ بھی تمہارے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں۔۔بابا جان کہہ رہے تھے کہ حیدر سے بولنا صبح سوائے گارڈز اور ایک ڈرائیور کے تمام ملازموں کو خرچہ پانی دے کر پندرہ دنوں کے لیے گھروں میں چھٹی پر بھیج دے تاکہ گھر کی ساری عورتوں کے خالی ذہنوں سے شیطان نکالا جائے۔۔حنان نے اسے تفصیل سے بتایا۔۔حیدر کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا اور اگر آپ کی بیویوں نے شور مچایا تو۔۔حیدر ان دونوں کو دیکھتا بولا۔۔اسی لیے تو صبح یہ فیصلہ تم پوری حویلی کے سامنے کرو گے تاکہ کسی کو بھی بولنے کی جرات نہ ہو اور ویسے بھی اس حویلی میں ضرورت سے زیادہ سہولتیں بھی تم نے ہی مہیا کی ہوئی ہیں اور اب ختم بھی تم ہی کرو گے۔۔باقی بیویوں کی ہر جائز ضرورت کا ہم خود خیال رکھ لیں گے۔۔

حیدر نے کچھ سوچتے اثبات میں سر ہلایا واقعی ان کی حویلی کے حالات عورتوں نے بہت خراب کیے ہوئے ہیں حیدر نے سب کی سہولت کے لیے اتنی ملازمہ رکھ کر دی ہوئیں تھیں اور اسی کی بیوی کے ساتھ حویلی میں ملازموں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے اور سب نے دیکھتے اور سنتے ہوئے بھی آنکھیں اور کان بند کیے ہوئے ہیں۔۔بےاختیار بھجتی آنکھیں اور کملاتا معصوم سا چہرہ ہیزل آنکھوں میں سمایا۔۔پتہ نہیں محترمہ سو گئی ہوگی یا پھر سے کوئی نا کوئی مہم سر انجام دے رہی ہو گی کیونکہ کرنا تو اس نے ہمیشہ میری بات کا الٹ ہی ہوتا ہے۔۔حیدر کا دھیان اس کی طرف گیا۔۔یارر آج خود کو حقیقت کے آئینے میں دیکھا تو مجھے سچ میں خود پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔۔حنان کے شرمندہ سے لہجے میں بولنے پر حیدر اور حاشر نے چونک کر اسے دیکھا۔۔کیا ہوا بھائی۔۔؟حیدر نے پوچھا۔۔پتہ ہے بابا جان اور ہم ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ روشانے اس حویلی کی بیٹی ہے کیا کبھی ہم نے حقیقت میں اسے اس حویلی کی بیٹی سمجھا ہے۔۔

میں کسی کی بھی بات نہیں کرتا میں اس حویلی کا بڑا بیٹا ہوں خود کی بات کرتا ہوں میں اسے ہمیشہ یہ کہتا آیا ہوں کہ وہ میری بیٹیوں کی طرح ہے۔۔وہ نازیہ اور عائزہ کی طرح مجھے عزیز ہے۔۔کیا کبھی بھی میں اپنے اس بولے گئے فقرے پر پورا اترا ہوں۔۔کیا کبھی میں نے اسے ان کی طرح پروٹیکٹ کیا ہے۔۔وہ جب کبھی بھی میرے پاس مدد کے لیے آئی میں نے ہمیشہ اپنا دامن چھڑا کر اسے بابا کے پاس بھیجا۔۔میرے سامنے ہماری ہی حویلی میں باہر سے دوسرے لوگ آ کر اس پر ظلم کرتے ملازموں جیسا سلوک کرتے کیا کبھی ایک لمحے کے لیے بھی میں نے اس کے لیے سٹینڈ لیا۔۔آج تک زبان سے کہہ کر اپنا فرض ادا کرتا آیا ہوں کہ روشانے میری بہن بیٹی کی طرح ہے۔۔جب اس کا نکاح باسل کے ساتھ طے پایا تو وہ کتنا روئی تھی میرے پاس آکر کہ اسے اس انسان سے نکاح نہیں کرنا۔۔کتنی اس نے میری منتیں کی تھیں کہ میں بابا جان سے بات کروں لیکن میں نے تب بھی اسے بابا کا رستہ دکھایا تھا۔۔پھر اس نے حاشر کی کتنی منتیں کیں کہ یہ بابا جان سے بات کرے لیکن اس کہا کہ وہ تم سے یا خود جا کر بابا جان سے بات کرے۔۔

تم تو یہاں تھے نہیں پھر ہماری ہی نظروں کے سامنے اسے ہمیشہ کی طرح اس کی ماں کا حوالہ دیتے سائن کرنے پر مجبور کر دیا اور اس کی رہی سہی ہنسی بھی ہم سب نے فرض کے نام پر چھین لی۔۔یار کیا میری بہنوں یا بیٹیوں میں سے کوئی میرے پاس آکر روتی تو میں پھر بھی یہی فیصلہ کرتا جو اس کے بارے میں کیا۔۔سب سے بڑی بات کہ لڑکے کے گھر والوں کا سلوک بھی ہماری نظروں کے بالکل سامنے ہو۔۔پھر تو جیسے ہم نے ان کے ہاتھ میں اس بچی پر ظلم کرنے کا لائسنس دے دیا۔۔اور خود چپ چاپ سائیڈ پر ہو گئے۔۔وہ درندہ ہمارے سامنے ہمارے ہی گھر آکر اس پر اتنا ظلم کرتا اپنی درندگی دکھاتا اور ہم اس کی ایک دھمکی سے ڈر کر چپ چاپ سب ہونے دیتے۔۔کیا یہ سب اس حویلی کی بیٹی کے ساتھ ہوتا تو بھی ہم اس درندے کی دھمکیوں سے ڈر کر چپ چاپ اپنی بہن بیٹی پر ظلم ہوتا دیکھتے رہتے۔۔پتہ ہے ماں کے جانے کے بعد میں نے کبھی اسے کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا اور اس کے زبردستی نکاح کے بعد تو میں نے کبھی اسے مسکراتے بھی نہیں دیکھا۔۔وہ ہمارے سامنے چچی کی ساری فیملی کا ظلم چپ چاپ برداشت کرنے لگی۔۔

ہمارے سامنے اس کے کردار کی دھجیاں اڑائی جاتی اسے وہ باتیں بھی سنائی جاتی جن کا اسے اتنی سی عمر میں مطلب بھی نہیں پتہ تھا۔۔یہاں تک کہ ہمیں اسی گھر کے مردوں کو لے کر ہی اس کے کردار پر کتنا گند اچھالا جاتا ہم پھر بھی خاموشی سے سنتے رہتے کیونکہ وہ ہر دفعہ صرف ایک ہی دھمکی دیتا اور ہماری زبانوں کو تالا لگا دیتا۔۔اتنا کچھ سہنے کے بعد وہ پھر بھی کبھی ایک حرف شکایت کا اپنے لبوں پر نہیں لائی۔۔وہ سب یاد کرتے حیدر کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔۔شکوہ تو وہ پہلے بھی نہیں کرتی تھی مجھے نہیں یاد کہ کبھی اس نے عائزہ یا نازیہ کی طرح کوئی ضد کی ہو ہم پر حق جتایا ہو یا پھر کبھی اپنی کوئی خواہش ہی پوری کروائی ہو مجھے تو یہ بھی نہیں یاد کہ میں نے کبھی اس سے کسی ضرورت کا ہی پوچھا ہو۔۔ماں کے بعد وہ خود ہی خود کے لیے لڑتی آئی ہے۔۔کہنے کو ہم اس کے بھائی تھے لیکن مجھے نہیں یاد کہ ہم کبھی کسی بھی موقع پر اس کے ساتھ کھڑے ہوئے ہوں۔۔حنان نے اپنی آنکھوں کی نمی اپنے بازو سے صاف کی۔۔حاشر نے بھی کندھے پر چہرہ رگڑ کر صاف کیا۔۔حیدر نےلمبا سانس لیتے ان دونوں کو اپنے حصار میں لے لیا۔۔

۔اس کی نظروں میں وہ دن آیا جب وہ افسردہ چہرہ لیے بنا اس کے کہے اس کے لیے کافی بنا کر اس کے روم آئی۔۔اور حیدر کی نئی شرٹ جو اس سے جل گئی تھی اس کا افسوس کرنے لگی۔۔تب اس کی باتوں سے حیدر کو پتہ چلا کہ اس کے گھر میں سے کوئی بھی اس کو پاکٹ منی یا کسی بھی ضرورت کے لئے پیسے نہیں دیتا اور وہ یہ بات جان کر کتنا حیران ہوا تھا۔۔حیدر بھائی ہم سے اچھا تو نوید ہے جو کم ازکم اس کے ساتھ تو کھڑا رہتا تھا۔۔اب تو وہ اس حویلی کی عزت ہے لیکن پھر بھی دوسری عورتیں آکر اس کے ساتھ ملازموں جیسا سلوک کرتی ہیں۔۔حاشر اس کے چہرے کو دیکھتا بولا۔۔اب ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا انشاء اللہ حیدر اس کی نم آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔تمہیں پتہ ہے حیدر کہ ماں اپنی زندگی میں کیوں تمہارا نکاح روشانے سے کرنا چاہتی تھیں کیوں چاہتی تھیں کہ روشانے کی شادی تم سے ہو انہوں نے کبھی مجھے یا حاشر کو کیوں نہیں کہا۔۔کیونکہ ماں کو اپنے ہر بچے کا پتہ ہوتا ہے ماں کو پتہ تھا کہ روشانے کو لاشاری خاندان میں صرف تم ہی پروٹیکٹ کر سکتے ہو۔۔صرف تم ہی اس کے محافظ بن سکتے ہو۔۔

اور آج تم نے ماں کی اس بات کو ثابت بھی کر دیا۔۔حیدر شاید ماں کو پتہ تھا کہ تم ہماری طرح صرف زبان سے رشتے نہیں نبھاتے۔۔تم نے کبھی روشانے کے لیے اپنی زبان سے کوئی لفظ نہیں بولا اب اگر وہ تمہاری عزت بن گئی ہے تو تم نے سب کو ثابت کیا ہے کہ تم واقعی اس کے محافظ۔۔پتہ ہے بابا جان آج بہت خوش اور پرسکون تھے وہ کہہ رہے تھے کہ اب مجھے اس بچی کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ اپنے صحیح محافظ کے پاس پہنچ گئی ہے۔۔حنان نے نم آنکھوں سے مسکراتے اسے دیکھتے کہا۔۔بس اب ایک انسان کو سبق سکھانا بہت ضروری ہے۔۔باسل لاشاری۔۔حاشر کے چبا کر نام لینے پر حنان نے چونک کر اسے دیکھا۔۔ویسے حنان بھائی آپ کو کیا لگتا ہے باسل لاشاری کا یہ عجیب وغریب ایکسیڈنٹ کیسے ہوا ہوگا۔۔حاشر چھت کے پردے سے ٹیک لگائے اپنے ہاتھوں سے نم چہرہ صاف کرتا سینے پر باندھتا بولا۔۔حنان نے حیران ہو کر حیدر کی طرف دیکھا۔۔کیونکہ اس کی چوٹوں اور آنکھوں پر پڑے اتنے برے طریقے کے نیلوں سے اور پھر جس طریقے سے اس کا ہاتھ بازو اور ٹانگ ٹوٹے تھے وہ ایکسیڈنٹ کہیں سے بھی نہیں لگتا تھا۔۔حیدر ادھر میری طرف دیکھو۔۔

وہ حیدر کا چہرہ اپنی طرف گھماتا بولا۔۔تم تو دبئی تھے نا۔۔وہ حیران ہو کر بولے۔۔ہاں تو دبئی کوئی دینا سے باہر تو نہیں تھا جو ایک رات کے لیے آیا نہ جائے۔۔اس کے لاپرواہ انداز میں کہنے پر حنان آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھولے اپنے سامنے کھڑے انسان کو دیکھ رہا تھا۔۔تو تم نے۔۔حنان ابھی بھی حیرانگی کا شاک لیے اپنی بات اُدھوری چھوڑتا چپ ہوا۔۔حیدر لاشاری کی عزت کی طرف اگر کسی نے انگلی کرنے کی کوشش کی تو حیدر لاشاری اپنے ہاتھوں سے اس سے بھی برا حال کرے گا۔۔حیدر وہ ویڈیو یاد کرتا غرایا جو تب حاشر نے بنائی تھی پھر اس کی آڈیو ریکارڈنگ اس نے سب حیدر کو سینڈ کر دیا تھا ساتھ لکھا تھا کہ اگر اپنے ہی گھر میں اپنی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اسے کسی ایسے انسان کے حوالے کر دیں جو اس کا محافظ کہلانے کا حق دار ہو۔۔اور یہ بات حیدر لاشاری کی مردانگی اور غیرت کو کھلا چیلنج تھی۔۔اس رات وہ باسل کو جان سے مار ڈالتا اگر حاشر اور نوید باسل کو اس سے نہ بچاتے تو۔۔حنان ابھی بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

مطلب یارر تم صرف اسے مارنے دبئی سے ادھر آئے اور اس کو توڑ پھوڑ کر حالت خراب کر کے واپس دبئی چلے گئے۔۔حنان کو ابھی بھی یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔حیدر نے مزے سے ہاں میں سر ہلایا۔۔یارر تو واقعی میرا شیر ہے حنان اسے اپنے حصار میں لیتا بولا۔۔یارر بھائی میں بھی ہوں مانا کہ ان جیسا شیر نہیں ہوں لیکن شیر کا بھائی تو ہوں۔۔حاشر کے کہنے پر ان دونوں کا جاندار قہقہہ گونجا وہ دونوں اسے اپنے حصار میں لے گئے۔۔

معمول کے مطابق اس کی آنکھ کھلی تو جھولتی اٹھ کر بیٹھی اور ایک جمائی کے ساتھ ہاتھ اوپر کر کے زوردار انگڑائی لی۔۔بیڈ پر تھوڑی دیر بند آنکھوں سے جھولتی رہی پھر زبردستی آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا۔۔کمرے کا جائزہ لیتے نظریں اپنی دائیں سائیڈ پر سٹک ہوئی اور ایک دم سے پوری آنکھیں کھلیں۔۔وہ اس کے بلکل پاس اپنے سٹائل میں الٹا لیٹا ہوا تھا۔۔دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتی جھک کر اسے غور سے دیکھنے لگی۔۔کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ سویا ہوئے ہیں یا جاگ رہے ہیں لیکن پھر بھی اپنی طرف سے اس کے سوئے ہونے کا یقین کرتی آہستہ سے سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔یہ کب یہاں آ کر لیٹے۔۔اگر میں رات کو نیند میں ان کے اوپر چڑھ جاتی تو۔۔تو روشانے حیدر لاشاری اس ڈریگن کے ہاتھوں تمہاری یہ رات زندگی کی آخری رات ہونی تھی۔۔وہ بے دھیانی میں اپنا نام اس کے نام کے ساتھ جوڑتی سرگوشی میں خود سے بڑبڑائی۔۔شکر ہے کمفرٹ کے اوپر ہی لیٹے ہوئے ہیں۔۔روشانے اسے کمفرٹ کے اوپر لیٹے دیکھ کر بےاختیار اوپر کو منہ کرتی شکر ادا کرتی خود سے بولی۔۔

وہ کمفرٹ ہٹاتی آہستہ سے بنا آواز کیے بیڈ سے اتری۔۔کھڑے ہو کر پھر سے اسے غور سے دیکھا۔۔یہ تو مجھ سے بھی زیادہ مدہوش ہو کر سوتے ہیں۔۔خود سے بڑبڑاتی جھک کر اپنی کمر سیدھی کرنے لگی۔۔اب وہ پھر سے عادت کے مطابق آنکھیں بند کیے اپنی کمر کی ایکسرسائز میں مصروف تھی۔۔پھر سیدھی ہوتے ہاتھ اوپر اٹھا کر زوردار انگڑائی لی اور جمائی لیتے ہاتھ پہلوؤں پر رکھتی پھر سے اسے دیکھنے لگی۔۔جھک کر ایک ہاتھ میں بیڈ سے دوپٹہ اٹھایا دوسرے میں جوتے پنجوں کے بل آہستہ آہستہ چلتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔حیدر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو آہستہ سے ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کر رہی تھی۔۔بےوقوف لڑکی۔۔کہتا لمبا سانس لیتا سیدھا ہو کر لیٹا۔۔وہ جو تین بجے چھت سے آکر لیٹا تھا اسے اپنے پاس بیڈ پر لیٹا دیکھ کر بےچین ہو رہا تھا۔۔وہ اسی کی طرف سائیڈ لیے لیٹی ہوئی تھی۔۔حیدر کتنی دیر اس کی طرف بیک کیے آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا رہا لیکن جب بےچینی حد سے زیادہ ہوئی تو سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔وہ اس کی ملکیت تھی اس کی بیوی۔۔

وہ کہنی کے بل اٹھ کر اس کے بلکل پاس ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئے بال پیچھے کیے تو ڈم لائٹ میں اس کا چمکتا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔حیدر کے جسم میں عجیب سی بےچیناں بیدار ہونے لگیں۔۔اپنا ہاتھ اس کی گال پر نرمی سے جماتا انگوٹھا بےخودی میں روشانے کے لبوں پر لے آیا بہت نرمی سے اس کے ہونٹ رب کرنے لگا۔۔اسکے نقوش کو دیکھتا اس کا دھیان اپنے بابا جان سے ہونے والی گفتگو کی طرف گیا۔۔وہ دبئی سے واپسی پر اپنے بابا سے بات کرنے ان کے روم میں گیا کہ انھوں نے ایک دفعہ پھر روشانے کے ساتھ اس کی بنا مرضی کے زبردستی کی ہے اس سے بنا پوچھے اس کا نکاح زبردستی اس سے کیا ہے۔۔اس کی بات سنتے جاوید صاحب کے ساتھ اس کے دادا اور حنان بھی حیران ہو کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔بیٹا میں نے باسل کی دفعہ ضرور اس بچی پر ظلم کیا تھا لیکن اب آپ کے معاملے میں اس کی پوری رضا مندی سے یہ نکاح ہوا ہے بلکہ روشانے بیٹی نے خود آپ نام لیا تھا نکاح کے لیے۔۔اب حیران ہونے کی باری حیدر لاشاری کی تھی۔۔لیکن وہ تو نوید۔۔وہ کہتا چپ ہوا۔۔

نہیں بیٹا ہم سب نے نوید کے لیے اس سے پوچھا تھا بلکہ زور بھی دیا تھا لیکن اس نے منع کر دیا تھا کہ وہ اس کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سوچتی۔۔آپ کی بھابھی میں حنان حاشر یہاں تک کہ اپ کے دادا جان نے بھی اس سے بات کی تھی تو وہ رونے لگی اور سب کو منع کر دیا۔۔لیکن میرے لیے بھی اس نے منع کیا تھا میں نے خود سنا تھا اس کے منہ سے۔۔حیدر اپنی حیرت پر قابو پاتا اپنی ٹون میں واپس آتا بولا۔۔ہاں منع کیا تھا لیکن جب ہم نے اس سے وجہ پوچھی تو منع بھی وہ تمہاری وجہ سے کر رہی تھی کیونکہ تم اسے پسند نہیں کرتے اس سے اتنا چڑتے ہو وہ آپ کے ساتھ کسی قسم کی زبردستی نہیں چاہتی تھی اسی لیے وہ منع کر رہی تھی۔۔حیدر نے یہ سب سنتے بے اختیار گہری سانس لی۔۔پھر وہ میرے جو دوست ہیں صابر صاحب اس کے بیٹے نے روشانے کو دیکھا تھا حنان کے ساتھ۔۔وہ تب سے اس رشتے کے لیے مجھے کہہ رہے تھے میں نے پھر روشانے بیٹی سے اس رشتے کے بارے میں بات کی تو وہ اس سے بھی منع کر گئی۔۔

اس نے پھر آپ سے بات کرنے کو کہا کہ اگر حیدر اسے اپنی زندگی میں قبول کرتے ہیں تو اسے آپ سے شادی کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہے ساتھ میں اس نے سپیشل مجھ سے پرومس لیا تھا کہ میں تم سے کوئی زبردستی نہیں کروں گا۔۔اور آپ سے بات کرنے کا مطلب تھا کہ ایک دفعہ پھر سے گھر میں اس معاملے کو آگ کی ہوا دینا اور تماشا بنانا۔۔پھر میں نے اپنے باپ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردستی آپ کا نکاح اس سے کر دیا اس دفعہ زبردستی آپ سے ہوئی ہے اس سے نہیں۔۔اس بچی کا لاشاری خاندان میں زندگی گزارنے کے لیے یہ زبردستی کرنا بہت ضروری تھا۔۔یہ سب سنتے کہیں نہ کہیں حیدر کے اندر سکون اترا کہ جیسا وہ سوچ رہا تھا ویسا کچھ بھی نہیں ہے دل تو پہلے بھی پوری شدت سے اس کی اور نوید کے بارے میں نفی کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بچپن سے اس کی نظروں کے سامنے تھے۔۔روشانے نیند میں بےچین ہوتی اس کا ہاتھ پکڑتی سیدھی ہوئی۔۔سیدھی ہونے سے حیدر کا ہاتھ اس کے سینے پر آیا۔۔حیدر نے جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔۔دل کی خواہش پر لبیک کہتا جھک کر اپنے لب اس کے لبوں پر رب کرنے لگا۔۔انداز بے حد نرم تھا۔۔

اس کے بےچین ہونے پر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو اس کی مونچھوں کی چبن سے اپنی چھوٹی سی نوز کیوٹ انداز میں چڑھا رہی تھی۔۔جب وہ پھر گہری نیند میں اتر گئی تو جھک کر پھر اس کے ماتھے اور لبوں پر پیار کیا اور اٹھ کر اپنی سائیڈ بیڈ سے اتر گیا۔۔سائیڈ ٹیبل سے فون سگریٹ اور لائٹر اٹھاتا بالکنی کی طرف بڑھ گیا۔۔جانتا تھا نیند تو اب آئے گی نہیں اور پاس لیٹنے کا مطلب تھا مزید بےچین ہونا اس لیے وہ باہر کاوچ پر بیٹھ کر سگریٹ سے اپنی بےچیناں ختم کرنے کے ساتھ خود کو فون پر ای میلز دیکھنے میں الجھا لیا۔۔جب صبح کی اذان ہوئی تو واپس روم میں آیا۔۔واش روم گیا وضو کیا اور آکر بیڈ پر لیٹ گیا کیونکہ اس کی بیوی کے اٹھنے کا ٹائم ہو گیا تھا۔۔پانچ منٹ بعد ہی وہ ہلتی جلتی نیند میں جھولتی اٹھ کر بیٹھی۔۔اب وہ دلچسپی سے اس کی ایک ایک حرکت ملاخط کر رہا تھا۔۔اب اس نے ڈریسنگ روم سے ایک گھنٹے بعد نکلنا تھا۔۔حیدر نے اٹھ کے روم میں نماز پڑھی اور بیڈ پر لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد ہی وہ نیند میں اتر گیا۔۔۔