ZIDDI · ORIGINAL URDU NOVEL

Ziddi (ضدی) — Episode 10

Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 10

قسط 10 · کہانی

ماضی

آج ان کے کالج میں فئیر ویل پارٹی تھی جس میں جانے کے لیے دونوں تیار تھیں ان سے نوید نے پرومس کیا تھا کہ وہ ان کو کالج ڈراپ اور پک کر لے گا کیونکہ پارٹی ٹائمینگ دوپہر دو سے رات نو بجے تک تھی۔۔پہلے تو ان کو اجازت نہیں ملی پھر عائزہ نے حیدر کو ایموشنل بلیک میل کیا کہ ان کی کالج میں لاسٹ پارٹی ہے سب دوستوں نے آنا ہے تو وہ بھی اپنی دوستوں کے ساتھ یہ آخری پارٹی انجوائے کرنا چاہتی ہے اس لیے وہ آکر ان کو لے کے جائے یا پھر بابا جان اور حنان بھیا سے اجازت لے کر دیں۔۔ساتھ میں نوید نے بھی ان کی سفارش کی کہ وہ پک اینڈ ڈراپ کی خود ذمہ داری لیتا ہے۔۔حیدر نے ان دونوں کو جانے کی اجازت دے دی لیکن ساتھ میں کہا کہ وہ شام سے پہلے واپس آ جائیں اور نوید کو بھی سختی سے بولا کہ شام ہونے سے پہلے ان کو لے کر حویلی آ جائے۔۔جب سے دادی کو پتہ چلا تھا کہ حیدر نے ان کو جانے کی اجازت دے دی ہے تب سے روشانے کی شامت آئی ہوئی تھی کہ عائزہ چلی جائے روشانے نہیں جائے گی۔۔اس موقع پر بھی نوید نے پورا اس کا ساتھ دیا۔۔

عائزہ تو پارٹی کے حساب سے پارٹی میک اپ اور اپنے سوٹ کے ساتھ میچنگ جولری سے لے کر ہیلز تک پہنے بالوں کا سٹائل بنائے باقی بال کمر پر کھلے چھوڑے ہاتھ میں میچنگ کلچ پکڑے پوری تیار ہوئی تھی۔۔لیکن روشانے میک اپ کے نام پر کاجل مسکارہ اور ہونٹوں پر لپ گلوس لگائے ہلکی پھلکی سی جیولری اور بالوں کی سمپل چوٹی بنا کر سر پر اچھے سے سٹالر سٹ کر لیا۔۔عائزہ نے بلیک راجستھانی فینسی فراک پہنی تھی جو سپیشل اس نے پارٹی کے لیے ہی خریدی تھی۔۔جبکہ روشانے نے زنک کلر کی ایمریلا فراک پہنی تھی جس پر ملٹی شیڈ شیشوں کا کام تھا جو اسے چھوٹی پھپھو نے عید پر گفٹ دی تھی۔۔عائزہ اتنی بلیک کلر اور نفاست سے کیے گئے میک اپ میں خوبصورت نہیں لگ رہی تھی جتنی وہ سمپل سی تیار زنک کلر میں دھمک رہی تھی۔۔عائزہ نے کتنی کوشش کی کہ وہ اس کا میک اپ کر کے بال کھلے چھوڑ دے لیکن روشانے بالکل بھی نہیں مانی۔۔عائزہ نے نوید سے بھی کہا کہ وہ اسے کہے۔۔عائزہ وہ بنا میک اپ کے زیادہ پیاری لگ رہی ہے اور اگر وہ کمفرٹیبل نہیں ہے میک اپ میں تو زبردستی نہیں کرنی چاہیے۔۔

نوید نے روشانے پر ایک نظر ڈال کر کہا۔۔اچھا بتائیں میں کیسی لگ رہی ہوں۔۔عائزہ اس کے سامنے کھڑی ہوتی گھوم کر اسے دکھاتی بولی۔۔اچھا یار تم ذرا اپنے فیانسی سے تفصیل سے اپنی تعریف وصول کر لو مجھے تو خود سے ہڈی والی وائبز آ رہی ہیں سو میں باہر انتظار کرتی ہوں۔۔وہ ان دونوں کو چھیڑتی بولی۔۔شانی یارر رکو میں نے کیا تفصیل سے تعریف کرنی ہے ہمیشہ کی طرح پیاری لگ رہی ہے اب نکلو دونوں ہم پہلے ہی لیٹ ہو چکے ہیں شام سے پہلے واپسی کا الرٹ بھی جاری ہوچکا ہے۔۔نوید جلدی سے بولتا ان دونوں سے پہلے ہی باہر نکل گیا۔۔عائزہ نے ایک دفعہ پھر آئینے میں خود کو تفصیل سے دیکھا وہ دونوں بھی اس کے پیچھے ہی باہر نکل گئیں۔۔ماڑی قسمت جیسے ہی انھوں نے حال میں قدم رکھا انٹرس سے عائشہ پھپھو بمعہ نصرت چچی باسل اور تانیہ حال میں انٹر ہوئے۔۔تینوں کے آگے بڑھتے قدم رکے۔۔اسلام علیکم پھپھو۔۔عائزہ نے آگے بڑھ کر ان کو سلام کیا۔۔ماشااللہ میری بچی تو چاند کا ٹکڑا لگ رہی۔۔اللہ نظربد سے بچائے۔۔ساتھ ہی کچھ پڑھ کر اس پر پھونکا گیا۔۔کہاں جا رہی ہو۔۔

سلام کا جواب دیتی لہجے میں مٹھاس اور شیرنی گھولتی اسے چٹا چٹ پیار کرتی بولی۔۔نوید حیران ہو کر اپنی خالہ کے اس دوغلے پن کو دیکھ رہا تھا۔۔کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اگلے ہی منٹ میں وہ کیا تماشہ لگانے والی ہیں تھی تو یہ بھی بھتیجی۔۔جی پھپھو ہمارے کالج میں پارٹی ہے تو ہم وہاں جا رہے ہیں۔۔عائزہ مسکراتی بولی۔۔جاؤ جاؤ جانا بھی چاہیے یہی تو عمر ہوتی ہے بچیوں کی گھومنے گھمانے اور ہنسنے کھیلنے کی جاؤ خیر سے جاؤ۔۔نوید شانی چلیں۔۔اس کے مڑ کر کہنے پر پھپھو اور چچی کی عقاب جیسی نظریں روشانے پر جمی۔۔ہاں چلو شانی ہم پہلے ہی لیٹ ہو چکے ہیں۔۔نوید ان سے دعا سلام کرتا ورشانے کو آگے بڑھنے کا بولا۔۔یہ نئی پوشاک پہن کر بازاری عورتوں کی طرح تیار ہو کر کہاں آورہ گردی کرنے جا رہی ہے۔۔تھوڑی دیر پہلے جس لہجے سے شیرنی ٹپک رہی تھی وہی اب آگ برسا رہا تھا۔۔خالہ یہ وہیں آورہ گردی کرنے جا رہی ہے جہاں عائزہ جا رہی ہے۔۔نوید نے چبتے لہجے میں اپنی خالہ کو جواب دیا تو عائزہ نے چونک کر نوید کو دیکھا۔۔

تو نہ زیادہ اس کا باپ بن کر اس کی سائیڈ نہ لیا کر جس پر توجہ دینی ہے نا اس پر دے عائزہ کو لے کر جا یہ کہیں نہیں جائے گی۔۔گھر میں مہمان آئے ہیں تو ان کو چائے پانی کا اس کی ماں آکر پوچھے گی۔۔نوید نے باسل کی طرف دیکھا جو یک ٹک اس کے ساتھ کھڑی روشانے کو دیکھ رہا تھا۔۔وہ لگ ہی اتنی معصوم سی گڑیا رہی تھی کہ دیکھنے والا اسے نظر بھر کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتا۔۔خالہ ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں حیدر بھائی نے شام سے پہلے واپس آنے کا بولا ہے گھر میں بھابھی اور بہت سارے ملازم ہیں وہ چائے پانی کا پوچھ لیں گے۔۔ارے نوید تم اپنی فیانسی کے ساتھ جاؤ نا اس کے ساتھ تھوڑا ٹائم بھی سپینڈ کرو اس نے جانا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو باسل ہی کرے گا۔۔کیوں باسل۔۔تانیہ باسل کا بازو پکڑ کر زور سے جھنجوڑتی لفظوں کو چباتی بظاھر تو ہلکے پھلکے انداز میں بولی جو اسے ہی دیکھنے میں مگن تھا لیکن لہجے میں جلن کی تپش واضح تھی۔۔باسل نے چونک کر ماں اور تانیہ کو دیکھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہیں تھیں۔۔ہا۔۔ہاں۔۔

نوید تم عائزہ کو لے کر جاؤ یہ نہیں جائے گی باسل جلدی سے گلا صاف کرتا بولا۔۔اب یہ تیار ہو چکی ہے تو یہ جائے گی۔۔نوید ضدی انداز میں بولا۔۔اگر اس نے حال سے باہر قدم نکالے تو میں اس کی ابھی ٹانگیں توڑ دوں گا میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے اسے یہاں سے لے کر جاتے ہو۔۔وہ جو باسل کی عجیب نظریں خود پر کب سے محسوس کر رہی تھی وہ بےاختیار نوید کے پیچھے چھپی۔۔باسل عادت کے مطابق بدتمیزی پر اترا۔۔جب سب گھر والوں نے اجازت دے دی ہے تو تمہیں کیا پرابلم ہے۔۔ویسے بھی ہم حیدر بھائی کی اجازت سے جا رہے ہیں۔۔چلو شانی۔۔نوید ان کو جواب دیتا روشانے سے بولا۔۔نوید بیٹا تم عائزہ کو لے کر جاؤ یہ آوارہ لڑکی کہیں نہیں جائے گی اور باسل نے کہہ دیا پھر تو بالکل بھی نہیں جائے گی تم اس معاملے میں نہ پڑو۔۔چچی بھی اپنا حصہ ڈالتی روشانے کو آنکھوں سے بھسم کرتی بولی۔۔کیا ہو رہا ہے کس بات پر بحث ہو رہی ہے۔۔حال میں حنان، جاوید صاحب اور دادا جان داخل ہوئے تو جاوید صاحب نے پوچھا۔۔پھر تو ایک محاذ کھڑا ہو گیا۔۔نوید بیٹا تم عائزہ کو لے کر جاؤ جب باسل نے منع کر دیا تو یہ نہیں جائے گی۔۔

دادا جان بولے۔۔کیوں نانا جان یہ کیوں نہیں جائے گی جب عائزہ جا سکتی ہے تو یہ کیوں نہیں جا سکتی۔۔نوید بیٹا بحث نہیں کرتے بات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں آپ عائزہ کو لے کر جاؤ روشانے بیٹا آپ جاؤ کمرے میں۔۔جاوید صاحب کے بولنے پر نوید نے حیران ہو کر ان کو دیکھا جو اسے بھی اپنی بیٹی کہتے تھے۔۔ماموں جان ہم شام سے پہلے واپس آ جائیں گے۔۔چلو شانی۔۔وہ تحمل سے بولتا روشانے کا بازو پکڑ کر آگے بڑھا جب باسل اور چچی چیل کی طرح روشانے پر جھپٹے۔۔جب میں نے ایک دفعہ منع کر دیا کہ یہ نہیں جائے گی تو یہ کہیں نہیں جائے گی دادا جان اگر اس نے اس حال سے باہر قدم رکھا تو میں ابھی اس کی ٹانگیں توڑ کر فیصلہ کر دوں گا۔۔باسل جارحانہ انداز میں روشانے کا بازو دبوچے اسے جھنجھوڑتا جاہلوں کی طرح چیخ کر بولا۔۔یہ آوارہ لڑکی گھر میں فساد ڈلاونے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ماں جیسی بغیرت بدچلن چچی نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھنجوڑ کر کہا۔۔مامی کیا کر رہیں آپ۔۔

نوید بیٹا آپ سائیڈ پر ہو جاؤ آپ کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے بھائی صاحب اس سے بولیں کہ یہ ہمارے معاملے میں نہ بولے۔۔چچی جاوید صاحب کو کہتی بولی۔۔باسل اسے اس کے کمرے میں چھوڑ کے آؤ اور اس کی زبان درازی اور ڈھیٹ پن پر طبیعت بھی ذرا اچھی طرح صاف کرنا کہ بڑوں کا کہا کیسے مانتے ہیں اس کی ڈٹھیائی کا تو ابھی سے یہ حال ہے کل کو پتہ نہیں ہمارے سروں میں کہاں کہاں کی خاک ڈالے گی۔۔چچی نے باسل کو ہر لفظ چبا چبا کر کہا جو اس کا بازو جکڑے اسے گھور رہا تھا حالانکہ اس بچاری نے ابھی تک منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا تھا زبان درازی تو بہت دور کی بات تھی۔۔روشانے مسلسل بازو چھڑوانے کے لیے مزاحمت کر رہی تھی۔۔چل تو تیری تو ساری اکڑ آج میں نکالتا ہوں آوارہ بدچلن لڑکی سب جانتا ہوں کس کی شہ پر تو ہواؤں میں اڑ رہی ہے بہت زبان چلنے لگی ہے نا آج تجھے کہا نہ ماننے کا مطلب سمجھتا ہوں دوبارہ میری کسی بات کو رد کرنے کی ہمت نہیں کرو گی۔۔باسل کہتا اسے درندوں کی طرح گھسیٹ کر روم میں لے جانے لگا۔۔چھوڑو مجھے۔۔نہیں جانا مجھے کہیں بھی۔۔

وہ خود کو مسلسل اس درندے سے چھڑوانے کے لیے مزاحمت کر رہی تھی۔۔کیا ہو رہا ہے یہ۔۔؟حال سے اندر داخل ہوتے انسان کی دھاڑ پر حال میں سناٹا چھایا۔۔سب نے بےاختیار نظریں انٹرس پر کیں جہاں وہ آنکھوں میں خون لیے سب کو دیکھتا نظریں باسل کے ہاتھ میں دبے اس مزاحمت کرتی لڑکی کے بازو پر جما گیا۔۔ارے حیدر بیٹا اچھا ہوا آپ آ گئے بلکل صحیح موقع پر آئے ہو اب تم ہی اس لڑکی کو تمیز سکھا سکتے ہو بھئی ہمیں تو یہ کسی کھاتے میں نہیں رکھتی۔۔اور آؤ ذرا اس کی تیاریاں چیک کرو اور پوچھو ذرا اس سے کہ یہ اتنی بن سنور کر کہاں منہ کالا کرنے جا رہی ہے۔۔پھپھو فورا لہجے میں مٹھاس اور عاجزی سمائے حیدر سے بولی۔۔یہ بن سنور کر جہاں بھی جا رہی ہے میری اجازت سے جا رہی ہے اور آپ لوگوں کو اس کی ٹینشن لینے کی فلحال کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ابھی یہ اسی گھر میں رہتی ہے۔۔وہ دھاڑتا اپنے باپ کو دیکھتا جارحانہ انداز میں آگے بڑھتا اپنا ایک ایک لفظ چباتا باسل کے بازو کو اپنی جنونی گرفت میں دباتا اپنی خون آشام نگاہیں اس پر جماتا بولا۔۔

باسل کے ہاتھ کی گرفت روشانے کے بازو کو خود بخود چھوڑ گئی۔۔حیدر بیٹا۔۔جاوید صاحب اس اتھرے گھوڑے کو باسل کی طرف اتنے غصے میں بڑھتے دیکھ کر آگے بڑھے۔۔باسل کو اپنا بازو سن ہوتا محسوس ہوا۔۔کوئی بھی اپنی جگہ سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھائے گا وہ سب کو سرخ آنکھوں سے گھورتا بولا۔۔یہ جائے گی ابھی اور اسی وقت جائے گی میں دیکھتا ہوں کہ اس کو روکنے کی ہمت کون رکھتا ہے۔۔وہ باسل کی بازو جھٹکے سے چھوڑتا دھاڑا۔۔اتنا زور کا جھٹکا لگنے سے باسل لڑکھڑاتا زور سے پیچھے دیوار میں لگا۔۔باسل کو اپنے پورے بازو میں چونٹیاں رینگتی محسوس ہو رہیں تھیں ۔۔اس کی دھاڑ سن کر کچھ باسل کی حالت دیکھ کر سب اپنے قدم بےاختیار پیچھے لے گئے۔۔جاوید صاحب بھی اپنی جگہ چپ چاپ کھڑے ہوئے جانتے تھے اس وقت وہ اتھرے گھوڑے کو تو قابو کر سکتے تھے لیکن سامنے کھڑا انسان اس سے بھی زیادہ خطر ناک اور بے لگام بنا ہوا ہے کسی کی نہیں سنے گا نہ ہی کسی کے قابو میں آئے گا وہی کرے گا جو اس کے من میں ہے۔۔تم چلو میرے ساتھ۔۔

وہ روشانے کی بازو اپنی گرفت میں لیتا آگ برساتا اسے سب کے درمیان سے لے کر باہر نکل گیا۔۔روشانے چپ چاپ اس کے پیچھے پیچھے چل کم بھاگ زیادہ رہی تھی۔۔ان کے پیچھے ہی عائزہ اور نوید بھی نکل گئے۔۔باقی سب منہ کھولے حیران نظروں سے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔چچی کیا باسل سمیت کسی کی بھی ہمت نہیں ہوئی اس کے رستے میں آنے کی۔۔شو ختم ہو چکا ہے جائیں اپنا اپنا کام کریں اب۔۔جنان سب کو چبتے لہجے میں کہتا باہر نکل گیا سب خجل ہوتے ایک دوسرے سے نظریں چراتے صوفوں کی طرف بڑھ گئے۔۔کیونکہ شو سب کی توقع کے برعکس ختم ہوا تھا۔۔حیدر نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر اسے اندر دھکیلا۔۔مجھے کہیں نہیں جانا۔۔وہ گاڑی کے دروازے پر دونوں ہاتھ رکھتی اڑیل انداز میں بولی۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ ضبط کے کن مراحل سے گزر رہی تھی۔۔تم سے میں نے یہ نہیں پوچھا کہ جانا ہے یا نہیں۔۔گاڑی میں بیٹھو۔۔وہ آہستہ آواز میں بولا مگر لحجے کی سختی برقرار تھی۔۔روشانے نے اس شخص کو دیکھا جو دروازہ کھولے بلکل اس پر چھایا کھڑا تھا۔۔اپنی سرخ آنکھوں سے اندر کی طرف اشارہ کیا۔۔ڈریگن۔۔دل میں کہتی گاڑی میں بیٹھی۔۔

بیٹھو تم لوگ بھی جلدی۔۔وہ گاڑی کا دروازہ بند کرتا ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھتا بولا۔۔ان دونوں کے بیٹھتے ہی گاڑی ریورس ہوتی حویلی کے مین گیٹ سے باہر نکل گئی۔۔ہاں شریف گاڑی لے کر کالج کے مین گیٹ پر آؤ۔۔اس نے ڈرائیور کو کال کر کے کہا۔۔سیٹ بیلٹ لگاؤ۔۔وہ سامنے دیکھتا اس سے بولا جو بلکل گیٹ سے چپکی گاڑی سے باہر دیکھنے میں مگن تھی۔۔میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔تڑخ کر توقع کے مطابق جواب آیا۔۔عائزہ اور نوید نے ایک دوسرے کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔۔وہ لمبا سانس لے کر چھوڑتا گاڑی سائیڈ پر لگا گیا اور خود اس کی طرف جھکتا اس کے پہلو سے بیلٹ نکالتا لگانے لگا۔۔جبکہ اس کے اس طرح خود پر جھکنے پر وہ ایک دم حیران ہوتی آنکھیں بڑی کرکے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔وہ آرام سے بیلٹ لگا کر سیدھا ہوتا پھر سے گاڑی سٹارٹ کر کے روڈ پر ڈال گیا۔۔روشانے بےاختیار اس کے مضبوط ہاتھوں میں گاڑی کا اسٹیئرنگ دیکھنے لگی کتنی مہارت سے وہ گاڑی چلا رہا تھا وہ حیران ہو کر دیکھ رہی تھی۔۔کالج کے سامنے گاڑی روک کر پینٹ کی پاکٹ سے اپنا والٹ نکال لیا۔۔

پانچ ہزار کے چار نوٹ نکال کر روشانے کی طرف بڑھائے۔۔وہ عادت کے مطابق منہ کے ساتھ اپنی بڑی بڑی کوپر آنکھوں کو پورا کھولے کبھی اس کے ہاتھ میں پکڑے ان نوٹس کو اور کبھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔شانی جلدی پکڑ نہ یارر پھر میری باری بھی آئے۔۔عائزہ آگے کو ہوتی اسے ہلاتی بولی۔۔روشانے نے سامنے بیٹھے ڈریگن کو دیکھا جو ماتھے پر بل سجائے ابھی بھی ہاتھ اسی کی طرف بڑھائے اسے ہی دیکھ کم اور گھور زیادہ رہا تھا۔۔وہ آہستہ سے اس کے ہاتھ سے پیسے پکڑ کر اپنی گود میں ہاتھ رکھتی ان کو دیکھنے لگی۔۔نوید یارر میری دو میٹنگز ہیں میں بزی ہونگا اس لیے ان کو پک نہیں کر سکوں گا تم شام ہونے سے پہلے ان کو گھر لے جانا شریف گاڑی لے کر آ رہا ہے۔۔وہ ایسے ہی چار نوٹ عائزہ کو دیتا بولا۔۔ٹھیک ہے حیدر بھائی۔۔نوید بولا۔۔حیدر بھائی میں بھی ہوں یارر۔۔وہ معصوم سی شکل بناتا حیدر کی سیٹ کو پکڑتا آگے کو جھکتا بولا۔۔اس کے انداز پر حیدر نے بےاختیار مسکراتے ہاتھ سے اس کے بال بکھیرے اور اپنے والٹ سے چار نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔۔

روشانے حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی اس ڈریگن کو بھی کسی پر لاڈ آتا ہے۔۔وہ دل میں بولی۔۔محترمہ بلکل اصلی ہیں ان کو اپنے کلچ میں ڈال لو۔۔حیدر اس کی شفاف آنکھوں کی تحریر پڑھتا ابھی بھی ہاتھ میں پکڑے پیسوں کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔روشانے نے اس سے نظریں ہٹاتے نوٹوں کی طے لگائی اور ہاتھ میں پکڑ لیے۔۔حیدر نے دیکھا اس کے پاس کوئی پاوچ کلچ بیگ یا پرس کچھ بھی نہیں تھا۔۔شانی لاؤ مجھے دے دو ویسے بھی تم نے اتنے سارے پیسے کیا کرنے ہیں میں رکھ لیتی ہوں جب تمہیں ضرورت ہو تو لے لینا۔۔عائزہ بولی۔۔حیدر نے نفی میں سر ہلایا۔۔سیدھی ہو کر بیٹھو۔۔اس سے پہلے کہ وہ عائزہ کو پیسے پکڑاتی حیدر سنجیدہ سا بولتا گاڑی آگے بڑھا گیا۔۔ارے بھائی اب کہاں ہمیں تو اتار دیں۔۔عائزہ حیران ہو کر بولی۔۔حیران تو نوید اور روشانے بھی ہو رہے تھے۔۔بیٹا دس منٹ ویٹ۔۔وہ بولتا مین مارکیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔گاڑی ایک شاپنگ مال کے سامنے روکتا ان کو ویٹ کا کہتا خود مال میں چلا گیا۔۔وہ تینوں حیران ہو کر اس کی حرکات دیکھ رہے تھے۔۔وہ پانچ منٹ میں ہی ہاتھ میں شاپنگ بیگ پکڑے واپس آ رہا تھا۔۔

گاڑی میں بیٹھتا شاپنگ بیگ اس کی طرف بڑھایا۔۔وہ پھر سے شاک ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔شاک تو پیچھے بیٹھے وہ دونوں بھی ہوئے تھے۔۔حیدر لاشاری نے زندگی میں پہلی دفعہ خود کے علاؤہ کسی کے لیے کچھ خریدہ تھا۔۔حیدر اس کے فیس ایکسپریشن دیکھتا لمبی سانس لیتا شاپنگ بیگ اس کی گود میں رکھ دیا۔۔ارے بھائی آپ سچ میں کسی کے لیے کچھ خرید کر لائے ہیں۔۔شانی یارر کھول نا مجھ سے بلکل صبر نہیں ہو رہا ۔۔عائزہ روشانے کو زور سے ہلاتی بولی۔۔روشانے نے اپنی گود میں پڑے شاپنگ بیگ کو کھول کر اس میں سے کلچ نکالا تو اس کی کوپر آنکھیں ہیروں کی مانند چمکیں۔۔وہ بلکل اس کے سوٹ کے ساتھ میچ بہت ہی خوبصورت کلچ تھا۔۔حیدر جس کی نظریں اس کے چہرے پر ہی تھیں وہ سیدھا ہوتا گاڑی واپس کالج کی طرف بڑھا گیا۔۔اللہ کتنا پیار ہے یارر۔۔عائزہ جلدی سے اس کے ہاتھ سے لیتی اس کو گھما گھما کر سارا چیک کرنے لگی۔۔شانی یارر بہت خوبصورت ہے اور بہت قیمتی بھی لگ رہا ہے۔۔وہ واقعی اڑھائی لاکھ کا تھا۔۔اور اپنی قیمت خود بتا رہا تھا۔۔

روشانے کو اس کا بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کیونکہ اس پر کہیں بھی پرائز ٹیگ نہیں لگا ہوا تھا۔۔اگر اسے اس کی اصل قیمت کا پتہ چل جاتا تو اسے ہارٹ اٹیک آ جانا تھا۔۔شانی یارر مجھ سے ایکسچینج کر لے میرے والا تو رکھ لے یہ مجھے دے دے۔۔عائزہ فورا بولی۔۔روشانے نے ہمیشہ کی طرح ہاں میں سر ہلا دیا لیکن ان ہیروں کی چمک ایک دم بجھی۔۔گڑیا بیٹا۔۔حیدر نے اسے پکارا تو آواز میں واضح تنبیہ تھی۔۔عائزہ یہ شانی کی فراک کے ساتھ میچ ہے۔۔نوید کو بھی اس کی یہ عادت بلکل اچھی نہیں لگتی تھی۔۔عائزہ نے منہ بسورتے اسے واپس کر دیا۔۔روشانے اس کے ہاتھ سے لیتی پھر سے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔اس کی خوشی کا اندازہ اس کی چہرے اور آنکھوں کی چمک سے لگایا جا سکتا تھا۔۔بڑے پیار سے کلچ کو کھول کر روشانے نے اس میں اپنے پیسے ڈالے۔۔اور پھر اتنے ہی پیار سے بند کیا۔۔وہ ہر تھوڑی دیر بعد بچوں کی طرح اپنے کلچ کو دیکھتی خوش ہو رہی تھی۔۔

جب انسان کو کچھ گنی چنی خوشیاں ملتی ہیں تو ملنے والے ان لمحات کو انسان سب سے بے نیاز خود کے لیے بھرپور انداز میں جیتا ہے جیسے وہ اس وقت بلکل اپنی خوشی میں مگن سب کچھ بھولے ان لمحات کو محسوس کر رہی تھی۔۔رات وہ عادت سے مجبور روشانے سے کافی بنوانے آیا جب عائزہ کی آواز سنتا بے اختیار دروازے پر ہی رکا۔۔یارر شانی تم یہ کلچ کیا کرو گی تم تو ویسے بھی ایسی چیزیں یوز نہیں کرتی یہ مجھے بہت پسند آیا ہے یہ تم مجھے دے دو۔۔لیکن عائزہ یہ تو میرا گفٹ ہے نا اور گفٹ تو کسی کو نہیں دیتے چاہے وہ دوست ہی کیوں نہ ہو۔۔روشانے عائزہ کے ہاتھ میں وہ کلچ دیکھتی بولی جو وہ اس کی وارڈروب کھولے عادت کے مطابق تلاشی لیتی نکال کر پھر سے دیکھ رہی تھی۔۔ارے تمہیں کس نے بولا کہ یہ بھائی نے تمہیں گفٹ دیا ہے وہ تو تمہارے پاس کچھ نہیں تھا تو بھائی نے تجھے ایسے ہی لے دیا۔۔یہ گفٹ تھوڑی نا ہے ویسے بھی حیدر بھائی سوائے اپنی گڑیا کے کسی کو گفٹ نہیں دیتے اتنی خوش فہمی میں مبتلا مت ہو۔۔وہ منہ مروڑتی بولی تو ایک دم سے روشانے چپ ہوئی۔۔

ٹھیک ہے اگر تمہیں اچھا لگا ہے تو تم رکھ لو وہ آہستہ سے مرجھائی آواز میں بولی۔۔حیدر ادھ کھلے دروازے پر ناک کرتا روم میں داخل ہوا تو دونوں نے اسے دیکھا۔۔روشانے اس کی آمد کا مقصد جان کر اپنی چھوٹی سی نوز چڑھاتی اپنی بکس پر جھک گئی۔۔ارے بھائی آپ۔۔عائزہ جو دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی رکتی بولی۔۔کیا ہو رہا ہے۔۔حیدر اس کے ہاتھ پر نظر مارتا بولا۔۔کچھ نہیں بھائی بس گپ شپ کر رہے تھے۔۔حیدر نے اسے دیکھا جو اپنی کتابوں میں اتنی مگن ہو چکی تھی جیسے ابھی ان کتابوں سے کوئی دوسری دنیا دریافت کر ڈالے گی۔۔حیدر نے عائزہ سے آنکھ کے اشارے سے ہاتھ میں پکڑے کلچ کے بارے میں پوچھا۔۔بھائی یہ شانی کو پسند نہیں آیا تو اس نے مجھے دے دیا ویسے بھی یہ ایسی چیزیں یوز کہاں کرتی ہے ایسے ہی پڑا ہوا ضائع ہو جائے گا۔۔اگر اسے پسند نہیں آیا تھا تو مجھے گاڑی میں بتاتی میں چینج کروا دیتا۔۔وہ اسے دیکھتا چبتے لہجے میں بولا۔۔روشانے نے چونک کر آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا جو ماتھے پر بل سجائے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔

لیکن میں نے کب بولا کہ مجھے پسند نہیں آیا میں نے تو کہا ہے کہ اگر تمہیں اچھا لگا ہے تو تم رکھ لو۔۔وہ بھی اسے ایسے ہی گھورتی بولی۔۔او سوری مجھے سمجھ آئی کہ تمہیں پسند نہیں آیا اس لیے مجھے دے رہی ہو۔۔حیدر نے آنکھوں کے اشارے سے اسے واپس رکھنے کا بولا تو عائزہ منہ مروڑتی واپس وارڈروب میں رکھ آئی۔۔بھائی مجھے بھی ایک ایسا ہی کلچ چاہیے وہ لاڈ سے حیدر کے گلے میں بازو ڈالتی بولی۔۔ٹھیک ہے صبح میرے ساتھ جا کر لے لینا۔۔لیکن میں اکیلی جاؤں گی اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں جائے گا وہ فٹ سے اپنی دوسری ڈیمانڈ سامنے رکھتی بولی۔۔حیدر کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔لو یو بھائی اینڈ تھینک یو میری ہر وش پوری کرنے کے لیے۔۔وہ خوش ہوتی حیدر کے سینے سے لگتی پرجوش سی بولی لو یو ٹو بھائی کی جان۔۔وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا۔۔ایسے لمحات ہمیشہ روشانے کو ایک عجیب سی حسرت میں مبتلا کر دیتے۔۔

اس نے کبھی بھی اپنی زندگی میں کسی سے بھی جیلسی فیل نہیں کی تھی اور عائزہ سے تو کبھی بھی نہیں لیکن ایسے لمحات وہ کسی بھی بہن بھائی کے دیکھتی تو ہمیشہ دل میں حسرت اٹھتی۔۔وہ مزید اپنی کتابوں پر جھک گئی۔۔گڈ نائٹ شانی گڈ نائٹ بھائی عائزہ کہتی دروازے سے باہر نکل گئی۔۔مجھے کافی بنا کر دو۔۔میں فارغ نہیں ہوں میرا ٹیسٹ ہے میں وہ تیار کر رہی ہوں۔۔تڑخ کر توقع کے مطابق جواب آیا۔۔بعد میں تیار کرتی رہنا اٹھ کر پہلے کافی بنا کر دو۔۔وہ بھی ایسے ہی تڑخ کر بولا۔۔میں نہیں بناؤں گی جائیں خود بنا لیں یا کسی اور کو جگا کر بنوا لیں۔۔وہ بظاھر کچھ نوٹس اٹھا کر اپنے سامنے رکھتی خود کو اور مصروف ظاہر کرتی بولی۔۔ایک دفعہ کی کہی گئی بات سمجھ میں نہیں آتی حیدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتا اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتا بولا۔۔آپ بھی میری ایک دفعہ کی کہی ہوئی بات مان لیا کریں وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے پیچھے کو دھکہ دیتی بولی یہ الگ بات ہے کہ اس دیو کو ہلا بھی نہیں سکی۔۔

جب پتہ ہے کہ کافی تم نے ہی بنانی ہے تو پھر اتنی زبان کیوں چلاتی ہو۔۔وہ بازو پر گرفت مضبوط کرتا اسے لے کر کچن کی طرف بڑھا۔۔اگر آپ ایسا سمجھ رہے ہیں نا کہ آج آپ نے مجھ پر احسان کیا ہے اور میں آپ کی ہر بات چپ چاپ مانوں گی تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ آپ نے یہ سب کچھ اپنی گڑیا کے لیے کیا تھا۔۔کیونکہ آپ کو پتہ تھا کہ عائزہ میرے بنا کالج میں انجوائے نہیں کر پائے گی اس لیے آپ مجھے سب سے جھگڑا کر کے کالج لے کر گئے۔۔اور وہ کلچ لے کر دینے پر آپ کو بالکل بھی کافی نہیں بنا کر دینے والی کیونکہ وہ میں نے آپ سے مانگا نہیں تھا آپ نے خود ہی لے کر دیا تھا چاہیں تو وہ واپس لے سکتے ہیں۔۔وہ اس کے ساتھ زبردستی کچن کی طرف جاتی نان سٹاپ بول رہی تھی۔۔تو تمہیں لگتا ہے کہ میں نے تمہیں سب سے بچا کر تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔۔وہ اسے لے کر کچن میں داخل ہوتا کافی میکر کی طرف بڑھتا بولا۔۔نہیں۔۔ساتھ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا گئی۔۔

ایسی کوئی بھی بات حیدر کے ذہن میں کسی بھی پوائنٹ سے نہیں تھی جو وہ اپنی سمجھ کے مطابق چھوٹے سے دماغ کا استعمال کرتی کر رہی تھی۔۔حیدر نے اس کے زور سے ہلتے سر کو دیکھا۔۔تو تم مجھے کافی بنا کر نہیں دو گی۔۔روشانے نے اپنے نچلے ہونٹ کا کنارہ دانتوں کے دباؤ میں لے کر تھوڑی دیر اس کی گھورتی آنکھوں میں دیکھا پھر بولی۔۔ٹھیک ہے بنا دیتی ہوں۔۔بازو ابھی بھی اس کی مضبوط گرفت میں تھا۔۔پہلے مجھے کافی بنا کر دینے کی وجہ بتاؤ۔۔وہ ہونٹوں سے نظر اٹھا کر اس کی شفاف آنکھوں کو پڑھتا بولا۔۔اس لیے کہ میں جب تک آپ کو بنا کر نہیں دوں گی آپ میری جان نہیں چھوڑیں گے اور میں نے جا کر پڑھنا ہے وہ اپنا بازو چھڑواتی بولی۔۔نہیں وہ وجہ بتاؤ جس وجہ سے تم مجھے کافی بنا کر دے رہی ہو۔۔وہ بازو سے پکڑ کر پھر سے اسے اپنے سامنے سیدھی کھڑی کرتا اس کی حیران آنکھوں میں جھانکتا بولا۔۔وہ پہلے تو آنکھیں بڑی کیے حیران ہو کر اسے دیکھتی رہی پھر بولی۔۔کیونکہ آپ نے میری بازو اس گندے انسان کی گرفت سے چھڑوائی تھی اس لیے بنا رہی ہوں۔۔

روشانے نے کہتے اپنا بازو چھڑوانے کے لیے حیدر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔حیدر نے شفاف آنکھوں میں نمی کی لکیر اترتی دیکھی اور اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جس پر وہ اپنا ہاتھ رکھے اپنا بازو اس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔حیدر نے اس کا بازو چھوڑا تو وہ اس کے لیے کافی بنانے لگی۔۔تمہیں پتہ ہے وہ تمہارا شوہر ہے اور بیویاں شوہروں کے لیے ایسے لفظ یوز نہیں کرتی جو بیوی شوہر کی عزت نہیں کرتی وہ سیدھی جہنم میں جاتی ہے۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھ ٹراؤزر کی پاکٹ میں ڈالے اس کے پاس کھڑا ہوتا ریک سے ٹیک لگائے اسے دیکھتا بولا۔۔تو پہلے کون سا میں اس کے ساتھ جنت کی سیریں کر رہی ہوں جہنم میں بھی تھوڑا سا سکون ہوگا جب وہ انسان میرے آس پاس ہوتا ہے تو میری زندگی کے وہ لمحات جہنم سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔۔وہ کافی پھینٹتی سڑے ہوئے انداز میں بولی۔۔حیدر کا دھیان بے اختیار اپنے بابا اور دادا کی باتوں کی طرف گیا جو اب حالات کے پیش نظر اس کی رخصتی کا سوچ رہے تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ اسی کی وجہ سے یہ فیصلہ کر رہے تھے۔۔اس کی رخصتی کرنا اس لڑکی پر ظلم نہیں ہوگا۔۔

؟؟یہ پکڑیں اپنی کافی اور اب آج کی رات میں مزید آپ کو کافی بنا کر نہیں دوں گی۔۔وہ کافی والا مگ سلیب پر اس کے پاس رکھتی بولی۔۔دعا کرنا کہ مجھے آدھی رات طلب نہ ہو کیونکہ تمہاری نیند تو برباد ہو سکتی ہے میری طلب ادھوری نہیں رہ سکتی وہ کہتا کافی کا مگ اٹھا کر کچن سے باہر نکل گیا۔۔ڈریگن،اکڑو،کڑوا سبز کریلا،۔۔وہ جلتی کڑھتی اسے اپنے من پسند ناموں سے نوازتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔۔

وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر دبے پاؤں چلتی اس کے سر پر کھڑی یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ ابھی بھی مدہوش سو رہے ہیں یا ان کے جاگنے کے کوئی چانس ہیں۔۔وہ اپنی روٹین کے مطابق صبح کی نماز کے بعد قران پاک کی تلاوت کر کے اذکار کرتی ڈریسنگ روم میں کاؤچ پر ہی دوبارہ سو گئی تھی کیونکہ باہر وہ اس کی اجازت کے بغیر جا نہیں سکتی تھی اور اتنی صبح کرنے کو اس کے پاس کوئی کام تھا نہیں۔۔اب کیا کروں۔۔ان کے بنا باہر بھی نہیں جا سکتی یہ تو ابھی تک مدہوش ہوئے پڑے ہیں اگر باہر جاؤں گی تو پھپھی صاحبہ میرے ہی انتظار میں گھات لگائے بیٹھی ہوں گی دیکھتے ہی اپنے آرڈر جاری کر دے گی۔۔اور ان نک چڑھے صاحب کا سارا غصہ پھر سے مجھ پر اترے گا میرے لیے باہر ایکٹنگ جو کرنی پڑتی ہے۔۔یا اللہ پاک ان کو کوئی ڈراؤنا خواب دکھا کر ان کی نیند توڑ دے اور میرے لیے آسانیاں فرما۔۔وہ ہاتھ اٹھائے اوپر کو منہ کیے اپنے دھیان میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی بولی۔۔وہ دبے پیر بالکل بیڈ کے پاس آ کر جھک کر اسے دیکھنے لگی۔۔

حیدر کے ایک دم سیدھا ہونے سے وہ جو اس پر جھکی ہوئی تھی ایک دم ہڑبڑا کر پیچھے ہونے کے چکر میں لڑکھڑاتی ایک چیخ کے ساتھ اس کے سینے پر لینڈ کر گئی۔۔حیدر جو اس کے روم میں قدم رکھنے پر ہی جاگ گیا تھا بند آنکھوں سے اس کی سب باتیں سنتا اس کی ایک ایک حرکت محسوس کر رہا تھا۔۔ وہ کچھ سوچتا ایک دم سیدھا ہوا کیونکہ جانتا تھا کہ اس پر جھکی ہوئی اس کی بےوقوف بیوی کا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔توقع کے عین مطابق وہ ہڑبھڑی میں اس کے سینے میں سمائی ہوئی تھی۔۔روشانے کا شدت سے دھڑکتا دل اسے اپنے سینے پر محسوس ہو رہا تھا۔۔کیا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔؟وہ اس کے گرد اپنے بازو لپیٹتا اس کے چہرے پر اپنا چہرہ رب کرتا بند آنکھوں سے نیند سے بوجھل بھاری مخمور سی آواز میں بولا۔۔وہ جو خوفزدہ ہوتی اس کی گردن میں زور سے آنکھیں بند کیے چہرہ چھپائے اپنی گرم گہری تیز سانسوں سے اس کی گردن کو نم کرتی اس کے برسنے کا انتظار کر رہی تھی اس کی بات سنتے حیرانگی سے آہستہ سے چہرہ نکال کر اسے دیکھنے لگی۔۔کک۔۔کیا۔۔مم۔۔مط۔۔لب۔۔وہ تیز ہوتی دھڑکن کے ساتھ لفظوں کو توڑتی بولی۔۔

میرے نیند میں ہونے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔وہ بالوں کی آوارہ لیئرز کے درمیان حیرانگی سجائے بڑی بڑی آنکھیں کھولے اس چہرے کو دیکھتا بولا۔۔گرنے سے اس کا شفون کا دوپٹہ سر سے اتر کر حیدر کے سینے پر پڑا تھا بال کیچر سے نکل کر اس کے اطراف میں پھیلے ہوئے تھے۔۔کک۔۔کیسا۔۔فا۔۔ئد۔۔ہ۔۔؟وہ چہرے پر مزید حیرانگی سجائے آنکھوں کو بڑا کیے اٹکتی بولی۔۔مجھے سویا ہوا سمجھ کر میری عزت لوٹنا چاہتی تھی۔۔وہ اسے خود میں بینھچتا اوپر کو ہوتا اپنا چہرہ زور سے اس کے چہرے پر رب کرتا سرگوشی میں بولا۔۔آواز میں نیند کی خماری اور بوجھل پن تھا۔۔روشانے کی جان ہوا ہوئی۔۔وہ اس کی بات سنتی سرخ چہرہ لیے آنکھوں کے ساتھ اب منہ بھی کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔حیدر نے پھر سے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا تو وہ سرخ چہرے سے زور سے نفی میں سر ہلانے لگی اور اس کے سینے سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔پھر میری نک پر لو بائٹ بنانے کا ارادہ تھا وہ اپنا حصار مزید تنگ کرتا اسے خود میں سماتا اس کی اٹھنے کی کوشش کو ناکام بنا گیا اور ایک ہاتھ سے اس کے بال کان کے پیچھے کرتا بولا۔۔

آنکھیں نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے سویل اور بالکل سرخ ہو رہی تھی۔۔وووہ۔۔کک۔۔کیا ہو۔۔تا۔۔ہے۔۔وہ پھولتی سانسوں سے لفظوں کو لمبا کھینچتی توڑتی پھوڑتی بولی۔۔حیدر ہاتھ روکے ایک دم سٹک ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔وہ اپنی بڑی بڑی شفاف کوپر آنکھوں میں حیرانگی کی جگہ اب ناسمجھی لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔لو بائٹ کا نہیں پتہ۔۔؟وہ عادت کے مطابق زور سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔روشانے نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پھر سے اٹھنے کی کوشش کی۔۔وہ ایک ڈرائنگ ہوتی ہے جو یہاں بناتے ہیں۔۔وہ اس کی گردن پر اپنے پہلے سے دئیے گئے نشان پر نظریں جمائے اسے خود میں دباتا اس کی اٹھنے کی کوشش کو پھر سے ناکام بناتا بولا۔۔وہ بلکل اس میں بینھچی ہوئی تھی۔۔حیدر کا ہاتھ سرکتا خود بخود اس کی گردن پر آیا اب انگوٹھا تکون تل پر رب ہو رہا تھا۔۔ڈرائنگ مطلب ٹیٹو۔۔وہ اپنی سمجھ کے مطابق اس کی بات کا مطلب اخذ کرتی جوش سے بولی۔۔

لیکن مجھے ٹیٹو بہت گندے لگتے ہیں کتنے عجیب سے لگتے ہیں ٹیٹو والے انسان اور یہ بنوانے بھی نہیں چاہیے ایک تو ان کو بنوانے کا کتنا درد ہوتا ہے اور پھر سارا انسان ہی رنگ برنگا ہو جاتا ہے۔۔وہ اپنی چھوٹی سی نوز چڑھاتی چہرے کا گندہ سا اینگل بناتی بولی جیسے کوئی گندی چیز دیکھ لی ہو۔۔حیدر نے غور سے اس کے فیس ایکسپریشن دیکھے جو اس کی بات کو اپنی سمجھ کے مطابق کہاں جوڑ رہی تھی۔۔حیدر نے نوٹس کیا تھا کہ وہ شادی لفظ کے بارے میں بھی نکاح اور شوہر کی حد تک جانتی تھی میاں بیوی کے حق حقوق کے بارے میں اسے کچھ زیادہ نہیں پتہ تھا نہ ہی اسے کسی نے گائیڈ کیا تھا۔۔لیکن یہ والا ٹیٹو بنوانے سے درد نہیں بہت سکون ملتا ہے۔۔حیدر نے اپنی بانہوں کا حصار مزید مضبوط کرتے ایک دم سائیڈ لی اور اسے اپنے اوپر سے بیڈ پر دوسری سائیڈ گراتا بولا اسے ویسے ہی خود میں بینھچے خود پورا اس کے اوپر آیا۔۔حیدررر۔۔روشانے اس اچانک افتاد پر گھبرا کر اسے پکارتی زور سے اس کی شرٹ کو سینے سے جکڑ گئی۔۔

حیدر نے اس کا اپنے سینے پر جما ہاتھ اٹھا کر ہاتھ اور بازو کی سرخی چیک کی جو بلکل ہلکی ہو چکی تھی شکر تھا نہ کوئی شالا بنا تھا نہ ہی زخم ہوا تھا۔۔ہاتھ واپس اپنے سینے پر رکھ کر حیدر اس کی ٹانگیں اپنی ٹانگوں میں لاک کرتا ایک بازو اس کی کمر میں دوسرا اس کے شولڈر کے نیچے سے گزار کر اسے شدت سے خود میں بینھچے اس پر جھکا اسے دیکھنے لگا جس کی کمر اور سینہ اوپر اٹھے ہونے کی وجہ سے شفاف لمبی گردن پیچھے کو ڈھلکی ہوئی تھی۔۔روشانے نے سر اٹھا کے اوپر ہونے کی کوشش کی لیکن وہ اتھرے بیل کے قبضے میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔۔اس کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا جو حیدر کو اپنے سینے پر صاف محسوس ہو رہا تھا۔۔دل کی بڑھتی دھڑکن کے ساتھ اس کی سانسیں پھول رہی تھی اور حلق کے ساتھ ہونٹ بھی خشک ہو رہے تھے۔۔روشانے کو لگ رہا تھا کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور اس کی اتنی مضبوط گرفت میں اس کے نیچے دبی رہی تو واقعی اس کی سانسیں بند ہو جائیں گی۔۔وہ منہ کھول کر سانس لیتی بڑے سے گھونٹ سے اپنا حلق تر کرتی خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر ان کو تر کر رہی تھی۔۔

حیدر کی نظریں اس کے ہونٹوں سے گردن پر آئیں میں بنا کر دکھاتا ہوں لو بائٹ کیا ہوتا ہے اور کیسے بناتے ہیں۔۔وہ اس کی گردن میں چہرہ چھپاتا اس کی خوشبو میں لمبا سانس لیتا ہونٹ اس کی گردن پر رب کرتا سرگوشی میں بولا۔۔اس کے لبوں کے ساتھ سخت مونچھوں اور بئیرڈ کی سرسراہٹ روشانے کی سانسیں روک رہی تھی۔۔حح۔۔حیدررر۔۔ہممم۔۔وہ مگن سا بولا۔۔پپ۔۔پل۔۔پلیز۔۔وہ اٹکتی ایک ہاتھ کی مٹھی شدت سے اس کے سینے پر جمائے دوسرا اس کے بالوں میں پھنسائے سرگوشی میں بولی۔۔حیدر لبوں کے ساتھ اپنا چہرہ بھی شدت سے اس کی گردن میں کبھی ایک سائیڈ تو کبھی دوسری سائیڈ رگڑ رہا تھا۔۔اپنے پسندیدہ پوائنٹ پر ہونٹ جماتا اس کے تل کو دانتوں میں بھرے اپنے نیچے دبی نازک جان کی جان نکالنے لگا۔۔حی۔۔حید۔۔رر۔۔وہ سسکتی اسے پکار گئی ہاتھ ابھی بھی بالوں میں تھا۔۔اس کی بڑھتی سختی پر بےاختیار آنکھیں بھیگنا شروع ہوئی۔۔کتنی دیر بعد اس کی سسکیاں سنتا گردن کو آزاد کرتا نیچے سرکتا اس کے سینے پر چہرہ رگڑنے لگا۔۔

روشانے کے پورے جسم میں عجیب سا سپارک ہونے لگا وہ اپنے جسم کے ساتھ ٹانگوں کو بھی حرکت دینے کی کوشش کرنے لگی۔۔لیکن بلکل بھی ہل نہیں سکی۔۔وہ بےچین ہوتی اپنا بالوں والا ہاتھ اس کے کندھے پر جماتی مزاحمت کرنے لگی۔۔اگر وہ اسے خود پر گرنے کی سزا دے رہا تھا تو اس کی جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔حید۔۔ررر۔۔پل۔۔یزز۔۔وہ اس کی پرتپش گرم گہری سانسوں کی گرمی اور دہکتے لبوں کی نمی اپنے سینے پر محسوس کرتی بری طرح لرز رہی تھی۔۔پپ۔۔پلی۔۔زز۔۔سور۔۔ی۔۔وہ لفظوں کو توڑتی پھوڑتی سسکتی اٹکتی روہانسی نم آواز میں بولی جو سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی۔۔اب روشانے کو صحیح معنوں میں یہ سزا لگ رہی تھی کیونکہ پیار تو وہ انسان اس سے کرتا نہیں تھا اور کبھی پیار سے اس کے پاس آئے گا یہ تو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔ایک تو اس کی مسلسل مزاحمت اوپر سے اس کی سوری سنتے حیدر نے اس کے دل کے مقام پر چہرے سے شرٹ سائیڈ پر کرتے چہرہ گہرائی میں لے جاتے زور سے دانت گاڑھ دیئے۔۔روشانے زور سے سسکی لیتی بےاختیار اپنا چہرہ اوپر اٹھتی اس کے بالوں پر رکھ گئی۔۔

حیدر اس کی نرم سی جلد کو دانتوں سے آزاد کرتا لبوں میں بھر کر چھوڑتا تھوڑا سا چہرہ اٹھا کر اپنے دئیے گئے نشان کو دیکھنے لگا اس کے پورے کے پورے دانت اس کی شفاف نرم جلد میں گہرے چھپے ہوئے تھے۔۔حیدر نے جھک کر وہاں نرمی سے اپنے ہونٹ رکھ دیئے اب وہ بہت نرمی سے اس نشان کو اپنے لبوں میں بھر رہا تھا۔۔روشانے کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔پورے جسم میں عجیب سا کچھ ہو رہا تھا۔۔وہ واپس گردن ایک طرف لٹکائے گہرے سانس لینے لگی۔۔اب وہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔اس کے کندھے کے نیچے سے بازو سرکا کر اس کے سر کے نیچے کرکے اس کا لٹکا سر بیلنس کیا۔۔روشانے سرخ چہرہ لیے بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔حیدر نے اپنا چہرہ اس کی آنکھوں پر رگڑ کر غیر محسوس انداز میں اس کی آنکھیں صاف کی۔۔مم۔۔میں۔۔جان۔۔بوجھ کر۔۔آآپ۔۔پر۔نہیں۔۔گری۔۔حیدر بلکل اس پر جھکا اس کی سانسوں میں سانس لیتا اسے دیکھ رہا تھا۔۔سو۔۔ر۔۔ی۔۔غل۔۔طی۔۔سے۔۔وہ اس کی ہیزل سرخ آنکھوں میں دیکھتی اپنی بات اُدھوری چھوڑتی چپ ہوئی۔۔نم آواز کوشش کے باوجود مری ہوئی سرگوشی سے زیادہ نہیں نکال پائی۔۔

روشانے اس کی گرم سانسیں اپنے لبوں پر محسوس کرتی بڑا سا گھونٹ بھرتی نیچے والا لب دانتوں کے دباؤ میں لے گئی۔۔حیدر نے جو دونوں کی سانسوں کے درمیان ہوا بھر کا فاصلہ تھا وہ بھی ختم کیا اور اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹ کو دانتوں سے آزاد کروایا۔۔اب وہ اس کے لبوں پر اپنے لب رب کرتا اس کی جان نکال رہا تھا۔۔روشانے اپنے ہاتھ زور سے اس کے کندھوں پر جما گئی۔۔ح۔۔ی۔۔د۔۔ررر۔۔وہ سسکتی پھر اسکے نام کو ٹوٹا پھوٹا سا پکار گئی۔۔حیدر اس کی سسکی کو اپنے لبوں میں دباتا اس کی سانسوں پر قابض ہوا۔۔انداز میں واضح استحاق تھا۔۔روشانے کا دل جو پہلے ہی دھڑک دھڑک کر باہر آ رہا تھا اور سپیڈ پکڑ گیا۔۔بڑھتی دھڑکن اور پھولتی سانسوں سے اسے آکسیجن کی کمی ہونے لگی۔۔روشانے اس کے کندھوں پر جمے ہاتھوں سے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔اس کی مزاحمت محسوس کرتے حیدر کی نرمی اگلے ہی پل سختی میں بدل گئی۔۔آنسوؤں نے پھر باہر کا رستہ دیکھا۔۔اس کی بڑھتی سختی پر روشانے ساری مزاحمت ترک کرتی خود کو اس کے حوالے کرگئی۔۔

جانتی تھی وہ جتنی مزاحمت کرے گی وہ اتنی سختی کرے گا اور سانس بھی نہیں لینے دے گا۔۔تھوڑی دیر بعد حیدر اس کے لبوں کو آزاد کرتا اس کے نرم گلابی گالوں پر ہونٹ رب کرنے لگا۔۔روشانے کھانستی زور زور سے گہرے سانس لینے لگی۔۔وہ پھر سے غیر محسوس انداز میں اس کی آنکھوں پر لب رگڑتا اس کے آنسو پینے لگا۔۔جیسے ہی اس کی سانسیں تھوڑی سی اعتدال پر آئیں وہ پھر سے اس کی سانسیں پینے لگا لیکن اب انداز بہت ہی نرم تھا روشانے اس کے اتنے نرم انداز پر بےاختیار آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔پہلی دفعہ اسے اپنے اتنے قریب وہ بھی اس حالت میں دیکھ کر روشانے کا دل عجیب انداز میں دھڑکا چہرہ مزید سرخ ہیٹ اپ ہو کر بھاپ چھوڑنے لگا۔۔پورا جسم گرم ہو کر پسینے میں بھیگنے لگا۔۔حیدر اس کی بھیگی کوپر آنکھوں میں دیکھتا کمر کے نیچے سے بازو نکالتا ہاتھ اس کی شرٹ میں ڈالتا اس کے پیٹ پر بےباک انداز میں پھیرنے لگا۔۔روشانے اس کی حرکت پر بری طرح سٹپٹاتی خود کو موو کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔حیدر اس کی سانسوں کو آزادی دیتا چہرہ اٹھا کر اس کا نم سرخ چہرہ دیکھنے لگا۔۔

ح۔ی۔د۔رر۔۔پل۔یزز۔۔وہ گہری سانسوں کے درمیان بمشکل منت کرتی بولی۔۔اس کی حالت دیکھتے حیدر سائیڈ لیتا اسے اپنے اوپر کرتا خود بیڈ پر لیٹا۔۔اس کے وزن سے آزاد ہوتے ہی روشانے کو لگا کہ پتہ نہیں کتنے عرصے بعد وہ کسی بھاری وزن سے آزاد ہوئی ہو اور کھل کر سانس لینے کا موقع ملا ہو۔۔وہ گہری سانسیں لیتی اس کی گردن میں چھپی۔۔حیدر کا پیٹ والا ہاتھ اس کی کمر پر آیا۔۔روشانے اس کے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ سمٹتی اسی میں سمانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔حید۔۔رر۔۔نہی۔نہیں۔۔کر۔۔یں۔۔پلیزز۔۔وہ سرگوشی میں مزید اس کی گردن میں گھستی منمنائی۔۔کیوں کیا ہو رہا ہے۔۔؟وہ اس کی گال پر نرمی سے اپنا چہرہ رب کرتا سرگوشی میں بولا۔۔پپ۔۔پتہ۔۔نہیں۔۔وہ لرزتی بولی۔۔مم۔۔میں۔۔باہر چلی۔۔جاؤں۔۔اس کے بولنے سے حیدر کو گرم نم سانسوں کے ساتھ اس کے ہونٹوں کی نرمیاں بھی اپنی گردن پر واضح محسوس ہو رہیں تھیں۔۔کہاں۔۔؟حیدر اپنے دل کی بڑھتی طلب کو نظر انداز کرتا اس کی گال پر اب لب رب کرتا بولا۔۔کچ۔۔کچن۔۔میں۔۔وہ پھر سے منمنائی۔۔کیوں۔۔؟وہ اس کی نرم گال کو زور سے لبوں میں بھرتا بولا۔۔

حیدر کا سارا جسم بےچینوں سے بھر چکا تھا خود پر پہرے لگائے وہ پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔۔بھو۔۔ک۔۔لگی۔۔ہے۔۔وہ روہانسی بولی۔۔اب سانسوں کی نمی آواز میں بھی شامل تھی۔۔حیدر کو لگا کہ اگر اور تھوڑی دیر اس نے اسے آزاد نہ کیا تو وہ بچوں کی طرح رونے لگ جائے گی۔۔کیونکہ آج وہ اسے اس کی ہمت سے زیادہ تنگ کر چکا تھا۔۔وہ اس کی شرٹ سے ہاتھ نکالتا اس کا حلیہ سٹ کرتا اسے لے کر اٹھ کر بیٹھا۔۔روشانے نے اس کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اسے خود میں قید کیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔اس کے سوری بولنے پر وہ کچھ زیادہ ہی سختی کر گیا تھا۔۔جس کا نتیجہ اس کی نظروں کے سامنے تھا اس کی گردن اور سینے کی دودھیا جلد پر اس کے دیے گئے نشان اب اپنا رنگ بدلنے لگے تھے۔۔روشانے نے اس کی نظروں کے تعاقب میں اپنا حلیہ دیکھا وہ بنا دوپٹے کے اس کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی قمیض بے ترتیب ہوتی اس کی خوبصورتی کو عیاں کر رہی تھی۔۔وہ بےاختیار آگے کو ہوتی اس کی گردن میں بازو ڈالتی اس کے سینے میں سماتی خود کو اسی میں چھپا گئی۔۔اس کی حرکت پر حیدر کے لبوں کو بے اختیار مسکراہٹ نے چھوا۔۔

باہر جانا ہے یا یہیں میری بانہوں میں سارا دن گزارنے کا ارادہ ہے۔۔حیدر اسے اپنے حصار میں لیتا اس کے کانوں پر لب رگڑتا سرگوشی میں بولا۔۔پلیزز۔۔وہ بالکل رو دینے کو تھی۔۔اوکے۔۔ریلیکس۔۔سیدھی ہو کر بیٹھو۔۔حیدر لمبا سانس کھینچتا اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا بولا۔۔روشانے نے اس کے سینے سے چہرہ نکال کر اسے دیکھا۔۔حیدر نے اسے آنکھوں سے بیڈ کی طرف اشارہ کیا۔۔وہ سپیڈ سے اس کی گود سے نکلتی بیڈ سے نیچے اترنے لگی۔۔رکو۔۔حیدر اس کا بازو پکڑ کر بولا۔۔روشانے نے روہانسے انداز میں اسے دیکھا۔۔حیدر نے آگے کو جھک کر ڈراز سے میڈیکل باکس نکالا۔۔اس کا ہاتھ پکڑتا نرمی سے اس کے بازو اور ہاتھ پر کریم لگا رہا تھا پھر اس کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا تو روشانے نے چپ چاپ شرافت سے اپنا پاؤں اوپر کر کے اس کے آگے کر دیا پھر اسی انداز میں اس کے پاؤں پر کریم لگائی۔۔ہاتھ کو زیادہ پانی میں نہیں ڈالنا شام تک یہ سرخی بھی ختم ہو جائے گی۔۔وہ کریم بند کرتا بولا۔۔میں۔۔جاؤں۔۔وہ اجازت لیتی بولی۔۔ہاں چل کر ناشتہ بناؤ میں بھی آ رہا ہوں اور ہاں۔۔جانے سے پہلے اپنا حلیہ سیٹ کرو پھر باہر جانا۔۔

اجازت ملتے ہی سپیڈ سے وہ اپنا دوپٹہ اٹھاتی جیسے ہی دروازے کی طرف بڑھی تو حیدر نے اسے روکتے کہا اور خود کھڑا ہوتا ٹراؤزر کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھنے لگا۔۔اس کے لفظوں پر غور کرتی وہ بے اختیار چلتی آ کر مرر کے سامنے کھڑی ہوئی تو اپنی گردن پر نظر پڑتے ہی آنکھیں بڑی کیے دیکھنے لگی چہرہ الگ ضرورت سے زیادہ سرخ اور نم ہو رہا تھا۔۔حیدر دلچسپ نظروں سے اس کے فیس ایکسپریشن دیکھنے لگا۔۔آآپ۔۔وہ مرر سے اس پر نظر کرتی بولتی چپ ہوئی۔۔حیدر نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا کہ کیا۔۔؟وہ اسے گھورتی ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔