Ziddi (ضدی) — Episode 11
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 11
قسط 11 · کہانی
خود پر سٹالر اچھے سے سٹ کئے جیسے ہی حال میں داخل ہوئی تو پھپھو کی سخت چنگھاڑتی آواز نے اس کا استقبال کیا۔۔ماشااللہ ماشااللہ مہارانی صاحبہ کے آرام کا ٹائم ختم ہو گیا۔۔بشرم ہڈحرام لڑکی اگر آرام کرنے اور بستر توڑنے سے فرصت مل گئی ہے تو کچن کو بھی اپنا دیدار کروا دو صبح سے سب بھوکے پیاسے بیٹھے ہیں۔۔وہ اسے دیکھتے ہی دل کی بھڑاس نکالنے لگی کیونکہ رات تو دل کی ساری حسرتیں دل میں ہی رہ گئیں تھیں۔۔ناشتہ بناؤ میرے لیے جا کر اور ساتھ میں گرم چائے کا کپ بھی لے کر آنا اور ہاں۔۔عالیہ۔۔اس سے پہلے کہ پھپھو کا آڈر پورا ہوتا حنان کی غصے سے بھری سرد آواز سے حال گونجا۔۔وہ جو صوفے پر بیٹھا خبریں سن رہا تھا پھپھو کی باتوں پر بھڑک اٹھا۔۔ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو آواز دی۔۔پھپھو اور دادی کے ساتھ روشانے نے بھی چونک کر انھیں دیکھا۔۔جی۔۔عالیہ اس کی غصے سے گونجتی آواز سن کر بھاگ کر بچوں کے کمرے سے باہر نکلی کیونکہ وہ رات اپنی بیوی کی طبیعت اچھے سے صاف کرنے کے بعد چھت سے ڈیرے پر چلا گیا تھا اور تھوڑی دیر پہلے ہی واپس آیا تھا۔۔
میں نے رات کیا بکواس کی تھی تم سے۔۔وہ مزید بھڑکتا گونجا۔۔کک۔کیا ہوا۔۔عالیہ بےچاری اپنی ماں اور سیڑھیوں کے پاس کھڑی روشانے کو ایک نظر دیکھتی اٹکتی بولی۔۔کیونکہ حنان واقعی اس وقت بہت غصے میں تھا۔۔میں نے رات بکواس کی تھی نا کہ تمھارے میکے میں سے کوئی بھی آئے گا تو وہ تمہاری ذمہ داری ہوگا اس کے کھانے پینے ہر ضرورت کا تم نے خیال رکھنا ہے میری بکواس کی سمجھ آئی تھی کہ نہیں۔۔وہ آج پھپھو کے بجائے اس کے میکے والے بولا تھا۔۔وہ میں بچوں۔۔بچوں اور باقی کاموں کو جھونکوں چولہے میں وہاں ہاتھ باندھ کر اپنی ماں کے سامنے کھڑی رہو۔۔وہ اس کی بات کاٹتا تلخی سے بھڑکتا اس کی ماں کی طرف اشارہ کرتا بولا کیونکہ ان کی باندی بننا تم پر فرض ہے اس گھر کی دوسری بہو بیٹیوں پر نہیں۔۔عالیہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھا جو حنان کی باتیں سنتی ناگوری سے پہلو بدلتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔اس کو اتنا غصے میں بولتا سن کر حال میں داخل ہوتے ایوب اور جاوید صاحب وہیں رکے۔۔کیونکہ حنان کی گرجتی آواز باہر تک جا رہی تھی۔۔وہ لوگ باہر سے ہی سارا معاملہ سمجھ گئے تھے۔۔
شانے بیٹا آپ آؤ میرے ساتھ۔۔حنان غصیلی نگاہوں سے اپنی بیوی کو گھورتا حیران کھڑی روشانے کو لے کر باہر لان کی طرف بڑھ گیا۔۔عالیہ پر حنان کبھی بھی اس طرح نہیں بھڑکا تھا دوسروں کی نسبت وہ ٹھنڈی طبیعت کا تھا۔۔وہ اپنی ماں کی طرف بڑھی اماں ابھی روم میں جانے سے پہلے ہی تو میں نے آپ کو چائے اور ناشتہ کا پوچھا تھا تب تو آپ کو بھوک نہیں تھی روشانے کے نظر آتے ہی ایک منٹ میں بھوک پیاس جاگ گئی۔۔آئے ہائے کیا غضب ہو گیا جو میں نے اس ناس پٹی میسنی کو زرا سا کام کہہ دیا تو۔۔اماں یہ دیکھ مجھ پر اور میری بیٹیوں پر رحم کھائیں میرا بسا بسایا گھر نہ اجاڑیں۔۔ وہ اپنی ماں کی ڈھٹائی پر اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی بولی۔۔وہ اب اس بزدل انسان باسل کے نکاح میں نہیں حیدر لاشاری کی بیوی ہے اس گھر کی بہو اور عزت یہ بات اچھی طرح یاد کر لیں۔۔وہ کہتی واپس بچوں کے روم میں چلی گئی۔۔ دیکھا آپ نے ایوب صاحب اس ڈھیٹ لڑکی کو مجال ہے جو اس کے دیدوں میں کسی کا ڈر یا لحاظ ہو پتہ تھا کہ میں اور میری بچی صبح کے بھوکے پیاسے بیٹھے ہیں ایک دفعہ بھی جو اس بےشرم نے باہر نکل کر پوچھا ہو۔۔
ہتہ نہیں اس گھر کے مردوں پر اپنی اداؤں کے کون سے۔۔خدیجہ بیگم بس۔۔ادھر ہی اپنی زبان کو لگام ڈال لو اگر تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی اور نکلا تو میں بھول جاؤں گا کہ ہم نے زندگی کے کتنے سال ساتھ گزارے ہیں۔۔ایوب صاحب اپنی بیوی کی چلتی زبان کو درمیان میں ہی بریک لگاتے اونچی آواز میں بولے۔۔وہ دونوں ماں بیٹی منہ کھولے ان کو دیکھ رہیں تھیں۔۔کیونکہ ایک لمبے عرصے بعد ایوب صاحب کسی معاملے میں اپنی بیوی پر بھڑک رہے تھے۔۔کیوں بیٹھی ہوئی ہو صبح سے بھوکی پیاسی۔۔صبح سے جو بیٹی گھٹنے سے لگی بیٹھی ہے اسے نہیں پتہ کہ ماں کو بھوک لگی ہے اٹھ کر کچھ بنا دے اور اگر اسے بھوک لگی ہے تو اس کی بھی بیٹی اس گھر میں موجود ہے۔۔ان کی بات سنتے دونوں بے چینی سے اپنا پہلو بدلتی نظریں جھکا گئیں۔۔دادا جی کی اتنی غصے بھری آواز سن کر عائزہ زہرہ اور عالیہ بھی حال میں آگئی۔۔عالیہ بیٹی اپنی ماں سے پوچھو اسے جس چیز کی ضرورت ہو وہ اسے دو۔۔زہرہ بیٹی اپنی دادی کو ناشتہ بنا کر دو۔۔
اور ہاں اگر دو گھنٹے بھی دن میں تم سے اپنی بیٹی کے بغیر نہیں نہ گزرتے تو ایک ہفتے کے لیے اس کے ساتھ اس کے گھر چلی جاؤ اس بہانے وہ بھی اپنے گھر رہ کر اپنے گھر اور بچوں پر توجہ دے سکے گی اور تمہاری خدمت بھی کر لے گی۔۔وہ اپنی بیوی کو غصے سے گھورتے ہوئے کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔ماں جیسی میسنی پچھل پیری پتہ نہیں گھر کے مردوں پر کیا جادو ٹونے کرتی رہتی ہے آج کل جیسے دیکھو اسی کی ہمدردی کا بخار چڑھا ہوا ہے۔۔دادی کی بات سنتے عالیہ اور زہرہ نے افسوس سے نفی میں سر ہلاتے ایک دوسرے کی طرف دیکھا( واقعی کچھ انسانوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ سختی کی مہر لگا دیتا ہے ان کو تب تک سمجھ نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ڈھیلی چھوٹی گئی رسی کو اللہ تعالیٰ خود نہ کھینچیں)۔۔اور تو ذرا اپنے شوہر پر نظر رکھ آج کل میں دیکھ رہی ہوں کہ اس لڑکی کی اداؤں کا سارا رجحان تیرے شوہر کی طرف ہے۔۔آج اس لڑکی کی خاطر ہمیں ہی پرایا کر دیا تیرے میکے والے بنا دیا۔۔عالیہ کچن کی طرف مڑنے لگی جب اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی۔۔
وہ حیرت سے آنکھیں کھولے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔۔اماں جان آپ حنان کو بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ شانے کو بالکل اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔۔ہاں تو وہ اسے بہن بیٹی سمجھتا ہے نا وہ پچھل پیری ماں جیسی تو اسے بھائی باپ کی جگہ نہیں سمجھتی۔۔جواب میں بلکل جلے ہوئے انداز میں تنک کر بولی۔۔اماں کچھ خدا کا خوف کریں کچھ کیوں اس معصوم کے پیچھے آپ ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہیں وہ اس گھر میں ابھی نہیں آئی ایک گھنٹے سے بھی کم عمر تھی جب اس گھر میں آئی تھی اور تب سے انہی مردوں کے درمیان میں رہ رہی ہے۔۔ارے چھوڑیں پھپھو بھابھی کو جو اس وقت وہ معصوم بچی نظر آرہی ہے نا ان کی آنکھیں تب کھلیں گی جب وہ اپنی معصومیت کے جوہر دکھاتی ہوئی ان کی جگہ پر قابض نظر آئے گی۔۔عائزہ یہ تم کہہ رہی ہو۔۔؟عائزہ کے بولنے پر عالیہ نے افسوس سے اسے دیکھتے کہا۔۔جی ہاں اب بہت اچھے سے اس معصوم کو جان گئی ہوں اسی لیے کہہ رہی ہوں۔۔عائزہ ایک ایک لفظ چباتی بولی۔۔
آ جائیں بھابھی ناشتہ بنائیں وقت کے ساتھ سب کو سمجھ آ جائے گی ابھی سر کھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بس دعا ہے کہ انسانوں کے سمجھانے سے ہی سمجھ جائیں۔۔زہرہ افسوس سے عائزہ کو دیکھتی عالیہ کا بازو پکڑتی کچن کی طرف جاتی بولی۔۔عالیہ بھی لمبا سانس لیتی اس کے ساتھ کچن میں چلی گئی۔۔اسلام علیکم۔۔ حیدر حال میں داخل ہوتا سب کو سلام بولا۔۔بھائی۔۔عائزہ اٹھ کر اس کے سینے سے لگی۔۔بھائی کا بیٹا کیسا ہے۔۔حیدر اسے خود سے لگاتا اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا۔۔میں بلکل ٹھیک آپ کیسے ہیں۔۔بلکل فٹ۔۔یارر وائفی ناشتہ لگاؤ۔۔حیدر کچن کی طرف منہ کرتا بولا۔۔کونسا ناشتہ کہاں کا ناشتہ۔۔اسے ہنسی ٹھٹھوں سے فرصت ملے گی تو کسی کے ناشتے پانی کی طرف دھیان جائے گا نا۔۔پہلے تھوڑی ہڈحرام نکمی کام چور تھی جو اب خیر سے سر چڑھانے والے مل گئے ہیں۔۔حیدر کے ناشتہ مانگنے پر دادی نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔۔بھائی سچ میں بہت بھوک لگ رہی ہے اب تو کھڑے بھی نہیں ہوا جا رہا۔۔عائزہ جلتی پر تیل ڈالتی روہانسی ہوتی پیٹ پکڑے بولی۔۔حیدر نے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھتے دادی اور پھپھو کو دیکھا۔۔
حیدر بھائی ناشتہ تیار ہے بس ابھی لگ جائے گا سب نے کرنا ہے۔۔زہرہ کچن سے نکلتی بولی۔۔حیدر نے ہاں میں سر ہلایا۔۔عائزہ بیٹا کچن میں جاؤ اور بھابھی کے ساتھ ہلپ کرواؤ۔۔حیدر کے کہنے پر عائزہ نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔۔وہ تو کچھ اور توقع کر رہی تھی۔۔آئے ہائے بچی کیوں جائے کچن میں اس کام چور ہڈحرام کو بلا آ کر ناشتہ بنا کر دے اسے۔۔دادی جس گھر میں اس کی شادی ہونی ہے نا وہاں کچن میں کوئی ملازم کام نہیں کرتا نہ ہی اس نے اس کے ساتھ کام کرنے جانا ہے بلکہ اس گھر کی عورتیں خود کچن اور گھر سنھبالتی ہیں۔۔حیدر نے دادی سے کہا اور عائزہ کو پھر سے کچن کی طرف اشارہ کیا۔۔خود لان والی گلاس وال کی طرف بڑھ گیا کارٹن سائیڈ پر کرتے نظر لان میں رکھی چیئرز پر پڑی تو اپنی بیوی پر ہو رہی گولہ باری کی وجہ سمجھ میں آئی۔۔قدم خود بخود باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔سمجھتی کیا ہے میرے بھائیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اس گھر پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہی ہے یہ تو میں پورا نہیں ہونے دوں گی مجھے نیچا دکھائے گی۔۔
اپنے بھائی کی زندگی سے تو کیا اس حویلی سے باہر نہ نکلوایا تو میں بھی عائزہ لاشاری نہیں۔۔عائزہ کچن میں داخل ہوتی فرج سے پانی والی بوٹل نکالتی زور دار آواز میں فرج بند کرتی مسلسل اپنے من کی بھڑاس نکال رہی تھی۔۔بدچلن بغیرت لڑکی نے حیدر بھائی جیسے انسان کو اپنی مٹھی میں کر لیا جو اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔۔پھپھو اور دادی اس کے بارے میں بلکل ٹھیک ہیں اپنی ماں جیسی پتہ نہیں سب مردوں پر کونسی اداؤں کے جال ڈالتی ہے سب کو ہی معصوم اور مظلوم لگتی ہے۔۔اب وہ چیزیں ادھر ادھر پٹکتی لفظوں کو چبا رہی تھی۔۔عالیہ اور زہرہ نے افسوس سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
وہ چپ چاپ چلتی حنان کے ساتھ لان کی چیئرز پر بیٹھی۔۔اسے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اس کی زندگی اسے کدھر لے کر جا رہی ہے پہلی دفعہ اس نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔حنان بھائی کوئی پریشانی ہے آپ کو۔۔؟حنان جو اس کے سامنے والی چیئر پر ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے نظریں جھکائے سوچوں میں گم پریشان بیٹھا تھا اس کے پوچھنے پر اسے دیکھتا ہاں میں سر ہلا گیا۔۔ہاں۔۔اور میری یہ پریشانی آپ ہی ختم کر سکتی ہیں۔۔وہ اسے نادم نظروں سے دیکھتا بولا۔۔میں۔۔وہ حیرانگی سے آنکھیں اور منہ کھولے اپنی طرف اشارہ کرتی بولی۔۔حنان نے اثبات میں سر ہلایا۔۔کک۔۔کیسے۔۔وہ پریشان ہوتی اٹکتی بولی۔۔اپنے اس گنہگار بھائی کو معاف کر کے۔۔حنان شرمندہ لحجے میں بولا۔۔حنان بھائی۔۔ وہ مزید حیرانگی سے بولی۔۔شانے بیٹا کہنے کو تو آج تک میں یہ کہتا آیا ہوں کہ آپ میری بیٹیوں اور بہنوں کی طرح مجھے عزیز ہیں لیکن میں کبھی اپنے اس بولے گئے فقرے پر ایک لمحے کے لیے بھی پورا نہیں اترا۔۔
پھر وہ اپنی ایک ایک غلطی کا اعتراف کرتا گیا کہ کب کب وہ مدد کیلئے لیے اس کے پاس آئی تو وہ اسے دوسرا رستہ دکھا کر خود بری ذمہ ہو کر سائیڈ پر ہوگیا ضرورت پڑنے پر اس نے کبھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔۔بےاختیار روشانے کی آنکھیں بھیگی۔۔جب سے اپنی زندگی کی یہ دوغلی حقیقت خود پر کھلی ہے میں شرمندگی سے خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا۔۔بیٹا میں اپنے ہر اس لمحے کے لیے آپ سے معافی مانگتا ہوں جب آپ کو میری ضرورت تھی اور میں آپ کے ساتھ نہیں تھا۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑتا آنکھوں میں نمی اور لہجے میں شرمندگی لیے بولا۔۔ارے حنان بھائی یہ آپ کیا کر رہے ہیں پلیز۔۔وہ گیلی آنکھوں سے جلدی سے ان کے ہاتھ تھامتے بولی۔۔نہیں بیٹا مجھے معافی مانگنے دو تاکہ میں اپنے ضمیر کی عدالت میں تھوڑا سا سر اٹھا سکوں۔۔حنان بھائی پلیز ایسا کر کے مجھے شرمندہ مت کریں مجھے کسی سے بھی کوئی شکوہ نہیں ہے۔۔وہ ان کے ہاتھ نیچے کرتی بھیگے لہجے میں بولی۔۔مطلب میں کبھی بھی اس شرمندگی سے نکل نہیں پاؤں گا۔۔وہ سر جھکائے بولا۔۔
حنان بھائی آپ ایسا کچھ بھی نہ سوچیں ہاں مجھے پہلے دکھ ہوتا تھا لیکن آج آپ نے بول دیا تو وہ شکوہ بھی ختم ہو گیا۔۔وہ گیلی آنکھوں سے مسکراتی بولی۔۔بیٹا میں وعدہ کرتا ہوں آج سے باہر تو کیا فیملی کا بھی کوئی فرد آپ کی طرف انگلی تو کیا سخت نظر سے بھی نہیں دیکھے گا کیونکہ آج سے آپ کا بھائی آپ کے ساتھ ہے۔۔سچ میں۔۔وہ بازو پر اپنی آنکھیں رگڑتی خوشی سے مسکراتی بولی۔۔بلکل سچ۔۔اور اگر آپ کو کوئی پریشانی کوئی مشکل یا کوئی بھی کچھ کہے چاہے وہ آپ کا سڑو شوہر ہی کیوں نہ ہو آپ نے سیدھا میرے پاس آنا ہے پھر دیکھنا کیسے میں اس کے کان مروڑ کر سیدھا کرتا ہوں وہ حیدر کو اپنی طرف آتے دیکھ کر بولا۔۔حنان بھائی آپ ان اکڑو ڈریگن کے کان مروڑیں گے۔۔؟وہ مسکراتی آنکھیں بڑی کیے بولی۔۔جب وہ بنا بادل غصے میں برستے ہیں تو آپ کی تو خود کی جان جاتی ہے تو آپ کہاں سے ان کے کان مروڑیں گے۔۔آپ کو پتہ ہے سبز کریلے سے بھی زیادہ کڑوے ہیں مار دھاڑ ہاتھ پاؤں ٹانگیں توڑنے کے لیے تو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔۔حنان اس کی باتیں سنتا مسلسل ہنس رہا تھا۔۔
حیدر جو ٹراؤزر کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے چپ چاپ آکر اس کی چیئر کے پیچھے کھڑا اپنے بارے میں اپنی بیوی کے نادر خیالات سن رہا تھا حنان کے متوجہ کرنے پر اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔روشانے کی اس کی طرف بیک اور حنان کا چہرہ تھا۔۔آپ اور حاشر بھائی کتنے سوفٹ اور سویٹ ہیں مجھے لگتا آپ دونوں کی دفعہ مما نے صرف سویٹ کھائی تھی اور ان کی دفعہ۔۔اس کی دفعہ میں بتاؤں کیا کھایا تھا ماں نے۔۔حنان اس کی بات درمیان میں ہی ٹوکتا آگے کو ہوتا رازداری سے بولا۔۔کیا۔۔؟؟وہ بھی متجسس ہو کر آگے کو ہوتی پوچھنے لگی۔۔ماں نے صرف کریلے کھائے تھے وہ بھی سبز والے کڑوے۔۔حنان شرارتی لہجے میں منہ کا گندہ سا اینگل بناتا بولا۔۔دیکھا میں ہمیشہ سے صحیح سوچتی تھی۔۔سامنے بیٹھی ہستی اس کی بات پر سنجیدگی سے من و عن یقین کرتی ہولی۔۔ حیدر نفی میں سر ہلاتا اپنا گلا صاف کرتا اسے اپنی طرف متوجہ کر گیا۔۔روشانے نے آنکھیں بڑی کر کے حنان کی طرف دیکھا جیسے اپنے پیچھے اس کی موجودگی کا یقین جا رہی ہو۔۔کیا ہو رہا ہے۔۔وہ روشانے کی ساتھ والی چیئر پر بیٹھتا بولا۔۔
کچھ نہیں ہم سڑے ہوئے کڑوے انسانوں پر ریسرچ کر رہے تھے۔۔حنان مسکراتا بولا۔۔آآپ۔۔کب۔۔آئے۔۔وہ ابھی بھی حیرانگی سے اسے دیکھتی آہستگی سے بولی۔۔حیدر نے اسے دیکھا جو عادت کے مطابق آنکھیں اور منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ابھی۔۔وہ ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا منہ بند کرتا بولا۔۔اففف۔۔ہائے اللہ جی کیا میری ساری بکواس انھوں نے سن لی ہے۔۔نہیں اگر اپنی شان میں گستاخی سنی ہوتی تو عادت کے مطابق اب تک مجھے اٹھا کر پھینک چکے ہوتے یا اپنے انداز میں سزا دے رہے ہوتے۔۔وہ بے دھیانی میں مسلسل اسے دیکھتی سوچ رہی تھی۔۔سزا کا سوچتے بےاختیار آج کا سب اس کی نظروں میں گھوما تو دل کی دھڑکن تیز ہوئی اپنے جسم پر اس کے مضبوط ہاتھ کا لمس ابھی بھی محسوس ہو رہا تھا۔۔پہلے سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہے نا کیوں شانے بیٹا۔۔حنان نے حیدر کو شرارتی نظروں سے دیکھتے روشانے سے پوچھا جو ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔حنان کے پوچھنے پر اس نے چونک کر نظریں گھوما کر اس کی طرف دیکھا۔۔کون۔۔روشانے نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔
حیدر جو مسلسل اپنی بیوی کی نظریں خود پر محسوس کر رہا تھا گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا جو اب حنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔حنان نے آنکھوں کا اشارہ حیدر کی طرف کیا لبوں پر مسکراہٹ کے ساتھ آنکھوں میں واضح شرارت تھی جو سامنے بیٹھی ہستی کو بلکل سمجھ نہیں آئی۔۔روشانے نے چہرہ حیدر کی طرف گھمایا اور اسے اپنے دھیان میں غور سے دیکھنے لگی پھر نفی میں سر ہلایا۔۔حیدر اس کے فیس ایکسپریس دیکھتا اپنی ہنسی دباتا سنجیدہ آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔جبکہ حنان اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے لیے اپنی گردن رب کرتا ہونٹوں کو دباؤ میں لے گیا۔۔نہیں پیارا لگ رہا۔۔؟حنان نے گلہ صاف کرتے دوبارہ پوچھا۔۔آواز میں واضح حیرت شامل کی۔۔روشانے نے پھر زور سے سر نفی میں ہلایا۔۔اتنی نزدیک سے اس ڈریگن کی گھورتی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔پاپا چاچو مما کہہ رہی ہیں ناشتہ کر لیں۔۔اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا حنان کی چھوٹی بیٹی بھاگ کر ان کی طرف آتی بولی۔۔حنان کی دو ہی بیٹیاں تھیں بڑی ہادیہ جو گیارہ سال کی تھی چھوٹی ہانیہ جو آٹھ سال کی تھی۔۔
اسلام علیکم چاچو کیسے ہیں آپ۔۔وہ حیدر کو دیکھتی اس کے گلے میں بازو ڈالتی بولی۔۔وعلیکم السلام چاچو کا بیٹا کیسا ہے۔۔؟میں بلکل ٹھیک۔۔وہ اس کے ماتھے پر پیار کرتا بولا۔۔میں بھی ٹھیک۔۔اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے وہ حال میں داخل ہوئے تو جہاں ان کو دیکھ کر کچھ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی وہیں روشانے کو مسکراتے دیکھ تین لوگ جلتے توے پر بیٹھے وہ تین لوگ کون ہو سکتے ہیں تو دوستوں یہ تو آپ لوگ بھی سمجھ ہی گئے ہونگے۔۔ان تینوں کی آگ برساتی نظریں خود پر محسوس کرتے روشانے بےاختیار حیدر کے پیچھے چھپی۔۔جو حیدر کے ساتھ دوسرے گھر والوں نے بھی واضح محسوس کیا۔۔حیدر بھائی آج مجھے آپ کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے کتنے دن ہو گئے ہیں اب آپ کے پاس اپنی گڑیا کے لیے ٹائم ہی نہیں ہے۔۔عائزہ آگے بڑھتی منہ بسورتی حیدر کے گلے میں بازو ڈالتی لاڈ سے بولی۔۔میرے پاس میرے بیٹے کے لیے ٹائم ہی ٹائم ہے۔۔حیدر اسے اپنے ساتھ لگاتا اس کے سر پر پیار کرتا بولا۔۔سب کو ڈائٹنگ ٹیبل کی طرف بڑھتے دیکھ کر روشانے نے قدم کیچن کی طرف بڑھائے۔۔اگلے ہی پل چونک کر رکی۔۔
کیونکہ بازو حیدر کی مضبوط گرفت تھا۔۔اس نے بےاختیار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو عائزہ کو اپنے ایک بازو کے حصار میں لیے اس سے باتیں کرتا مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھا۔۔وہ بنا اس کی طرف دیکھے بھی اس کی حرکت جان گیا تھا۔۔سب کے ساتھ ان دونوں کو لے کر ڈرائنگ ٹیبل پر آیا۔۔اپنی ایک سائیڈ پر اپنی گڑیا کو بٹھاتا ساتھ والی چیئر پر خود بیٹھا گردن موڑ کر اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا جو کنفیوز سی چیئر کی بیک پر کھڑی تھی۔۔ایک پل کو نظریں اٹھا کر ہیزل آنکھوں میں دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہیں تھیں۔۔بازو ابھی بھی اس کی گرفت میں تھا وہ چپ چاپ اس کی ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔اس وقت عائزہ کا دل کیا کہ وہ اس لڑکی کو اپنے بھائی کی نظروں سے کہیں غائب کر دے وہ ان دونوں کے درمیان میں بیٹھنا چاہتی تھی لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی اس لیے وہ صرف اب نظروں سے ہی گولہ باری کر سکتی تھی۔۔حیدر نے ناشتے کی پلیٹ بنا کر عائزہ کے سامنے رکھی اور بائٹ بنا کر اس کے منہ میں ڈالا۔۔عائزہ نے روشانے کو دیکھانے کے لیے بائٹ بنا کر حیدر کے منہ میں ڈالا۔۔
لیکن وہ سب سے بے نیاز اب اپنے ناشتے پر جھک چکی تھی۔۔اس نے تھوڑا سا پراٹھا آملیٹ اور جوس کا گلاس لیا تھا۔۔جلدی جلدی اپنا ناشتہ ختم کر کے وہ اٹھنے لگی جب حیدر نے اس کی پلیٹ میں باقی پراٹھا اور مزید آملیٹ ڈالا۔۔اپنا ناشتہ پورا ختم کرو۔۔سنجیدگی سے کہتا پھر سے اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔بھابی آپ بیٹھیں میں چائے لاتی ہوں وہ اپنی جگہ سے اٹھتی بولی۔۔نہیں بیٹا آپ بیٹھو اپنا ناشتہ ختم کرو چائے بعد میں آ جائے گی۔۔جاوید لاشاری اسے اپنا ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھتے دیکھ کر بولے۔۔اس نے بےاختیار نظریں حیدر کی طرف کیں جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔سرخی مائل آنکھوں میں وارننگ دیکھتی وہ فوراً اپنی جگہ پر بیٹھی۔۔ناشتے کے بعد سب چائے پی رہے تھے کہ حیدر سب کو دیکھتا گلہ صاف کرتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔سب مرد حضرات اس کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔حاشر بھی آ چکا تھا اس نے حیدر کو منع کیا تھا کہ جب تک وہ نہیں آ جاتا وہ کوئی بات نہ کرے وہ فیس ٹو فیس سب کے ایکسپریشن دیکھنا چاہتا تھا۔۔میں نے گھر کے سب ملازموں کو پندرہ دن کی چھٹی دے دی ہے۔۔
وہ بولا کیا ایک دھماکہ تھا جو گھر کی عورتوں کے سر پر ہوا تھا۔۔سب شاک کی کیفیت میں کبھی حیدر اور کبھی گھر کے دوسرے مردوں کا منہ دیکھ رہیں تھیں۔۔روشانے عادت کے مطابق آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔دادی اور پھپھو بھی حیرت سے کبھی حیدر اور کبھی دوسرے مردوں کو دیکھ رہیں تھیں۔۔جو ریلکس بیٹھے چائے اور کافی کے مزے لے رہے تھے۔۔حاشر کا دل کر رہا تھا کہ قہقہہ لگا کر ہنسے۔۔خواتین کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر اس کے دل میں وہ ٹھنڈ پڑی جو سوتن کو مار پڑتے دیکھ کر پڑتی ہے۔۔اب پتہ چلے گا کیسے گھر کر مردوں کو ہلکے میں لے کر کھانا کھانا حرام کیا ہوا تھا سکون نام کی چیز ہی ختم ہو گئی تھی یہ گھر کم جاہل عورتوں کا میدان جنگ زیادہ لگتا تھا۔۔حیدر کو اپنی بیوی کے فیس ایکسپریشن بری طرح ڈسٹرکٹ کر رہے تھے۔۔وہ آگے کو ہوتا اس کی گود میں پڑا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا اپنی تھائی پر رب کرنے لگا۔۔اگر سارے ملازم چھٹی پر ہیں تو گھر کون سنبھالے گا۔۔بےاختیار پھپھو بولی۔۔نظریں اپنے باپ سے بھائی پر کیں اسے لگا کہ ابھی وہ لوگ حیدر کی بات کی نفی کریں گے۔۔
لیکن وہاں تو سکون ہی سکون تھا۔۔جاوید صاحب نے ایوب صاحب سے صبح ہی بات کی تھی تو بھی باقی مردوں کی طرح بہت خوش ہوئے تھے اس فیصلے سے۔۔واقعی گھر کی عورتیں بہت آزاذ ہو گئیں تھیں زبانوں کو تو کچھ زیادہ ہی آزادی ملی ہوئی تھی۔۔پھپھو اس گھر میں عورتیں ہیں کام کرنے کے لیے آپ کو ہمارے گھر کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔حنان ایک ایک لفظ ہر زور دیتا بولا۔۔عالیہ نے چونک کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا جو حیدر کی بات سے بلکل متفق نظر آ رہا تھا۔۔پھپھو نے اپنے داماد کے لب ولہجے پر غور کرتے اپنی بیٹی کو دیکھا جو آنکھوں سے انھیں چپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔گھر میں کام ہی کیا ہے گھر کی صفائی اور کھانا بنانا۔۔میرا خیال ہے اتنا تو یہ لوگ کر ہی سکتے ہیں۔۔کیوں زہرہ۔۔حاشر اپنی بیوی کو دیکھتا بولا۔۔جی ہم منیج کر لیں گے آپ لوگ ٹینشن نہ لیں۔۔وہ جلدی سے اپنی جگہ پر سیدھی ہوتی بولی۔۔سب عورتیں جانتی تھیں کہ اگر فیصلہ حیدر نے کیا ہے تو کوئی بھی اس کی بات کی مخالفت نہیں کرے گا۔۔
اگر گھر کی عورتوں سے اتنا سا بھی کام نہیں ہوتا تو بتا دیں ہم اپنے کھانے پینے کا خود بندوبست کر لیں گے۔۔ایوب صاحب بلکل سنجیدہ لہجے میں بولے۔۔ارے بابا جان کیسی باتیں کر رہے ہیں ہم سب کر لیں گے آپ بلکل فکر نہ کریں۔۔اپنے سسر کی بات پر جہاں گھر کی دوسری عورتیں گھبرا گئیں عالیہ جلدی سے بولی۔۔ روشانے نے پھر سے گھبرا کر حیدر کی طرف دیکھا لاشعوری طور پر اس کی تھائی پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کی۔۔اپنی حرکت پر اس کا کوئی دھیان نہیں تھا۔۔اسے لگا ابھی گھر میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور حسب روایت دو لوگوں کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہو جائے گا کہ یہ سب اسی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔حیدر آگے کو ہوتا ٹیبل پر بازو کھڑی کرتا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر جما گیا۔۔دوسرے ہاتھ میں دبے اس کے ہاتھ پر بےاختیار گرفت مضبوط کرتا نظریں اپنی بیوی کی طرف کی۔۔اور تم۔۔۔وہ اس کی خوف اور حیرانگی سجائے آنکھوں میں دیکھتا ایک پل کو چپ ہوا۔۔مم۔۔میں کچن اور گھر کا سنھبال لوں گی۔۔روشانے اس کی نظروں کا رخ خود پر دیکھتی اس کی پوری بات سنے بنا جلدی سے بولی۔۔
حیدر نے آنکھیں بند کر کے لمبا سانس لیا اور آنکھیں کھول کر اپنی بیوی کو دیکھا۔۔تم کل سے یونی جانے کی تیاری کرو بہت ریسٹ کر لیا اب اپنی پوری توجہ سٹڈی ہر دو مجھے فصول کے کاموں میں ادھر اُدھر الجھی نظر نہ آؤ مجھے ہر بار کی طرح ہنڈرڈ پرسنٹ چاہیے۔۔اس کی اتنی غیر متوقع بات پر سامنے بیٹھی ہستی کے ساتھ وہاں بیٹھے ہر فرد کو شاک لگا۔۔اگر یہ مہارانی سیر سپاٹے کرنے نکل جائے گی تو گھر کے کام کون کرے گا۔۔دادی کی تیکھی چبتی آواز پر سب ہوش میں آئے۔۔روشانے کے چہرے پر پھر سے واضح گھبراہٹ آئی۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولنے کے لیے منہ کھولتی اپنے پاس بیٹھے ڈریگن شوہر کی سرخ آنکھوں میں وارننگ دیکھتی اپنی بات کو منہ میں دباتی بڑے سے گھونٹ سے نیچے اتار گئی۔۔حیدر بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے روشانے بیٹا اپنی پڑھائی پر توجہ دو اگر پڑھائی میں کوئی مشکل آرہی ہے تو مجھے بتاؤ میں ایک استاد کا انتظام کر دوں گا وہ گھر آکر پڑھا جایا کرے گا ویسے بھی آپ کافی ٹائم سے اپنی یونیورسٹی نہیں جا رہی۔۔اپنی ماں کی کڑوی بات سنتے جاوید صاحب تحمل سے بولے۔۔
ان کی بات سنتی تین ہستیاں جلتے توے پر بیٹھیں۔۔اپنے ہاتھ پر دباؤ محسوس کرتے روشانے کی نظر بےاختیار اپنے ہاتھ پر گئی ساتھ اپنی حرکت پر غور کیا تو چہرے پر سرخی چھائی۔۔حیدر نے اس کا ہاتھ پھر سے اپنی تھائی پر رب کیا۔۔بھائی کیا ضرورت ہے اسے یونی جانے کی میں اسے گھر میں تیاری کروا دوں گی یہ پیپر دے دے۔۔عائزہ اسے گھورتی بظاہر چہرے پر مسکراہٹ لیے حیدر سے بولی۔۔جبکہ اس بچاری کی ساری توجہ اب اپنے ہاتھ پر تھی جو وہ اس کے ہاتھ سے نکالنے کی جتن میں لگی ہوئی تھی لیکن گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے ناکام ہو رہی تھی۔۔عائزہ بلکل صحیح کہہ رہی ہے کوئی ضرورت نہیں اسے کہیں بھی اکیلے بھیجنے کی گھر میں ہی پڑھے جو بھی پڑھنا ہے گھر داری سنبھالے جو کچھ لڑکوں کے ساتھ پڑھ کر اس کی ماں۔۔۔یہ میری بیوی ہے اور اس نے کیا کرنا ہے کہاں جانا ہے کس کے ساتھ جانا ہے لڑکوں کے ساتھ پڑھنا ہے یا گھر بیٹھ کر دوسروں کی خدمت کرنی ہے یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا۔۔وہ جس کا اس کی مسلسل مزاحمت سے دماغ گرم ہو رہا تھا عائزہ کی بات پر اپنا ماتھا رب کرنے لگا اور دادی کی بات پر اس کا میڑ شارٹ ہوا۔۔
وہ دادی کی بات درمیان میں ہی کاٹتا اپنی ٹون میں آتا بولتا سب کو چپ کروا گیا۔۔ٹیبل پر ایک دم سناٹا چھایا۔۔روشانے کی مزاحمت ایک دم بند ہوئی۔۔وہ اس کے اتنا غصے سے بولنے پر پاس بیٹھی بری طرح لرزی۔۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب آخری دفعہ کہہ رہا ہوں کہ یہ حیدر لاشاری کی بیوی روشانے۔۔ حیدر۔۔ لاشاری۔۔ ہے اس گھر میں اور اس خاندان میں یہ صرف ایک ہی رشتے کے حوالے سے جانی اور پہچانی جائے گی حیدر لاشاری کی بیوی۔۔ اس کے علاؤہ اس کا اس گھر اور اس خاندان کے کسی انسان یا کسی فرد سے کوئی رشتہ نہیں ہے وہ اپنے ایک ایک لفظ کو زیر زبر اور پیش کے ساتھ چباتا ٹیبل پر ہاتھ مارتا بولا۔۔اور آج ایک بات اور میں آخری دفعہ بتا رہا ہوں اگر دوبارہ اس گھر یا خاندان کے کسی بھی فرد نے میری بیوی کے کردار پر سوال اٹھایا تو میں بھول جاؤں گا کہ میرا اس انسان سے کیا رشتہ ہے۔۔روشانے نے ٹیبل سے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کو دیکھا جو اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کیے گھر والوں کو اس کی پہچان بتا رہا تھا۔۔
ایک بیوی کو یہی تو چاہیے ہوتا ہے بدلے میں اپنا سب کچھ اس کے خاندان پر قربان کر دیتی ہے۔۔جب سے وہ اس انسان کی زندگی میں آئی تھی ناپسند ہونے کے باوجود وہ اس کے لیے سب کے سامنے کھڑا ہو جاتا تھا۔۔کسی کو بھی اس پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔۔اس کی کاپر آنکھوں میں نمی کی لکیر ابھری جسے وہ نظریں جھکاتی پلکیں جھپکتی اپنے اندر اتارنے لگی۔۔حیدر کے لب و لہجے پر دادی نے نظریں اٹھا کر ایوب صاحب کی طرف دیکھا جو سب اگنور کیے مزے سے اپنی چائے پی رہے تھے۔۔پھر نظریں اپنے بیٹے جاوید صاحب کی طرف کیں جو دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسائے ٹیبل پر رکھے سرخ چہرے سے ٹیبل کو دیکھ رہے تھے کیونکہ ان کے سمجھانے کے باوجود بھی ان کی ماں اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہی تھی اسی لیے انھوں نے حیدر کو کچھ نہیں کہا کیونکہ سب اس کی عادت سے واقف تھے وہ کسی بھی معاملے میں مداخلت نہیں کرتا تھا نہ کسی سے بدتمیزی کرتا تھا اور اپنے معاملے میں کسی کو ناجائز بولنے کا حق کسی کو نہیں دیتا تھا اب تو بار بار اس کے صبر کو آزمایا جا رہا تھا۔۔
عائزہ جو حیدر کو قائل کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی اپنا منہ بند کر گئی لیکن دل میں لاوا پھٹ رہا تھا۔۔حنان اور حاشر کے لبوں پر مسکراہٹ آئی جسے وہ کافی کا مگ لبوں کو لگاتے چھپا گئے۔۔روشانے تم گھر اور کچن کی بلکل فکر نہ کرو حیدر اور بابا جان بلکل صحیح کہہ رہے ہیں تمھاری سٹڈی کا پہلے ہی بہت حرج ہو گیا ہے تم سب بھول کر صرف اپنی سٹڈی پر توجہ دو۔۔عالیہ اپنے شوہر سے نظریں روشانے پر کرتی مسکرا کر بولی۔۔جبکہ اس کی ماں نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور عائزہ صاحبہ نے جلتی نظریں اپنی بھابھی پر کیں اور دادی نے بھی گھوری سے نوازنا ضروری سمجھا۔۔میں بھی یہی کہوں گی گھر کے ساتھ گھر والوں کا خیال بھی میں اور بھابھی رکھ لیں گے تم اپنی پڑھائی کے ساتھ اپنے شوہر پر بھی توجہ دو کیوں حیدر بھائی۔۔زہرہ نے بھی عالیہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔اور آخر میں حیدر کی طرف دیکھ کر بات کو مذاق کا رنگ دیا سب کے چہروں پر مسکراہٹ آئی سوائے تین انسانوں کے جبکہ اب ان تینوں کی نظروں کا رخ سخن اس کی طرف مڑ چکا تھا۔۔تھنکیو بھابھی آپ دونوں کا۔۔
وہ ان دونوں کو دیکھتا آہستہ مگر سنجیدہ آواز میں بولا۔۔تم میرے لیے کافی لے کر روم میں آؤ حیدر اس کے ہاتھ کو دبا کر آزادی دیتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔روشانے کو لگا کہ پتہ نہیں کب کا روکا فشار خون گردش میں آیا ہو سارا ہاتھ سرخ ہو گیا تھا۔۔سب مرد حضرات اپنی اپنی جگہ سے مطمئن سےاٹھے اب کم ازکم زندگی میں سکون آنے والا تھا۔۔شانے تم حیدر کے لیے کافی بنا کر لے جاؤ باقی سب ہم دیکھ لیں گے۔۔روشانے کو برتن اٹھاتے دیکھ عالیہ بولی۔۔جو اس کے کرنے والے کام ہیں نا یہ وہ کرے اپنے بھائی کے لیے کافی میں خود ہی بنا کر لے جاؤں گی۔۔اس سے پہلے کہ روشانے کچن کی طرف جاتی عائزہ کی سڑی چبھتی ہوئی آواز پر ہر کوئی اپنی جگہ پر روکا۔۔عائزہ بیٹا حیدر کافی کا اسے کہہ کر گیا ہے آپ اپنی بھابیوں کے ساتھ مدد کرواؤ اسے بنانے دو کافی۔۔جاوید صاحب واپس مڑتے اپنی بیٹی کو نرم آواز میں سمجھاتے بولے۔۔بابا جان بھابھی لوگوں کی ہلپ یہ کروا دے گی مجھے حیدر بھائی سے کام ہے ان کے لیے کافی میں لے جاتی ہوں۔۔
عائزہ کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اسے گھورتی بولی وہ کسی بھی قیمت پر اسے اپنے بھائی کے پاس نہیں جانے دینا چاہتی تھی۔۔اگر اسے اپنے بھائی سے کام ہے تو وہ لے جاتی ہے اس کے لیے کافی بنا کر اگر یہ شہزادی تھوڑا سا کچن کا کام کر دے گی تو گھس نہیں جائے گی نہ اس کی شان میں فرق پڑ جائے گا دادی نے حیدر کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے عائزہ کا پورا ساتھ دیا۔۔حنان نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا تو حاشر نے اس کا ہاتھ دبا کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔عائزہ ہم سب کو پتہ ہے نا کہ وہ شروع سے ہی کافی اسی کے ہاتھ کی پیتا ہے تو یہ فضول کی بحث ہے یا ضد مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔۔جاوید صاحب اپنی ماں کی ہٹ دھرمی پر تھوڑا سختی سے بولے۔۔اب ماں کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔۔اگر آپ کو کوئی کام ہے تو آپ جا کر اپنے بھائی سے بات کر لو۔۔روشانے بیٹا آپ اپنے سڑے ہوئے شوہر کے لیے اس کی سڑی ہوئی کافی بنا کر لے جاؤ ورنہ اپنا سارا غصہ آپ پر اترے گا۔۔وہ عائزہ کو کہتے روشانے کو دیکھتے مسکراتے بولے۔۔
سب مسکراتے اسے دیکھنے لگے تو وہ سر ہلاتی کچن کی طرف بڑھ گئی اس بچاری سے مسکرایا بھی نہیں گیا۔۔اور عائزہ صاحبہ جلتی بھنتی پاؤں زور سے زمین پر مارتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔۔افف بابا جان آپ کا بیٹا اتنا سڑا ہوا ہے مجال ہے جو اتنی سی بھی سمائل دے دے کسی کو۔۔پتہ نہیں کیا بنے گا ہماری بچی کا۔۔حاشر اپنے باپ کو دیکھتا بولا۔۔میرا سڑا ہوا بیٹا اپنا ہر فرض بہت اچھے سے نبھاتا ہے اور اب اپنی بیوی کا بھی بہت اچھے سے خیال رکھے گا مجھے اس پر پورا یقین ہے تم فکر نہ کرو جاوید صاحب اسی کے انداز میں بولے تو سب ہنسنے لگے۔۔لیکن دو لوگ اففف ہائے ہائے۔۔۔۔
