ZIDDI · ORIGINAL URDU NOVEL

Ziddi (ضدی) — Episode 12

Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 12

قسط 12 · کہانی

ماضی

نوید کی طبیعت کافی خراب تھی دو دفعہ روشانے نے فون پر پوچھا۔۔عائزہ تو بھابھی کے ساتھ جا کر اس کی طبیعت کا پوچھ آئی تھی۔۔لیکن اسے دادی نے ساتھ نہیں جانے دیا۔۔باقی گھر والے بھی سب پوچھ آئے تھے سوائے اس کے۔۔اب پچھلے دو دن سے نوید اس کا فون بھی اٹینڈ نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ اس سے سخت ناراض ہو گیا تھا کہ وہ اتنا بیمار ہے اور اس کی دوست اس کی طبیعت کا بھی پوچھنے نہیں آئی۔۔اس نے بتایا بھی کہ تائی اور دادی جان اسے اجازت نہیں دے رہی لیکن وہ پھر بھی ناراض تھا۔۔وہ حنان بھائی کے پاس آئی اور اس سے پوچھا کہ اسے پھپو کی طرف جانا ہے نوید کی طبیعت کا پوچھنے۔۔حنان نے ہمیشہ کی طرح اسے کہا کہ وہ بابا جان سے بات کر لے۔۔پھر وہ حاشر کے پاس آئی اس نے بھی اسے بابا جان سے بات کرنے کا کہا ساتھ میں ایک اپشن دے دیا کہ اگر بابا جان اسے اجازت دے دیں گے تو وہ اسے لے جائے گا۔۔وہ کافی دیر سے اپنے روم میں بیٹھی اپنے آنسو اپنے اندر اتار رہی تھی پھر ہمت کرتی اٹھ کر جاوید صاحب کے روم میں آئی۔۔انہوں نے اس کی بات سنتے کچھ سوچتے پہلی دفعہ اسے کہیں جانے کی اجازت دے دی۔۔

وہ خوشی خوشی حاشر کو بتا کر تیار ہونے کے لیے اپنے روم میں آگئی۔۔وہ اپنے روم میں ہی تھی جب ایک ملازمہ نے آ کر کہا کہ اسے اس کی دادی بلا رہی ہیں۔۔وہ زور سے گہرا سانس لیتی خود کو ان کی ڈانٹ کے لیے تیار کرتی اپنے روم سے باہر آئی۔۔سامنے نظر پڑتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہوئی کیونکہ ایک منی برات آئی ہوئی تھی پھپھو اپنی ساری آل اولاد اور تائی اپنی پوری فیملی آگے ان کے بھی بچوں سمیت۔۔وہ بلو کلر کے سوٹ میں ملبوس سر پر میچنگ دوپٹہ لیے ہلکی پھلکی سی جیولری پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔حال میں موجود سب افراد نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو اس کے چمکتے چہرے سے کچھ پل نظریں ہٹانا مشکل ہوا۔۔یہ تو اتنا بن سنور کے کہاں منہ کالا کرنے جا رہی ہو۔۔ہمشیہ کی طرح تائی کی زبان سے گولہ باری شروع ہوئی۔۔اماں اب اسے اتنی چھوٹ دے دی ہے کہ یہ اب بازاری عورتوں کی طرح گھر میں بھی بن سنور کر رہنے لگی ہے۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی پھپھو نے اسے بھسم کرتی نظروں سے دیکھتے زہر اگلا۔۔

ارے یہ لڑکی تو کہنے سننے کے مرحلے سے کب سے نکل چکی ہے ماں کی طرح منہ زور ہو چکی ہے منہ زور اسے لگام ڈالنا اب میری بوڑھی جان کے بس میں کہاں۔۔مجھے یا اس گھر کے بڑوں کو کہاں کسی کھاتے میں لکھتی ہے یہ۔۔دادی نے اسے دیکھتے اپنی بازو نچا نچا کر اور لفظوں کو چبا چبا کر کہتے اپنا بڑے ہونے کا حق ادا کیا۔۔وہ بچاری وہیں کھڑی چپ چاپ اپنے بارے میں سرخ چہرے سے سن رہی تھی۔۔مجال ہے جو اس کے دیدوں میں کسی بڑے کا ڈر لحاظ ہو ہم کب سے یہاں آئے بیٹھے ہیں مجال ہے جو اس بشرم لڑکی نے سلام کرنے کی بھی زحمت کی ہو۔۔تائی اپنی جگہ سے اس کی طرف بڑھتی بولی۔۔پاس آنے پر اس نے آہستہ سے سلام کیا۔۔پہلے یہ بتا کہ یہ بن سنور کر نئی پوشاک پہن کر کس کے ساتھ منہ کالا کرنے جا رہی ہو۔۔وہ جواب دینے کی بجائے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑتی بولی۔۔وووہ۔۔۔میں پھپو کی طرف جا رہی ہوں۔۔کیوں وہاں جانے کے بہانے اس حلیے میں کس خصم سے ملنے جانا ہے۔۔

دیکھیں اماں میں کہہ رہی ہوں کہ یہ لڑکی اپنی ماں کی طرح کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلائے گی جتنی یہ شتر بے مہار ہو چکی ہے یہ نہ ہو کہ پانی سر سے گزر جائے اور یہ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ہمیں کہیں منہ دکھانے لائک نہ چھوڑے۔۔وہ روشانے کو دونوں ہاتھوں سے جڑتی بولی۔۔میں بابا جان کی اجازت سے جا رہی ہوں وہ دادا جان اور جاوید صاحب کو حال میں داخل ہوتے دیکھ کر بولی۔۔بھائی صاحب یہ باسل کی اجازت کہ بنا کہیں نہیں جائے گی آپ کو اس کے غصے کا بہت اچھے سے پتہ ہے وہ تو میں ہوں جو دن رات اسے اس رشتے کو نبھانے کا کہتی رہتی ہوں پھر مجھ سے کوئی شکوہ مت کیجئے گا کہ اس نے آپ کے بڑے ہونے کا لحاظ نہیں کیا۔۔تائی جان ان سے دعا سلام کرتی بولی۔۔اور تو آوارہ گردی کا ذہن سے نکال اور دفعہ ہو کچن میں گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے اور تجھے سیر سپاٹے کرنے ہیں وہ اسے کچن کی طرف دھکا دیتی بولی۔۔روشانے جو جاوید صاحب کی طرف دیکھ رہی تھی ان کو چپ دیکھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔وہ پچھلے تین گھنٹوں سے سب کی خاطر تواضع میں لگی ہوئی تھی۔۔

وہ سب کو کیک سرو کر کے واپس مڑی جب تانیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا۔۔اس نے اسے اپنے لیے فریش جوس لانے کا آرڈر کیا تھا جو وہ ابھی تک نہیں لائی تھی یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ابھی تک اسے کسی نے لانے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔۔روشانے جس کا پہلے ہی دماغ خراب ہو رہا تھا اس نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا۔۔تانیہ محترمہ جو باسل کے ساتھ ہائی ہیلز پہنے نزاکت سے کھڑی تھی لڑکھڑا کر اس سے پہلے کی زمین بوس ہوتی باسل نے اسے تھام لیا۔۔چٹاخ۔۔تمہاری اتنی ہمت تم نے مجھے دھکا دیا۔۔تانیہ سنبھلتی اسے تھپڑ مارتی اس پر چیخی۔۔اس نے تمہارے سامنے مجھے دھکہ دیا اور تم چپ چاپ کھڑے میرا منہ دیکھ رہے ہو۔۔وہ باسل کو دیکھتی چیختی پھر سے اس پر جھپٹی۔۔روشانے تو حیرت سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اس انسان کو دیکھ رہی تھی جس کے ساتھ اس کے بزرگوں نے اسے باندھا تھا۔۔حیران تو حال میں بیٹھا ہر انسان ہوا تھا کیونکہ آج تانیہ نے پہلی دفعہ اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔

حاشر جو تیار ہو کر روشانے کا ویٹ کر رہا تھا شور شرابے کی آوازیں سن کر اپنے روم سے نکلتا سیڑھیوں سے نیچے آ یا تو وہ بھی حیران ہو کر سب دیکھنے لگا۔۔آوارہ ماں کی آوارہ بد چلن بیٹی تیری ہمت کیسے ہوئی میری بھانجی کو دھکا دینے کی۔۔تائی چیل کی طرح اٹھ کر اس پر چھپٹی۔۔حال میں گندی زبان کے ساتھ ہاتھوں کا استعمال کرتے ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوا۔۔باسل نے روشانے کا بازو پکڑ کر کھینچتے ایک طرف کرنا چاہا۔۔اس کی پکڑ سے روشانے کے ہاتھ میں پہنی ہوئی کانچ کی دو چوڑیاں ٹوٹ کر اس کے بازو میں کھبی۔۔کیا ہو رہا ہے یہ۔۔؟حال میں داخل ہوتے انسان کی دھاڑ پر ہر کوئی اپنی جگہ پر سٹک ہوا۔۔وہ جو پہلے ہی اپنی ایک بہت ہی اہم میٹنگ کینسل ہونے کی وجہ سے بارودی گولہ بنا ہوا تھا اپنے گھر میں لگے تماشے کو دیکھ کر پھٹا۔۔سب کی نظریں انٹرس پر کھڑے اس انسان کی طرف اٹھیں جو سرد خون جھلکاتی نگاہیں ان دو انسانوں پر جمائے کھڑا تھا۔۔جاوید صاحب نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس کی آنکھیں اور خطرناک حد تک سرخ چہرہ دیکھتے بے اختیار ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔

پھر نظریں گھما کر باسل اور اس عورت پر کیں جو اپنے رشتے کی آڑ میں اس لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے اور باقی سب چپ چاپ کھڑے تماشائی بنے دیکھ رہے تھے۔۔حیدر کی نظر باسل کے ہاتھ میں پکڑے اس کے بازو پر پڑی جس سے بلڈ نکل کر نیچے فرش پر گر رہا تھا۔۔اس کے اپنی طرف اٹھتے قدم دیکھ کر تائی بے اختیار چار قدم پیچھے ہو گئی۔۔حیدر نے آگے بڑھتے ہوئے جھک کر اس کا پاؤں میں گرا ہوا دوپٹہ اٹھایا اور اس کے سامنے آتا اس طرح کھڑا ہوا کہ روشانے بلکل اس کے پیچھے چھپ گئی۔۔حیدر نے باسل کو سرخ نگاہوں سے گھورتے اس کے بازو کو اپنی گرفت میں لیا۔۔گرفت اتنا مضبوط تھی کہ روشانے کا بازو خودبخود آزاد ہو گیا۔۔حیدر نے دوپٹے والا ہاتھ اپنے پیچھے کھڑی لڑکی کی طرف بڑھایا نگاہیں ابھی بھی سامنے کھڑے انسان پر جمی ہوئی تھیں روشانے نے جلدی سے دوپٹہ پکڑ کر اچھے سے خود پر لیا۔۔سب کی نظریں باسل کے سرخ ہاتھ سے بےاختیار زمین پر گری خون کی بوندوں اور پھر روشانے کے بازو پر گئیں جس سے ابھی بھی بلڈ نکل رہا تھا۔۔شانی تو ٹھیک ہے نا۔۔

عائزہ کے ساتھ حاشر بھی اس کے پاس آیا تو وہ اپنا چہرہ ہاتھوں سے زور سے رگڑتی ہاں میں سر ہلاتی سائیڈ پر ہو گئی۔۔باسل کو اپنے بازو پر ہر لمحہ بڑھتی گرفت سے اپنا بازو سن ہو کر اکڑتا محسوس ہوا۔۔مم۔۔میرا۔۔بازو۔۔جب درد برداشت سے باہر ہوا تو باسل چلایا۔۔حیدر۔۔جاوید صاحب کے پکارنے پر حیدر کا دماغ آؤٹ آف کنٹرول ہوا اس نے دوسرے ہاتھ سے ایک زوردار پنچ اس کے منہ پر مارا اس کے منہ اور ناک سے خون نکلتے دیکھ باسل کے ساتھ حال میں موجود خواتین کی بھی چیخیں نکلیں۔۔حنان جو ابھی ڈیرے سے واپس آیا تھا حال کے دروازے پر شاک کھڑا سب کو چیختے دیکھ معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔سب مردوں نے بھاگ کر اس پتھرائے جنگلی سانڈ کو قابو کرنے کی کوشش کی۔۔جو سب کے قابو کرنے کے باوجود ایک اور پنچ سے اس کے چہرے کے نقوش کو بگاڑ گیا۔۔حیدر چھوڑو اسے جاوید صاحب حیدر کو کھینچتے بولے۔۔حنان نے بھاگ کر باسل کو اس خون آشام بلا کے چنگل سے کھینچ کر نکالا۔۔حیدر کیا کر رہے ہو ہوش میں آؤ۔۔جاوید صاحب اس کے سامنے آتے بولے۔۔میں وہی کر رہا ہوں جو آپ کو یا اس لڑکی کے باپ کو کر۔۔

وہ انگلی سے روشانے کی طرف اشارہ کرتا اپنے باپ سے نظریں گھما کر جب تھوڑے فاصلے پر کھڑی اس لڑکی پر کیں تو اپنی بات اُدھوری چھوڑتا چپ ہوا۔۔سب نے چونک کر نظریں اس کے تعاقب میں روشانے پر کیں جو اپنا بازو دوسرے ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی چہرے پر پورا ہاتھ چھپا ہوا تھا ساتھ میں گال پرخون کی پتلی سی لکیر کی صورت میں خراش پڑی ہوئی تھی۔۔تم پر ہاتھ کس نے اٹھایا۔۔وہ ایک قدم میں سارا فاصلہ ختم کرتا اس کے سر پر پہنچتا گرجا۔۔وہ بچاری پہلی دفعہ اس سے ڈرتی دو تین قدم پیچھے ہوئی۔۔کچھ بکواس کر رہا ہوں سمجھ میں نہیں آ رہا وہ یہ فاصلہ ایک دفعہ پھر ایک ہی قدم میں ختم کرتا پھر اس کے سر پر پہنچتا گرجا۔۔اب حال میں کھڑے ہر فرد کی جان ہوا ہوئی۔۔کیونکہ آج وہ کسی کو بھی رعایت دیتا نظر نہیں آ رہا تھا پتہ نہیں کہاں کا لاوا تھا جو یہاں پھٹا تھا۔۔تانیہ تو بےاختیار گھومتی اس بلا سے دور سب سے پیچھے ہوئی۔۔تانیہ نے مارا ہے۔۔روشانے کی حالت دیکھتے حاشر جلدی سے بولا۔۔کیوں مارا اس نے۔۔؟وہ پھر سے گرجا۔۔حیدر۔۔جاوید صاحب اس کی طرف بڑھتے پھر سے اسے پکار گئے۔۔

بابا جان میں نے پوچھا کہ اس لڑکی نے آپ کے سامنے آپ کے گھر میں اس پر ہاتھ کیوں اٹھایا۔۔وہ اپنے باپ کی طرف گھومتا انگلی سے روشانے کی طرف اشارہ کرتا حال میں گونجا۔۔عالیہ کیا ہوا ہے کیوں مارا اس نے شانے کو۔۔حنان سب کی طرف دیکھتا حیدر کے پاس آتا جلدی سے اپنی بیوی سے بولا۔۔اب سب کی نظریں عالیہ کی طرف گھومی۔۔عالیہ سب کے درمیان اتنا اچانک پوچھنے پر گھبرا گئی اس کی نظر حیدر کی طرف گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا تو طوطے کی طرح سارا ماجرا سنا دیا۔۔بابا جان جب اس نے آپ سے اجازت لی تھی جانے کی تو کسی کی ہمت کیسے ہوئی آپ کے گھر میں آ کر آپ کے سامنے تماشہ کھڑا کرنے کی۔۔وہ اپنے باپ کی طرف دیکھتا بولا۔۔حیدر میری بات سنو باسل اس کا۔۔۔باسل فلحال اس کا کچھ بھی نہیں ہے۔۔وہ اپنے باپ کی بےتکی بات کاٹتا گرجا۔۔اس کے دماغ کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچا۔۔وہ ہوا کی طرح حنان کی سائیڈ سے نکلتا باسل پر چھپٹا اور اسے گربیان سے پکڑ کر کھینچتے اپنے سامنے کیا۔۔حید۔۔۔ررر۔۔۔سب پکارتے پھر سے اس بے لگام ہاتھی کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگے۔۔

وہ ایک سکینڈ میں جھٹکے سے خود کو چھڑواتا باسل کو گھسیٹتے اس لڑکی تک پہنچا اور تانیہ بی بی کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی سب عورتیں چیختے منہ پر ہاتھ جمائے کھڑی تھیں مرد حضرات پھر سے اسے قابو کرنے لگے۔۔چھوڑو مجھے کوئی بھی میرے پاس نہیں آئے گا ورنہ۔۔۔وہ وارننگ دیتی نگاہوں سے سب کو دیکھتا چپ ہوا اس کی سرد اور اتنی سرخ آنکھیں دیکھ کر سب اسے چھوڑ کر بےاختیار پیچھے ہوئے یہاں تک کہ جاوید صاحب بھی دو قدم دور ہوئے۔۔مارو اسے وہ باسل کو چھوڑتا ٹھنڈے ٹھار لہجے میں گرجا۔۔اس کی گرج سن کر عورتوں سمیت مرد بھی اسے شاک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔تانیہ اور اس کی خالہ جان کی تو آنکھیں باہر کو آنے والی ہوئیں۔۔سنائی نہیں دیا کیا بولا میں نے وہ اسے پکڑ کر جھنجھوڑتا پھر سے گرجا۔۔سب کو اپنے اپنے دل کانوں میں دھڑکتے محسوس ہو رہے تھے۔۔میں دوبارہ کہوں گا نہیں وہ کروں گا جو تمھاری سوچ سے بھی باہر ہو گا۔۔تانیہ کی جان نکلنے والی ہوئی۔۔

باسل نے اس کی سرخ برفیلی نظروں میں دیکھا تو خودبخود اٹھتا ہاتھ تانیہ کے چہرے پر چھپا تانیہ شاک ہوتی لڑکھڑاتی دیوار میں لگتی زمین بوس ہوئی۔۔اب تو اس خالہ بھانجی کے ساتھ سب کی آنکھیں ابل کر باہر کو آ رہیں تھیں۔۔آج تجھے آخری دفعہ وارننگ دے رہا ہوں تو اور یہاں کھڑا تیرے گھر کا ہر فرد میری ایک بات اپنے ذہن میں بٹھا لے دوبارہ اس گھر میں آ کر کوئی تماشہ کیا یا کسی نے بھی اس پر ہاتھ اٹھانے کی ہمّت کی تو وہ اپنی حالت اور ہاتھ کا خود زمہ دار ہو گا۔۔دوسری بات۔۔یہ جائے گی ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ جائے گی اور جتنے دن اس کا دل کیا یہ وہاں رہے گی کسی کی ہمت ہے تو روک کر دکھائے۔۔وہ اپنے لفظوں کو چباتا اسے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ایک ایک لفظ پر زور دیتا بولا۔۔حیدر۔۔جاوید صاحب پھر بولے۔۔بابا جان یہ جائے گی۔۔وہ پھر سے اپنے لفظوں پر زور دیتا بولا۔۔وہ باسل کو جھٹکے سے چھوڑتا بڑے بڑے قدموں سے روشانے کا بازو پکڑتا سب کے درمیان سے اسے لیتا باہر نکل گیا۔۔واقعی کسی کی ہمت نہیں ہوئی اس کو روکنے کی یا اس کے رستے میں آنے کی۔۔

زور کا جھٹکا لگنے سے باسل دیوار سے ٹکراتا نیچے گرا۔۔اس ڈریگن کے باہر نکلنے پر باسل کی ماں بھاگ کے اس کی طرف گئی۔۔ہائے میرا بچہ۔۔جب کہ باقی سب ابھی بھی بے یقینی سے منہ کھولے حال کے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔روشانے بچاری بھاگتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی تھی۔۔مجھے کہیں نہیں جانا چھوڑیں مجھے۔۔وہ گاڑی کے پاس پہنچتی بولی۔۔حیدر نے گاڑی کا گیٹ کھول کر اسے کھا جانے والی نظروں سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔اگر تم نے مزید زبان کا استعمال کیا تو۔۔وہ اسے پھر سے منہ کھولتے دیکھ کر بولا کم آہستہ آواز میں غرایا زیادہ تھا۔۔تو وہ اسے دیکھتی اپنا منہ بند کرتی اندر بیٹھی لیکن دل میں اپنے من پسند نام دینا نہیں بھولی۔۔

وہ ہاتھ میں کافی لیے روم میں داخل ہوئی تو روم خالی تھا وہ ادھر اُدھر دیکھتی بالکنی کی طرف دیکھا اس کا دروازہ بھی بند تھا۔۔کافی ادھر لے آؤ۔۔اسے ڈریسنگ روم سے آواز آئی۔۔اکڑو اور کڑوے ہونے کے ساتھ جادوگر بھی ہیں ادھر ان کے روم میں کسی نے پاؤں رکھا نہیں ادھر ان کو پتہ چلا نہیں وہ آہستہ آواز میں بڑبڑاتی دروازہ کھول کر اندر آئی تو وہ اپنی ساری وارڈروب الٹائے پتہ نہیں کیا ڈھونڈ رہا تھا۔۔اسے سمیٹو۔۔سکون سے کہتا اس کے ہاتھ سے کافی لیتا ہونٹوں سے لگا لیا۔۔وہ جو حیران کھڑی تھی اب کبھی اس کی بکھری وارڈروب دیکھ رہی تھی تو کبھی اسے۔۔حیرمدر نے اس کے فیس ایکسپریشن دیکھتے آنکھوں سے دوبارہ اپنے بکھڑے کے طرف اشارہ کیا۔۔وہ جو عادت کے مجبور انکار کرنے کے لیے منہ کھولنے لگی تھی یونی کے بارے میں بات کرنے کا سوچتی اسے دیکھتی چپ کرکے وارڈروب کی طرف بڑھ گئی وہ یونی نہیں جانا چاہتی تھی گھر میں ہی تیاری کر کے ایگزام دے دے گی وہ اپنی وجہ سے گھر میں کوئی نئا محاذ نہیں کھولنا چاہتی تھی۔۔حیدر اس کی شفاف آنکھوں کی تحریر پڑھتا اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے کر گیا۔۔

وہ جو اپنی سوچ میں ڈوبی آگے بڑھ رہی تھی اس کی پکڑ پر چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔پہلے مجھے بنا زبان چلائے اتنی شرافت سے بات ماننے کی وجہ بتاؤ۔۔وہ اسے حیران کرتا بولا۔۔کیونکہ پھر آپ اپنی بات نہ ماننے کی بہت بری سزا دیتے ہیں۔۔وہ اپنی سوچ سے نکلتی اس کی دی گئی عجیب سزا کا یاد دلاتی بولی۔۔سزا تو میں جھوٹ بولنے کی بھی بہت بری دیتا ہوں وہ عادت کے مطابق اس کی کمر میں بازو ڈالتا جھٹکے سے خود میں بھینچتا بولا۔۔ایک یہی تو کام ہے جو آپ کو اتنے اچھے اور پورے دل سے کرنا آتا ہے۔۔وہ اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اسے دیکھتی بولی ساتھ میں اسکی قید سے نکلنے کی مزاحمت بھی شروع ہوئی۔۔حیدر کو اس کی شفاف آنکھوں میں واضح شکوہ نظر آیا۔۔نہیں اور بھی بہت سارے کام ہیں جو میں پورے دل اور بہت اچھے سے کرتا ہوں۔۔وہ اس کے سر سے سٹالر اتار کر ٹیبل پر رکھتا لاپروا انداز میں بولا۔۔نظریں اپنے پسندیدہ پوائنٹ پر جمائیں۔۔وہ حیران ہو کر اس کی حرکت دیکھ رہی تھی۔۔

جی آپ کے باقی کے سارے کام بھی بہت اچھے سے جانتی ہوں جو آپ کچھ زیادہ ہی دل سے کرتے ہیں وہ اس کی بات کا اپنی سمجھ کے مطابق مطلب نکالتی بولی۔۔حیدر اس کی مزاحمت پر اپنی گرفت میں سختی لے آیا تو وہ آرام سے اس کے سینے میں سمائی کھڑی تھی۔۔اچھا۔۔کونسے کام۔۔؟وہ اس کے چہرے پر جھکتا انگوٹھا اپنے من پسند پوائنٹ پر نرمی سے رب کرتا بولا۔۔وہ اس کے خود پر جھکنے سے پیچھے کو ہوتی اس کے بازو میں جھولنے لگی۔۔یہی مجھے۔۔راتوں کو جگا۔۔کر میری نیند خراب کر کے۔۔زبردستی اپنی کافی بنوانا۔۔رعب جما کر مجھ سے اپنے دوسرے کام کروانا۔۔وہ اپنی وارڈروب بھی ہمیشہ اسی سے سٹ کرواتا تھا۔۔اگر میں کسی کام سے۔۔منع کروں تو پورے دل سے مجھے ڈانٹنا۔۔کسی کام سے نہیں ہر کام سے منع کرنا۔۔وہ اس کے رک رک کر بولنے پر اس کا فقرہ درست کرتا بولا۔۔اب تو میں آپ کی ساری باتیں مانتی ہوں پھر بھی سزا دینا۔۔وہ گرنے کے ڈر سے اس کے سینے سے شرٹ اپنے ہاتھوں میں بھرتی آہستہ سے بولی۔۔اور اس کی سزا دینے کا انوکھا طریقہ ذہن میں آتے گالوں پر سرخی چھائی۔۔

اور میری کونسی بات ہے جو محترمہ بنا زبان چلائے مانتی ہے۔۔وہ اس کے ریڈ ہوتے گال دلچسپی سے دیکھتا بولا۔۔اگر میں آپ کی ہر بات مانو بنا آپ کے کہے آپ کا ہر کام کر دوں اور آپ کو بنا انکار کیے کافی بھی بنا کر دوں تو آپ۔۔۔میری ایک۔۔بات مانیں گے۔۔وہ ہمشیہ کی طرح اس کی ساری باتیں ماننے کا لالچ دیتی ساتھ میں اپنی ایک ڈیمانڈ سامنے رکھتی بولی۔۔اور سامنے کھڑا انسان اس کی شفاف آنکھوں کی تحریر بہت اچھے سے پڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی کون سی ڈیمانڈ منوانے والی ہے۔۔یعنی آج بھی وہ اس کی بات کے بجائے گھر والوں کی بات کو ترجیح دے رہی تھی۔۔حیدر چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا مطلب اس نے اس کی ہر بات کی نفی کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔۔روشانے اس کے سپاٹ چہرے سے کچھ بھی اخذ نہیں کر پائی۔۔تمھاری بکس کہاں ہیں۔۔؟وہ جو پلکیں جھپک جھپک کر اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی لیکن جواب کی بجائے سوال سن کر ناراض نظروں سے اسے دیکھا۔۔روشانے جو اسے یونی نہ جانے کے لئے منانے آئی تھی اس کے سوال میں چھپے واضح انکار پر پھر سے خود کو اس کی قید سے چھڑانے کے لیے مزاحمت شروع کی۔۔

روشانے حیدر لاشاری۔۔حیدر کے سخت لہجے میں پکارنے پر وہ بےاختیار آگے کو سیدھی ہوتی اپنی مزاحمت روکتے اس کے گرد بازو لپیٹتی اس کے سینے میں سمائی۔۔آپ میری کوئی بات نہیں مانتے ہمیشہ مجھے ڈانٹتے ہیں میں مما کو آپ کا بتاؤں گی۔۔نہ آپ کو کافی بنا کر دوں گی نہ ہی آپ کا کوئی کہا مانوں گی آپ کا کوئی کام بھی نہیں کروں گی اور زبان بھی چلاؤں گی۔۔حیدر اسے اپنی ایک بازو کی قید میں لیے شدت سے خود میں بھینچے دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ اوپر کیے اس کے چہرے پر اپنا چہرہ رب کرتا اس کی معصوم سی دھمکیاں سن رہا تھا۔۔جب پتہ ہے کہ میرے سارے کام تم نے ہی کرنے ہیں تو اتنی باتیں کرنے کا فائدہ۔۔وہ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رب کرتا بولا۔۔روشانے کی جان ہوا ہوئی۔۔آآآپ۔۔بہت برے۔۔ہیں۔۔وہ اپنے ہونٹوں پر اس کی مونچھوں کی چھبن محسوس کرتی گہرے سانس لیتی بولی۔۔اب وہ اسے خود میں سمائے کھڑا اس کی سانسیں پی رہا تھا۔۔انداز بہت نرم تھا روشانے نے بلکل مزاحمت نہیں کی کیونکہ انجام جانتی تھی۔۔وہ اب اس کی گردن میں چہرہ چھپائے اپنے من پسند پوائنٹ کا دشمن بنا ہوا تھا۔۔حی۔۔حید۔۔رر۔۔

روشانے اس کی سختی برداشت کرتی سسکتی نم آواز میں اسے پکار گئی۔۔حیدر نے اس کی گردن سے چہرہ نکال کر اس کے بھیگے سرخ چہرے کو دیکھا۔۔اپنی ساری بکس میرے پاس لے کر آؤ اور اپنے ذہن سے ساری ادھر اُدھر کی فصول باتیں نکال کر صبح یونی جانے کی تیاری کرو۔۔صبح میں خود تمہیں یونی ڈراپ کر کے جاؤں گا۔۔وہ غیر محسوس انداز میں اپنے چہرے سے اس کی آنکھیں اور چہرہ صاف کرتا بنا اس کی ایک بھی سنے ہر بات رد کرتا بولا انداز ہر لچک سے عاری تھا یعنی سخت اور آڈر دینے والا۔۔روشانے حیرانگی سے اس کی باتیں سن رہی تھی اس نے اسے ابھی کچھ بھی نہیں کہا تھا تو ان کو کیسے پتہ چلا کہ میں نے یونی نہ جانے کی بات کرنی ہے۔۔حیدر نے چہرہ اٹھا کر اس کی حیران آنکھوں میں دیکھا۔۔آپ کو کیسے پتہ کہ میں یونی نہیں جانا چاہتی۔۔وہ ایسے ہی اسے دیکھتی بولی۔۔چلو یہ جلدی سے سٹ کرو۔۔وہ اس کے ایکسپریشن سے نظریں ہٹاتا اپنی وارڈروب کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔عادت کے مطابق اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔۔اکڑو۔۔ڈریگن۔۔کڑوے کریلے نہ ہوں تو۔۔

وہ اسے آنکھوں سے گھورتی دل میں اپنے من پسند خطاب دیتی اس کی ہدایت پر عمل کرتی وارڈروب سٹ کرنے لگی۔۔وہ اس کے سر پر کھڑا ساتھ ساتھ ہدایت دے رہا تھا۔۔