ZIDDI · ORIGINAL URDU NOVEL

Ziddi (ضدی) — Episode 13

Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 13

قسط 13 · کہانی

پچھلے ایک ہفتے سے بہت سارے بہانے بازی کرنے کے باوجود وہ مسلسل یونی جا رہی تھی۔۔اس نے حنان اور حاشر دونوں سے بات کی تھی کہ وہ گھر تیاری کر کے پپر دے دے گی لیکن اس معاملے میں ان دونوں نے بھی اس کا بلکل ساتھ نہیں دیا۔۔گڑیا آپ ساری پریشانیاں ایک سائیڈ رکھ کر بس اپنی سٹڈی پر فوکس کرو باقی سب اپنے کھڑوس شوہر پر چھوڑ دو وہ سب سٹ کر لے گا۔۔حاشر اسے سمجھاتا آخری فقرہ مسکراتا بولا تو وہ بھی سر ہلاتی مسکرا دی۔۔اسے روز صبح تیار ہو کر یونی جاتے دیکھ عائزہ اور دادی کے سینے پر سانپ لوٹتے۔۔کیونکہ پھپھو اور تائی اب زیادہ وقت اپنے گھروں میں گزارتیں اب یہاں من کا زہر جو کوئی نہیں اگلنے دیتا تھا۔۔لیکن اگر موقع ملتا تو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں کسی پر ظلم کرنے کی حکمرانی کرنے کی ایک دفعہ لت لگ جائے تو کہاں اتنی جلدی چھوٹتی ہے یہ لت تو نشئے سے بھی بری ہے۔عائزہ یونی سے فری ہو چکی تھی۔۔لیکن اب وہ اس کے ساتھ یونی جانے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔۔اسے ایسے خوش اور خود میں مگن دیکھ کر دن رات آگ میں جل رہی تھی۔۔

کیونکہ گھر کے کاموں سے بھابھی لوگوں نے روشانے کو بلکل فری کر دیا تھا وہ صرف حیدر کے لیے ناشتہ بناتی بس۔۔اس کے برعکس عائزہ کو فارغ دیکھ کر جاوید صاحب اسے کچن میں بھیج دیتے یا کسی اور کام میں مصروف کر دیتے وہ کام تو نہیں کرتی تھی بس سارا وقت کڑھتی اور اسے کوستی رہتی۔۔اوپر سے روشانے نے اسے مکمل طور پر اگنور کر دیا تھا پہلے وہ اسے منانے اس سے بات کرنے کے جتن کرتی رہتی تھی اب اس کا اگنور کرنا جلتی پر تیل کا کام کر رہا تھا۔۔اس نے خود ہی اپنا سکون تباہ کیا ہوا تھا۔۔اسے لگتا تھا کہ نوید اس کی وجہ سے نہ اس سے بات کر رہا تھا نہ ہی حویلی آ رہا تھا۔۔میسنی بےحیا دادی اور پھپھو بلکل صحیح کہتی ہیں اپنی ماں جیسی پتہ نہیں اس منحوس کو مما نے کیوں اپنے پاس رکھا آج انہی کی ہی بیٹی کی خوشیوں کی دشمن بنی ہوئی ہے ناگن احسان فراموش۔۔وہ شام کے کھانے میں ان کے منع کرنے کے باوجود بھابھی لوگوں کی مدد کروا رہی تھی۔۔زہرہ بھابھی آپ بیٹھ جائیں میں دیکھ لیتی ہوں وہ زہرہ کو چیئر پر بٹھاتی بولی۔۔اس کی ایک تین سال کی بیٹی تھی اب تیسرا مہینہ چل رہا تھا۔۔

شانے دعا کرو اللہ حنان بھائی کو بھی پیارا سا بیٹا دے۔۔زہرہ عالیہ کو دیکھتی بولی۔۔انشاءاللہ بہت جلد اللہ پاک ہمیں بھابھی کی طرف سے گڈ نیوز دے گا۔۔عالیہ جو اب بلکل ہی ناامید ہو چکی تھی اس کی بات پر بےاختیار آمین بولی۔۔اس کا دونوں بیٹیوں کے بعد چار دفعہ مس کیرج ہو چکا تھا۔۔پچھلے پانچ سالوں سے اس کی ماں اسے ہر ڈاکٹر اور دم والے کے پاس لے کر جا چکی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خوشخبری نہیں آئی تھی۔۔اب تو اس کی نانی اور ماں نے سارا الزام اس لڑکی کے سر تھوپ دیا تھا کہ اس کی منحوسیت کی وجہ سے عالیہ دوبارہ سے ماں نہیں بن پا رہی۔۔بھابھی دیکھیے گا انشاء اللہ میں حاشر بھائی کے بیٹے کے ساتھ حنان بھائی کے بیٹے کو بھی کھیلاؤں گی۔۔وہ پتیلے میں چمچ ہلاتی مسکراتی بولی۔۔آمین۔۔وہ دونوں اس بے ریا لڑکی کو دیکھتیں بولیں۔۔عالیہ نے پاس کھڑی اس لڑکی کو دیکھا۔۔کیا کچھ نہیں تھا جو اس لڑکی نے برداشت نہیں کیا تھا اور ابھی بھی کر رہی تھی لیکن عالیہ نے اس کے منہ سے آج تک کوئی شکوہ نہیں سنا تھا نہ ہی کسی کے خلاف کوئی بات سنی۔۔

جب سے حنان نے اس سے معافی مانگی تھی عالیہ کو بھی اس کے ہر معاملے میں اپنی بےحسی صاف دکھائی دینے لگی۔۔کتنی آسانی سے اس کی ماں نے اس کے دوبارہ ماں نہ بننے پر سارا قصور اس کے سر ڈال دیا تھا جب اس کی ماں نے عالیہ کو بتایا کہ اس نے بابا جی سے حساب لگوایا انھوں نے کہا کہ ان کے گھر میں ایک باہر کی لڑکی ہے جس نے عالیہ کے کھانے میں اسے ایسے تعویذ دیے ہیں جس سے وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی کیونکہ وہ اسے ایک بیٹے کی ماں بنتے نہیں دیکھ سکتی۔۔تب عالیہ نے بھی اپنی ماں کی باتوں پر یقین کر لیا تھا اور دوسروں کے ساتھ اس کی رخصتی پر کتنا زور دیا تھا۔۔ ارے ہمارے بچوں کے ساتھ تو تم پہلے بھی کھیل چکی ہو ہمیں کب یہ اعزاز حاصل ہو گا۔۔زہرہ کے کہنے پر جہاں عالیہ اپنی سوچوں سے باہر نکلی وہیں اس کے چہرے پر سرخیاں گھلیں۔۔اور باہر کھڑی ہستی کی برداشت بس یہیں تک تھی۔۔اب باہر کونسی ہستی کھڑی ہوگی دوستوں وہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے جی بلکل ٹھیک سمجھے۔۔عائزہ لاشاری۔۔اس جیسی لڑکی کبھی بھی میرے بھائی کے بچوں کی ماں نہیں بنے گی۔۔وہ آگ بگولہ ہوتی کچن میں داخل ہوتی پھٹی۔۔

ان تینوں نے چونک کر اسے دیکھا جو آگ برساتی کھا جانے والی نظروں سے روشانے کو دیکھ رہی تھی۔۔حیدر بھائی کو ہم کیا پورا لاشاری خاندان بہت اچھے سے جانتا ہے وہ اپنے سٹینڈر سے کم پر کمپرومائز نہیں کرتے۔۔وہ اس کے ساتھ وقت گزاری تو کر سکتے ہیں اپنی زندگی اس جیسی لڑکی کے ساتھ ہرگز نہیں گزاریں گے جو پہلے ہی۔۔عائزہ لاشاری۔۔روشانے اس کے منہ سے نکلتے لفظوں کے زہر سے گھائل ہوتی اس کی بات درمیان میں ہی ٹوکتی سرخ چہرے سے سخت لہجے میں اسے پکار گئی۔۔زہرہ اور عالیہ تو حیران ہو کر عائزہ کے منہ سے نکلنے والے لفظوں کی صورت میں زہر سن رہیں تھیں کتنی نفرت تھی اس کے لحجے میں کتنی حقارت تھی اس کے منہ نکلتے لفظوں میں۔۔میرے سامنے آواز آہستہ وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتی اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتی بولی۔۔اپنے سامنے سے اس کا بولنا تو گویا عائزہ کی برداشت سے باہر ہوا۔۔عائزہ کیا کر رہی ہو چھوڑو اسے۔۔عالیہ عائزہ کو بازو سے پکڑتی بولی۔۔تم یہ بات بہت اچھے سے جانتی ہو کہ میری وجہ سے۔۔اپنی گڑیا کی خوشیوں کی وجہ سے۔۔

میرے بھائی تم جیسی لڑکی کو جھیل رہے ہیں تاکہ تم جیسی لڑکی کا کالا سایہ میری خوشیوں پر نہ پڑے ورنہ تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔وہ جھٹکے سے اپنا بازو عالیہ کی گرفت سے چھڑواتی اسے دونوں ہاتھوں سے جھنجھوڑتی اپنے لفظوں پر زور دیتی چبا چبا کر بولی۔۔ارے تم جیسی لڑکی نے تو میری ماں کی محبت کا بھی لحاظ نہیں کیا جنھوں نے اپنی اولاد کے حصے کا پیار بھی تم جیسی احسان فراموش لڑکی پر لٹا دیا جس نے ان کی بیٹی کی خوشیوں پر ہی شب خون مارا۔۔کم از کم ہمارے گھر کے کھائے ہوئے نمک کا ہی لحاظ کر لیتی۔۔نمک حرام ہمارے گھر کا کھا کر ہمارے ہی در پر رہ کر ہماری ہی خوشیوں کی دشمن بن گئی۔۔جیسی ناگن ماں تھی ویسی ہی ناگن پیدا کر کے ہمارے سر پر تھوپ دی۔۔عائزہ چھوڑو اسے کیا بول رہی ہو تم ہوش میں تو ہو۔۔چھوڑیں مجھے آج میں اسے اس کی اوقات بتاتی ہوں۔۔زہرہ تو منہ پر ہاتھ جمائے عائزہ کے منہ سے نکلتا آتش فشاں دیکھ اور سن رہی تھی۔۔اسی کھینچا تانی میں روشانے کا دوپٹہ اتر کر شانوں پر گرتا اس کی گردن کو عیاں کر گیا۔۔

اور تم کونسی ہواؤں میں اڑ رہی ہو میرا بھائی اگر تمہارے ساتھ وقت گزاری کر رہا ہے یا تمہارے لیے کسی کے سامنے کوئی سٹینڈ لیتا ہے تو خود کو ان کی بیوی سمجھنے کی غلطی ہرگز مت کرنا کیونکہ وہ یہ سب صرف میری شادی تک کر رہے ہیں۔۔وہ اس کی گردن پر نظریں جمائے اپنے لفظوں میں آگ بھرتی بولی۔۔عائزہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کی گردن سے وہ نشان کھرچ کر مٹا ڈالے۔۔پتہ نہیں کب کا زہر تھا جو اپنے اندر دبایا ہوا تھا اس نے تو اپنی زبان کے نشتر مارتے سارے خاندان کو پیچھے چھوڑ دیا تھا کون کہہ سکتا تھا کہ یہ لڑکی اس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔۔روشانے چپ چاپ کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔سچ ہی تو کہہ رہی تھی وہ صرف اپنی گڑیا کے لیے ہی تو اس کے ساتھ بندھا ہوا تھا ورنہ بیوی تو وہ اسے مانتا ہی نہیں تھا۔۔روشانے عائزہ کی آنکھوں میں نفرت کی آگ دیکھتی آنسوؤں کے گولے کا بڑا سا گھونٹ بھرتی اپنے اندر اتار گئی۔۔اور تم کیا سمجھتی ہو کہ اپنی اس بھولی بھالی شکل پر مظلومیت سجا کر نوید کو اپنی طرف مائل کرکے مجھ سے چھین لو گی تو یہ تمہاری بھول ہے۔۔مجھے بہت اچھے سے جانتی ہو تم۔۔

میں تو اپنے بھائی یا فیانسی کی دی ہوئی کوئی چیز تمہارے پاس نہ رہنے دوں اب تو پھر میری محبت کا معاملہ ہے وہ پچھلے تمام واقعات اس کے ذہن میں لاتی بولی۔۔جب بھی حیدر یا نوید اسے کچھ بھی لے کر دیتے تو وہ کسی نا کسی طریقے سے اس سے لے لیتی تھی۔۔میں عائزہ لاشاری ہوں اس گھر اس خاندان کی بیٹی تم کون ہو اس عورت کی بیٹی جس کو تمہارے وجود کی طرح کسی نے بھی اس خاندان میں قبول نہیں کیا تھا۔۔ارے دو مردوں نے تم سے نکاح تو کیا لیکن دونوں نے تمہیں دھتکار دیا کسی نے بھی تمہیں اپنی بیوی اپنی عزت بنانے کے قابل نہیں سمجھا یہ ہے تمہاری اوقات۔۔وہ طنزیہ ہنستی بولی۔۔روشانے اپنی آنکھوں میں نمی کی لکیر بھرنے سے نہیں روک پائی۔۔عائزہ بس کرو ڈرو اس وقت سے جب اپنی ان کی ہوئی باتوں کا اللہ کو حساب دینا پڑے۔۔عالیہ عائزہ کو بازو سے پکڑتی بولی۔۔

آپ ڈریں اس کی بد دعاؤں سے کیونکہ آپ کو یہ لگتی ہو گی مظلوم اور سیدھی سادھی میں تو اسے بہت اچھے سے جان گئی ہوں بلکہ اب اسے اپنے انجام سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اب اس نے عائزہ لاشاری سے ٹکر لی ہے اور یہ اس نے اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کر ڈالی ہے۔۔وہ لفظوں کا زہر اس پر پھینکتی اسے ایک دھکے سے چھوڑتی باہر نکل گئی۔۔جھٹکا لگنے سے روشانے زور سے پیچھے سلیب میں لگی۔۔شانے تم ٹھیک ہو۔۔عالیہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی بولی۔۔روشانے نے خالی خالی نظروں سے عالیہ کو دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا۔۔تم کمرے میں جاؤ ہم کر لیتی ہیں۔۔عالیہ اس سے بولی تو وہ چپ چاپ خود کی لاش کچن سے گھسیٹتی باہر نکل گئی ہاں اس وقت وہ خود کو ایک لاش ہی تو سمجھ رہی تھی۔۔زہرہ ابھی بھی شاک سی بیٹھی تھی۔۔کمرے میں داخل ہوتے وہ عجیب سے احساسات کا شکار ہوئی وہ رونا چاہتی تھی زور زور سے رونا چاہتی تھی ان دونوں ہستیوں سے غائبانہ شکوے کرنا چاہتی تھی۔۔لیکن آج اسے رونا نہیں آ رہا تھا اس کا ذہن عائزہ کی باتوں میں بری طرح اٹکا ہوا تھا۔۔

جب عائزہ کی شادی ہو جائے گی تو حیدر کا اسے اپنے ساتھ باندھ کر رکھنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔۔تب۔۔۔اس سے آگے روشانے کو بلکل اندھیرہ نظر آیا۔۔اسے ایک دم کمرے میں آکسیجن کی اتنی کمی محسوس ہوئی کہ اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئیں۔۔وہ جلدی سے بالکنی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔آج باہر بھی ٹھنڈی طوفانی برفانی ہوائیں چل رہی تھیں موسم بھی خراب ہو رہا تھا۔۔بےاختیار نظریں اوپر اٹھائیں تو آنکھوں میں بھری نمی آنسوؤں کی شکل میں عارضوں کو بھگونے لگی۔۔یا اللہ پاک کیا میں اتنی ہی گناہ گار ہوں کیا میں یونہی ساری زندگی دربدر ہوتی رہوں گی کیا تیری اتنی بڑی دینا میں میرے رہنے کے لئے تھوڑی سی بھی جگہ نہیں ہے تھوڑا سا بھی سکون نہیں۔۔اب آنسو لڑی کی صورت چہرہ بھگونے لگے۔۔ایک یہی ذات تو تھی جس کے سامنے وہ بےبس ہو کر روتی تھی۔۔وہ دیوار کے ساتھ لگتی نیچے بیٹھتی اپنے رب کو پکارتی بے آواز رونے لگی۔۔وہ پتہ نہیں کتنی دیر وہاں ٹھنڈ میں بیٹھی روتی رہی۔۔آج ٹھنڈ کا بھی احساس نہیں ہو رہا تھا۔۔

حقیقت کا احساس کتنا ظالم ہوتا ہے شاید انسانوں سے بھی زیادہ ظالم اور یہ حقیقت تو وہ خود بھی جانتی تھی کہ حیدر اسے کب تک اپنی زندگی میں رکھے گا لیکن کبھی خود سے یہ لفظ کہنے کا حوصلہ نہیں ہوا آج کسی دوسرے کے منہ سے اتنی کھلی سچائی سن کر دل ڈوب رہا تھا بہت تکلیف ہو رہی تھی۔۔عجیب بے چینیوں نے رہا سہا سکون بھی چھین لیا تھا۔۔میں ان سے بول دوں گی کہ وہ جہاں مرضی شادی کر لیں لیکن مجھے اپنی زندگی سے نہ نکالیں۔۔وہ ایک دم اپنی سوچ پر بری طرح چونکی۔۔یہ میں۔۔کیا اور۔۔کیوں سوچ۔۔رہی ہوں۔۔وہ خود پر حیران ہوتی خود سے آہستہ سے بولی۔۔کیا میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔اب حیران ہو کر وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔۔وہ بےاختیار دل پر اپنا ہاتھ رکھ گئی۔۔کیا ہو گیا ہے تم تو پہلے بھی اکیلے تھے اب کیوں تنہا ہونے سے ڈر رہے ہو۔۔دل بلکل خاموش تھا ہاں آج بلکل خالی خالی سا لگا اور اپنا درد ایک دفعہ پھر بےبس ہو کر آنکھوں کو سونپا۔۔روشانے خود پر حیران ہو رہی تھی وہ بہتی آنکھوں سے خود پر ہنسی۔۔

روشانے حیدر لاشاری تم اتنی کمزور کب سے ہو گئی وہ بےدھیانی میں اپنا نام لیتی خود سے بولی۔۔روشانے۔۔حیدر۔۔لاشاری۔۔چونک کر ایک دفعہ پھر سے اپنا نام دوہرایا۔۔روشانے۔۔لاشاری۔۔وہ بنا حیدر کے اپنا نام دوہراتی بولی۔۔اسے اپنا نام بلکل خالی سا لگا اجڑا اجڑا بلکل اپنے دل کی طرح ویران سا۔۔نہیں یہ غلطی مت کرو میں اور اذیت نہیں سہہ سکتی پلیز۔۔وہ اپنے دل پر ہاتھ رب کرتی آہستہ سے بولی انداز میں واضح التجا اور محسوس کی جانے والی بےبسی تھی۔۔نہیں تم اجڑو یا ویران ہو جاؤ میں کبھی اس کے ساتھ کی بھیک نہیں مانگو گی۔۔وہ اپنی آنکھوں کو رگڑتی خود کو مضبوط بناتی دل سے بولی۔۔نہیں ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی عادت ہونے لگی ہے یا پھر وہ میرے لیے سب کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں مجھے پروٹیکٹ کرتے ہیں شائد اس لیے۔۔اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔۔وہ خود کو دلیلیں دینے لگی۔۔اسے لگ رہا تھا وہ مر رہی ہے۔۔اتنا رگڑنے پر بھی آنکھوں سے آنسو نہیں رک رہے تھے۔۔وہ گھٹنوں پر سر رکھے ایک دفعہ پھر سے خود کو ان آنسوؤں کے حوالے کرتی اپنی ہی میت پر زور زور سے اکیلی بیٹھ کر رونے لگی۔۔

باہر ہواؤں نے چیختے ہوئے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی ساتھ ویسے ہی چنگھاڑتی بارش بھی شروع ہو چکی تھی۔۔حویلی کے اندر اور باہر کے موسم میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔سب اپنے اپنے رومز میں ہیٹر آن کیے گرم بستروں میں گھسے ہوئے تھے۔۔حیدر آج گھر نہیں آیا تھا ایک تو موسم بہت طوفانی ہو رہا تھا اوپر سے آفس ورک زیادہ تھا آج اس کی آگے پیچھے چار میٹنگز تھیں وہ ابھی بھی آفس میں ہی تھا جاوید صاحب اور حنان نے اسے فون کر کے آنے سے منع کر دیا تھا۔۔اس نے آفس چیئر سے کھڑے ہوتے ایک زوردار انگڑائی لی تو بےاختیار ایک ہستی انگڑائی لیتی نظروں میں سمائی۔۔وہ اس کی انگڑائی دیکھنے کے لیے ہی تو اس کے جاگنے سے پہلے جاگ جایا کرتا تھا۔۔اپنے دھیان میں ہاتھ اوپر کرکے انگڑائی لیتی اسے بے چینیوں میں دھکیل دیتی تھی۔۔پتہ نہیں محترمہ کیا کر رہی ہو گی۔۔وہ فون ہاتھ میں لیے گلاس ونڈو سے تھوڑی سلائیڈ ہٹا کر باہر دیکھنے لگا۔۔موسم تو بہت شدت اختیار کر چکا ہے گھر تو دور فلیٹ پر بھی نہیں جایا جائے گا وہ خود سے بولتا صوفے پر بیٹھا۔۔اس کا نمبر ڈائل کرتا کان سے لگا گیا۔۔

ایک بار دو بار لیکن کال پک نہیں ہوئی۔۔یہ لڑکی نا ہر بات میں میرے صبر کا امتحان لینا اپنا فرض سمجھتی ہے۔۔وہ پھر سے ڈائل کرتا کال سپیکر پر ڈال گیا۔۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ سو گئی ہو۔۔وہ ٹائم دیکھتا خود سے بولا جو ساڈھے گیارہ کا ہو رہا تھا۔۔ہو سکتا ہے فون سائلنٹ پر ہو وہ سوچتا اپنے روم میں پڑے دوسرے سیٹ پر کال ملا گیا دل کو عجیب سی پریشانی ہونے لگی۔۔ایک بار دو بار پھر کال کی بٹ کوئی جواب نہیں۔۔وہ اب فون ہاتھ میں پکڑے پریشانی سے اپنا ماتھا رب کر رہا تھا۔۔روشانے۔۔حیدر لاشاری۔۔اگر تو مجھے اگنور کر رہی ہو تو بہت بڑی غلطی کر رہی ہو۔۔وہ کتنی دیر یہاں سے وہاں پیدل چلنے کے بعد جب دل کی بے چینی حد سے زیادہ بڑھی تو اوپر منہ کر کے زور سے آنکھیں بند کر کے اسے تصور میں لاتا بولا۔۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ روم ہو اور اتنی کالز پر کال نہ اٹھاتی۔۔یارر کال تو پک کرو وہ پھر سے اس کے تصور سے مخاطب ہوتا کال ملا گیا۔۔اب تو دل نے دھڑک دھڑک کر کچھ غلط ہونے کا سگنل دیا۔۔وہ ایک دفعہ پھر ونڈو سے باہر دیکھتا حنان کا نمبر ڈائل کر گیا۔۔

حنان نے فون اٹھا کر اس کی کال دیکھی تو پریشان ہوتا جلدی سے کال پک کرتا کان سے لگا گیا۔۔ہیلو حیدر خیریت تم ٹھیک تو ہو نا۔۔حنان آہستہ آواز میں جلدی سے بولا۔۔کیونکہ اس نے کبھی بھی اتنی رات کو ایسے کال نہیں کی تھی خاص کر جب وہ گھر سے باہر ہوتا۔۔جی بھائی میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔۔حنان نے بےاختیار لمبا سانس لیا۔۔خیریت اس وقت کال۔۔؟؟بھائی روشانے کال نہیں اٹھا رہی۔۔اس کے پوچھنے پر وہ بولا تو آواز میں واضح پریشانی تھی۔۔میرے بھائی آدھی رات کا وقت ہے اوپر سے اتنا جما دینے والا سرد موسم بارش بھی ہو رہی ہے وہ سو گئی ہو گی۔۔حنان اس کی پریشانی محسوس کرتا مسکراتا بولا۔۔نہیں بھائی وہ سوئی نہیں ہے آپ ایک دفعہ میرے روم کا چکر لگا کر آئیں۔۔وہ ویسے ہی پریشان سا بولا۔۔حنان کو بھی سیریس ہونا پڑا۔۔تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ سوئی نہیں ہے۔۔اب حنان بھی پریشان سا اپنے روم سے نکلتا بولا۔۔مجھے اس کا پتہ ہے وہ اگر روم میں ہے تو جاگ رہی ہو گی۔۔حیدر تمہاری اس سے کوئی بات ہوئی ہے۔۔نہیں۔۔ حنان کے پوچھنے پر حیدر یک لفظی بولا۔۔

شانے بیٹا جب دو دفعہ ڈور ناک کرنے پر کوئی آواز نہیں آئی تو اب ناک کے ساتھ حنان نے آواز بھی دی۔۔حنان بھائی روم میں دیکھیں۔۔حیدر اس کی کوئی آواز نہ پاکر جلدی سے بولا۔۔دل پہلی دفعہ ڈوب کر ابھرا۔۔شانے بیٹا۔۔حنان نے روم میں داخل ہوتے اسے آواز دی۔۔لیکن روم خالی تھا ڈریسنگ روم میں دیکھیں۔۔حیدر گاڑی کی چابی اٹھاتا بھاگ کر باہر نکلتا بولا۔۔حنان نے ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول اسے آواز دیتے لائٹ آن کی۔۔پھر واش روم وہ بھی خالی تھا۔۔حنان بھائی بالکنی میں دیکھیں۔۔حیدر پارکنگ میں گاڑی کی طرف بھاگتا بولا۔۔حیدر بالکنی کا دروازہ اندر سے بند ہے۔۔بھائی یارر ایک دفعہ کھول کر چیک کریں۔۔وہ پریشانی سے گاڑی سٹارٹ کرتا بولا۔۔حنان نے گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنی تو حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ وہ گاڑی میں کیا کر رہا ہے۔۔بھائی بالکنی میں ہے۔۔؟؟وہ گاڑی ہوا کی سپیڈ سے نکالتا اس کے سوال کو اگنور کرتا بولا۔۔نہیں وہ یہاں بھی نہیں ہے۔۔حیدر میں دوسرے کمروں میں چیک کرتا ہوں تم پریشان نہ ہو اور گاڑی آہستہ چلانا۔۔

حنان حویلی کا ایک ایک روم چیک کر رہا تھا حیدر لگاتار اس سے کال پر تھا۔۔حویلی کونسا چھوٹی تھی ایک روم کو چیک کرنے میں بھی اچھا خاصا ٹائم لگ رہا تھا۔۔حیدر نے کسی اور کو بتانے اور پوچھنے سے منع کیا وہ اس وقت گھر میں کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا۔۔کچن کی لائٹس آن کر کے دیکھا تو وہ بھی خالی تھی۔۔حیدر کو آج اپنے گھر کا رستہ صدیوں پر محیط لگ رہا تھا۔۔دو دفعہ گاڑی بری طرح پھسلتی فٹ پاتھ سے ٹکرائی۔۔رات کے اس پہر اوپر سے اتنا خراب موسم روڈ خالی اور سنسان پڑا تھا۔۔حنان نے دو گارڈز کی گاڑیاں ادھر سے بھیج دی تھیں۔۔بابا جان کے روم میں دیکھیں تو۔۔حیدر بیٹھتے دل سے بمشکل بولا۔۔اس وقت کوئی اس انسان سے پوچھتا کہ دل کا رکنا کیا ہوتا یے۔۔حنان کی خود پریشانی سے جان جا رہی تھی۔۔حیدر تم ٹھیک ہو وہ گاڑی کے ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سنتا پریشانی سے بولا۔۔حیدر یارر دھیان سے وہ یہیں ہوگی۔۔بھائی بابا جان کے روم میں چیک کریں۔۔وہ گاڑی پھر گھما کر سیدھی کرتا بولا۔۔

آہستہ سے دروازہ ناک کرتے حنان نے اپنے بابا کو آواز دی وہ جو روم میں بیٹھے کوئی حساب دیکھ رہے تھے اندر آنے کو بولا۔۔حنان فون کان سے لگائے اندر داخل ہوا جاوید صاحب اپنا کام چھوڑتے بازو پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔۔جاوید صاحب کو اکیلے روم میں دیکھ کر حنان کا صحیح معنوں میں گلہ خشک ہو کر دل ڈوبا۔۔بابا جان شانے آئی تھی آپ کے روم میں۔۔؟وہ گلہ صاف کرتا بولا۔۔کیونکہ دوسری طرف حیدر لگاتار اس پوچھ رہا تھا کہ وہ ہے روم میں۔۔جاوید صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے حیران ہو کر نفی میں سر ہلایا۔۔کیوں کیا ہوا اور فون کس کا ہے۔۔وہ کچھ غیر معمولی محسوس کرتے پریشانی سے بولے۔۔حنان کو اب کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بتائے۔۔حنان میں نے کچھ پوچھا ہے شانے کو اتنی رات کیوں ڈھونڈ رہے ہو کہاں ہے وہ آج کھانا بھی نہیں کھایا سب کے ساتھ اس نے۔۔؟جاوید صاحب اس کی طرف بڑھتے بولے۔۔بابا جان۔۔ووووہ۔۔شانے نہیں مل رہی۔۔وہ پھر سے گلہ صاف کرتا اپنے باپ کو دیکھتا آہستہ سے بولا۔۔جاوید صاحب شاک سے اسے دیکھنے لگے۔۔نہیں۔۔مل۔۔رہی۔۔

وہ رک رک کر اسی کے لفظ دوہراتے بولے۔۔جبکہ فون کے دوسری طرف ان لفظوں کی بازگشت اس طوفانی اور خوفناک موسم سے بھی کہیں زیادہ خوفناک لگ رہی تھی۔۔کسی انہونی کے ڈر سے دل بری طرح لرز رہا تھا۔۔وہ موسم کے طوفان سے ٹکراتا گاڑی کی سپیڈ پہلے سے بھی کہیں زیادہ کر گیا۔۔یا اللہ پاک تو رحیم ہے کریم ہے تیری پاک ذات بہت اعلیٰ اور رحم کرنے والی ہے تو سب سے بڑا محافظ ہے تو میری عزت کی حفاظت فرما اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔۔وہ آنکھوں میں بھرتی نمی کے ساتھ اپنے رب کو شدت سے پکار گیا۔۔حنان روشانے کہاں ہے۔۔؟جاوید صاحب دھڑکتے دل سے حنان کو پکڑتے بولے۔۔بابا جان پریشان نہ ہوں وہ ادھر ہی کہیں ہو گی ہو سکتا ہے باہر لان میں ہو آپ کو پتہ تو ہے بارش میں کہاں ٹک کر بیٹھتی ہے۔۔وہ اپنے باپ کے ساتھ خود کو بھی تسلی دیتا بولا حالانکہ اسے اپنے لفظ خود ہی خالی خالی محسوس ہو رہے تھے۔۔تمہارا دماغ ٹھیک ہے اتنے خراب اور طوفانی موسم میں وہ باہر لان میں بارش انجوائے کر رہی ہوگی وہ بھی اتنی رات کو۔۔جاوید صاحب تیزی سے اپنے روم کی بالکنی کا دروازہ کھولتے باہر دیکھتے بولے۔۔

بابا جان پلیز آپ باہر بارش میں مت جائیں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی میں گارڈز کو لے کر سارا چیک کر لیتا ہوں۔۔حنان اپنے باپ کو روم سے باہر نکلتے دیکھ کر جلدی سے بولا۔۔آدھی رات کا وقت ہے موسم اتنا خراب ہے بچی کا کچھ اتا پتہ نہیں اور تمہیں میری طبیعت خراب ہونے کی فکر ہو رہی ہے۔۔پھر انہوں نے گھر میں کسی کو بھی خبر ہوئے بغیر گارڈز کے ساتھ مل کر سارا گارڈن ایریا اور تینوں لان دونوں بیک والے چیک کیے تیز ہواؤں کی سرسراہٹ چمکتے گرجتے بادل گرتی تیز بارش اور شدید دھند ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔حیدر باہر سے ہی گاڈز کی گاڑی سے اتر کر بھاگ کر گیٹ میں داخل ہوا۔۔اپنی گاڑی تو روڈ پر بہت دور تک پھسلتی ایک درخت سے ٹکرائی تھی۔۔اب وہ خود حویلی کا ایک ایک کونا دیکھ رہا تھا آج اسے پہلی بار اتنا بڑا گھر ہونے پر غصہ آ رہا تھا۔۔حاشر بھی روم سے باہر آ گیا تھا۔۔ساری حویلی چیک کر کے اب وہ کچن میں کھڑے تھے۔۔حیدر بری طرح بھیگ چکا تھا۔۔

حنان اور حاشر ایک دوسرے کو دیکھ کر اسے دیکھنے لگے جو اوپر منہ کرکے گہرے سانس لے رہا تھا پہلی دفعہ آنکھوں میں بار بار نمی بھر رہی تھی جسے وہ اپنے بازو پر رگڑ کر بار بار صاف کر رہا تھا۔۔سب پہلی دفعہ اس کو ایسے بکھری حالت میں دیکھ رہے تھے سب نے ماں کی وفات پر اس کی آنکھیں نم دیکھی تھیں لیکن تب وہ سب کے سامنے ایسے بکھرا نہیں تھا۔۔جاوید صاحب کب سے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ رہے تھے۔۔آگے بڑھتے اپنے شہزادے کو گلے لگا لیا۔۔بابا جان۔۔وہ پہلی دفعہ نم آواز میں بولتا ایک بچے کی طرح اپنے باپ کی گردن میں چہرہ چھپا گیا۔۔حیدر وہ بلکل ٹھیک ہے اور انشاء اللہ یہیں کہیں ہمارے پاس ہی ہے۔۔وہ اپنی گردن پر نمی محسوس کرتے اسے خود سے لگائے اس کی کمر رب کرتے بولے۔۔حیدر لمبی سانس سے خود کو کمبوز کرتا پیچھے ہوا اور اپنی آنکھیں بازو پر رگڑ کر صاف کیں۔۔اپنے پہلوؤں پر ہاتھ رکھتے سامنے دیکھا تو نظریں ایک دم سٹک ہوئیں۔۔۔