Ziddi (ضدی) — Episode 14
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 14
قسط 14 · کہانی
ماضی۔۔ میڑک میں اس نے ٹاپ کیا تھا سوائے نوید اور عائزہ کے کسی کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔عائزہ نے اسے منع کر دیا کہ گھر میں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے نہیں تو اسے کم مارکس پر ڈانٹ پڑے گی وہ کالج میں سیکنڈ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی۔۔روشانے نے نوید کو بھی سختی سے منع کر دیا کہ گھر میں کسی کے سامنے نام لینے کی ضرورت نہیں ہے نوید نے اسے کافی سمجھایا لیکن وہ نہیں مانی ویسے بھی اس گھر میں اس کی ذات میں کسی کو اتنی دلچسپی تو تھی نہیں کہ اس کے سپیشل ڈئز کو یاد رکھا جاتا یا اس سے پوچھا جاتا۔۔شانی اگر تم بتاؤ گی نہیں تو کوئی بھی تمہیں کالج میں ایڈمشن نہیں لینے دے گا۔۔ایڈمشن تو میرا ویسے بھی نہیں ہونے والا پتہ نہیں یہ دس جماعتیں کیسے پڑھنے دیا گیا ہے وہ اسے دیکھتی مسکراتی بولی جبکہ کوپر آنکھوں میں واضح درد اور نمی کی لکیر تھی جو نوید کتنی دیر دیکھتا رہا۔۔
پھر گھر میں سب کو دونوں کے رزلٹ کا بتایا گیا کہ دونوں پاس ہو گیئں ہیں عائزہ نے تو سب سے اپنے پاس ہونے کا گفٹ لیا جبکہ اس کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ بس بہت پڑھ لیا اب گھر کے کام سیکھے اب کوئی ضرورت نہیں پڑھائی کے نام پر باہر سیر سپاٹے کرنے کی۔۔کونسا پڑھ لکھ کر اس نے کہیں جج لگ جانا ہے۔۔اگر اب یہ باہر نکلی پڑھنے کے لیے تو اپنی ماں کی طرح سب کے سروں میں خاک ڈالے گی۔۔حیدر آج تین ماہ بعد حویلی آیا تھا۔۔اپنی ماں کی وفات کے بعد وہ پڑھائی کے لیے گھر سے نکل گیا تھا اب تو اپنا بزنس کر رہا تھا۔۔کھانے کے بعد سب حال میں بیٹھے تھے روشانے سب کو چائے سرو کر رہی تھی دونوں پھپھو کی فیملیز تائی کی فیملی اور نازیہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔۔عائزہ نے اپنے پاس ہونے کی خوشی میں سب کو رات کے کھانے پر بلایا تھا۔۔آج صبح سے ہی اس کی شامت آئی ہوئی تھی سب نے اس کو آگے نہ پڑھانے والے فیصلے کو دل سے سراہا اور بڑھ چڑھ کر اس ٹاپک پر اپنا اپنا حصہ ڈالا۔۔
جس گھر میں وہ رہتی تھی وہاں کے کسی فرد نے بھی اس کے حق میں آواز نہیں اٹھائی نازیہ اور حاشر نے ایک دو دفعہ دبی دبی آواز میں کہا تو چچی نے ان کو چپ کروا دیا کہ اب گھر کے کام کاج پر توجہ دے میمونہ بیگم نے بھی کہا کہ جب تک رخصتی نہیں ہو جاتی تب تک پڑھ لے لیکن ان کی بھی نہیں سنی گئی۔۔نوید نے آج بھی اسے کتنا سمجھایا تھا کہ کم از کم ایک دفعہ تو اپنے لیے بولے لیکن وہ نہیں مانی تھی اور چپ چاپ سب کی سنتی اپنے کام میں لگی ہوئی تھی۔۔وہ چائے دے کر واپس مڑی تو حیدر سیڑھیاں اترتا اس کے رستے میں آیا۔۔عادت کے مطابق روشانے نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔۔پتہ تھا اب کافی کا آرڈر آئے گا۔۔یہ پکڑو فارم اور ابھی مجھے سائن کر کے دو۔۔وہ ایک فارم اس کی طرف بڑھتا بولا۔۔باقی وہ سارا فل کر چکا تھا اس کے سبجیکٹ تک وہ لکھ چکا تھا بس اس کے سائن ہونا باقی تھے۔۔حال میں ایک دم سناٹا چھایا اور حیرت سے سب اس انسان کو دیکھنے لگے۔۔روشانے بچاری کی تو حالت ہی نہ پوچھو۔۔وہ تو شاک سے منہ کھولے آنکھیں بڑی کیے اسے ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی۔۔
تم میں ذمہ داری نام کی کوئی چیز بھی ہے کب کا رزلٹ آیا ہوا ہے تم سے ابھی تک ایک فارم منگوا کر فل کر کے سبمنٹ نہیں کروایا گیا۔۔دو دن پہلے لاسٹ ڈیٹ تھی اگر میری نوید سے بات نہ ہوتی تو اس کالج میں ایڈمشن نہیں ہونا تھا۔۔نوید سے جب حیدر کی بات ہوئی تو اس نے سب کچھ بتا دیا یا یوں کہنا چاہیے کہ جب نوید کا کوئی بس نہ چلا تو اس نے آخری امید کے طور پر حیدر کو بتایا۔۔اس نے اس کا ایڈمیشن بھی عائزہ والے کالج میں کروایا تھا جو اس شہر کا سب سے مہنگا ترین کالج تھا اس کالج میں کو ایجوکیشن تھی۔۔وہ اس کا سختہ دیکھ کر اس کے ہاتھ سے ڈش لے کر فارم دیتا ڈانٹنا نہیں بھولا۔۔ارے حیدر بھائی جتیے رہیں اللہ آپ کو خوش رکھے شاد رکھے آباد رکھے۔۔نوید خوشی سے چہکتا حیدر کے گلے لگتا بولا۔۔چل شانی یہ پکڑ پنسل اور جلدی سے سائن مار دو جہاں جہاں مارنے ہیں۔۔وہ جلدی سے اس کے ہاتھ میں پنسل پکڑاتا بولا۔۔وہ ابھی بھی حیرانگی سے اپنے ہاتھ میں پکڑے اس فارم کو دیکھ رہی تھی۔۔اور ہاں یہ سائن کرکے مجھے ابھی۔۔
میں ابھی کافی نہیں بنا کر دوں گی وہ جلدی سے اس کی بات درمیان میں کاٹتی منہ بسورتی بولی۔۔انداز بہت ہی معصومیت لیے ہوئے تھا۔۔سب نے حیران ہو کر اس لڑکی کو دیکھا پھر سامنے کھڑے آگ کے گولے کو۔۔مجھے اپنا رزلٹ کارڈ لا کر دو۔۔حیدر اس کے فیس ایکسپریشن دیکھتا اسے کہتا اپنے بابا جان کے ساتھ جا کر بیٹھا۔۔ایک دفعہ پھر سب حیران ہوئے یعنی اتنے سارے لوگوں میں اس کو صاف جواب ملا اور وہ بنا پھٹے آ کر بیٹھ گیا۔۔کیا ضرورت ہے بیٹا اسے اتنی آزادی دینے کی پہلے ہی اس سے اپنی زبان سنھبالی نہیں جا رہی نہ کسی چھوٹے کا لحاظ نہ بڑے کا ڈر کیسے منہ پھاڑ کر صاف ٹکا کر جواب دیتی ہے۔۔دادی شاک سے نکلتی جلے ہوئے انداز میں بولی۔۔حالانکہ آج تک اس نے سوائے اس ایک انسان کے کسی کو بھی کبھی انکار نہیں کیا تھا۔۔اماں صحیح کہہ رہی ہیں ویسے بھی دس جماعتیں پڑھ کر کونسے جھنڈے گاڑ دیے ہیں جو آگے نہ پڑھ سکی تو ہمارے خاندان کا نام روشن ہونے سے رہ جائے گا۔۔پتہ نہیں کیسے اس جیسی کند ذہن لڑکی نے مر کھپ کے دس جماعتیں پاس کیں ہیں مجھے تو حیرت ہے یہ پرچے دیکھنے والوں نے اسے پاس کیسے کر دیا۔۔
بیٹا یہ پڑھائی شڑھائی اس کے بس کی بات نہیں ہے پیسہ ضائع ہوگا اور کچھ نہیں۔۔۔پھپھو کی ایک لمبی تقریر شروع ہوئی۔۔حیدر نے اپنے باپ کو دیکھا جو نظریں جھکائے چپ چاپ بیٹھے سب سن رہے تھے۔۔پھر نظریں اس لڑکی کی طرف کیں جو سر جھکائے اپنے ہاتھوں میں فارم پکڑے بے یقین سی بیٹھی تھی۔۔اس نے میٹرک میں پورے پنجاب میں ٹاپ کیا ہے بابا جان۔۔حیدر اپنے باپ کو مخاطب کرتا حال میں بیٹھے ہر فرد کو جان لیوا شاک دے گیا۔۔دادی سمیت پھپھو اور تائی کے خاندان کو تو اٹیک ہوتے ہوتے بچا۔۔ آج تک پورے لاشاری خاندان کی کس لڑکی نے ٹاپ تو چھوڑیں کلاس میں بھی کوئی پوزیشن لی ہے۔۔؟ حیدر سب کو دیکھتا سوالیہ بولا اور خاندان کا نام کیسے روشن کرتے ہیں باقی رہ گئی پیسہ ضائع ہونے کی بات تو ہمارے پیسے کی کسی کو بھی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔بابا جان اس کالج میں ایڈمشن بند ہونے کے باوجود مجھے پرنسپل صاحب نے ایک دفعہ کہنے پر ہی فارم دیا ہے یہ میری واقفیت یا کسی سفارش سے نہیں ملا بلکہ کالج نے اس کی قابلیت کی بنا پر دیا ہے۔۔
اس کا تو سکالرشپ بھی لگ چکا ہے آپ کو اس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔۔حیدر تفصیل سے بولا۔۔بیٹا میں نے کب ایسا کچھ کہا ہمیں تو اس کے رزلٹ کا ہی نہیں پتہ تھا نہ ہی اس نے ہمیں بتایا۔۔جاوید صاحب حیدر کی بات سنتے جلدی سے شرمندہ لحجے میں بولے۔۔جبکہ حیدر کے ذہن میں تھا کہ اس کے رزلٹ کو دیکھتے ہوئے اس کا ایڈمشن کروا دیا ہو گا۔۔آئے ہائے حیدر بیٹا تم بھی اس شاطر لڑکی کی باتوں میں آ گئے۔۔نا مجھے بتاؤ یہ بات ماننے والی ہے اس نے بولا تم نے مان لیا یہ لڑکی تو یوں اپنی باتوں سے سب کو گھما کر رکھ دیتی ہے دادی اپنے ہاتھ سے چٹکی بجاتی بولی یہ سب اس کے گھر سے باہر نکلنے کے بہانے ہیں۔۔یہ اس نے نہیں بتایا یہ سارا میڈیا کہہ رہا ہے اس نے تو کسی کو اپنے رزلٹ کا بتایا ہی نہیں۔۔حیدر دادی کی بات سنتا ساتھ ریموٹ اٹھا کر ایل ای ڈی آن کرتا اس کے رزلٹ والے دن کی نیوز لگا گیا۔۔یہ صرف اسی نیوز چینل پر نہیں اس دن کا کوئی بھی نیوز چینل دیکھ لیں سب یہی بات بتا رہے ہیں۔۔
وہاں بیٹھے تینوں خاندان کے افراد اپنا اپنا فون نکال کر اب ہر چینل پر سرچ کرنے لگے جبکہ بزرگ حضرات آنکھیں پھاڑے سامنے سکرین کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔حیدر نے سب کی طرف دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔۔مجھے اپنا رزلٹ کارڈ لا کر دو۔۔حیدر اسے دیکھتا بولا۔۔اس نے اپنے روم سے رزلٹ کارڈ لا کر حیدر کو دیا جو حیدر کے ہاتھ سے اس کے بابا جان کے ہاتھ میں اور پھر آگے سے آگے چلتا جا رہا تھا۔۔اب سب وہ اس کاغذ کے ٹکڑے کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔۔حسد اور جلن سے ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کاغذ کے ٹکڑے کو ویسے ہی کہیں غائب کر دیں یا آگ لگا دیں لیکن سامنے بیٹھے انسان کی وجہ سے کوئی بھی ایسی جرت نہیں کر سکتا تھا ورنہ یہ کب کا ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا یا پھر یہ کہتے کہ یہ اس کا ہے ہی نہیں اس نے کہیں سے نقلی بنوایا ہے۔۔اس لڑکی نے کبھی ہمیں اپنا سمجھا ہی کب ہے ہمیں اپنا سمجھتی تو ہمیں بتاتی نا۔۔جتنا مرضی اس پر اپنا پیار لٹا دو اپنا مان لو یہ ہمیشہ ہم سے پرائیوں جیسا ہی سلوک کرتی ہے اپنی ماں کی طرح۔۔
اگر اتنا اچھا زندگی میں کوئی کام کر ہی لیا تھا گھر میں کسی کو بتانا گوارا نہیں کیا ارے ہمیں بتاتی تو ہم نے خوش ہی ہونا تھا ہم سے دعائیں ہی لیتی پر نہ جی ہم اتنے خوش نصیب کہاں کہ یہ لڑکی ہمیں تھوڑی سی عزت سے نواز دے ارے عائزہ بھی ہے کتنی خوش مزاج بچی ہے اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں سب کو شریک کرتی ہے۔۔دادی کی ایک ناختم ہونے والی ایمویشنل تقریر شروع ہوچکی تھی۔۔نوید نے عائزہ کو دیکھا جو مسکراتی اپنی تعریف وصول کر رہی تھی۔۔نوید نے اپنی طرف دیکھنے پر اسے اشارہ کیا کہ وہ سب کو بتائے کہ اسی نے منع کیا تھا۔۔وہ اس کی بات کو اگنور کرتی کندھے اچکا گئی۔۔کچھ تو دادی کے ڈرامے میں پورا ساتھ دیتے زور و شور سے اثبات میں سر ہلا رہے تھے کچھ ان کی سوچ جان کر نفی میں سر ہلا رہے تھے۔۔تم چلو میرے ساتھ اپنی ضرورت کی چیزیں لے کر آؤ اور صبح سے کالج جانا سٹارٹ کرو مزید گھر بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہے۔۔حیدر اس کا رزلٹ کارڈ اور فارم اپنی فائل میں لگاتا شروع ہونے والے اس ڈرامے سے اکتا کر کھڑا ہوتا بولا۔۔
دادی کی زبان کو بریک لگی اس نے حیران ہو کر ٹیڑھی نظروں سے سب کو دیکھا تو سب حیدر کو دیکھ رہے تھے۔۔آئے ہائے اس کا موا کالج کہیں بھاگا نہیں جا رہا تم بیٹھو آرام سے آج اتنے دنوں بعد اپنی شکل دکھائی ہے آتے ہی اس مصیبت کو سر پر سوار کر لیا ہے چلی جائے گی یہ صبح میں اور اس کی پھپھو لیں جائیں گیں تم فکر چھوڑو اور سکون سے ہمارے ساتھ بھی دو گھڑی بیٹھو قسمت سے تو سب اکٹھے ہوتے ہیں۔۔دو خاندانوں نے پھر سے من و عن دادی کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔حیدر نے لمبا سانس لے کر خود کو کول ڈاؤن کیا۔۔تمھیں اب سپیشل انیوٹیشن دوں چادر لے کے آؤ اپنی۔۔وہ اسے ایسے ہی اپنی جگہ جمے دیکھ کر دوبارہ سے بولا اب آواز میں واضح سختی تھی۔۔سٹرو اکڑو،آگ کے گولے۔۔وہ اسے اپنے من پسند ناموں سے نوازتی کمرے میں چلی گئی ساتھ میں ایک گھوری دینی ضروری سمجھی۔۔بھائی مجھے بھی جانا ہے عائزہ فوراً ہی اپنی جگہ سے اٹھتی لاڈ سے بولی۔۔ہاں بیٹا جاؤ جاؤ تھوڑی باہر کی تازہ ہوا مل جائے گی تو بندے کی طبیعت ٹھیک رہتی ہے حیدر سے پہلے ہی پھپھو کے لاڈ نے جوش مارا۔۔
عائزہ ابھی بھی حیدر کو دیکھ رہی تھی جس نے ہاں میں سر ہلایا تو نوید نے بےاختیار افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔۔حیدر باہر کو جانے لگا جب اس کے باپ نے اسے روکا۔۔یہ لو اسے کالج کے لیے جو بھی چاہیے ہوا لے دینا۔۔وہ اپنی جیب سے کیش نکال کر حیدر کو دیتے بولے۔۔بابا جان میرے پاس ہے میں اسے سب کچھ دلا دوں گا۔۔نہیں یہ میری طرف سے اس کا انعام ہے۔۔وہ روشانے کو دیکھتے بولے جو اپنے روم سے باہر نکل رہی تھی۔۔بابا جان مجھے بھی چیزیں لینی ہیں عائزہ فوراً اپنے باپ سے بولی تو انھوں نے مسکراتے اسے بھی کیش دیا۔۔پاس آنے پر چھوٹی پھپھو نے اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر پیار کیا اور اسے کیش کی صورت میں انعام دیا جو اس نے لینے سے انکار کیا۔۔شانی پکڑ لو اپنا انعام حق سمجھ کر لیتے ہیں ویسے بھی تم وہ پہلی لڑکی ہو جس نے لاشاری خاندان کے نام کے جھنڈے گاڑے ہیں ہمارے خاندان کا نام روشن کیا ہے ہمیں فخر ہے کہ تم لاشاری خاندان کی لڑکی ہو۔۔کیوں نانی جان خالہ جان صحیح کہہ رہا ہوں نا۔۔
نوید نے ان دونوں ہستیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے لفظوں سے وہاں بیٹھے بہت سارے لوگوں کو جلتے توے پر بیٹھایا۔۔انھوں نے ناگواری سے اپنے چہروں کے زاویے بگاڑے۔۔حیدر اس کی بات کا مطلب سمجھتا اسے گھور کر دیکھا تو نوید اسے دیکھتا آنکھ دبا گیا۔۔پھر حنان حاشر اور نازیہ سمیت چھوٹی پھپھو کے ہر فرد نے اسے کیش کی صورت میں انعام دیا ارے گڑیا آپ نے بتایا ہی نہیں حاشر اسے ساتھ لگاتا بولا۔۔حاشر بھائی مجھ سے کسی نے پوچھا ہی نہیں۔۔وہ شفاف آنکھوں میں اداسی لیے اسے دیکھتی بولی۔۔کچھ پل تو حاشر کے ساتھ باقی سب بھی اس کی آواز میں سسکتی حسرت اور آنکھوں میں واضح درد محسوس کرتے چپ ہوئے۔۔آئی ایم پراؤڈ آف یو۔۔حاشر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا۔۔تھنکیو بھائی۔۔وہ پلکیں چھپکتی مسکرا کر بولی۔۔آج تو دادا جان اور جاوید صاحب نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں۔۔اس نے آنکھوں میں نمی اور چہرے پر مسکراہٹ لیے ان کو دیکھا جو صرف عید کی عید ہی اس کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے وہ بھی اگر ان کے سامنے آ جاتی تو۔۔
بھئ ہمارے پاس تو ایسے لوگوں کے لیے کوئی گفٹ نہیں جو ہمیں اپنی خوشیوں میں شریک کرنا بھی گوارہ نہ کرے۔۔تائی جان اس کی اتنی اہمیت دیکھ کر جلے ہوئے انداز میں اپنی بھڑاس نکالتی بولی۔۔بلکل جب وہ ہمیں اپنا نہیں سمجھتی تو پرائے لوگوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس بھی کچھ نہیں ہے نہ کوئی انعام نہ دعائیں۔۔پھپھو نے بھی دل کی جلن نکالی۔۔نوید ان کو لے کر آ جاؤ حیدر نوید سے کہتا باہر نکل گیا۔۔شانی تم اتنا سارا کیش کہاں رکھو گی ایسا کرو مجھے پکڑا دو جب ضرورت ہوئی تو مجھ سے لے لینا عائزہ اپنے ساتھ بیٹھی اس لڑکی سے بولی۔۔حیدر نے بےاختیار فرنٹ مرر سے اسے دیکھا جو عائزہ کو دیکھ رہی تھی۔۔کوپر آنکھیں ہیروں کی مانند چمک رہی تھی۔۔چہرے پر الگ ہی خوشی کی چمک تھی۔۔کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ خوش ہو جاتی تھی۔۔اب اس نے کالج جانا ہے تو اس کے پاس اپنا فون ہونا چاہیے شانی تمہارے اس سارے انعام سے ایک اچھا سا فون خرید کر تمھیں دوں گا تاکہ تمھیں کوئی مشکل نہ ہو کیوں حیدر بھائی۔۔
اس سے پہلے کہ عائزہ اس کا اپنی طرف بڑھایا ہوا پاؤچ پکڑتی نوید نے اس کے ہاتھ سے لے کر سارا کیش نکال کر پاؤچ اسے واپس کرتے حیدر سے بھی رائے لی۔۔حیدر روشانے کے دیکھنے پر ہاں میں سر ہلاتا فرنٹ مرر سے نظریں ہٹاتا سامنے دیکھنے لگا۔۔بھائی اس کو کیا ضرورت ہے فون کی میرے پاس ہے تو۔۔عائزہ نے حیدر سے کہا۔۔بیٹا آپ کا ڈیپارٹمنٹ الگ ہے اس کا الگ۔۔حیدر نے کہا۔۔شانی تم میرا لے لو حیدر بھائی مجھے نیا لے دیں گے۔۔ٹھیک ہے نا بھائی۔۔وہ جلدی سے آگے کو ہوتی لاڈ سے حیدر سے بولی۔۔نوید نے نفی میں سر ہلایا۔۔عائزہ میں اس کے انعام سے اسے نیا لے دوں گا ویسے بھی تم اسے دو سال سے یوز کر رہی ہو تو اس کی ساری سیٹنگ تم نے اپنے حساب سے کی ہوگی تم بھائی سے ویسے ہی نیا لے لو۔۔پھر دونوں کے لئے ایک ہی ماڈل اور ایک ہی کمپنی کے نیو لیٹسٹ سمارٹ آئی فون آئے بس کلر میں فرق تھا نوید نے گولڈن کلر کا اٹھا کر روشانے کو دیا اور بلیک عائزہ کو دیا تو عائزہ نے جب روشانے کے ہاتھ میں گولڈن کلر دیکھا تو عادت کے مطابق فوراً ایکسچینج کرنے کا بولا۔۔نوید کے چہرے کو مسکراہٹ نے چھوا۔۔
اس نے حیدر بھائی کو کہہ کر سپیشل بلیک کلر روشانے کے لیے ہی لیا تھا۔۔لیکن اسے گولڈن دینے پر حیدر نے حیران ہو کر نوید کو دیکھا۔۔وہ اکثر کہتی تھی میں نے جب بھی فون لیا تو میں بلیک کلر میں لوں گی لیکن نوید جانتا تھا کہ اگر وہ اسے بلیک کلر دے گا تو عائزہ فوراً اس سے لے کر اپنا اسے دے دے گی بلیک کلر کا فون پکڑ کر اس کی آنکھوں کے ساتھ چہرہ بھی چمکا۔۔اب عائزہ بچاری کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کونسا رکھے۔۔حیدر نے چونک کر نوید کو دیکھا پھر عائزہ کو اور پھر نظریں گھما کر اس لڑکی پر کیں جو بچوں کی طرح خوش ہوتی اس فون کو الٹا پلٹا کر دیکھ رہی تھی۔۔عادت کے مطابق بزرگ خواتین نے خوب شور مچایا کہ یہ کم ہے کہ اسے لڑکوں کے ساتھ پڑھنے بھیج دیا اوپر سے اسے عیاشی کا سارا سامان بھی لے دیا لیکن جب پتہ چلا کہ حیدر نے لے کر دیا ہے تو مجبوراً سب کو چپ ہونا پڑا۔۔روشانے نے کبھی کسی کے سامنے فون استعمال نہیں کیا تھا جو کسی کو نیا موضوع ملتا اس لیے فون والی بات جلد ہی سب بھول کر کچھ نیا ڈھونڈنے لگے۔۔۔
آنکھوں کو انگلیوں سے دباتے چہرے پر ہاتھ پھیرتے گہرا سانس لے کر خود کو ریلکس کیا تو نظریں سامنے کچن کے لان کی طرف کھلتے دروازے پر پڑیں تو کچھ پل دیکھنے کے بعد قدم خود بخود اس طرف اٹھے۔۔وہ اس طرف جاتا لاک کھول کر باہر نکل گیا تو وہ تینوں اسے لاک کھول کر باہر نکلتے دیکھ کر حیران ہوئے کیونکہ دروازہ اندر سے لاک تھا تو روشانے کا باہر ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔۔حیدر نے دروازے سے باہر قدم رکھا تو طوفانی بارش کے ساتھ تیز چنگاڑتی ہواؤں اور گہری دھند نے اس کا استقبال کیا۔۔اس نے بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھا تو کچن کی رائٹ سائیڈ پر برآمدے کے آخر میں اسے کچھ محسوس ہوا۔۔دل زور سے دھڑکا۔۔روشنی۔۔تڑپ کر پکارتا بھاگ کر اس طرف گیا۔۔وہ تینوں جو اس کے پیچھے ہی باہر نکل آئے تھے حیران ہو کر اسے اس طرف بھاگتے دیکھا۔۔دیوار کے ساتھ گٹھلی کی صورت میں اپنے گرد ہلکی سی شال لپیٹے گھٹنوں میں سر دیے ساکت بیٹھی وہ روشانے ہی تھی جو اتنی تیز برستی بارش میں مکمل طور پر بھیگی ہوئی تھی۔۔روشنی۔۔
وہ گھٹنوں کے بل اس کے پاس گرتا اگلے ہی پل بےقراری سے اس کے گرد بازو لپیٹتا اسے اپنے سینے میں چھپا گیا۔۔روشنی۔۔آنکھیں کھولو۔۔وہ اس کا چہرہ تھوڑا سا اوپر کرتا بے چینی سے تھپکتا بولا۔۔وہ اس جما دینے والی سردی میں بلکل فریز ہوئی بے سدھ پڑی تھی۔۔روشنی۔۔روشنی۔۔آنکھیں کھولو یارر۔۔اس کے یخ ٹھنڈے چہرے کو اپنی شرٹ کے بازو سے صاف کرتا بےقراری سے اس کے ماتھے پر لب رکھتا اسے پکارنے لگا۔۔حیدر اسے جلدی سے اٹھا کر اندر لے چلو کیونکہ بارش اب روشانے کے ساتھ حیدر اور ان سب کو بھی بھگو رہی تھی۔۔حیدر اسے اندر لے چلو وہ پہلے ہی ساری بھیگی ہوئی ہے ابھی بھی بارش اس کے اوپر ہو رہی ہے۔۔حنان جا کر جلدی سے ہیٹر آن کرو۔۔جاوید صاحب نے اسے ایسے ہی خود میں بھینچے اردگرد سے بے خبر اسے بےقراری سے پکارتا دیکھ کر اسے کندھے سے ہلا کر دوبارہ کہا۔۔حیدر نے سرخ ہوتی ہیزل آنکھوں سے جو پانیوں سے بھری ہوئی تھیں چہرہ اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا۔۔جاوید صاحب کے دوبارہ کہنے پر وہ اسے جلدی سے اٹھا کر کچن میں لے آیا۔۔اسے خود میں چھپائے ہیڑ کے سامنے بیٹھا۔۔
لائٹ میں اس کی حالت دیکھی تو دل ڈوبا۔۔حالت تو باقی تینوں کی بھی اسے دیکھتے حیدر سے مختلف نہیں تھی۔۔روشنی آنکھیں کھولو۔۔وہ اپنا چہرہ بازو پر رگڑ کر صاف کرتا پھر بے چینی سے اس کا چہرہ تھپک کر اسے پکارنے لگا۔۔وہ بند آنکھوں سے نیلی پڑتی بری طرح لرز رہی تھی۔۔حنان اور حاشر جلدی سے اس کے پاؤں رب کرنے لگے۔۔سب نے زندگی میں پہلی بار حیدر کو اتنا حواس باختہ دیکھا تھا۔۔ وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کبھی دبا رہا تھا کبھی اپنے چہرے پر رب کرتا تو کبھی زور سے اپنے لبوں سے لگا لیتا اپنے سینے پر اس کے ہاتھ رب کرتا اس کے ماتھے پر زور سے لب رکھے۔۔وہ بلکل بھی اپنے حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔۔روشنی یارر پلیز۔۔اس کا چہرہ اپنی گردن میں چھپاتا اسے خود میں بھینچے اس کے کان پر اپنا چہرہ رب کرتا اسے پکارنے لگا۔۔انداز کتنا بے بس تھا پاس بیٹھے افراد نے شدت سے محسوس کیا۔۔حنان نے پریشانی سے اپنے باپ کو دیکھا جو خود پریشانی سے اپنے شہزادے کو دیکھ رہے تھے جو اس گھر کا تو کیا اس خاندان کا سب سے مضبوط اور سخت جان مرد تھا۔۔
لیکن اس وقت وہ بلکل بکھرا ہوا ایک خوفزدہ بچہ لگ رہا تھا۔۔اگر اس کی یہ حالت گود میں بےسدھ پڑی یہ لڑکی جو کہ اس کی بیوی تھی دیکھ لیتی کہ اس کی وجہ سے اس سبز کڑوے کریلے کی کیا حالت ہو رہی ہے تو شاک سے ہی بے ہوش ہو جاتی یا اسے ہاڑٹ اٹیک آ جاتا۔۔جاوید صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔بابا جان یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی۔۔دیکھیں نا اسے سانس نہیں آ رہا۔۔وہ بےقراری سے اپنے بابا کو دیکھتا بولا۔۔حیدر اتنی ٹھنڈ اور بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اس کی طبیعت ایسی ہو رہی تھی اسے روم میں لے کر چلو اور اس کے گیلے کپڑے بھی چینج کرو۔۔اسے فوری گرمائش کی ضرورت ہے۔۔جاوید صاحب اس کی سرخ نم آنکھوں میں دیکھتے بولے۔۔اٹھو شاباش اگر یہ ایسے ہی گیلے کپڑوں میں زیادہ دیر رہی تو طبیعت اور بگڑ جائے گی۔۔حیدر اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر اسے جلدی سے اٹھا کر اپنے روم میں لے آیا۔۔حیدر آپ خود بھی چینج کر لو اور شانے بیٹے کو بھی کرواؤ۔۔ حنان حاشر آپ لوگ بھی جا کر چینج کرو وہ ان دونوں کی پریشان شکلیں دیکھتے بولے۔۔
میں چینج کر کے اس کے لیے قہوہ بنا کر لاتا ہوں جو آپ کی ماں ہمیں سردی سے بچنے کے لیے بنا کر دیتی تھی۔۔وہ کہتے باہر کی طرف بڑھ گئے ان کے پیچھے ہی وہ دونوں بھی نکل گئے۔۔حیدر اسے اٹھا کر ڈریسنگ روم میں لایا۔۔اسے کاوچ پر لٹا کر اس کی گیلی شال اتار کر سائیڈ پر رکھی اور اپنی وارڈروب کھولی تو اس کے کسی بھی حصے میں روشانے کے کپڑے یا کچھ بھی نہیں تھا اس نے ابھی تک اپنی کوئی بھی چیز اس کے روم میں شفٹ نہیں کی تھی۔۔وہ لمبا سانس چھوڑتا اپنا گرم ٹراؤزر شرٹ لے کر اس کی طرف آیا روم کی لائٹس ڈم کی اور خود اپنی گیلی شرٹ اتار کر سائیڈ پر رکھی اس کے پاس بیٹھتا اسے اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا۔۔اس کا نرم ٹھنڈا چہرہ اپنے برہنہ سینے پر محسوس کرتے حیدر کے دل نے سپارک کیا۔۔اگلے ہی پل اسے گیلے کپڑوں سے آزاد کرتا اس کے یخ ٹھنڈے وجود کو خود میں بھینچنے لگا۔۔اس کے ٹھنڈے وجود کی نرمیاں اپنے جسم پر محسوس کرتے حیدر کا باڈی ٹمپریچر ایک دم بڑھنے لگا ہر لمحہ دل کی بڑھتی دھڑکن سانسیں گہری اور حلق خشک کرنے لگی۔۔دل کے ساتھ اب جسم کی بے چینیاں عروج پکڑنے لگیں۔۔
وہ بڑا سا گھونٹ بھرتے اس کا چہرہ اپنے چہرے سے اوپر کر کے اسے دیکھنے لگا۔۔گیلے بکھرے بال جو گردن پر چپکے ہوئے تھے۔۔بند آنکھیں جو سوج کر ابھری ہوئی تھیں۔۔سرخ پڑتے گال اور ناک۔۔نیلے پڑتے ہونٹ جو لرز رہے تھے۔۔گہری سانسیں لینے سے حیدر کے ہونٹ بھی خشک ہو رہے تھے جن پر ہر تھوڑی دیر بعد وہ زبان پھیر کر تر کر رہا تھا۔۔اب حال یہ تھا کہ روشانے تو ویسے ہی ٹھنڈی پڑی ہوئی تھی لیکن حیدر کا جسم فل ہیٹ اپ ہو چکا تھا آس پاس گرمی کا شدید احساس ہونے لگا۔۔وہ اپنے اور اس کے چہرے کے درمیان کا فاصلہ ختم کرتا اس کے ہونٹوں کو اپنے لبوں میں بھرتا بڑے بڑے گھونٹ پیتا اپنے شدت سے خشک ہوتے حلق کو ترکرتا اپنی بے چینیاں ختم کرنے لگا۔۔ایک ہاتھ سے اسے خود میں بھینچے دوسرا بے باکی سے اس کے جسم کی نرمیاں محسوس کرنے لگا انداز میں نرمی کے ساتھ بے چینی واضح تھی۔۔اس کی سانسوں میں گھلتے اسے اپنے اتنا پاس محسوس کرتے دل و دماغ کے ساتھ پورے جسم میں بھی ایک عجیب سا سکون سرایت کرنے لگا۔۔
اس سکون کو خود میں اترتا محسوس کرتے اب چہرہ نیچے کو لاتا اپنے پسندیدہ پوائنٹ اس کی گردن میں چھپاتا اپنے پہلے سے دیے گئے نشان کو اور گہرا کرنے لگا ہاتھ کے ساتھ لبوں بےباکیوں میں خودبخود سختی آ گئی۔۔مم۔۔مما۔۔حیدر کو اپنی گہری سانسوں میں اس کی ٹوٹی پھوٹی سی سسکی کی صورت میں سرگوشی سنائی دی۔۔اس نشان ہر زور سے لب رکھتا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا وہ بے چین ہو رہی تھی۔۔مما کی سنو بےبی کیٹ۔۔حیدر کی مما کو جب اس پر بہت لاڈ پیار آتا یا وہ جب بھی حیدر کی وجہ سے ناراض ہوتی تو وہ اسے میری سنو وائٹ بےبی کیٹ کہہ کر خود سے لگا لیتی۔۔وہ اس کے گرد اپنے دونوں بازو لپیٹتا شدت سے اپنے سینے سے لگائے اس کے آدھ کھلے ہونٹوں پر پھر سے اپنے ہونٹ جما گیا۔۔حیدر کو اس کے دل کی بڑھتی دھڑکن اپنے سینے پر محسوس ہونے لگی۔۔مطلب وہ ہواس میں آ رہی تھی۔۔تھوڑی دیر بعد چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو چھوٹے چھوٹے تیز سانس لے رہی تھی۔۔جھک کر نرمی سے اس کے لبوں کو چھوتا اپنے کپڑوں سے اسے کور کر دیا کیونکہ اب وہ لرزتی اسی میں گھستی اس کے لیے امتحان بن رہی تھی۔۔
تھوڑی دیر اسے ایسے ہی خود میں بھینچے بیٹھا رہا پھر اوپر منہ کر کے لمبا سانس لے کر خود کو ریلکس کیا اور اسے اٹھا کر بیڈ روم میں لے آیا۔۔اس کو اچھے سے کمبل سے کور کر کے خود بھی چینج کر کے آیا۔۔پھر اسے اٹھا کر ویسے ہی اپنے سینے سے لگائے ڈرائیر سے اس کے بال ڈرائے کیے۔۔اب اس پر دو کمبل اور ڈالے اسے خود میں چھپائے اس کے ساتھ نیم دراز لیٹا اسے دیکھ رہا تھا۔۔اسے دیکھتا دل ایک ہی پواینٹ پر سٹک ہو کر رکتا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر وہ اسے کال نہ کرتا تو اس سے آگے کی سوچ ہی جان نکال رہی تھی۔۔جب حنان نے اسے بتایا کہ وہ روم میں کہیں بھی نہیں ہے نہ ہی کچن میں تو اس کی کیا حالت ہوئی تھی پھر جب جب حنان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی کہ وہ کہیں بھی نہیں ہے آفس سے گاڑی تک اور گاڑی سے گھر تک وہ کیسے پہنچا۔۔اس کی حالت وہ خود جانتا تھا یا اس کا رب۔۔رستے میں تین دفعہ اس کی گاڑی لگی تھی۔۔وائفی میرے اذیت اور درد میں گزرے اس ایک ایک پل کا حساب دو گی بس تھوڑی ہوش میں آ جاؤ میری تڑپ بے چینی بے سکونی میں گزرے اپنے ان لمحات کا حساب تو میں لوں گا کوئی معافی نہیں ملے گی۔۔
وہ اس کے ایک ایک نقش کو لبوں سے چھوتا ایک ہاتھ اس کی کمر پر پھیرتا اس سے سرگوشیاں کر رہا تھا۔۔مم۔۔مما۔۔وہ پھر سے ٹوٹا پھوٹا سا پکارتی اس کے گرد اپنا بازو لپیٹتی اس میں گھس رہی تھی۔۔شائد حیدر کے جسم سے اسے گرمائش مل رہی تھی۔۔حیدر اس کی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں میں لاک کرتا اس کی گال پر لب رکھتا اسے پُرسکون کرنے لگا۔۔حنان کو کال ملانے سے لے کر کچن کے باہر اسے اپنے سینے سے لگانے تک وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھکا چکا تھا۔۔ہوتا ہے ایسا بھی کہ آپ ساری زندگی کی مشکلات سے نہیں تھکتے لیکن چند پل کچھ گھنٹے زندگی کے کچھ لمحات ہی آپ کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں بری طرح تھکا دیتے ہیں وہ بھی اس وقت کچھ ایسا ہی فیل کر رہا تھا۔۔دروازہ ناک ہونے پر وہ آنکھیں کھولتا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو پُرسکون سی آنکھیں بند کیے اس میں چھپی ہوئی تھی اس کی سانس پہلے سے کافی حد تک بہتر ہو گئی تھی لیکن باقی ویسے ہی ٹھنڈی پڑی ہوئی تھی۔۔اس نے لمبا سانس لیتے اس کے ماتھے پر زور سے لب رکھے اور خود کو آہستہ سے اس کی قید سے آزاد کرواتا اس کے ساتھ اٹھ کر بیٹھا۔۔آ جائیں۔۔
جاوید صاحب ایک بوٹل اور مگ لے کر اندر داخل ہوئے۔۔ارے بابا جان۔۔حیدر کہتا اٹھنے لگا تو انھوں نے اسے اٹھنے سے منع کر دیا۔۔بیٹھے رہو آپ اٹھے تو اسے بھی ہوا لگی گی۔۔جاوید صاحب کے پیچھے حنان حاشر اور عالیہ بھی ہاتھ میں ڈش اٹھائے جس میں تین مگ تھے روم میں آئے۔۔حنان جب دوبارہ روم میں چینج کرنے گیا تو عالیہ جاگ گئی تھی پھر اس کے پوچھنے پر وہ ساری بات اسے بتا گیا عالیہ کتنی دیر شاک میں منہ کھولے حنان کو پریشانی سے دیکھتی رہی اب ضد کر کے اس ساتھ روشانے کو دیکھنے آ گئی۔۔لائیں بابا جان میں ڈال کر دیتی ہوں۔۔عالیہ ڈش ٹیبل پر رکھتی آگے بڑھی تو حیدر نے روک دیا۔۔نہیں بھابھی آپ بیٹھیں میں تھوڑی دیر بعد اسے پلاتا ہوں۔۔حیدر اگر طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے تو اسے ہاسپٹل لے چلیں۔۔حنان پریشان سا روشانے پر ڈالے کمبلوں کو دیکھتا بولا۔۔نہیں بھائی اس کی باڈی کو ہیٹ کی ضرورت ہے جیسے جیسے باڈی ٹمپریچر بڑھتا جائے گا طبیعت خودبخود بہتر ہوتی جائے گی سانس بھی پہلے سے کافی بہتر ہو گیا ہے۔۔وہ کمبلوں میں چھپے اس لرزتے وجود کو دیکھتا لمبا سانس چھوڑتا بولا۔۔
حاشر ابھی تک چپ تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ذہن ایک ہی پواینٹ پر سٹک تھا کہ روشانے اتنے طوفانی موسم میں وہاں کیا کر رہی تھی وہ خود وہاں گئی تھی یا۔۔۔آگے وہ کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔اس کی بیوی سوئی ہوئی تھی ورنہ وہ ساری بات ابھی جان جاتا۔۔ٹنشن نہ لو انشاء اللہ اللہ پاک سب خیر کرے گا۔۔جاوید صاحب بالوں میں ہاتھ پھنسائے پریشان بیٹھے حیدر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بولے۔۔وہ سب کو ہی تھکا تھکا پریشان سا لگا۔۔حیدر نے سر اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا اور لمبا سانس لے کر ہاں میں سر ہلایا۔۔بھابھی آج گھر میں کوئی بات ہوئی تھی کیونکہ شانے آج کھانا کھانے بھی نہیں آئی تھی۔۔حاشر کچھ سوچتا سب کے من میں چلتے لفظوں کو سوال کی شکل دیتا عالیہ سے بولا۔۔حاشر کے ایک دم پوچھنے پر عالیہ واضح طور پر گھبرا گئی۔۔کیونکہ سب منتظر نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔اس نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔۔وووہ۔۔ عالیہ وہ کو لمبا کھینچتی چپ ہوئی۔۔اب بیٹھی اپنے ہاتھ مروڑ رہی تھی۔۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کہاں سے شروع کرے اور کیسے بتائے کیونکہ بات یہاں موجود ہر انسان کی لاڈلی اور دل عزیز شخصیت کی تھی۔۔عالیہ بیٹا جو بھی بات ہے آپ کھل کر بتاؤ کیونکہ یہاں بات کسی کی زندگی کی ہے۔۔جاوید صاحب آہستہ سے چلتےاس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے۔۔عالیہ اگر مجھے پتہ چلا کہ شانے کو اس حالت میں پہنچانے کے پیچھے تمہاری امی کا تھوڑا سا بھی ہاتھ ہے تو۔۔حنان بھائی۔۔حیدر کے ٹوکنے پر وہ اپنی بات ادھوری چھوڑتا چپ ہوا۔۔نہیں اماں تو آج آئی ہی نہیں ہیں۔۔پھر دادی جان۔۔؟حاشر بولا۔۔عالیہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔پھر۔۔۔جاوید صاحب بولے۔۔بابا جان وووہ عائزہ۔۔وہ سب کے چہروں پر اترتی حیرانگی کے ساتھ پریشانی کو دیکھتی چپ ہوئی۔۔کیا عائزہ۔۔جاوید نے نرمی سے پوچھا۔۔عالیہ نے کچن میں ہوا پورا جھگڑا سب کو بتا دیا۔۔سب شاک کی کیفیت میں ایک ایک لفظ سن رہے تھے کیونکہ کسی کو بھی عائزہ سے ایسی امید نہیں تھی۔۔تو شانے اتنی بارش میں وہاں کیسے پہنچی۔۔؟کمرے کی خاموشی میں حنان کی آواز گونجی۔۔
یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ جب میں بچوں کے دودھ کے خالی گلاس کچن میں رکھنے آئی تو کچن کا لان والا دروازہ لاک نہیں تھا تو میں نے اسے اندر سے لاک کر دیا شانے شاید پہلے ہی باہر تھی۔۔وہ آہستہ سے بولی۔۔سب کے چہروں پر واضح پریشانی تھی۔۔جاوید صاحب کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہے تھے۔۔بابا جان آپ پریشان نہ ہوں آپ پھپھو سے بات کریں ویسے بھی عائزہ کی پڑھائی پوری ہو چکی ہے نوید بھی اپنی لائف میں سٹل ہے۔۔سب پریشان اپنی اپنی سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے جب حنان کی آواز گونجی۔۔اس نے اٹھ کر اپنے باپ کو صوفے پر بٹھایا۔۔نہیں مجھے نہیں لگتا کہ جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ کرنا درست ہو گا ویسے بھی عائزہ کچھ کورس کرنا چاہتی ہے۔۔حیدر اپنے باپ کو متفق دیکھ کر جلدی سے بولا۔۔نہیں حیدر حنان صحیح کہہ رہا ہے میں میمونہ سے بات کرتا ہوں باقی رہ گئی بات پڑھنے یا کوئی کورس کی تو نوید ایک سمجھدار اور سلجھا ہوا انسان ہے میرا نہیں خیال کہ اگر عائزہ شادی بعد کچھ کرنا چاہے تو وہ منع کرے گا۔۔
نوہد کے نام پر حیدر کا دھیان اس کی طرف گیا وہ کل اس کے آفس آیا تھا رف سا حلیہ آنکھوں کے گرد حلقے اور ان سے جھلکتی واضح اداسی اور حسرت جیسے کئی دنوں سے سویا نہ ہو رنگت بھی پہلے سے ڈل۔۔حیدر اس کی حالت دیکھ کر حیران ہوا وہ بیمار اور پہلے سے کمزور لگا۔۔نوید کیا ہوا۔۔؟؟حیدر بھائی پلیز شانی سے بولیں ایک دفعہ میری بات سن لے مجھے پتہ ہے میری وجہ سے اسے بہت اذیت اٹھانی پڑی ہے سب نے ملکر ہمیشہ کی طرح اسے ہی قصوروار ٹھہرایا ہوگا اسی کے کردار کو نشانہ بنایا ہوگا۔۔
اس کی بات سنتے حیدر کے دماغ میں بےاختیار اپنا شادی کی پہلی رات کا رویہ آیا ساتھ ایک ایک بات جو اس نے اسے کہی تھی اس نے بھی تو باقی سب کی طرح سارا قصور اسی کے کھاتے میں ڈال کر اسے ہی اپنے کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنا فیصلہ سنایا تھا حالانکہ دل تب بھی اپنے ہی لفظوں کی شدت سے نفی کر رہا تھا کیسے چپ چاپ اس نے اپنے آنسو پیتے اس کا ہر الزام خود پر لیا تھا نہ اس کی کسی بات کی نفی کی نہ خود کی وضاحت دی شائد وہ جانتی تھی کہ باقیوں کی طرح وہ بھی اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں کرے گا ہاں اپنے بولے گئے لفظوں پر پہلی دفعہ اس کی کوپر آنکھوں سے نکلتے موتیوں کو چہرے پر بہتے دیکھا تھا کتنی کوشش کر رہی تھی وہ اس درد کو پینے لیکن ہمیشہ کی طرح اس کی شفاف آنکھوں میں سب صاف نظر آ رہا تھا۔۔حیدر بھائی اس کے علم میں کوئی بات نہیں تھی میں نے خود حنان بھائی ماموں اور نانا جان سے بات کی تھی مجھے ڈر تھا کہ سب جلدی بازی میں پھر سے اس کی زندگی کا کوئی فیصلہ نہ کر دیں۔۔اس کی بات سنتا وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اپنی سوچ سے باہر آیا۔۔
آپ پلیز اس سے بولیں نا کہ وہ مجھ سے بات کر لے ایک دفعہ میری بات سن لے اگر آپ بولیں گے تو وہ آپ کی بات نہیں ٹالے گی۔۔وہ اٹھ کر حیدر کی چیئر کے پاس اس کے پاؤں میں بیٹھتا اس کے ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔انداز منت والا تھا۔۔نوید یارر اٹھو یہاں کیوں بیٹھ گئے حیدر اس کی حرکت پر حیران ہوتا بولا۔۔نہیں جب تک آپ مجھ سے وعدہ نہیں کریں گے میں نہیں اٹھوں گا۔۔وہ ضدی بچے کی طرح بےبس سا بولا۔۔حیدر نے لمبا سانس لے کر اس ہستی کے بارے میں سوچا جو بقول نوید اس کی کوئی بات نہیں ٹالتی تھی پتہ نہیں مانتی کون سی تھی۔۔اچھا میں کروں گا بات آپ اٹھو یہاں سے وہ اس کی منتظر آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔حیدر نے دیکھا کہ اس کی بات سن کر کیسے اس کے چہرے پر رونق اور بھجی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔۔حیدر بھائی شانی بہت چھوٹی سی تھی جب سے میری دوست ہے ہماری زندگی کا ایک ایک پل آپ کے سامنے ہے میں اس کی بہت عزت کرتا ہوں اور اب تو وہ آپ کی بیوی ہے اب تو میرے لیے اور بھی قابلِ احترام ہو گئی ہے وہ حیدر کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔حیدر اس کی بات سن کر ہلکا سا مسکرایا۔۔
اور اس کے بال بکیھرے اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لگایا۔۔حیدر بھائی مجھے بہت خوشی ہے کہ اس کی شادی آپ سے ہوئی اب لاشاری خاندان کا کوئی بھی فرد اس کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے سو دفعہ سوچے گا۔۔پھر وہ کافی دیر باتیں کرنے کے بعد جانے کے لئے اٹھا اور دروازے کے پاس رکا۔۔حیدر بھائی شانی کے دل میں میرے لیے کچھ بھی نہیں ہے وہ صرف مجھے اپنا دوست مانتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں وہ بہت صاف دل کی لڑکی ہے۔۔حیدر کی طرف مڑتا آنکھوں کے ساتھ آواز میں بھی نمی لیے اسے مخاطب کرتا بولا اور باہر نکل گیا۔۔اس کے ایک ایک لفظ میں حسرت بول رہی تھی۔۔وہ تو کہہ کر باہر نکل گیا لیکن حیدر کتنی دیر بےحس و حرکت کھڑا دروازے کی طرف دیکھتا رہا۔۔حیدر۔۔جاوید صاحب کے پکارنے پر وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلا۔۔جی بابا جان۔۔بیٹا خود بھی قہوہ پی لینا لازمی کافی دیر بارش میں بھیگتے رہے ہو اور شانے کو بھی پلا دینا ورنہ صبح تک طبعیت زیادہ خراب ہو جائے گی۔۔حنان حاشر اٹھو بیٹا تم لوگ بھی آرام کرو جا کر کافی ٹائم ہو گیا ہے۔۔جاوید صاحب کھڑے ہوتے سب سے مخاطب ہوئے۔۔
سب اسے روشانے کا خیال رکھنے کا بولتے باہر نکل گئے۔۔حیدر بیڈ پر بیک کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور کمبلوں سمیت اس ہستی کو کھینچ کر اپنے اوپر کیا۔۔روشنی آنکھیں کھولو۔۔وہ اس کا چہرہ ایک ہاتھ میں بھرے بولا۔۔وہ ویسے ہی آنکھیں بند کیے اس کے سینے پر لیٹی ہوئی تھی حیدر کتنی دیر ہاتھ سے اس کے ایک ایک نقش کو چھوتا اسے دیکھتا رہا۔۔اس نے آدھا کپ قہوے کا ڈالا اور گرم گرم گھونٹ بھرا۔۔اپنی ہوش میں تو یہ کبھی نہیں پیئے گی۔۔حیدر کو یاد تھا کہ اس کو قہوے کا ایک گھونٹ پلانے کے لیے اس کی ماں کو کتنے جتن کرنے پڑتے تھے اور ایک گھونٹ پینے کے بعد وہ کتنا میٹھا کھاتی تھی اور جو روتی تھی وہ الگ۔۔سب یاد کرتے اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔مما کی وائٹ بےبی کیٹ۔۔وہ اسے دیکھتا سرگوشی میں بولا۔۔آج میں تجھے اپنے طریقے سے پلاتا ہوں۔۔
حیدر نے قہوے کا گھونٹ بھرا اس کا چہرہ سیدھا کرتے اپنے انگوٹھے اور انگلیوں سے اس کا منہ نرمی سے دبایا تو اس کے ہونٹ پاؤٹ کی شیپ میں کھل گئے حیدر نے تھوڑا سا اور دبایا تو ہونٹوں کے ساتھ منہ بھی کھل گیا وہ اپنے لب اس کے لبوں سے جوڑتا تھوڑا تھوڑا قہوہ اس کے منہ میں ڈالنے لگا۔۔ایک گھونٹ پلا کر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو قہوے کا ذائقہ اپنے منہ میں محسوس کرتی بہت گندے اینگل بنا رہی تھی۔۔کیونکہ یہ بہت کڑوا تھا۔۔وہ اب اچھی خاصی بے چین ہو چکی تھی کیونکہ حیدر اب اسے صرف قہوہ نہیں پلا رہا تھا ساتھ خود کی بے چینیاں بھی مٹا رہا تھا۔۔حیدر نے اسے آدھا کپ ایسے ہی پلایا۔۔مما۔۔وہ اپنی سویل آنکھوں کو بمشکل کھول کر اسے دیکھتی پھر بند کر لیتی۔۔حیدر کی حالت پھر خراب ہونے لگی باڈی ہیٹ اپ ہو کر پسینہ چھوڑنے لگی۔۔گرمی کا احساس بڑھنے لگا بے چینیاں عروج پر تھیں اسے قہوے کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی کیونکہ اس کے پسینے اس کے سینے پر بے خبر پڑی بیوی ہی نکال چکی تھی۔۔وہ بیک کراؤن سے سر لگا کر چہرہ اوپر کر کے لمبے لمبے سانس لینے لگا۔۔
اسے بیڈ پر لٹا کر خود شرٹ اتاری اور اسے خود میں قید کرتا ساتھ لیٹ گیا۔۔سوچ ایک دفعہ پھر سے عائزہ کی باتوں کی طرف گئی پھر گھر والوں کے فیصلے پر اور پھر سوچوں کا رخ نوید کی مڑ گیا۔۔کیا اتنی جلدی شادی کا فیصلہ صحیح رہے گا۔۔ساری رات اس کی ایسے ہی سوچتے اور کچھ اپنے سینے میں گھسی اس ہستی کی وجہ سے بے چینیوں میں گزری۔۔۔۔
