Ziddi (ضدی) — Episode 15
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 15
قسط 15 · کہانی
ماضی
آج عید کا دن تھا جو ہمشیہ کی طرح اس کے لیے بہت سارے درد اور اذیتیں کے کر آتا تھا۔۔اسے وہ عیدیں شدت سے یاد آتیں جو مما کے ساتھ اس نے گزاریں تھیں مما اس کی عید کی ساری تیاری اس کی پسند کی کرتی تھیں۔۔مما کے جانے کے بعد اسے نہیں یاد کہ اسے گھر والوں نے کبھی پوچھا بھی ہو کہ اس کے پاس کپڑے ہیں عید پر پہنانے کے لیے یا نہیں بنا کر دینے تو بہت دور کی بات۔۔اسے مہندی لگانا پسند نہیں تھی لیکن مما پھر بھی اس کے ہاتھوں اور پاؤں پر بھر بھر کے مہندی لگواتی اور جب تک منہدی خشک ہو کر مما دھو نہ دیتی وہ روہانسی ہوتی برے برے منہ بناتی رہتی۔۔اس کے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی بہت پیاری لگتی تھی ایسا مما کہتی تھی۔۔اب اگر کبھی بھابھی لوگ اسے کہہ بھی دیتی مہندی کا تو عائزہ فوراً بول دیتی کہ شانی کو منہدی نہیں پسند تو بس ہلکا سا مسکرا دیتی مما کی طرح کبھی بھی کسی نے زبردستی نہیں کیں۔۔وہ کچن میں کھڑی کتنی دیر سے اپنے ہاتھ دیکھتی سوچوں میں گم تھی۔۔پھر خود ہی لمبا سانس لیتی مسکراتی نفی میں سر ہلاتے کچن میں اپنے منتظر پڑے کاموں میں مصروف ہو گئی۔۔
سب عید نماز پڑھ کر آئے روایت کے مطابق ساری فیملیز عید نماز کے بعد بڑی حویلی میں جمع ہو جاتے پھر سارا دن ادھر ہی کھانا پینا چلتا رہتا۔۔دوسرے لفظوں میں اس کی شامت آئی رہتی۔۔اس نے بےاختیار لمبی سانس لے کر چھوڑی اور خود کو تیار کرنے لگی۔۔آج وہ گھر کے افراد کو بھی عید مبارک بولنے کچن سے باہر نہیں نکلی کیونکہ اگر وہ خود سے سب کو بولتی تو سب اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے ورنہ کسی کو یاد بھی نہیں ہوتا تھا کہ ان کی فیملی میں وہ بھی شامل ہے۔۔کہتے ہیں وقت کے ساتھ سب سمجھ آ جاتی ہے یہی سب اس کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔۔ہاں البتہ وہ جتنی بھی لاپرواہ بن کر خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی لیکن آنکھیں ضررو بھیگی رہتیں۔۔آج بھی روایت کے مطابق سب بڑے گھر کی بہو بیٹیوں اور بچوں کو عیدی دے رہے تھے جبکہ وہ اپنے نام کی پکار کا انتظار کر رہی تھی۔۔ارے ارے دوستوں آپ غلط سمجھے۔۔عیدی کے لیے نہیں اپنے اپنے آرڈرز دینے کے لیے۔۔بس ٹھیک آدھے گھنٹے بعد جب چھوٹی پھپھو کی فیملی بھی آ گئی تو اس کے نام کی پکار گونجی۔۔وہ ملازماؤں کے ساتھ سب کی خدمت میں میٹھا لے کر حاضر ہوئی۔۔
ارے ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔وہ آئس گرے ارگنزا کے سوٹ جس پر ڈارک دھاگے اور موتیوں کی بہت ہی نفیس ایمبرائڈری تھی ساتھ میچنگ کھسہ میچنگ جیولری چوڑیاں سر پر اچھے سے دوپٹہ سٹ کیے سادگی میں بھی چہرے پر الگ ہی چمک لیے بہت ہی پیاری لگتی سب کی نگاہوں کا مرکز بنی۔۔یہ سب اسے چھوٹی پھپھو کی طرف سے آیا تھا وہ جیسے عائزہ کی عید لے کر آتے بلکل ویسے ہی ساتھ اس کی عیدی بھی آتی حالانکہ باتوں باتوں میں عائزہ نے کئی دفعہ اس بات پر اعتراض اٹھایا لیکن اس کے باوجود پھپھو ہر دفعہ اس کے لیے ایسے ہی لے کر آتی۔۔میمونہ پھپھو اس کو دیکھتی بولی اور اٹھ کر ڈش پکڑ کر ٹیبل پر رکھی اور اپنے ساتھ لگا لیا۔۔پھپھو عید مبارک۔۔خیر مبارک کیسا ہے میرا بچہ۔۔؟ میں ٹھیک۔۔پھر پھپھو کی ساری فیملی اٹھ کر اسے ملی۔۔پھر پھپھو کی طرف سے اسے کیش کی صورت میں عیدی ملی جو وہ لے نہیں رہی تھی۔۔شانی یار لے لو مجھے دے دینا مجھے اماں نے عید نہیں دی نوید منہ بسورتا بولا تو اس کی بات سنتے سب مسکرائے۔۔
لیکن اس کے چمکتے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتے کچھ ہستیوں کا کلیجہ جل کر کے کوئلہ ہوا۔۔اسے حنان اور حاشر نے بھی عیدی دی۔۔اتنی دیر میں حیدر حال میں داخل ہوا باقی سب عید نماز پڑھ کر نکل آئے تھے اسے ملنے والوں نے گھیر لیا تھا کیونکہ بڑے عرصے بعد اس نے گھر عید کی تھی اور اپنے خاندان کے لوگوں سے مل رہا تھا۔۔بھائی عید مبارک۔۔اس کو دیکھتی عائزہ بھاگ کر اس کی طرف گئی۔۔میرا بیٹا خیر مبارک۔۔پھر سب سے ملتا سب کو عید دینے لگا۔۔سب کو عیدی دینے کے بعد اس نے نظریں ادھر اُدھر گھمائی تو وہ چچی کی فیملی کو کیک سرو کرتی نظر آئی۔۔بھائی یار میں بھی ہوں میری عیدی۔۔نوید جو ایک سائیڈ پر کھڑا اپنا فون استعمال کر رہا تھا حیدر کو ادھر اُدھر دیکھتے آگے بڑھ کر اس کے گلے لگتا بولا۔۔حیدر نے مسکراتے اسے اپنے ساتھ لگایا اور دوسروں کی طرح اسے بھی عیدی دی۔۔ارے شانی اپنی عیدی تو لے لو۔۔وہ جو کیک سرو کر کے ایک طرف کھڑی سب کی طرف دیکھتی کسی کے آرڈر کا انتظار کر رہی تھی نوید کی طرف دیکھا۔۔
حیدر نے بھی اس کی طرف دیکھا تو وہ شکل سے ہی تھکی تھکی لگی آنکھیں الگ سے نم سوجھی ہوئیں اور نیند سے بوجھل ہو رہیں تھیں ۔۔کیونکہ وہ چاند رات ساری رات نہیں سوتی تھی اہتمام اتنا بڑا کرنا ہوتا تھا کہ وہ ساری رات ملازماؤں کے ساتھ کچن میں لگی رہتی۔۔حیدر رات بیٹھا اپنے روم میں کام کر رہا تھا جب اسے پیاس کی طلب ہوئی تو روم میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کچن میں آیا تو دیکھا کہ وہ ملازماؤں کے ساتھ ابھی تک جاگ رہی ہے۔۔ صبح کے ساڑھے تین ہو رہے تھے۔۔تم ابھی تک جاگ رہی ہو۔۔؟؟وہ اسے دیکھتا بولا۔۔اس کی آواز سن کر روشانے نے اسے دیکھا ۔۔عادت کے برعکس بنا کوئی جلی کٹی سنائے پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔۔جی حیدر بابا آپ کو کچھ چاہیے۔۔رشیدہ آپا نے پوچھا کیونکہ باقی سب ملازمہ تو اس کی آواز سنتے ہی اپنا اپنا کام چھوڑ کر ایک طرف کھڑی ہو گئیں ۔۔جی آپا پانی چاہیے۔۔وہ اس چپ کھڑی ہستی کو دیکھتا بولا۔۔مجھے کافی بنا کر دو۔۔اب اسے دیکھا تھا تو کافی کی طلب خودبخود جاگ اٹھی۔۔روشانے نے لمبی سانس لی اور چپ چاپ کافی میکر کی طرف بڑھ گئی۔۔
حیدر نے دیکھا اس کا چہرہ سرخ اور اترا ہوا تھا۔۔زبان بھی بند تھی مطلب کوئی تو مسئلہ تھا۔۔کیا ہوا ہے۔۔؟وہ پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھتا اس کے پاس آتا بولا۔۔کچھ نہیں وہ بنا اس کی طرف دیکھے بھاری اور تھکی آواز میں بولی۔۔حیدر نے عادت کے مطابق اس کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا جو بخار کی حدت سے تپ رہا تھا۔۔وہ جو اس کے پکڑ کر رخ گھمانے پر منہ کھولتی بولنے لگی تھی اس کا ہاتھ اپنے ماتھے پر دیکھتی حیران ہوئی۔۔تمہیں تو بخار ہو رہا ہے۔۔وہ اسے دیکھتا بولا۔۔چھوڑیں مجھے میں ٹھیک ہوں۔۔وہ اپنی آواز میں سختی بھرتی بولی۔۔جب طبیعت اتنی خراب ہے تو کچن میں کیا کر رہی ہو۔۔وہ بھی اپنی ٹون میں واپس آتا بولا۔۔میں جو بھی کر رہی ہوں آپ اپنی کافی لیں اور جائیں۔۔وہ پھر سے بولی اس دفعہ اس کی آواز میں سختی اور بدتمیزی نہیں نمی تھی۔۔حیدر نے میڈیکل باکس سے بخار کی اور ایک پین کلر لی گلاس میں پانی ڈالا اور ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔۔یہ میڈیسن کھاؤ اور جا کر آرام کرو صبح تک بخار اتر جائے گا اور باڈی پین بھی ختم ہو جائے گی۔۔
وہ اسے بار بار اپنی کمر کو ہاتھوں سے دباتے دیکھ کر بولا۔۔مجھے نہیں چاہیے اپنی میڈیسن اپنے پاس رکھیں۔۔یہ بخار کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا نہ خراب طبیعت سے میں پہلی دفعہ کام کر رہی ہوں اور اتنے سے بخار سے میں مرنے والی نہیں ہوں۔۔وہ اس کا ہاتھ سائیڈ پر کرتی بولتی اپنا رخ موڑ گئی کیونکہ اس دفعہ آواز کے ساتھ آنکھیں بھی نمی سے بھر گئی تھیں۔۔حیدر نے لمبی سانس لی پانی اور میڈیس ٹیبل پر رکھ کر اس کا بازو پکڑ کر اسے لا کر چیئر پر بٹھایا۔۔یہ پکڑو اور ابھی کھاؤ۔۔روشانے نے اپنا بازو چھڑوا کر گھور کر اسے دیکھا۔۔اس آگ کے گولے کی گھورتی آنکھوں میں غصے کے ساتھ وارننگ دیکھتی چپ کرکے میڈیسن لے کر کھا لی۔۔رشیدہ آپا جب اسے اتنا تیز بخار ہو رہا ہے تو اتنی خراب طبیعت میں یہ کچن میں کیا کر رہی ہے۔۔؟؟اس کا اب رخ سخن رشیدہ آپا کی طرف ہوا۔۔حیدر بابا بڑی بیگم صاحبہ کا حکم ہے ہم نے منع بھی کیا تھا لیکن انہوں نے ہمیں سختی سے ڈانٹ دیا اور کہا کہ ساری تیاری یہی کرے گے۔۔
پھر اس نے بتایا کہ ہر عید پر چاند رات میں ملازماؤں کے ساتھ مل کر ساری تیاری وہی کرواتی ہے اور یہ بڑی بیگم صاحبہ عائشہ بی بی اور نصرت بی بی کا سپیشل حکم ہے۔۔حیدر نے اسے دیکھا جو ٹیبل پر سر رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔اٹھو جا کر اپنے روم میں آرام کرو۔۔آپ جائیں میں چلی جاؤں گی۔۔وہ ایسے ہی سر جھکائے بولی۔۔تمہیں میری ایک دفعہ کی کہی گئی بکواس سمجھ میں نہیں آتی۔۔وہ سخت لحجے میں بولا۔۔روشانے بیٹا آپ جاؤ ویسے بھی سارا کام ہو چکا ہے بڑی بی بی کو صبح حیدر بابا خود ہی سنبھال لیں گے۔۔اس کو سر اٹھا کر دوبارہ سے زبان کھولتے دیکھ رشیدہ آپا جلدی سے بولیں۔۔حیدر ابھی بھی اسے ہی گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔وہ اٹھ کر کافی میکر کی طرف گئی وہ جو ادھوری کافی چھوڑی ہوئی تھی بنا کر اسے دی۔۔میں اپنا کام ادھورا چھوڑ کر نہیں جاتی وہ کافی اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتی اس کی گھورتی نگاہوں میں دیکھ کر کہتی کچن سے باہر نکل گئی۔۔حیدر بابا آپ غصہ نہ کریں خراب طبیعت کی وجہ سے وہ چڑچڑی ہو رہی ہے۔۔رشیدہ آپا اس کا سرخ چہرہ دیکھتی جلدی سے بولی۔۔حیدر بھی کافی اٹھا کر کچن سے نکل گیا۔۔
سب ملازماؤں نے شکر کا سانس لیا۔۔اللہ تعالی اس بچی کے حال پر رحم فرمائے رشیدہ آپا کے کہنے پر سب نے دل سے آمین بولا۔۔اسنے نظریں نوید سے حیدر کی طرف کیں وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔اس نے محسوس کیا کہ اس وقت سب کی نگاہوں کا مرکز وہی بنی ہوئی ہے اس لیے وہ بنا کچھ کہے اپنی زبان کو تالا لگاتی اس کی طرف بڑھ گئی۔۔حیدر نے اسے دوسروں کی طرح عیدی دی۔۔تمہاری طبیعت اب کیسی ہے بخار اتر گیا ہے۔۔حیدر کے پوچھنے پر سب نے چونک کر اسے دیکھا۔۔ارے شانی تیری طبیعت خراب ہے تم نے بتایا ہی نہیں سب سے پہلے عائزہ کی آواز آئی۔۔نہیں بس ہلکا سا بخار تھا اب میں ٹھیک ہوں۔۔پھر تو جاوید صاحب اور دادا جان سمیت سب نے اس کا حال حوال پوچھا۔۔اب کوئی اتنی بڑی بیماری بھی نہیں ہو گئی اسے جو سب یوں ہلکان ہو رہے ہیں۔۔جب بات دادی صاحبہ کی برداشت سے باہر ہوئی تو وہ سٹری ہوئی آواز میں تنک کر بولیں۔۔اوئے ہوئے ذرا سا بخار ہی ہوا ہے وہ تو مجھے بھی ہوگیا تھا رات پر میں نے تو اپنی شکل نہیں سجائی ہوئی بھئ آج خوشی کا دن ہے سب کے ساتھ بندہ ہنستا مسکراتا ہے پر اس کے تو انداز ہی نرالے ہیں۔۔
پھپھو کیوں پیچھے رہتی اپنے دل کی جلن نکالی۔۔چچی نے البتہ حیدر کے ہوتے صرف گھورنے پر اکتفا کیا کیونکہ آج باسل نہیں آیا تھا اور تانیہ صاحبہ تو اس تھپڑ کے بعد تب یہاں کا رُخ کرتی جب اسے پورا یقین ہوتا کہ حیدر ادھر نہیں ہے۔۔تم چھوڑو یہ سب اپنے روم میں جاؤ حیدر دادی اور پھپھو کی بات کو ان سنی کرتا بولا۔۔اگر یہ مہارانی آرام فرمانے چلی گئی تو مہمانوں کو کس نے دیکھنا ہے۔۔دادی جان پہلی بات یہاں آج کے دن کوئی بھی مہمان نہیں ہے جس کا جو دل کرتا ہے کھانے کو وہ کچن میں جائے اور کھائے کیونکہ وہاں سب کچھ تیار ہے دوسری بات اگر آج کے دن بھی اگر کسی کا اس گھر میں بیٹھ کر خدمت کروانے کا دل کر رہا ہے تو کچن میں دس ملازمہ ہیں۔۔وہ دادی کی سٹری ہوئی بات کے جواب میں تفصیل سے اپنے ٹھنڈے ٹھار لحجے میں بولا۔۔ہاں بیٹا جاؤ آپ آرام کرو۔۔اس سے پہلے کہ دادی کوئی اور گولہ باری کرتی جاوید صاحب درمیان میں بولے۔۔تو مجبوراً وہاں بیٹھی ہستیوں کو اپنے منہ بند رکھنے پڑے۔۔وہ جو پہلے ہی فرار کے رستے ڈھونڈ رہی تھی دل میں حیدر کو دعائیں دیتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔۔
جب طبیعت سٹ ہوئی تو بتانا مما سے ملنے چلیں گے۔۔اپنے پیچھے حیدر کی آواز سن کر دوسروں کے ساتھ وہ بھی چونک کر مڑی۔۔سچ میں وہ نم آنکھوں سے مسکراتی بولی۔۔تو اس کے چہرے اور آنکھوں میں اتری چمک اور خوشی وہاں بیٹھے ہر فرد نے محسوس کی۔۔حیدر نے اسے دیکھتے ہاں میں سر ہلایا۔۔اس نے کس ماں سے ملنے جانا ہے جو اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہے۔۔ لاشاری صاحب میں کہہ رہی ہوں خبردار جو اس نے گھر سے باہر قدم نکالے تو میں اس منحوس عورت کا سایہ اب اپنے گھر کے آس پاس بکل برداشت نہیں کروں گی۔۔دادی جان لفظوں کو چبا چبا کر اپنے شوہر کو مخاطب کرتی بولی وہ تو اس کا خوشی سے چمکتا چہرہ دیکھتی اوپر سے ماں سے ملنے والی بات سن کر ہی آگ بگولہ ہوگئی۔۔وہ کیا یہاں بیٹھا آدھے خاندان کا دھواں نکلا یہ بات سن کر۔۔حیران ہو کر تو جاوید صاحب اور دادا جان بھی حیدر کو دیکھ رہے تھے۔۔اس نے اسی ماں سے ملنے جانا ہے جس نے اس کا لاشاری خاندان سے حفاظت کا ذمہ تو اٹھا لیا تھا لیکن موت نے مہلت نہیں دی اور وہ اسے سات سال کی عمر میں لاوارث چھوڑ کر قبر میں جا سوئیں۔۔
حیدر اپنے باپ اور دادا کو سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھتا بولا اس کے لفظوں میں اتنی کاٹ اور چھین تھی کہ وہاں بیٹھے ہر فرد کو سانپ سونگھ گیا حال میں اتنا سناٹا چھا گیا کہ سب کو اپنے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔۔تم جاؤ اپنے روم میں ہم شام کو چلیں گے میں دیکھتا ہوں کون روکتا ہے ہمیں۔۔وہ مرجھائے چہرے سے سر جھکا کر کھڑی اپنے آنسو پیتی اس لڑکی کو دیکھتا بولا۔۔جس کے چہرے سے ساری چمک خوشی ایک پل میں غائب ہوئی تھی۔۔وہ روم میں داخل ہوتی دروازہ لاک کر گئی اور وہیں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھی اپنے من کا بوجھ ہلکا کرنے لگی۔۔حیدر اسے اپنے روم میں غائب ہوتے دیکھ کر اوپر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔
وہ پتہ نہیں کب سے اتنے طوفانی موسم میں بالکنی میں بیٹھی رو رہی تھی اچانک سے بہت زوردار آواز میں بادل گرجے تو اس نے سہم کر سر اوپر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا جہاں بجلی کی لہریں ایک خوفناک آواز کے ساتھ بادلوں سے نکل کر چمک رہی تھیں۔۔وہ بےاختیار اٹھ کر روم میں آ گئی۔۔نظر ٹائم پر گئی تو ساڑھے نو سے بھی اوپر ہو رہا تھا۔۔یعنی یہ آج گھر نہیں آئیں گے نظر ٹیبل پر پڑے اپنے فون پر پڑی تو کچھ سوچتی آگے بڑھ کر فون اٹھا کر دیکھنے لگی وہاں نہ کوئی کال تھی نہ ہی اس کے آنے یا نہ آنے کا میسیج۔۔وہ کتنی دیر کھڑی اپنا فون دیکھتی رہی پھر خود ہی اپنی حرکت پر ہسنی جیسے خود کا مذاق اڑا رہی ہو آنکھوں سے گرتے آنسو اور لبوں پر درد بھری ہسنی اگر اس وقت کوئی ظالم سے ظالم انسان بھی اس کی حالت دیکھ لیتا تو دل لرز جاتا۔۔روشانے تجھے ایسا کیوں لگا کہ وہ تمہیں اپنے آنے یا نہ آنے کے بارے میں کچھ بتائیں گے عائزہ صحیح ہی تو کہتی ہے کہ میں ہوں کون۔۔وہ فون ٹیبل پر رکھتی وہیں صوفے پر بیٹھی۔۔
آگہی کے ان چند گھنٹوں نے اسے بری طرح تھکا دیا تھا آج اس شخص کے حوالے سے کیوں اتنا عجیب فیل ہو رہا تھا کیوں اس کی تھوڑی سی توجہ کے لیے اتنا بلک رہی تھی جبکہ پہلے دن سے ہی تو حقیقت اس کے سامنے تھی تو پھر کیوں۔۔۔وہ پیچھے کو ٹیک لگاتی آنکھیں بند کر گئی۔۔تھوڑی دیر بعد لمبے سانس لیتے خود ہی اپنی بکھری ذات کو سمیٹنے لگی۔۔اپنی آنکھوں کو رگڑ کر صاف کرتی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئی وضو کیا اور اس پاک ذات کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آج پہلی دفعہ وہ چپ چاپ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی صرف آنکھیں باہر برستی بارش کی طرح مسلسل برستی چہرہ دھو رہیں تھیں اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا مانگے۔۔بھلا اس پاک ذات کو بھی بتانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ اس کے در پر آئے بیٹھے اس کے بندے کو کیا چاہیے بیشک وہ رب دلوں کا حال ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے۔۔دل نے ڈرتے ڈرتے آہستہ سے خواہش کی کہ اسے مانگ لو تو وہ اس خواہش پر کچھ پل ساکت ہوئی پھر خود سے ہی خوفزدہ ہو کر منہ پر ہاتھ پھیر کر جلدی سے اٹھ گئی اور صوفے پر بیٹھی۔۔
آنکھیں بند کر کے عادت کے مطابق اپنی مما سے باتیں کرنے لگی۔۔اب تو گلہ خشک ہو کر بند ہو رہا تھا خراشیں پڑ رہیں تھیں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا خشکی سے کھانسی آنے لگی تو اپنے پیٹ سے بھی عجیب سی آوازیں آنے کے ساتھ درد بھی اٹھا تو اسے یاد آیا کہ اس نے صبح کے بعد کچھ بھی نہیں کھایا جب بھابھی نے ملازمہ کو بھیجا تھا کہ کھانا لگ گیا ہے تو اس نے کہا تھا کہ اسے ابھی بھوک نہیں ہے وہ پڑھ رہی ہے بعد میں کھا لے گی۔۔وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی کچن میں داخل ہوئی تو ایک دفعہ پھر سے بادل بہت زوردار آواز میں گرجے جیسے دھماکے ہو رہے ہوں۔۔وہ دروازے کے ساتھ لگ کر کتنی دیر کھڑی رہی۔۔ساری حویلی بلکل ایسے ہی خاموش تھی جیسے اس کے اندر اس وقت سناٹا اترا ہوا تھا۔۔وہ چیئر پر بیٹھی اسے مما کی بہت یاد آ رہی تھی اگر وہ ہوتیں تو پھر بھی سب میرے ساتھ ایسا ہی کرتے۔۔مما پلیز آ جائیں نا دیکھیں آپ کی وائٹ بےبی کیٹ کو سب کتنا تنگ کرتے ہیں پھر اس نے تھک کر ٹیبل پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر کے تصور میں اپنی مما کی گود میں سر رکھ لیا اور سب کی شکایتں لگانے لگی۔۔
اس کی عادت تھی کہ جب بھی حد سے زیادہ پریشان ہوتی تو آنکھیں بند کر کے تصور میں مما کی گود میں سر رکھ کر سب کی شکایت کرتی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ اس لگتا اس وقت مما اس کے پاس ہیں اس نے اپنی ایک تصوراتی دنیا بنائی ہوئی تھی جو حقیقت سے بھی کہیں زیادہ طاقتور تھی جب وہ بہت زیادہ ہریشان یا دل برداشتہ ہو جاتی تو روم میں جا کر اپنی اسی تصوراتی دنیا میں جا کر مما سے باتیں کرنے لگتی سب کی شکایتیں کرتی اسے مما اپنے آس پاس دکھائی دیتی کبھی بیڈ پر بیٹھی کبھی اس کے ساتھ کمرے میں چلتی پھرتی کبھی اسے اپنی گود میں لیٹا کر اسے پیار کرتی تسلی دیتی اب بھی وہ اپنی اسی دنیا میں تھی۔۔اسے لگا اسے کسی نے آواز دی ہے اس نے چونک کر لان والے دروازے کی طرف دیکھا اسے لگا باہر کوئی ہے۔۔وہ بےاختیار اٹھ کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی تو برآمدے کے آخر میں مما کھڑی تھیں۔۔مما۔۔
وہ بھاگ کر اس طرف گئی اور مما کے گلے لگ گئی اور کتنی دیر روتی رہی پھر وہیں بیٹھ کر وہ ان سے باتیں کرنے لگی پتہ نہیں وہ وہاں خود سے بھی بے خبر کتنی دیر بیٹھی اس جما دینے والی سردی میں بارش میں بھیگتی رہی۔۔وہ سب کی شکایتں کر رہی تھی ایک ایک بات بتا رہی اور سب سے زیادہ شکایتں وہ ان کے سڑو کڑوے کریلے بیٹے کی کر رہی تھی۔۔کبھی ہنسے لگتی کبھی رونے لگتی۔۔اگر اس وقت اسے کوئی دیکھ لیتا تو پاگل سمجھتا۔۔پھر وہ آنکھیں بند کر کے مما کے سینے سے لگ گئی اور پتہ نہیں کب برفیلی ہواؤں برستی بارش اور شدید سردی سے فریز ہوتی بےسدھ ہو گئی۔۔
