ZIDDI · ORIGINAL URDU NOVEL

Ziddi (ضدی) — Episode 16

Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 16

قسط 16 · کہانی

روشانے کی آنکھ کھلی تو پورا بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا آنکھوں میں عجیب سی جلن ہو رہی تھی۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کبھی آنکھوں کھول رہی تھی کبھی بند کر رہی تھی۔۔اس نے ہلنے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ وہ کسی بہت ہی بھاری چیز کے نیچے دبی ہوئی ہے اپنے چہرے پر اور ہاتھ کے نیچے کچھ نرم گرم سا محسوس ہوا۔۔اپنے ہاتھ کے ساتھ چہرے کو بھی رب کر کے محسوس کیا تو اپنے گرد گرفت اور سخت ہوتی محسوس ہوئی۔۔وہ مکمل ہواس میں آ چکی تھی آنکھیں کھول کر غور کیا تو وہ اپنے شوہر کے برہنہ سینے میں سمائی ہوئی تھی وہ اسے خود میں چھپائے آدھے سے زیادہ اس کے اوپر تھا مردانہ بالوں سے سجا چوڑا مضبوط سینا جس پر وہ چہرہ اور ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی تھوڑا سا چہرہ اوپر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالکل پاس اس کا چہرہ تھا اتنے قریب سے اتنا جان لیوا نظارہ دیکھ کر بےاختیار سینے والے ہاتھ نے اس کے سینے کے بالوں کو مٹھی میں بھرا۔۔دل کی دھڑکن نے سیپڈ پکڑی۔۔حح۔۔حیدر۔۔

وہ اسے پلکیں جھپکے بنا دیکھتی سرگوشی میں بڑبڑائی وہ پہلے تو یہ سب اپنا خواب سمجھی بھلا حقیقت میں وہ اس کے اتنا قریب آ سکتا ہے وہ پھر سے آنکھیں بند کر کے اس کے سینے پر نرمی سے اپنا چہرہ رب کرنے لگی دوبارہ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔پھر اپنی آنکھیں زور سے بند کر کے دوبارہ سے کھول کر اسے دیکھا نہیں وہ جاگ رہی تھی اور وہ حقیقت میں اس کے اتنا پاس تھا۔۔دھڑکتے دل نے مزید سیپڈ پکڑی چہرہ الگ سے تپ اٹھا اسے بنا شرٹ کے دیکھ کر وہ بھی اتنا قریب۔۔اس نے دکھتے سر سے ہلکا سا چہرہ گھما کر ارد گرد کا جائزہ لیا تو وہ اس کے ساتھ روم میں بیڈ پر تھی۔۔روشانے نے اسے دیکھتے آہستہ سے اس سے دور ہونا چاہا اس سے پہلے کہ اس کی آنکھ کھلے اور اس پر کوئی دفع عائد ہو۔۔اس کی حرکت پر آنکھیں بند کر کے لیٹے انسان نے اپنا حصار مزید تنگ کیا۔۔وہ جو ساری رات کا جاگ رہا تھا اس کے ہلنے پر آنکھیں بند کر گیا۔۔اب ہر لمحہ اس کی بڑھتی دھڑکن اپنے سینے پر محسوس کرتا اس کی ایک ایک حرکت محسوس کر رہا تھا۔۔

روشانے نے اس کے حصار میں سختی محسوس کرتے چونک کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔آنکھیں ضرورت سے زیادہ سرخ اور سویل ہو رہیں تھیں کچھ ساری رات جاگنے سے کچھ طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے۔۔کیونکہ رات کی برفیلی ہواؤں اور بارش نے اپنا اثر چھوڑا تھا۔۔سس سوری وہ میں۔۔پتہ۔۔نہیں نیند۔۔میں۔۔کیسے۔۔وہ اپنا ہر درد بھولتی آہستہ سے بیٹھی آواز میں اٹکتی بمشکل منمنائی۔۔کیونکہ اس وقت اس کے ذہن میں صرف اس کی سزا آئی تھی باقی فلحال کچھ بھی یاد نہیں تھا۔۔نہ ہی اپنی حالتِ زار پر غور کیا تھا کہ وہ کس کے کپڑوں میں کس حالت میں اس کے سینے میں سمائی ہوئی ہے۔۔اب طبیعت کیسی ہے ۔۔؟وہ کچھ دیر اسے دیکھنے اور سننے کے بعد بولا۔۔آواز بوجھل اور بھاری تھی کچھ خراب طبیعت کی وجہ سے کچھ ادھوری نیند۔۔میری طبیعت۔۔؟روشانے نے حیران ہو کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا جو اس کے ماتھے اور گردن پر ہاتھ سے چیک کر رہا تھا جو بخار سے تپ رہی تھی۔۔

ایک دم دماغ کی ساری بتییاں روشن ہوئیں اور کل کا ہر پل یاد آیا رات اپنی حالت طوفانی بارش گرجتے بادل چنگھاڑتی ہوائیں اور وہ اکیلی۔۔اسے یاد آیا کہ وہ تو گھر ہی نہیں تھے تو پھر وہ کہاں سے اور وہ تو مما کے ساتھ تھی اب ان کے ساتھ بیڈ پر ۔۔آآپ تو۔۔نہیں تھے۔۔وہ بے ربط سا سوچتی اسے دیکھتی رک رک کر بولی۔۔حیدر نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بس چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا۔۔اس کے ایسے دیکھنے پر روشانے بےاختیار اوپر کو ہوتی چہرہ اس کی گردن میں چھپا گئی۔۔میری بات نہ ماننے کی قسم کھائی ہوئی ہے نا۔۔وہ اس کی تپتی گال پر چہرہ نرمی سے رب کرتا بولا۔۔اشارہ کچن میں جانا اور سب باتیں چپ کر کے سننا اوپر سے بارش میں بھیگ کر طبیعت خراب کی طرف تھا۔۔مم۔۔میں نے اب۔۔کیا کیا۔۔وہ گہری انگارہ گرم سانسیں اس کی گردن پر چھوڑتی رک رک کر بولی۔۔بارش میں کیوں بھیگی۔۔؟؟وہ اپنے چہرے سے اس کا چہرہ اوپر کر کے اس کی سویل آنکھوں پر نرمی سے ہونٹ رکھتا بولا۔۔روشانے کو سب یاد کرتے نئے سرے سے اذیت ہوئی جسم کے ساتھ دل کے درد بھی تازہ ہوئے۔۔کتنی تکلیف دہ تھی حقیقت۔۔

حیدر نے اسے چپ دیکھ کر تھوڑا سا چہرہ اٹھا کر دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔سمجھ میں کچھ نہیں نا آتا۔۔وہ پھر سے بولا لحجہ اگر سخت نہیں تھا تو کہیں سے نرم بھی نہیں تھا۔۔آآپ مجھے ۔۔ڈانٹ نہیں سکتے۔۔وہ پھر سے اس کی گردن میں چھپتی نم لحجے میں بولی۔۔کیوں۔۔؟وہ اسی انداز میں بولا۔۔کیونکہ میں بیمار ہوں اور بیمار انسان کو ڈانٹا نہیں جاتا۔۔وہ ایسے ہی چھپی منمنائی۔۔ایسی حرکتیں ہی کیوں کرتی ہو کہ ڈانٹ کھانی پڑے۔۔وہ سائیڈ لیتا نرمی سے اس کے اوپر آیا۔۔اس کے سر کے نیچے تکیہ رکھا اور اسے دیکھنے لگا حالت رات سے بہتر لیکن پھر بھی کافی خراب تھی۔۔روشانے نے پہلی دفعہ یوں اسے بنا شرٹ کے اپنے اتنے قریب دیکھا تھا۔۔اس کا پہلے سے سرخ چہرہ مزید کانوں تک سرخ ہوا۔۔حیدر کی نظریں اس کے چہرے سے گردن اور گردن سے نیچے پھسلتی کندھے پر اٹکیں۔۔جو اس کی کھلے گلے کی شرٹ سے نکلتا پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔اس کی نظروں کے فوکس پر روشانے نے نظریں اُدھر کی تو اپنی حالت دیکھ کر ڈوب مرنے کو دل کیا۔۔

پھر ایک دم سے کچھ کلک ہوا تواس نے دوبارہ سے اپنے حلیے پر غور کیا شرٹ کندھے سے اتری ہوئی اور کمر سے اوپر تک چڑھی ہوئی اسے اپنی بیلی پر حیدر کا برہنہ جسم صاف محسوس ہو رہا تھا۔۔سب محسوس کرتے اس کا حلق خشک ہوا پورے جسم میں عجیب سی لہریں سرایت کرتی محسوس ہوئیں۔۔مم۔۔میرے۔۔کپڑے۔۔؟وہ آنکھیں بڑی کیے اسکی طرف دیکھتی سرگوشی میں منمنائی جو اس کی ایک ایک حرکت دیکھتا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔مم۔۔میرے کپڑے کس نے۔۔وہ کندھے سے شرٹ اوپر کھینچتی ادھوری سی سرگوشی کرتی چپ ہوئی۔۔ایک تو پوری شرٹ بے ترتیب ہو رہی تھی اوپر سے وہ بنا شرٹ کے اوپر لیٹا ہوا اسے ہی تفصیل سے دیکھ رہا تھا۔۔روشانے کی حالت خراب ہوئی۔۔کیوں کیا ہوا۔۔؟مم۔۔میرے کپڑے۔۔وہ نظریں چراتی پھر بولی۔۔رات میں نے چینج کیے تھے۔۔وہ بلکل ریلکس سا بولا۔۔روشانے نے ایک دفعہ پھر سے اسے حیرانگی سے دیکھا جیسے یقین کرنا چاہتی ہو کہ واقعی۔۔حیدر نے اسکی حیران آنکھوں میں دیکھتے بلکل پاس جھکتے ہاں میں سر ہلایا۔۔روشانے کے چہرے کے ساتھ کانوں سے بھی بھاپ نکلی یہ سوچتے کہ اس نے اس کے کپڑے بدلے۔۔

اور شکر کرو صرف کپڑے بدلے ہیں ورنہ جتنی بارش میں بھیگتے ہوئے فریز ہو کر تمہاری حالت خراب تھی نا تمہیں فوراً گرمائش کی ضرورت تھی اور اگر میں تمہیں اپنے طریقے سے گرم کرتا تو۔۔وہ اس کے کندھے پر جھکا اپنے چہرے سے شرٹ سائیڈ پر کرتا اب اپنا چہرہ رب کرتا ادھوری بات چھوڑتا چپ ہوا۔۔اس کی ادھوری بات کا مطلب سمجھتی اوپر سے اپنے شولڈر پر اس کی بئیرڈ کی چھبن اور لبوں کی گرمی محسوس کرتے اسے چھپنے کے لیے کہیں جگہ نہیں مل رہی تھی ہوتا جسم میں گرم لہریں سرایت کر گئیں تو وہ بڑے سے گھونٹ سے اپنے خشک پڑتے گلے کو تر کرتی زور سے آنکھیں بند کر گئی۔۔حیدر نے چہرہ اٹھا کر اس کی حالت دیکھی تو اس کا چہرہ اپنے چہرے سے سیدھا کیا۔۔ڈونٹ۔۔اسے پھر سے آنکھیں بند کیے چہرہ دوسری طرف کرتے دیکھ کر وہ بولا۔۔اس کی آواز میں وارننگ محسوس کرتے آہستہ سے چہرہ سیدھا کیا لیکن آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔۔آنکھیں کھولو۔۔روشانے حیدر لاشاری اگر ایک سیکنڈ میں تم نے آنکھیں نہ کھولیں تو۔۔

عادت کے مطابق جب اس نے ایک دفعہ کی کہی بات نہ مانی تو اس کی سخت آواز میں چھپی دھمکی محسوس کرتی وہ فٹ سے آنکھیں کھول گئی۔۔تمہیں واقعی میری ایک دفعہ کی سمجھ نہیں آتی۔۔وہ اسی سختی سے بولا۔۔اس کی بند آنکھیں دیکھ کر رات کا اذیت میں گزرا ایک ایک پل آنکھوں میں گھما۔۔وہ زور زور سے سر ہاں میں ہلانے لگے۔۔روشانے حیدر لاشاری میں حساب لوں گا تم سے اس رات کے گزرے ایک ایک پل کا حساب لوں گا بس تم تھوڑی سی اس قابل ہو جاؤ۔۔وہ اس کے چہرے پر اپنا چہرہ رب کرتا کہتا اس جان لبوں پر لے آیا۔۔حیدررر۔۔وہ بےاختیار اس کے سینے پر ہاتھ جماتی اسے پکار گئی۔۔تم اتنے خراب موسم میں کچن سے باہر کیا کرنے گئی تھی۔۔حیدر ایسے ہی خود کو پُرسکون کرتا اپنے دماغ میں گردش کرتے لفظوں کو زبان پر لایا۔۔مم۔۔مما کے پاس۔۔گئی تھی۔۔وہ اس کی سزا کے ڈر سے پہلی دفعہ پوچھنے پر ہی اٹکتی جلدی سے سرگوشی میں بولی۔۔حیدر اس کی سرگوشی سنتا کچھ پل ساکت ہوا پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔مما کے پاس۔۔؟؟وہ سوالیہ بولا تو روشانے نے زور سے سر ہاں میں ہلایا۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا دروازہ ناک ہوا حیدر نرمی سے اس کے ہونٹ چھوتا اسے لے کر اٹھا اسے بیک پر تکیے رکھ کر ٹیک لگوائی اپنی گرم چادر سے اسے اچھے سے کور کیا اپنی شرٹ پہن کر دروازہ کھولا تو باہر جاوید صاحب حاشر اور حنان ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لیے کھڑے تھے۔۔کیسی طبیعت ہے میرے بیٹے کی۔۔جاوید صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھے۔۔ٹھیک ہوں بابا جان۔۔ناشتے والی ڈش ٹیبل پر رکھتے حنان اور حاشر بھی روم چیئرز لا کر بیڈ پاس رکھتے بیٹھے حال حوال پوچھنے لگے۔۔حیدر اسے تو ابھی بھی بہت تیز بخار ہو رہا ہے اور گلہ بھی خراب ہے۔۔اس کی بھاری آواز سنتے اس کا ماتھا چیک کرتے اور اسے ہلکا ہلکا سا کھانستے دیکھ کر جاوید صاحب بولے۔۔جی بابا جان ابھی ناشتہ کروا کر میڈیسن دیتا ہوں۔۔خود بھی میڈیسن لو وہ اس کا سرخ چہرہ اور بھاری آواز سنتے بولے۔۔لاؤ مجھے دو آج میں اپنے بیٹے کو ناشتہ کرواتا ہوں تم بھی جلدی سے فریش ہو کر آ جاؤ۔۔پھر جاوید صاحب نے اسے اپنے ہاتھوں سے ہلکا پھلکا سا ناشتہ کروایا تو روشانے کو بے اختیار مما کی یاد آئی۔۔اس کی آنکھیں بھیگی۔۔

اس کی آنکھوں کی نمی اپنے ہاتھ پر محسوس کرتے جاوید صاحب نے اس کا سر اپنے سینے سے لگایا۔۔سوری بیٹا اپنے بابا کو معاف کر دو تمہاری مما کے بعد میں اس کی بیٹی کا بالکل بھی خیال نہیں رکھ پایا۔۔میں اپنی ہر کوتاہی کے لیے آپ سے معافی۔۔بابا جان پلیز۔۔ایسا مت بولیں۔۔وہ ان کو شرمندگی سے بولتا سن کر جلدی سے چہرہ اٹھا کر درمیان میں ہی بولی۔۔جاوید صاحب نے اس کی آنکھیں صاف کیں اور سر پر پیار کیا۔۔روشانے نے پہلی دفعہ باپ کی شفقت محسوس کی۔۔ارے بابا جان آپ کے بیٹھے میری وائفی کی آنکھوں میں آنسو یارر یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔۔حیدر ڈریسنگ روم سے نکلتا اس کی بھیگی آنکھیں دیکھتا بولا۔۔اس کے اتنے بے باک انداز پر بےاختیار روشانے کے چہرے پر سرخی چھائی۔۔ادھر آئے میرا شیر یہاں آ کے بیٹھے جاوید صاحب مسکراتے اسے اپنے پاس بلاتے بولے۔۔حیدر بھی آ کر بیڈ پر بیٹھا۔۔اب مسکراتے ہوئے ہلکی پھلکی باتیں کرتے انھوں نے اپنے ہاتھوں سے ان دونوں کو ناشتہ کروایا۔۔پھر دونوں کو میڈیسن دی۔۔اتنی دیر میں عالیہ دودھ اور کافی لے کر آ گئی ساتھ زہرہ بھی تھی۔۔شانے بیٹا ایک بات بتاؤ۔۔جی بھائی۔۔

وہ حنان کے پوچھنے پر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔آپ اتنے خراب موسم میں کچن سے باہر وہاں کیا کر رہی تھی۔۔اب سب اس کے بولنے کے منتظر اس کی طرف دیکھ رہے تھے جو اپنے ہاتھ مروڑ رہی تھی سوائے ایک انسان کے جو پریشان سا ایک ہی پواینٹ سوچ رہا تھا۔۔مما۔۔کے پاس۔۔گئی تھی۔۔وہ ایک ایک لفظ رک کر بولی اس کا جواب سب کو شاک کر گیا۔۔کتنی دیر سب اسے حیرانگی سے دیکھتے رہے۔۔پھر سب نے پریشان ہو کر حیدر کو دیکھا۔۔جو اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسائے پریشان سا بیٹھا تھا۔۔بیٹا آپ کو کیوں لگا کہ وہاں آپ کی مما ہیں۔۔جاوید صاحب اپنا گلہ صاف کرتے بولے جبکہ اپنی ہی آواز خالی خالی سی لگی۔۔بابا جان مجھے لگا نہیں وہاں سچ میں مما تھی اور میں انہی کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔۔پھر پتہ نہیں کب مجھے نیند آ گئی۔۔یہ دوسرا شاک تھا جو سب نے محسوس کیا۔۔وہاں بیٹھا ہر انسان ہی اس وقت خود کو اس کا مجرم سمجھ رہا تھا۔۔ایک جیتی جاگتی جان کو اتنا اکیلا چھوڑ دیا کہ اس نے اپنے تصورات کی ایک الگ ہی دینا بسا لی تھی۔۔کسی کے پاس کہنے کو یا پوچھنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا۔۔

آپ جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ پھر ہم سب آپ کی مما سے ملنے جائیں گے جاوید صاحب لمبا سانس لے کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے۔۔سچ میں۔۔سب نے اس کے پژمردہ چہرے کو چمکتے دیکھا۔۔سب نے مسکراتے ہاں میں سر ہلایا۔۔سب نے ہی اس کا بہت خیال رکھا پھر بھی ریکور کرنے میں اسے کافی دن لگ گئے اور ان دنوں میں اس کے شوہر نے اپنا کہا پورا کیا اس کا جب من کرتا وہ اس کی سانسوں میں گھلتا اپنی بےچینوں کا حساب لیتا اس کی گردن پر اپنے دیے گئے نشانوں کو روز گہرا کرتا خود کو پُرسکون کرتا اس کے جسم پر ہاتھ سے بےباکیاں دیکھاتا اس کو شدت سے محسوس کرتے اس کی جان لبوں پر لے آتا۔۔اس کے ٹھیک ہونے کے دوران حیدر بہت ضروری ہوتا تو آفس جاتا ورنہ گھر بیٹھ کر آفس ورک کرتا رہا اس کی پراپر گھر میں آن لائن کلاس کا پورا ارینج کیا تاکہ اس کی سٹڈی کا حرج نہ ہو۔۔جہاں کچھ لوگوں نے اس کا اتنا خیال رکھا وہاں کچھ لوگ اس کی بیماری کو صرف کام چوری ہڈ حرامی،صرف نخرے کر کے گھر والوں کی توجہ حاصل کرنا اور نظروں میں اہم ہونا چاہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔

برحال وقت کا کام ہے گزرنا وہ اپنی رفتار سے گزر رہا تھا اور روشانے حیدر لاشاری اپنے شوہر کی خوشبو کی بری طرح عادی ہوتی جا رہی تھی وہ اگر اس کے پاس آنے پر مزاہمت کرتی تو وہ بہت سختی کرتا اب تو وہ اس کی سختیوں کی بھی عادی ہوتی جا رہی تھی وہ پندرہ راتوں سے حیدر لاشاری کے سینے سے لگ کر سو رہی تھی اگر وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی تو وہ اپنی قید میں اور مضبوطی لے آتا وہ سسک کر اسے پکارتی تو اس کی فریاد اپنے لبوں میں دبا کر اپنے انداز میں اس کی سسکیوں کا گلہ گھونٹ دیتا۔۔