ZIDDI · ORIGINAL URDU NOVEL

Ziddi (ضدی) — Episode 08

Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 8

قسط 8 · کہانی

وہ اپنی پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی پتہ نہیں وہ کب سے روم میں آیا ہوا تھا کیا اس کی ساری بکواس سن چکا تھا وہ ایسے ہی اپنے بالوں کو پکڑے اسے یک ٹک دیکھتی سوچ رہی تھی۔۔نہیں اگر سن لی ہوتی تو اب تک تو میرا گلہ دبا کر بالکنی سے باہر پھینک چکے ہوتے اس نے خود کو تسلی دی۔۔حیدر نے نظریں فون سے اٹھا کر اسے دیکھا اور آئبروز سے اشارہ کیا کہ اب کیا ہوا۔۔چہرہ بلکل سپاٹ تھا وہ کچھ بھی اخذ نہیں کر پائی۔۔آہستہ سے نفی میں سر ہلانے لگی تو اس نے آنکھوں سے بیڈ کی طرف اشارہ کیا روشانے اپنے بال ایسے ہی کھلے چھوڑتی سپیڈ سے کمفرٹ میں گھستی ساری اندر غروب ہو چکی تھی۔۔بےوقوف لڑکی۔۔وہ نفی میں سر ہلاتا اپنا فون اور لیپ ٹاپ لیے صوفے کی طرف بڑھ گیا۔۔وہ پتہ نہیں لیپ ٹاپ سامنے رکھے فون پر کس کی شامت اعمال لایا ہوا تھا۔۔لگتا ہے وہ اپنی زندگی سے تنگ آ گیا ہے جو فائل نہیں دے رہا۔۔

ابھی اسے فون کر اور بول کہ اگر صبح میرے آفس پہنچنے سے پہلے بمعہ سائن فائل میرے ٹیبل پر موجود نہ ہوئی تو اس کے نام پر ہاسپٹل میں ایک بیڈ ریزرو ہوچکا ہے اگلا ایک سال وہ اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا۔۔پتہ نہیں فون پر کس کی ٹانگوں کے وارنٹ جاری کیے جا رہے تھے۔۔روشانے چہرے سے کمفرٹ اتار کر حیرانگی سے آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھ اور سن رہی تھی۔۔تھوڑا سا سر اٹھا کر اسے دیکھا جو فون بند کر کے اب کسی اور کو کال لگا رہا تھا۔۔پتہ نہیں ان کے آفس والے ان کے ساتھ کیسے کام کرتے ہونگے۔۔وہ سر دوبارہ تکیے پر رکھتی خود سے بولی۔۔حیدر فون پر بات کرتا باہر بالکنی میں نکل گیا۔۔آج تو انھوں نے اپنی کڑوی کافی بھی نہیں پی۔۔وہ رات کو کافی پینے کا عادی تھا بعض اوقات تو وہ اسے آدھی رات کو جاگا کر کچن میں کھینچ لاتا کہ اسے کافی بنا کر دے وہ بےچاری نیند میں جھولتی روتی بسورتی اٹھ کر اسے بنا کر دیتی۔۔آج ایک دفعہ بھی اس سے نہیں کہا تھا۔۔اس نے اپنے ہاتھ اور بازو کو دیکھا اس کی جلن اور درد کافی حد تک کم ہو گئی تھی۔۔

وہ چور نظروں سے بالکنی کی طرف دیکھتی آہستہ سے اٹھی اور دوپٹے سے خود کو کور کرتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔وہ کافی لے کر بالکنی میں گئی تو وہ کاوچ کے پاس کھڑا فون پر بزی تھا۔۔آپ کی کافی۔۔وہ ڈش اس کی طرف بڑھاتی آہستہ سے بولی۔۔حیدر نے اس کی آواز پر چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا جو کافی اس کی طرف بڑھائے کھڑی تھی۔۔تجھے میں نے بولا تھا کافی لانے کو۔۔؟وہ جلدی سے نفی میں سر ہلا گئی۔۔تو کس کی اجازت سے بیڈ سے نیچے قدم رکھے۔۔آآآپ نے آآج کافی نن۔۔نہیں پی تو۔۔وہ اٹکتی روہانسی ہوتی سرگوشی میں آدھا ادھورا بولتی چپ ہوئی۔۔تمہیں سچ میں میرا ایک دفعہ کہا سمجھ میں نہیں آتا۔۔وہ ٹیبل سے گھوم کر اس کے سر پر پہنچتا بولا۔۔انداز اگر نرم نہیں تھا تو سخت بھی نہیں تھا۔۔وہ اس کے پاس آنے پر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔اس کی حرکت پر نفی میں سر ہلاتا اس کے ہاتھ سے کافی لے کر ٹیبل پر رکھ دی۔۔جاؤ جا کر سو جاؤ اب۔۔حیدر نے اس سے بول کر کافی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا ایک سپ لے کر پھر اس کی طرف دیکھا جو ایک قدم چل کر رکتی اپنے ہاتھ مروڑ رہی تھی۔۔کچھ چاہیے۔۔

اسے چپ کھڑی دیکھ کر وہ کافی کا مگ رکھتا بولا۔۔وووہ۔۔آپ۔۔سے بات۔۔کرنی تھی۔۔وہ رک رک کر بولی۔۔ہاں بولو۔۔وہ جس کا دماغ پہلے ہی ایک میل میں بری طرح الجھا ہوا تھا بولا۔۔آپ میری۔۔وجہ سے۔۔گھر سے۔۔باہر نہ۔۔رہا کریں۔۔اگر آآپ۔۔تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ تمھیں لے کر میں اپنی زندگی کو ڈسرب کروں گا۔۔وہ ایک قدم سے فاصلہ طے کرتا عادت کے مطابق اس کی کمر میں جارحانہ انداز میں ہاتھ ڈالے اسے خود میں بینھچے دوسرے سے اس کا جبڑا پکڑ کر بولا۔۔لحجہ سخت جبکہ انداز قدرے نرم تھا۔۔وہ اس کے سخت تیور دیکھتی اپنی گردن پیچھے کو لے گئی۔۔ایک بات اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں بٹھا لو کہ مجھے اپنے رشتے کی تشہیر کسی بھی صورت نہ منظور ہے نہ ہی پسند ہے۔۔میں یہ بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی مجھے یا میرے رشتے کو لے کر کسی بھی قسم کی الٹی سیدھی بات کرے یا موضوع گفتگو بنائے۔۔چاہے یہ نکاح کسی بھی حالت میں ہوا ہو اب تمہارا سر نیم حیدر لاشاری ہے۔۔ کیا ہے۔۔؟ حیدر۔۔لاشاری۔۔ وہ دوبارہ سے الگ الگ بولتا ایک ایک لفظ پر زور دیتا بولا۔۔روشانے نے جلدی سے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا۔۔

اور یہ باہر جو مجھے سب کے درمیان اتنی بکواس کرنی پڑی ہے نا وہ بھی صرف تمہاری وجہ سے کرنی پڑی۔۔وہ اس کی سب کے درمیان بند زبان کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔میں آج آخری دفعہ بول رہا ہوں باربار نہیں دہراؤں گا۔۔وہ اس کی کوپر آنکھوں میں دیکھتا بولا جو پلکیں جھپک جھپک اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔سمجھ میں آیا کہ دوبارہ بولوں۔۔وہ اس پر جھکا بولا۔۔وہ پھر سے زور و شور سے سر ہاں میں ہلا گئی۔۔کیا۔۔؟حیدر نے بےاختیار نظریں اس کے ہونٹوں پر کرتے پوچھا جن کو وہ بار بار زبان سے تر رہی تھی۔۔یہ۔۔یہی کہ۔۔میں آآپ۔۔کی زندگی۔۔میں کوئی اہمیت۔۔نہیں رکھتی۔۔وہ اس کی ساری بات کا اپنا دماغ استعمال کرتی اپنی سمجھ کے مطابق معنی نکالتی بولی۔۔حیدر نے حیران ہو کر اس کی ہیروں کی مانند چمکتی نم آنکھوں کو بجھتا دیکھا۔۔اس کی نظروں کے سامنے اپنی بات کہتے روشانے کا چہرہ ایسے کملا گیا جیسے کوئی تازہ پھول مرجھاتا ہے۔۔مطلب وہ کیا بول رہا تھا اور وہ اس کی ساری بات کو کیا رنگ دے چکی تھی۔۔اس کے مرجھائے ہوئے چہرے کی طرف دیکھتا اسے اپنی ماں کی ایک بات شدت سے یاد آئی۔۔

حیدر اسے نہ ڈانٹا کرو جب تم اسے ڈانٹتے ہو نہ تو اس کا پھول سا چہرہ بلکل مرجھا جاتا ہے اور ہیروں کی مانند چمکتی آنکھیں بج جاتی ہیں۔۔تب اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آتا تھا۔۔حیدر نے لمبی سانس لے کر فضا میں خارج کرتے اسے سیدھی کھڑی کیا۔۔وہ جو اسی کے آسرے لٹکی ہوئی تھی گرنے کے ڈر سے جلدی سے سینے سے اس کی شرٹ تھام گئی۔۔حیدر نے جھک کر اسے بانہوں میں اٹھایا اور روم میں لے آیا۔۔وہ جو حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی اسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر آرام سے بیڈ پر لیٹایا۔۔سیدھا ہونے لگا لیکن شرٹ ابھی بھی اس کی گرفت میں تھی۔۔حیدر اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھے اس پر جھکا نظریں اس کے ہاتھوں پر کیں۔۔اس کی نظروں کے تعاقب میں روشانے نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو جلدی سے اس کی شرٹ چھوڑ دی۔۔حیدر کتنی دیر اس کے چہرے پر سجے نقوش اور ان پر چھائی معصومیت کو دیکھتا رہا۔۔نظریں اس کے لبوں سے بےاختیار اس کی گردن پر گئیں اور اپنے دیے گئے نشان کو دیکھا جو سرخ اور نیلا ہو کر اس کی شفاف جلد پر چمک رہا تھا۔۔

یااللہ پاکی جتنا اسے خوبصورتی اور معصومیت سے نوازا ہے تھوڑی سی عقل اور سمجھ بھی عطا کر دیتا تو میری زندگی بھی آسان ہو جاتی۔۔حیدر نے اس کی تھوڑی دیر پہلے کہی بات یاد کرتے اللہ سے دعا کی۔۔روشانے اسے خود پر جھکا دیکھ کر کبھی اپنا دوپٹہ سٹ کر رہی تھی کبھی نا نظر آنے والے بال چہرے سے کان کے پیچھے کر رہی تھی۔۔اب آرام سے دعائیں پڑھ کر سو جاؤ اور اپنے ننھے سے دماغ کا زیادہ استعمال نہ کیا کرو۔۔وہ لمبی سانس لیتا سیدھا ہوتا اس پر کمفرٹ سیدھا کرتا بولا۔۔انداز بلکل نرم تھا۔۔خود بالکنی کی طرف بڑھ گیا۔۔اپنی کافی اٹھاتا روم میں آتا بالکنی کا دروازہ بند کیا لائیٹس ڈم کیں اور خود روم سے باہر نکل گیا۔۔ڈریگن سڑا ہوا انسان کبھی بات نہیں کروں گی نہ ہی اب کافی بنا کر دوں گی۔۔ایک میں ہی ملی ہوئی ہوں ڈانٹنے کے لیے۔۔وہ سائیڈ لیتی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے لگی۔۔اسے حویلی کی بیک سے چھت پر جاتے دیکھ کر حنان جو ابھی اپنے بابا جان کے پاس سے اٹھ کر باہر لان میں آیا تھا اس کے پیچھے اوپر چڑھ گیا۔۔

حاشر جو باہر سے آیا تھا حنان بھائی کو اس وقت چھت پر چڑھتا دیکھ کر حیران ہوتا ان کے پیچھے گیا۔۔حیدر چھت کے پردے پر بازو ٹکائے چہرہ اوپر اٹھائے انگنت تاروں سے سجے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔کیسا ہے میرا شیر۔۔حنان اس کے کندھے پر بازو پھیلائے بولا۔۔بلکل فٹ۔۔آپ بتائیں رات کے اس پہر چھت پر کہیں روم انٹری پر پابندی تو نہیں لگ گئی۔۔وہ ان کو چھیڑتا بولا۔۔ارے میرے پیارے سے بھائی جان۔۔اس سے پہلے کہ حنان کوئی جواب دیتا حاشر حیدر کی بیک خود میں جکڑے اس کے کندھے پر چہرہ ٹکائے بولا۔۔لحجے میں واضح شرارت تھی۔۔چھوٹو باز آ جا کدھر سے آوارہ گردی کرتا آیا ہے۔۔وہ اس کے سر پر اپنا سر مارتا بولا۔۔حیدر بھائی سچ میں آج آپ پر بہت پیار آ رہا تھا آج آپ نے واقعی ثابت کر دیا کہ آپ حاشر لاشاری کے بھائی ہو۔۔وہ اس کے ساتھ کھڑا ہوتا اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اپنا سینہ پھیلائے بولا۔۔حیدر نے اپنے مخصوص انداز میں اسے گھور کر دیکھا۔۔آج جتنا مرضی گھور لیں دل پھر بھی آپ پر نثار ہو رہا ہے۔۔مطلب بتا اپنا کیوں آج اتنا پیار نکل رہا ہے۔۔

حیدر اس کے کہنے پر اس کی گردن اپنے بازو کے شکنجے میں لیتا بولا۔۔حیدر بھائی آج آپ نے زندگی کا وہ سکون دیا ہے جس کے لیے ہم مرد حضرات پچھلے پانچ چھ سال سے ترس رہے تھے۔۔حاشر اس کے بازو پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے بولا۔۔

ماضی

سب کی مخالفت کے باوجود وہ کالج جا رہی تھی بہت جلد اپنے اخلاق اور ہائی آئی کیو لیول کی وجہ سے وہ ہر ٹیچرز کی نظروں میں اپنا الگ نام اور مقام بنا چکی تھی کسی ٹیچر کو کوئی کام ہوتا یا کسی سٹوڈنٹ کو کوئی ہلپ چاہیے ہوتی تو اسی کا نام لیا جاتا۔۔کو ایجوکیشن ہونے کی وجہ سے بہت سارے لڑکوں نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن اس نے صرف اپنی پڑھائی پر فوکس رکھا۔۔اسی دوران ایک سینیئر کلاس کا لڑکا جس نے اسے فرینڈ شپ کرنے کا بولا تو اس کے کوئی رسپانس نہ دینے پر وہ اس کے پیچھے پڑ گیا۔۔امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔۔وہ اس کا نمبر لے کر اسے فون پر تنگ کرنے لگا۔۔پھر بھی اس کے رسپانس نہ دینے پر وہ دھمکیوں پر اتر آیا۔۔سرعام کالج میں اس کا رستہ روک لیتا اس کی بڑھتی ہمت دیکھ کر اس کی پریشانی دن با دن بڑھنے لگی۔۔جانتی تھی گھر میں کسی کو تھوڑا سا بھی اس بات کا علم ہو گیا تو سارا قصور اسی کے کھاتے میں ڈال کر اسے زندہ زمین میں گاڑھ دیں گے۔۔

عجیب بےبسی تھی اپنے گھر میں کسی سے مدد نہیں مانگ سکتی تھی نہ اپنی پریشانی کسی سے شیئر کر سکتی تھی۔۔ایک دن تو حد ہی ہو گئی وہ لائبریری میں بیٹھی نوٹس تیار کر رہی تھی تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اس کے اردگرد والی چیئرز پر آ کر بیٹھ گیا روشانے اٹھ کر جانے لگی تو اس کا بازو پکڑ لیا لائبریری میں اس وقت زیادہ سٹوڈنٹ نہیں تھے جو تھے وہ ان کے اشارہ کرنے پر چپ چاپ اٹھ کر باہر نکل گئے کسی نے بھی پرائے پھڈے میں ٹانگ نہیں اڑئی۔۔میری بازو چھوڑو وہ مسلسل مزاحمت کرتی بولی۔۔ابھی تو بازو پکڑی ہے جانم اگر نہیں مانی تو اٹھا کر اپنے روم میں لے جاؤں گا پھر آگے تم خود سمجھدار ہو وہ خباثت سے مسکراتا آنکھ دباتا بولا۔۔واحیات بےغیرت انسان تجھے کسی لڑکی سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔روشانے اس کی بات سنتی اوپر سے اس کی واحیات حرکت دیکھتی ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر جڑتی بولی۔۔یہ تھپڑ بلکل غیر متوقع تھا۔۔کچھ پل تو وہ اور اس کے دوست ساکت ہوئے پھر ایک طوفان بدتمیزی کھڑا ہوا تمہاری اتنی ہمت تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا وہ روشانے کے دونوں بازو پکڑتا بولا۔۔

اب دیکھ تیرے ساتھ کیا ہوتا ہے وہ روشانے کو ٹیبل پر گرانے کی کوشش کرتا چیخا۔۔روشانے کی خوف سے جان جانے والی ہو گئی لیکن دل میں اپنے رب کر پکارتی اس نے ہمت نہیں ہاری۔۔چھوڑو مجھے گندے انسان وہ بھی برابر چیخ رہی تھی جب ایک پروفیسر کی آواز گونجی۔۔یہ کیا ہو رہا ہے لائبریری میں ایک دم سناٹا چھایا۔۔سر پلیز ہلپ می یہ اور اس کے دوست مجھ سے بدتمیزی کر رہے ہیں۔۔روشانے روتی بولی۔۔چھوڑو اسے پروفیسر کی ڈانٹ پر وہ اسے چھوڑتا سائیڈ پر ہوا۔۔روشانے جلدی سے اپنی چیزیں اٹھاتی بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔گراؤنڈ کے ایک خالی کونے میں بیٹھ کر اپنی بےبسی پر بہت روئی۔۔پھر واش روم جا کر اچھی طرح چہرہ دھویا تاکہ گھر کسی کو پتہ نہ چل سکے کہ وہ روئی ہے۔۔اگر بچاری سوچتی تو اس کے رونے یا ہنسنے کو گھر میں نوٹ کس نے کرنا تھا کیونکہ گھر داخل ہونے کے بعد اس کے سلام کے جواب میں ایک آڈرز کا ڈھیر ہوتا جو اس کو دیا جاتا۔۔

سارا دن کاموں میں مصروف رہی نوید نے کتنی دفعہ اس سے پوچھا کہ اس کی طبیعت ٹھیک کیونکہ وہ معمول سے زیادہ چپ تھی پریشانی چہرے سے ہی ظاہر ہو رہی تھی اس کے پوچھنے پر ہر بار ہلکا سا مسکرا کر سب ٹھیک ہے کہہ دیتی رات کو اپنے روم میں آتے ہی پھر سے سب یاد آتے آنسوؤں نے باہر کا رستہ دیکھا۔۔وضو کیا اور اللہ کے حضور کھڑی ہو کر مدد مانگنے لگی یااللہ پاک میرا تیری پاک ذات کے سوا کوئی نہیں تو میری پریشانی کو آسانی میں بدل دے تو جانتا ہے میں اپنی پریشانی کسی کو نہیں بتا سکتی کوئی نہیں جو میری مدد کرے سوائے تیری پاک ذات کے اے اللہ پاک میری مدد فرما۔۔وہ پوری نماز میں روتی اس سے مدد مانگتی رہی۔۔اسی طرح دو دن گزر گئے وہ کالج نہیں جا رہی تھی عائزہ اور نوید کے پوچھنے پر اس نے طبیعت خراب اور کالج میں کچھ خاص پڑھائی نہیں ہو رہی کا بہانہ بنا دیا۔۔دوسرے دن رات کو وہ بیٹھی اپنی دوست سے ورک لے کر نوٹس بنا رہی تھی جب حیدر ناک کرتا اندر داخل ہوا۔۔روشانے نے اسے دیکھ کر برا سا منہ بنایا۔۔

عائزہ سے پتہ چلا تھا کہ جناب نے آج دو ماہ بعد حویلی کو دیدار بخشا ہے روشانے کا ابھی تک اس سے سامنا نہیں ہوا تھا یا وہ خود ہی اس کے آڈر سے چڑتی اس کے سامنے نہیں گئی تھی عائزہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے روم سے گئی تھی۔۔مجھے کافی بنا کر دو وہ اسے بکس میں سر دیے دیکھ کر بولا جو اس کے آنے پر کچھ زیادہ ہی دل لگا کر اپنی پڑھائی میں مگن ہو گئی تھی۔۔میرے پاس ٹائم نہیں ہے مجھے اپنے نوٹس کمپلیٹ کرنے ہیں۔۔عادت کے مطابق سر جھکائے صاف جواب دیا۔۔پوری رات پڑی ہے پہلے کافی بنا دو پھر کرتی رہنا جو بھی کرنا ہے وہ ہاتھ اپنے پیچھے باندھے قدم قدم چلتا اس کے سر پر پہنچتا بولا۔۔مجھ سے نہیں بنتی۔۔تڑخ کر جواب آیا۔۔کیوں نہیں بنتی۔۔؟اسی ٹون میں پوچھا گیا۔۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے آج کسی اور سے بنوا لیں۔۔وہ چڑ کر اسے دیکھتی بولی۔۔اٹھو مجھے کافی بنا کر دو اور اگر طبیعت اتنی زیادہ خراب ہے تو میڈیسن لے لو۔۔وہ اس کے سر پر کھڑا اپنے مخصوص انداز میں بولا۔۔میں نے نہیں لینی کوئی میڈیسن اور آپ خود بنا لیں جا کر وہ ایک اور بک اپنے سامنے رکھتی بولی۔۔

حیدر نے لمبا سانس لیا اور اسے بازو سے پکڑ کر کھڑی کیا اور لے کر سیدھا کچن میں آیا۔۔وہ بچاری سارا رستہ نان سٹاپ بولتی ساتھ مزاہمت کرتی اس کے ساتھ کچن میں آئی۔۔حیدر نے اسے کافی ریک کے پاس کھڑی کیا اور آنکھوں سے کافی بنانے کا اشارہ کیا۔۔وہ جانتی تھی بنائے بنا جان نہیں چھوٹے گی تو روتی بسورتی کافی بنانے لگی ساتھ زبان پراپر چل رہی تھی۔۔حیدر نے اس کی سٹڈی کے بارے میں پوچھا تو اس نے مختصر سا بتا دیا کہ سب ٹھیک ہے۔۔اب میں نے پڑھ کر سو جانا ہے مجھے نیند آ رہی ہے میں آدھی رات کو نہیں بنا کر دوں گی وہ کافی کا مگ اس کے سامنے رکھتی بولی۔۔جب پتہ ہے کہ تم نے ہی بنانی ہے تو بنا ٹائم ویسٹ کئے اٹھ کر بنا دیا کرو۔۔وہ کہتا کافی اٹھا کر سیپ لیتا کچن سے باہر نکل گیا۔۔ڈریگن کڑوا بادام۔۔وہ اپنے من پسند ناموں سے نوازتی اپنے روم میں آ گئی۔۔روم میں آتے ہی ایک دفعہ پھر سارا دھیان کالج میں ہوئے واقعہ کی طرف گیا میں کب تک جونہی آف کر کے گھر بیٹھی رہوں گی اور اگر گھر والوں کو شک ہو گیا تو۔۔آگے کا سوچ کر ہی دل بند ہونے لگا۔۔

یااللہ پاک پلیز میرے لیے کوئی راہ کھول دے کسی کو میری مدد کے لیے بھیج دے وہ بیڈ پر بیٹھتی اوپر کو چہرہ کرتی رب سے مخاطب ہوئی۔۔آنسو پھر سے بےاختیار ہوئے اسے اپنے اردگرد صرف اندھیرا نظر آ رہا تھا۔۔پتہ نہیں کتنی دیر وہ ایسے بیٹھی رہی اب تو دماغ تھکنے لگا تھا وہ اٹھی وضو کیا پھر سے اپنے رب کے حضور کھڑی اپنی پریشانی بتانے لگی۔۔دعا کے بعد وہ تھکی تھکی بلکل نڈھال سی ادھر جائے نماز پر ہی لیٹ گئی اس پریشانی نے اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بہت نڈھال کر دیا تھا۔۔اپنے اللہ سے باتیں کرتے پتہ نہیں وہ کب غنودگی میں چلی گئی۔۔اس نے دیکھا کہ مما دروازہ کھول کر اس کے روم میں آئیں چلتی اس کے پاس جائے نماز پر اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا وہ آنکھیں کھولے حیرانگی سے ان کو دیکھ رہی تھی۔۔کیا ہوا میری وائٹ بےبی کیٹ کیوں اتنی پریشان ہے۔۔انھوں نے اس کے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے مسکراتے پوچھا۔۔بس ان کا پوچھنا تھا وہ پھر سے رونا شروع ہو گئی پھر حرف بہ حرف سب ان کو بتایا تو میرا بیٹا رو کیوں رہا ہے۔۔

مما مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہ ان کی گود میں گھستی بولی۔۔مما نے اس کے آنسو صاف کیے روتے نہیں ہیں۔۔مما میں کیا کروں۔۔وہ پھر سے روتی ہوئی بولی۔۔جاؤ حیدر سے بات کرو وہ خود ہی دیکھ لے گا۔۔مما کے کہنے پر اس نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا۔۔آپ کو پتہ ہے وہ مجھے کتنا ڈانٹتے ہیں اور اگر انھوں نے مجھے کالج نہ جانے دیا پھر۔۔؟اس کی شکایت پر وہ ہلکا سا مسکرائیں۔۔نہیں ڈانٹے گا جاؤ اس سے بات کرو۔۔اور رویا نہ کرو میری وائٹ بےبی کیٹ مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہے وہ اس کے ماتھے پر پیار کرتی بولیں۔۔جاؤ مما نے اسے دروازے کی طرف اشارہ کیا ابھی جاؤں۔۔؟؟وہ حیران ہوتی بولی۔۔ہاں میری جان ابھی جاؤ صبح وہ جلدی نکل جائے گا وہ مسکراتی بولیں۔۔تو اس کی پٹ سے آنکھ کھول گئی دل شدت سے دھڑک رہا تھا گلہ خشک ہو رہا تھا چہرہ ابھی بھی آنسوؤں سے تر تھا۔۔مم۔۔مما وہ سرگوشی میں بولی۔۔پھر جلدی سے اٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھا۔۔مما۔۔پھر سے آواز دی۔۔نظریں بےاختیار دروازے کی طرف گئیں۔۔دروازہ بند تھا۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ ایک خواب تھا یا مما سچ میں اس کے پاس تھیں۔۔

دھیان ایک دفعہ پھر سے اپنی اور مما کی باتوں کی طرف گیا۔۔حیدر۔۔وہ سرگوشی میں بولی۔۔مما نے ان سے بات کرنے کا کیوں بولا۔۔کیا مما کو پتہ ہے کہ میں پریشان ہوں۔۔آنسو ایک دفعہ پھر سے چہرے کو بھگونے لگے۔۔کہتے ہیں جب بچے پریشان ہوں تو مائیں ایسے ہی بے چین ہو جاتی ہیں چاہے وہ دنیا میں ہوں یا نہ ہوں۔۔کیا مجھے ابھی ان سے بات کرنی چاہیے وہ ٹائم دیکھتی بولی جو گیارہ سے اوپر ہو رہا تھا۔۔اگر صبح وہ عادت کے مطابق اذان ٹائم ہی نکل گئے تو؟؟ نہیں ابھی کر لیتی ہوں ویسے بھی کونسا وہ سو گئے ہوں گے۔۔اور مما نے بھی بولا تھا کہ ابھی جاؤ صبح وہ جلدی نکل جائیں گے۔۔وہ اٹھتی خود سے باتیں کرتی بولی۔۔لیکن جا کر کیا بولوں گی وہ دروازے کی طرف بڑھتی روکی۔۔نظر اپنے فون پر پڑی تو آگے بڑھتے اپنا فون اٹھایا دوپٹہ اچھے سے لیا اور باہر نکل آئی۔۔وہ جو لیپ ٹاپ لے کر صوفے پر بیٹھا ہوا تھا دروازہ ناک ہونے پر ادھر متوجہ ہوا۔۔آ جاؤ وہ حاشر یا حنان سمجھ کر بولا۔۔

وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو حیدر نے حیران ہو کر اسے دیکھا پھر ٹائم کیونکہ وہ صرف تب اس کے روم میں آتی تھی یا زبردستی لائی جاتی تھی جب حیدر نے اس سے اپنی وارڈروب سٹ کروانی ہوتی وہ بھی دن کو۔۔وہ ہاتھ میں فون لیے دروازے کے پاس چہرہ جھکا کر کھڑی اپنے ہاتھ مروڑنے لگی۔۔کیا ہوا کوئی کام ہے۔۔؟وہ اپنا لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھتا اس کی مشکل آسان کرتا بولا۔۔وووہ۔۔بات۔۔کرنی۔۔تھی۔۔وہ بھاری زکام زدہ آواز میں رک رک کر آہستہ سے بولی۔۔حیدر نے اس کی آواز پر غور کرتے اس کا چہرہ دیکھا تو صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ روتی رہی ہے۔۔آو بیٹھو۔۔حیدر نے اسے آگے بلایا وہ کنفیوژ سی چلتی آ کر ٹیبل کے پاس کھڑی ہوئی۔۔کیا ہوا ہے کوئی مسئلہ ہے۔۔؟؟حیدر نے جب اسے ایسے ہی نظریں جھکائے چپ کھڑے دیکھا تو بولا۔۔وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔۔کیا۔۔؟روشانے نے اس کے پوچھنے پر اپنے ہاتھ میں پکڑا فون اس کے ٹیبل پر رکھ دیا جس کی سکرین لگاتار بلنک ہو رہی تھی۔۔مجھے فون نہیں چاہیے یہ آپ واپس لے لیں۔۔

حیدر جو فون کی سکرین دیکھ رہا تھا جس پر لگاتار میسجز آ رہے تھے اس کی آواز پر نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔وہ جو گھر کا کوئی مسئلہ سمجھ رہا تھا کہ کسی نے اسے فون سے کچھ کہا ہو گا اسے کچھ غیر معمولی لگا۔۔کیوں کوئی پرابلم ہے۔۔روشانے نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا حیدر نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں گلابی ہو کر سویل ہو رہیں تھیں۔۔بیٹھو ادھر اور مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔۔حیدر اسے صوفے کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔وہ چلتی اس کے سامنے بیٹھی۔۔اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ اس کی بات کو کس رخ پر لے گا لیکن اور کوئی آپشن بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔۔پھر وہ آہستہ سے نم آواز میں اس لڑکے کے بارے میں اسے بتا گئی۔۔حیدر نے اس کی ساری بات چپ کر کے سنی۔۔اس نے کوئی بدتمیزی کی ہے جو تم دو دن سے کالج نہیں جا رہی۔۔وہ بولا تو روشانے نے حیران ہو کر اسے دیکھا اس نے تو نہیں بتایا تھا پھر ان کو کیسے پتہ کہ میں کالج نہیں جا رہی۔۔روشانے نے ہاں میں سر ہلاتے سب اسے بتا دیا کیونکہ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔حیدر اس کی بات سنتا اپنے دونوں ہاتھوں کو زور سے ایک دوسرے میں الجھا گیا۔۔

روشانے نے اس کے چہرے پر اپنی بات کا کوئی ردعمل دیکھنا چاہا لیکن وہ بلکل سپاٹ تھا وہ کچھ بھی اخذ نہیں کر پائی۔۔حیدر اس کا فون اٹھا کر میسجز پڑھنے لگا۔۔پھر اپنے فون پر کچھ ٹائپ کرنے لگا۔۔صبح سے کالج جانا شروع کرو مجھے پڑھائی میں لاپرواہی بلکل بھی نہیں چاہیے۔۔وہ دونوں فون ٹیبل پر رکھتا اپنی ٹون میں بولا۔۔روشانے نے حیران ہو کر اس سڑے ہوئے انسان کو دیکھا۔۔اور ہر مسئلے کا حل رونا یا سب چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ جانا نہیں ہوتا۔۔وہ اس کے سرخ چہرے اور سویل آنکھوں کو دیکھتا بولا۔۔جا کر سو جاؤ اور فون تمہیں صبح مل جائے گا۔۔وہ اسے اپنے ہاتھوں کی شامت لائے ہوئے دیکھ کر بولا۔۔وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی جب اس کی آواز پر رکی۔۔گھر میں اور کسی سے بات کی ہے اس بارے میں۔۔حیدر اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا بولا۔۔کسی سے نہیں ساتھ میں زور سے نفی میں سر ہلا۔۔جواب اس کی تواقع کے مطابق تھا۔۔کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔وہ سر ہلاتی مڑی تو ایک دفعہ پھر اس کی آواز پر رکی۔۔مجھ سے ہی کیوں بات کی اس بارے میں۔۔وہ کچھ سوچتا بولا۔۔

میں خود نہیں آئی مجھے مما نے بھیجا ہے کہ آپ سے بات کروں۔۔وہ اپنی ٹون میں واپس آتی بولی۔۔مما نے۔۔حیدر حیران ہو کر بولا۔۔جی مما نے انھوں نے بولا کہ ابھی جا کر آپ سے بات کروں صبح آپ نے جلدی نکل جانا ہے آپ سب سنبھال لیں گے وہ ابھی پر زور دیتی بولی۔۔تاکہ وہ اس وقت اپنے روم میں آنے پر کوئی گیان نہ دینے لگ جائے۔۔اس کی بات سنتا حیدر ابھی بھی ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔وہ کہہ کر روم سے باہر نکل گئی وہ ابھی بھی اسی کنڈیشن میں وہیں کھڑا تھا اس نے واقعی صبح نماز کے بعد نکل جانا تھا اور اس کے شیڈول کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔کیا واقعی ماں نے اسے بھیجا میرے پاس۔۔اور میں ایک رات کے لیے اسی لیے آیا تھا۔۔وہ دروازے کی طرف دیکھتا ابھی بھی یہی سوچ رہا تھا۔۔صبح اسے اس کا فون مل گیا اور وہ دونوں حیدر کے ساتھ ہی کالج گئیں۔۔واقعی اس کا مسئلہ حل ہو چکا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے کیسے کیا ہوگا لیکن اس کی زندگی میں کالج کی طرف سے سکون آ گیا تھا۔۔حیدر نے اسے بولا تھا کہ دوبارہ اس کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ ہو تو رونے یا گھر بیٹھنے کی بجائے اسے بتا دے۔۔۔