Ziddi (ضدی) — Episode 07
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 7
قسط 7 · کہانی
ہر لمحہ اس کے دل کی بڑھتی دھڑکن اپنے سینے پر اور اس کی گرم سانسوں کی نمی اپنی گردن پر وہ اچھے سے محسوس کر رہا تھا۔۔روم میں داخل ہوتے ہی اس نے اسے بیڈ پر پٹخا۔۔بیڈ پر ایسے پھینکنے پر روشانے کی بے اختیار چیخ نکلی۔۔چپ ایک دم چپ اگر تمہاری زرا سی بھی آواز آئی تو سچ میں تمہارا گلا ایک سیکنڈ سے پہلے دبا دوں گا۔۔وہ جارحانہ تیور لیے سرخ آنکھوں سے اس پر جھکتا اس کے ہونٹوں پر انگلی جماتا آہستہ مگر سرد آواز میں غرایا۔۔وہ ایک گھٹنا فولڈ کر کے بیڈ پر رکھے کہنی کے بل اس پر اتنا جھکا ہوا تھا کہ روشانے کو اس کی لفظوں کی تپش کے ساتھ سانسوں کی حدت اپنے چہرے پر صاف محسوس ہو رہی تھی وہ اتنے قریب سے اس ڈریگن کی سرخ خون آشام آنکھیں دیکھتی بڑا سا گھونٹ بھرتی زور سے اپنی آنکھیں بند کر گئی۔۔حیدر کو اپنے پاس آنے پر اس کا آنکھیں بند کر لینا اور تپ چڑھا گیا۔۔آنکھیں کھولو۔۔وہ اسی انداز میں اس پر جھکا اس کے ایک ایک نقش کو دیکھتا بولا۔۔آواز کی سختی ابھی بھی برقرار تھی۔۔
روشانے حیدر لاشاری اگر تم نے ایک سیکنڈ سے پہلے آنکھیں نہ کھولیں تو میں اپنے طریقے سے تمہاری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کروں گا۔۔جب اس کے ایک دفعہ کہنے پر اس نے آنکھیں نہ کھولی تو وہ اپنے ایک ایک لفظ کو چباتا دوبارہ بولا۔۔اس کی آواز میں سختی کے ساتھ واضح وارننگ محسوس کرتے روشانے پٹ سے اپنی آنکھیں کھول گئی۔۔ایک دفعہ کی کی گئی بکواس سمجھ میں نہیں آتی۔۔وہ اس کی بڑی بڑی کوپر آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔جو پلکیں جھپک جھپک کر خوف سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔وہ اس کی بات سنتی زور زور سے ہاں میں سر ہلانے لگی کیونکہ وہ ابھی بھی اس کے ہونٹوں پر سختی سے اپنی انگلی جمائے ہوئے تھا۔۔حیدر کو اس وقت وہ اس خوفزدہ ہرنی کی مانند لگی جو اپنے سامنے شکاری کو دیکھ کر اپنی آنکھوں میں خوف کے ساتھ معصومیت لیے اسے دیکھ رہی ہو۔۔زبان کرائے پر دی ہوئی ہے۔۔اس کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔۔حیدر کے گھور کر دیکھنے پر وہ آنکھوں سے اس کی انگلی کی طرف اشارہ کرنے لگی۔۔آنکھوں کے اشارے پر اس کا دھیان اپنی انگلی کی طرف گیا جو اس کے ہونٹوں پر جمی ہوئی تھی۔۔
اس کے نرم گلابی ہونٹوں کو دیکھتے دل نے شدت سے ان کو تھوڑی دیر محسوس کرنے کی خواہش کی۔۔میں نے وارننگ دی تھی نہ کہ جو لوگ میرا کہنا نہیں مانتے میں ان کا کیا حشر کرتا ہوں۔۔وہ دل کی خواہش کو دباتا انگلی ہٹا کر اس کی گال پر ہاتھ جماتا ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے رب کرتا مزید اس پر جھکتا بولا۔۔اس کی باتوں کے ساتھ اس کا غصہ دیکھتے روشانے کو اپنے دل کی دھڑکن بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔وہ کہیں سے بھی تھوڑی دیر پہلے والا حیدر نہیں لگ رہا تھا جو سب کے سامنے ڈٹ کر اس کے لیے کھڑا تھا۔۔میں نے بکواس کی تھی نا کہ سوائے میرے تم کسی کے لیے بھی کچن میں نہیں جاؤ گی۔۔حیدر کا دماغ ایک دفعہ پھر سے سب یاد کرتے کھولنے لگا۔۔ووو۔۔وہ دا۔۔دی اور پھ۔۔پھو۔۔میری بات تمہارے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ دادی اور پھپھو کی۔۔وہ اس کے لفظوں کو توڑ کر بولنے پر ایک بازو اس کے شولڈر کے نیچے سے گزارتا سختی سے خود میں بینھچتا دوسرے ہاتھ سے اس کا جبڑا دبوچتا اس کے چہرے پر غرایا۔۔روشانے کی سانسیں شدت سے خشک ہو رہی تھی۔۔
حیدر کو اپنی بات نہ ماننے پر اس پر شدید تپ چڑھ رہی تھی اگر وہ وقت پر نہ آتا تو۔۔اس سے آگے کا سوچ کر ہی اس کا دماغ ابلنے لگاتا۔۔آآآ۔۔۔آپ کی۔۔۔وہ روہانسی مری مری آواز میں بولی۔۔تو پھر مانی کیوں نہیں۔۔وہ مزید اسے خود میں بینھچتا بولا۔۔سس۔۔سوری۔۔وہ پہلی دفعہ اپنی غلطی مانتی شرافت سے سوری بولتی سرگوشی میں منمنائی۔۔حیدر نے اس کی خوفزدہ آنکھوں سے نظریں سرکا کر اس کے ہونٹوں کی طرف دیکھا جو اس کے جبڑا دبوچنے کی وجہ سے ادھ کھولے پاؤٹ کی شکل میں بنے ہوئے خشک ہو رہے تھے۔۔میری بات کو رد کرنے کی سزا تو ملے گی تاکہ آئندہ ہمت نہ کر سکو۔۔وہ اس پر مزید جھکتا بولا۔۔بولنے سے حیدر کی مونچھوں کے ساتھ لب بھی روشانے کے لبوں کے کناروں پر ٹچ ہو رہے تھے جو روشانے کی جان نکالنے کو کافی تھا۔۔روشانے کو لگا کہ وہ ڈریگن اپنے کہے کہ مطابق اس کا گلا دبا کر اسے سزا دے گا۔۔حح۔۔حیدر سس۔۔سوری۔۔وہ پہلی دفعہ اس کا ٹوٹا پھوٹا نام پکارتے پھر سے سوری منمنائی۔۔روشانے کے بولنے سے اس کے ہونٹ حیدر کے ہونٹوں پر ٹچ ہوئے۔۔
حیدر نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس کے لبوں سے اپنا نام اور سوری سنا تھا وہ بھی ٹوٹا پھوٹا سسکی کی صورت میں۔۔اس کی سانسوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں گھلتی حیدر کی خواہش میں اصافہ کر رہی تھی۔۔نہیں اگر تمہیں صرف لفظوں کی زبان سمجھ میں آتی تو میری بات کو اگنور کرنے کی ہمت نہ کرتی۔۔وہ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رب کرتا بولا۔۔انداز میں شدت تھی۔۔روشانے کی پھولتی سانسیں روکیں۔۔دل شدت سے دھڑکتا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو ہو رہا تھا۔۔حیدر اس کا جبڑا چھوڑتا اس کی گال پر ہاتھ پھیرتا سرکاتا گردن پر لے آیا۔۔بےاختیار روشانے کے ہونٹوں سے سسکی نکلی جسے وہ اپنے ہونٹوں میں دباتا اس کے نرم لبوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لے گیا۔۔روشانے پہلے تو شاک ہوئی اسے لگا کہ وہ صرف اسے ڈرانے کی حد تک اس کے اتنا قریب آیا ہے وہ پہلا مرد تھا جو اس کے ہونٹوں پر قابض اس کی سانسوں میں گھل رہا تھا لیکن اس کی سزا کا سوچتے بےاختیار اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے مزاحمت کی۔۔حیدر کو اس وقت اس کی مزاحمت بالکل بھی پسند نہیں آئی۔۔
وہ اپنے شولڈر والے بازو کے ساتھ ہونٹوں کی گرفت میں بھی سختی لے آیا۔۔وہ پورا اس پر آتا اس کی ٹانگیں اپنی ٹانگوں میں لاک کرتا اس کے نازک سے وجود کو سختی سے خود میں بینھچے اس کی سانسیں پی رہا تھا۔۔روشانے کے اس کی اتنی سختی پر آنسو ٹوٹ کر اس کے بالوں میں جذب ہونے لگے وہ اپنی مزاحمت روکتی اس کے سینے سے جلد کے ساتھ اس کی شرٹ کو بھی مٹھیوں میں دبوچ گئی۔۔اس کا انگوٹھا شدت سے روشانے کی گردن پر موجود تکون تل کو رب کر رہا تھا۔۔تھوڑی دیر بعد روشانے سانسوں کے لیے تڑپنے لگی آکسیجن نہ ملنے پر چہرے سے لے کر پورا بدن پسینے سے بھیگنے لگا۔۔وہ انسان واقعی ڈریگن کی طرح اس کی سانسیں پی رہا تھا۔۔روشانے نے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بلکل بھی ہل نہیں پا رہی تھی۔۔وہ پوری کی پوری اس کے نیچے دبی ہوئی تھی۔۔حیدر کبھی اس کا بالائی لب ہونٹوں میں بھرے شدت سے سک کر رہا تھا کبھی نیچے والا۔۔وہ جیسے ہی تھوڑا سا ہل کر مزاحمت کرنے کی کوشش کرتی وہ اپنے دانتوں کا استعمال کرتا اپنے عمل میں اور سختی لے آتا۔۔
روشانے کو آج سچ میں اس عجیب سزا کی صورت میں اپنی موت نظر آ رہی تھی۔۔اس نے خود کو اس کے رحم کرم پر چھوڑ دیا۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا سانسوں کے لیے تڑپتا وجود جھٹکا کھا کر ڈھیلا پڑنے لگا۔۔حیدر اس کے نچلے لب کو دانتوں میں بھرے زور سے کھینچتا ہونٹوں میں دباتا چھوڑ کر چہرہ تھوڑا سا اوپر اٹھائے اسے دیکھنے لگا جو پسینے سے بھیگی سانس لینے کے لیے تڑپ رہی تھی لیکن اسے سانس نہیں آ رہی تھی۔۔آنسو لڑی کی مانند بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔۔حیدر اس کی گردن سے ہاتھ اس کی گال پر جماتا اس کی گالوں کو انگوٹھے اور انگلیوں کی مدد سے دبا کر بچوں کی طرح اس کا منہ کھولتا اپنی سانسیں اس تڑپتے وجود کو دینے لگا۔۔روشانے بےصبری سے اس کی سانسیں خود میں کھینچ رہی تھی۔۔تھوڑی دیر بعد حیدر نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر زور سے جمائے سر ایک طرف گرائے گہرے سانس لیتی اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی۔۔گہرے سانس لینے سے اس کا پورا سینہ موو ہو رہا تھا۔۔حیدر کی نظریں اپنے لمس سے بھیگے اپنی شدتوں سے سرخ پڑے اس کے ہونٹوں پر پڑی۔۔
وہ کتنی دیر ان کو دیکھتا رہا پھر نظر اس کی گردن پر کی جو اپنے انگوٹھے سے بلکل سرخ کر چکا تھا۔۔دوبارہ میری بات پر کسی اور کی بات کو ترجیح دو گی۔۔؟وہ اپنی گال اس کی نرم سی گال پر زور سے رب کرتا اپنے طریقے سے اس کی جان نکالتا بولا۔۔وہ زور سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔اگر دی تو۔۔؟وہ اپنا چہرہ سرکاتا اس کی گردن میں چھپاتا بولا۔۔نن۔۔نہیں۔۔دو۔۔دوں۔۔گی۔۔وہ اس کا آگ کی طرح دہکتا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی ٹوٹا پھوٹا سسکیاں لیتی بولی۔۔حیدر اپنے دل کی خواہش پوری کرتا اس کے تل پر لب جما گیا۔۔تھوڑی دیر بعد زور سے دانتوں میں بھرتا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔جو بھری آنکھوں اور سرخ نم چہرے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی جو اس کی بیئرڈ کی رگڑ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔اس انسان کی اتنی نزدیکی پر پھر سے سانسیں پھول رہی تھی۔۔وہ اس کی سرخ آنکھیں دیکھتی چہرہ اوپر کو اٹھاتی اس کی گردن میں چھپا گئی۔۔پہلی دفعہ اس لڑکی کی اس معصوم سی حرکت پر حیدر کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔وہ اس سے خوفزدہ ہوتی اسی میں چھپ رہی تھی۔۔
اگر دوبارہ ایسی غلطی کی تو دوبارہ سانس لینے کی مہلت نہیں دوں گا سیدھے جنت الفردوس میں آنکھ کھولے گی۔۔وہ اپنے چہرے کے ساتھ لحجے کو بھی بےتاثر بناتا اس کا چہرہ اپنی گردن سے نکالتا آواز کو مزید سرد بناتا سرگوشانہ انداز میں غرایا۔۔روشانے نے بےاختیار بڑے سے گھونٹ سے اپنا حلق تر کیا۔۔سمجھ آئی۔۔وہ ایسے ہی اسے خود میں بینھچے اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔آواز پرسرار سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی۔۔وہ زور سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔ حیدر تھوڑی دیر اس کی بھیگی کوپر آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر عادت کے مطابق اسے پھینکنے کے انداز میں اس کے شولڈر کے نیچے سے اپنا بازو نکالتا جھٹکے سے خود سے دور کرتا اٹھ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ بڑھ گیا۔۔دو منٹ میں کپڑے چینج کر کے آؤ۔۔عادت کے مطابق اسے ڈانٹتا سختی سے بولا اور خود ڈراز سے کچھ ڈھونڈنے لگا۔۔اس ڈریگن کے چنگل سے خود کے زندہ بچ جانے کا یقین کرتی وہ پھر سے اس کی ڈانٹ سنتی اٹھ کر ٹرین کی رفتار سے ڈریسنگ روم میں بھاگ گئی۔۔بےوقوف لڑکی۔۔وہ اس کی سپیڈ دیکھتا عادت کے مطابق بڑبڑیا۔۔سو گئی ہو کیا۔۔
اگلے پندرہ منٹ میں بھی جب وہ ڈریسنگ روم سے باہر نہیں آئی تو وہ زور سے روم کا دروازہ بجاتا بولا۔۔وہ جو پچھلے تین منٹ سے دل پر ہاتھ رکھے اپنی بڑھتی دھڑکن پر قابو پاتی دروازے کے پاس کھڑی روم سے باہر نکلنے کا حوصلہ کر رہی تھی اس کی غصیلی آواز کے ساتھ اتنی زور سے دروازہ بجانے پر اچھل کر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔یا اللہ پاک تو مجھے اس ڈریگن جلاد سے محفوظ رکھنا۔۔وہ اوپر منہ کرتی ہاتھ جوڑے اللہ سے بولی۔۔اسے اپنے ہونٹوں اور گردن پر بہت جلن فیل ہو رہی تھی۔۔گہرا سانس لے کر خارج کرتی جلدی سے ہاتھ دروازے کی طرف بڑھاتی اس سے پہلے قدم باہر رکھتی۔۔زور سے کسی سے ٹکرائی۔۔کیونکہ دروازہ اس کے کھولنے سے پہلے ہی کھل چکا تھا اور وہ لڑکھڑاتی اس سے پہلے اس کی قدم بوسی کرتی سامنے والے کے سینے میں سمائی کھڑی تھی۔۔پہلے تو روشانے کو سمجھ نہیں آئی جب اس کے کلون کی سٹرونگ خوشبو اس کے ناک سے ٹکرائی تو چونک کر چہرہ اوپر کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو اس کے گرد اپنی بازو لپیٹے اپنی گرفت میں لیے اسے ہی گھورنے کا فریضہ انجام دے رہا تھا۔۔
یہ تم نہا کر آئی ہو وہ اس کے نم سراپے کو دیکھتا بولا۔۔نظریں اس کے ہاتھ اور پاؤں پر کیں جن کی جلد پانی ڈالنے سے اور سرخ ہو رہی تھی کیونکہ ابھی تک اس کے جلے ہوئے حصوں پر کچھ بھی نہیں لگایا تھا۔۔اس کے گھور کر پوچھنے پر وہ جلدی سے نفی میں سر ہلا گئی۔۔نن۔۔نہیں تو صرف جسم۔۔پر پانی۔۔ڈالا ہے۔۔وہ رکتی بولی۔۔اچھا تووو۔۔محترمہ نہانا کسے کہتے ہیں۔۔وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹاتا اس کے ہاتھ کا معائنہ کرتا بولا۔۔اگر ساتھ میں سر بھی دھوئیں تو اسے نہانا بولتے ہیں۔۔وہ واقعی اسے ایسے بتا رہی تھی جیسے اسے بالکل بھی پتہ نہ ہو۔۔حیدر نے حیران ہو کر اس لڑکی کو دیکھا۔۔کیا وہ واقعی اتنی معصوم تھی یا اسے بے وقوف بنا رہی تھی۔۔اسے اپنی ماں کی کہی گئی بات یاد آئی کہ وہ بہت معصوم ہے اسے مت ڈانٹا کرو۔۔تھینک یو اتنی قیمتی معلومات دینے کے لیے مجھے نہیں پتہ تھا۔۔حیدر اسے اپنے بازو کے حصار سے آزاد کرتا بولا۔۔روشانے کو اس کے سڑے ہوئے انداز سے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وہ واقعی اس کا شکریہ ادا کر رہا ہے یا طنز کی مار مار رہا ہے۔۔
وہ اسے لے کر بیڈ پر بیٹھا اور کریم نکال کر اس کی شرٹ کا بازو اوپر کر کے لگانے لگا تو بےاختیار روشانے نے اپنا بازو پیچھے کھینچا۔۔مم۔میں۔خود ہی لگ۔۔لگا لوں گی پلیز۔۔وہ اس کے گھورنے پر جلدی سے مری مری آواز میں منمنائی۔۔آنکھوں میں واضح نمی کی لکیر تھی۔۔اسے واقعی بہت جلن اور درد ہو رہا تھا۔۔آہستہ سے لگاؤں گا ابھی تھوڑی دیر میں درد اور جلن ختم ہو جائیں گے۔۔وہ اس کی نم آنکھوں میں درد کی تحریر پڑھتا بولا۔۔آواز کے ساتھ اس کے مرہم لگانے کے انداز میں بھی بہت نرمی تھی جو روشانے بے یقینی سے دیکھ اور سن رہی تھی وہ زندگی میں پہلی دفعہ اس کی نرم آواز سن رہی تھی۔۔اسے اس کی نرم سی آواز کسی خوبصورت خواب سے کم نہیں لگی۔۔وہ نظروں میں حیرانگی سموئے اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے بازو پر بالکل نرم انداز میں مرہم لگانے کے ساتھ ہلکے ہلکے پھونک بھی مار رہا تھا۔۔حیدر کا چہرہ روشانے کی نظروں کے بلکل پاس تھا۔۔پہلی دفعہ روشانے اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔چوڑی بلوں سے بھری پیشانی پر لچھوں کی صورت سیاہ بکھرے بال۔۔غصے سے بھری سرخ موٹی موٹی ہیزل آنکھیں۔۔
بھرے بھرے آئبروز جو ماتھے پر پڑے بلوں کی وجہ سے تنے ہوئے تھے۔۔بھرے گالوں پر گھنی بئیرڈ،کھڑی ستوں ناک جو دیکھنے میں ہی غصے سے اکڑی ہوئی لگ رہی تھی۔۔گھنی سیاہ مونچھوں کے نیچے بھرے بھرے سرخی مائل ہونٹ جو سگریٹ پینے کی وجہ سے ہلکے ڈراک ہو رہے تھے۔۔چوڑے کندھے کسرتی چوڑا کٹ والا سینہ جو مردانہ بالوں سے سجا ہوا تھا مضبوط کسرتی بازو۔۔وہ بے خیالی میں اس کے ایک ایک باڈی پارٹ کو دیکھنے میں مصروف تھی۔۔وہ اپنی نظریں اس کے سینے سے سرکاتی جو شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھولے ہونے کی وجہ سے نظر آ رہا تھا اس کے ہاتھوں پر لے آئی۔۔اس کے مضبوط مردانہ بالوں سے سجے صاف شفاف ہاتھوں میں بھرے اپنے نازک سے ہاتھ کو دیکھا۔۔بےشک وہ ایک اونچا لمبا صحت مند کم پلا ہوا زیادہ کہہ سکتے ہیں مردانہ وجاہت کا ایک پر کشش انسان تھا۔۔جو کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا تھا۔۔حیدر اس کی نظریں خود پر تفصیل سے محسوس کر رہا تھا۔۔اس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا یعنی اس کی ڈرپوک بیوی اس کی مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر اسے تفصیل سے نہارنے میں مصروف تھی۔۔
وہ اسے اس کے کام میں مصروف چھوڑ کر اٹھ کر نیچے اس کے قدموں میں بیٹھتا اس کا پاؤں اٹھا کر اپنی تھائی پر رکھ گیا۔۔روشانے نے حیرانگی سے منہ کھول کر اس کھڑوس انسان کو دیکھا۔۔پھر نظریں اس کی تھائی پر پڑے اپنے پاؤں پر کی تو پورے جسم میں عجیب سا سپارک ہوا۔۔شائد ہر عورت کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا کہ کوئی بھی مرد چاہے وہ کیسا بھی ہو اپنی کسی ایک خوبی کی بنا پر اس کے دل پر نقش ہو جاتا ہے۔۔اور روشانے کی زندگی میں شائد وہ لمحہ کلک کر کے گزر چکا تھا جو فلحال اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔آپ رہنے دیں۔۔مم۔۔میں خود۔۔وہ تھوڑا نیچے کو جھکتی اس کے اپنے پاؤں کی طرف بڑھتے ہاتھ کو اس سے پہلے روکتی حیدر کے نظریں اٹھا کر دیکھنے پر اپنی بات اُدھوری چھوڑتی فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔حیدر دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔روشانے نے چور نظروں سے اسے دیکھا جو نظریں جھکائے اس کا پاؤں اٹھا کر دیکھ رہا تھا۔۔
اس کے زخموں پر پہلی دفعہ کسی نے مرہم رکھا تھا ورنہ جب سے مما فوت ہوئیں تھیں آج تک وہ خود ہی اپنے زخموں پر مرہم لگاتی آئی تھی دل نا چاہتے ہوئے بھی اس انسان کو دیکھنے پر آنکھوں کو مجبور کر رہا تھا۔۔روشانے تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے اگر اس ڈریگن کو پتہ چل گیا نا کہ تو اسے دیکھ رہی ہے تو جان نکال لے گا تیری۔۔وہ اس کی تھوڑی دیر پہلے دی گئی سزا کا سوچتی اپنی حرکت پر خود کو ڈانٹتی دل میں بولی۔۔جتنے عجیب خود ہیں اتنی ہی عجیب سزا دیتے ہیں وہ تھوڑی دیر پہلے کے لمحات یاد کرتی تیز ہوتی دھڑکن سے سوچتی خود سے بولی۔۔لیکن تھوڑی دیر بعد پھر سے نظروں نے اس انسان کا پوسٹ مارٹم کرنا شروع کر دیا۔۔اگر اب تم مجھے ادھر اُدھر چلتی پھرتی نظر آئی تو اسی وقت اٹھا کر ونڈو سے باہر نیچے پھینک دوں گا۔۔وہ کھڑا ہوتا میڈیکل بوکس میں چیزیں رکھتا اٹھا کر ڈراز میں رکھتا بولا۔۔جہاں بیٹھی ہو نا چپ چاپ ادھر ہی لیٹی نظر آؤ۔۔وہ اس کی طرف دیکھتا بولا۔۔انداز میں ڈانٹ واضح تھی۔۔وہ ڈریسنگ روم کی طرف جا رہا تھا کہ تین قدم پر رکتا گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
روشانے جو ابھی بھی بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھی اسے رکتا محسوس کرتی بےاختیار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔جو دوبارہ سے اپنی بات کا کوئی اثر نہ ہونے پر اسے گھور رہا تھا۔۔روشانے اس کی آنکھوں میں وارننگ دیکھتی بازو سیدھے کرتی اسی حالت میں جلدی سے پیچھے کو سیدھی لیٹتی آنکھیں بند کر گئی۔۔حیدر نے اسے حیرانگی سے بیڈ سے ٹانگیں لٹکائے آنکھیں بند کر کے لیٹا دیکھا۔۔بےوقوف لڑکی۔۔پھر نفی میں سر ہلاتا اپنے من پسند نام سے نوازتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔روشانے نے تھوڑی دیر بعد ایک آنکھ کھول کر ادھر دیکھا پھر اٹھ کر پورے روم میں نظریں گھمائیں۔۔اسے روم سے غائب پا کر بےاختیار شکر کا سانس خارج کیا۔۔اکڑو۔۔کھڑوس۔۔سبز کریلا۔۔وہ بھی کڑوے والا۔۔نیم کا پتہ۔۔کڑوا بادام۔۔وہ اٹھ کر بیٹھتی اونچی آواز میں اسے اپنے من پسند ناموں سے نوازنے لگی۔۔بات بعد میں کرتے ہیں مارنے مرانے اور اٹھا کر باہر پھینکنے کی دھمکی پہلے دیتے ہیں۔۔
پتہ نہیں مما نے ان کی دفعہ صرف کریلے اور کڑوے بادام ہی کھائے تھے یا پھر خون خرابے والی موویز دیکھتی رہیں ہیں حنان بھائی اور حاشر بھائی کتنے سویٹ ہیں۔۔کتنے اخلاق اور سویٹ انداز میں سب سے بات کرتے ہیں اورکتنا پیار کرتے ہیں اپنے بیوی بچوں سے۔۔ایک یہ ہیں پیار تو دور مجھے لگتا ہے پیار کی پ کا بھی نہیں پتہ اور سویٹ کبھی زندگی میں میٹھا کھایا ہو گا تو سویٹ بولیں گے نا۔۔اپنی بیوی کے ساتھ اپنے معصوم بچوں کا بھی آنکھوں سے گھور گھور کر خون خشک کر کے رکھیں گے۔۔افف کوئی لڑکی ان کی اکڑی ہوئی ناک کے نیچے آئے گی تو بیوی سے پیار کریں گے تب بچے آئیں گے نا ان کے بچے آنے کے تو کوئی چانس ہی نہیں ہیں۔۔رومانس لیس انسان۔۔وہ اٹھ کر بیڈ پر دوسری سائیڈ اپنی جگہ سٹ کرتی مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔۔بیڈ پر بیٹھتی دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا کیچر سے بالوں کو آزاد کرتی گردن اوپر اٹھائے دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹتی بےاختیار نظریں مرر کی طرف اٹھی تو جان ہوا ہونے کے ساتھ چلتی زبان کو ایک دم بریک لگی۔۔۔
ماضی
آج حنان کی چھوٹی بیٹی کی سالگرہ تھی حویلی میں بہت سارے مہمان آئے ہوئے تھے۔۔حنان لاشاری نے منع کیا کہ ہر دفعہ کی طرح ہلکا پھلکا سا فنکشن کر لو لیکن نوید،روشانے اور عائزہ نے ان کو منا کر اجازت لے لی پھر حاشر کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور سپیشل ارینج کیا۔۔حیدر کو ایسے فنکشن بلکل بھی پسند نہیں تھے لیکن بچوں کے فون کرنے پر وہ بھی گھر آ گیا۔۔دونوں پھپھو اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ چچی اور نازیہ بھی اپنی فیملی کے ہمراہ آئی ہوئی تھیں۔۔حاشر نے حیدر کا منت ترلا کرکے روشانے کے کہنے پر پوری حویلی کی لائٹنگ کروائی تھی۔۔اسے یہ ٹنی ٹنی جلتی بجھتی لائیٹس بہت پسند تھیں دیکھنے میں کتنی چھوٹی سی ہیں لیکن گھور اندھیرے میں پھر بھی اتنی سی روشنی کر دیتی تھیں کہ آپ اندھیرے میں اپنا رستہ دیکھ سکیں۔۔ان کو دیکھ کر اس کے اندر ایک امید پیدا ہوتی کہ ایک دن اس کی سیاہ زندگی بھی ایسے ہی جگمگائے گی۔۔چاہے ان چھوٹی سی لائٹوں کی طرح تھوڑی سی جگمگاہٹ جو دیکھنے والے کو دور سے ہی نظر آ جاتی ہے اس کی زندگی میں بھی روشنی آئے گی۔۔
وہ گھنٹوں بیٹھی ان چھوٹی چھوٹی لائیٹس کو دلچسپی سے دیکھ سکتی تھی۔۔اس نے اپنے روم میں ایسی بہت ساری چھوٹی چھوٹی لائیٹس جمع کی ہوئیں تھیں۔۔وہ جب بھی مایوس ہوتی تو کمرے میں اندھیرا کر کے ان کو جلا کر بیٹھ جاتی۔۔آج بھی ساری ڈیکوریشن ایک طرف بٹ وہ دلچسپی سے اپنی کوپر آنکھوں میں الگ ہی چمک لیے ان جگمگاتی ٹنی لائیٹس کو دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی۔۔مہمانوں کو دیکھتے کافی سارے کیک آڈر کیے گئے کیونکہ سالگرہ پر کیک تو سب کو چاہیے ہوتا ہے۔۔نوید نے اس کے لیے پائن ایپل کے ساتھ مینگو سپشل بنوایا تھا کیونکہ اسے پائن ایپل اور مینگو فیلور بہت پسند تھا۔۔دادی پھپھو چچی اور تانیہ کب سے اس پر اپنی چیل جیسی نظریں گھاڑے بیٹھی ہوئی تھیں۔۔وہ نیوی بلو فراک کیپری میں ہونٹوں پر ہلکی سی لپسٹک آنکھوں میں کاجل اور مسکارہ براؤن گھنے بالوں کا بہت ہی خوبصورت سٹائل بنا کر باقی بال کمر پر کھولے چھوڑے ہوئے تھے۔۔
نک میں بلو نگوں والا نیکلس کانوں میں نیکلس کے ساتھ بڑے بڑے ائیر رنگز بازوں میں چوڑیاں دونوں ہاتھوں میں ایک ایک چھلا نما نازک سی رنگز پاؤں میں ہیلز پہنے وہ سب سے الگ لگ رہی تھی۔۔سب گھر والوں نے اس کی تعریف کی تھی سوائے ایک کھڑوس انسان کے جس نے گھر آتے ہی اس پر نظر پڑتے ہی کافی کا آڈر دے دیا تھا۔۔وہ بچاری جو تھرڈ فلور کے سٹور روم سے گلاس کے تین باکس اٹھائے ساتھ اپنے دوپٹے سے جنگ کرنے میں مگن تھی جو سارا ایک طرف لٹکتا زمین بوس ہونے کو تیار تھا منہ سے کھینچ کر اوپر کر رہی تھی۔۔افف کہاں پھنس گئی۔۔یہ نوید کا بچہ پتہ نہیں کہاں رہ گیا۔۔اسے اب نوید پر تپ چڑھ رہی تھی۔۔سٹوپڈ تو کہاں جا ریا ہے وہ دوپٹے کو پھر سے سرکتا دیکھ کر کوستی اپنے دھیان میں سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔۔چہرہ ایک طرف جھکائے منہ سے دوپٹہ پکڑے اپنے دھیان میں چلتی زور سے کسی سے ٹکرائی۔۔گلاس کا سب سے اوپر والا باکس جو اس کے چہرے کے بلکل سامنے تھا ٹکر لگنے سے زمین بوس ہوتا چھنکے سے ٹوٹا۔۔ہائے اللہ جی۔۔وہ جو فضا میں لٹک رہی تھی بولتی زور سے آنکھیں بند کر گئی۔۔
حیدر جس کی ایک ضروری کال تھی ہر طرف رنگ برنگے چہرے رش اور شور شرابہ دیکھ کر کال لیتا اوپر چڑھ آیا۔۔اپنے دھیان میں سیڑھیوں سے اوپر قدم رکھا جب کوئی زور سے اس سے ٹکرایا اور ساتھ زمین پر گر کر کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔نسوانی آواز کی طرف متوجہ ہوتا خود سے ٹکرا کر لڑکھڑا کر گرتی ہستی کی کمر میں بازو ڈال کر اسے زمین بوس ہونے سے بچایا۔۔کبھی زندگی میں کوئی کام سیدھا بھی کیا ہے تم نے۔۔اس کے برسنے پر وہ پٹ سے آنکھیں کھولتی خود پر جھکے اس انسان کو دیکھنے لگی۔۔اس پر جھکے انسان نے بےاختیار اس کی مسکارے اور کاجل سے سجی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھا جو حیرانگی سے اسے ہی ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھیں۔۔آپ کہاں سے آ گئے۔۔وہ بےاختیار بولی۔۔اور میرا ہر کام تب تک سیدھا ہی ہوتا ہے جب تک آپ بھیچ میں نہیں ٹپک۔۔مطلب آتے۔۔حیدر کے گھور کر دیکھنے پر وہ جلدی سے بات بدلتی بولی۔۔آنکھیں اتنی بڑی بڑی ہیں اور کام ایک مرغی جتنا نہیں ہوتا تم سے کم از کم کام تو اپنی آنکھوں کے سائز کے حساب سے کر لیا کرو تاکہ ان کا تھوڑا بہت بھرم رہ جائے۔۔
حیدر نیچے ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے دیکھتا اس کی موٹی موٹی آنکھوں کو نشانہ بناتا بولا جو کاجل اور مسکارے سے سج کر بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔وہ ابھی بھی اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس پر جھکا کھڑا تھا۔۔دوسرے لفظوں میں آپ مجھے اندھا اور کمزور کہہ کر میری آنکھوں کی بےعزتی کر رہے ہیں۔۔وہ غصے سے تپتی بولی۔۔حیدر نے کندھے اچکائے۔۔آآآپ۔۔حیدر نے اس کی زبان کھولنے سے پہلے ہی آنکھوں سے نیچے کی طرف اشارہ کیا نظروں میں واضح زبان بند رکھنے کی وارننگ تھی۔۔روشانے کو یاد آیا کہ وہ ہوا میں لٹکی ہوئی ہے اس نے بےاختیار چہرہ گھما کر نیچے دیکھا تو خوف سے جان نکلنے والی ہوئی۔۔کیونکہ نیچے کانچ کے نوکدار ٹکڑے پڑے تھے اگر اس انسان نے عادت کے مطابق اسے چھوڑ دیا تو۔۔آگے کا سوچ کر ہی اس کا دل حلق میں آیا۔۔پلیز چھوڑنا مت پلیز۔۔وہ آنکھوں میں خوف لیے روہانسی ہو کر اس کی منت کر رہی تھی۔۔وہ ایک بازو پر ڈبے اٹھائے دوسرے ہاتھ سے پکڑے ہوا میں اس کے بازو کے آسرے لٹکی ہوئی تھی۔۔اب بولو کیا بول رہی تھی۔۔کک۔۔کچھ بھی نہیں پلیز۔۔وہ اٹکتی روہانسی ہوتی پھر سے نیچے دیکھتی منت کرتی بولی۔۔
حیدر نے ایک ہاتھ گلاس کے ڈبوں پر رکھتے آہستہ سے اسے سیدھی کھڑی کیا۔۔سیدھی کھڑی ہونے پر اس کی جان میں جان آئی۔۔یااللہ پاک شکر ہے تیرا بچا لیا۔۔وہ بےاختیار اوپر کو منہ کرتی شکر ادا کرنے لگی۔۔حیدر کی نظر اس کے کھلے گھنے بالوں پر پڑی جو کمر سے نیچے تک جھول رہے تھے۔۔اپنا یہ جنگل سمیٹو اور میرے لیے کافی کا ایک مگ بنا کر لاؤ۔۔وہ جو اپنے گھنے بالوں کو جنگل کہنے پر حیران ہو رہی تھی اس کے آڈر پر اپنے چہرے پر بار بار آنے والے بالوں کو چہرہ بازو پر رگڑتی پیچھے کرتی منہ کھول کر دیکھنے لگی۔۔وہ اسے آڈر دے کر آگے بڑھنے لگا جب روشانے جلدی سے اس کے سامنے آئی۔۔حیدر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا کم گھورا زیادہ۔۔میں اتنی مشکل سے تیار ہوئی ہوں میں اب بلکل کچن میں نہیں جاؤں گی میری ساری تیاری خراب ہو جائے گی۔۔وہ اس کے منہ پر جواب دیتی روہانسی ہوتی بولی۔۔اگر اگلے پانچ منٹ میں کافی بنا کر نہ لائی تو۔۔تیاری تو پھر بھی خراب ہو ہی جائے گی۔۔وہ سخت لہجے میں وارننگ دیتا بولا۔۔میں نہیں بنا کر دوں گی آج اپنی کڑوی کافی کسی اور سے بنوائیں۔۔
وہ پھر سے جواب دیتی نیچے کی طرف قدم بڑھا گئی لیکن اگلے ہی پل زور دار جھٹکا لگنے سے رکی ہیلز پہننے کی وجہ سے وہ اچھا خاصا لڑکھڑاتی گرنے لگی کہ حیدر نے اسے دونوں بازوں سے مضبوطی سے تھام لیا۔۔تمھیں میری ایک دفعہ کی کہی گئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔وہ عادت کے مطابق اس کا بازو پکڑے جھٹکے سے اپنی طرف موڑتا اس کے چہرے پر آہستہ مگر سختی سے بولا۔۔روشانے دونوں ڈبے بمشکل سنبھالتی اسے دیکھنے لگی۔۔آپ بھی تو میرے ایک دفعہ کہنے پر میری بات نہیں نا مانتے۔۔ایک یہی اس کی زبان ہی تھی جو حیدر کو تپ چڑھاتی تھی۔۔اس زبان کو وہاں کیوں لگامیں ڈل جاتی ہیں جن کے سامنے اسے چلنا چاہیے کہ اس کے جوہر صرف میرے سامنے ہی دکھا سکتی ہو۔۔وہ غصے سے اپنے لفظوں کو چباتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔ٹھیک ہے مل جائے گی۔۔وہ اس کی بات کو اگنور کرتی بولی۔۔شانی۔۔سوری سوری یار وووہ۔۔۔نوید جو کافی لیٹ ہو چکا تھا اس کی ناراضگی کے ڈر سے بھاگ کر سیڑھیاں چڑھتا اوپر پہنچا۔۔اوپر قدم رکھتے ہی خود کو بریک لگا کر اپنا فقرہ ادھورا چھوڑا۔۔
نیچے پڑے ٹوٹے ہوئے گلاسوں سے اس کی نظر سامنے ان دونوں کی طرف اٹھی۔۔اس نے پہلوؤں پر ہاتھ رکھ کر زور سے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور لمبا سانس کھینچا۔۔سامنے کھڑے اتھرے بیل کو دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ روشانے لاشاری بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈال چکی تھی۔۔حیدر بھائی کیا ہوا شانی یہ گلاس کیسے ٹوٹے۔۔وہ غصے سے سرخ پڑے اس ڈریگن کو دیکھتا بولا یہ نام روشانے نے اسے بتایا تھا۔۔جب پتہ ہے کہ یہ ہر کام کرنے کی بجائے بگاڑتی ہے تو تم لوگ اس کو کام کہتے ہی کیوں ہو۔۔حیدر اسے سیدھی کھڑی کرتا بولا جو ہیلز کی وجہ سے ڈس بیلنس ہو رہی تھی۔۔نوید نے جلدی سے اس سے باکس پکڑے۔۔میں نے بھی کسی کو انویٹیشن نہیں دیا کہ آؤ مجھے ہی سب کام بولو۔۔وہ اپنا پھر سے گرتا دوپٹہ لاپرواہی سے گلے میں ڈالتی اپنے کپڑے جھاڑتی بولی۔۔حیدر نے ایک نظر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو اسے جواب دینا اپنا فرض سمجھتی تھی۔۔دوپٹہ لاپرواہی سے گلے میں ڈالا ہوا ایک طرف جھول رہا تھا اس کا جسم بھرا بھرا تھا جو فٹ فراک سے بالکل واضح ہو رہا تھا۔۔حیدر بھائی سوری شانی چل یار نیچے ابھی برتن ارینج کرنے ہیں۔۔
نوید جلدی سے ان دونوں کے درمیان میں آتا بولا۔۔میں نیچے جا کر اب کوئی کام نہیں کرنے والی۔۔وہ دونوں ہاتھوں سے چہرے سے بال کانوں کے پیچھے کرتی بولی اس کے بازوؤں میں پہنی چوڑیاں ہاتھوں کو ہلانے سے مسلسل کھنک رہیں تھیں۔۔اور آپ کافی ادھر ہی پینا پسند فرمائیں گے یا اپنے روم میں۔۔وہ فون میں بزی اس سڑے ہوئے انسان سے مخاطب ہوئی۔۔حیدر نے فون سے نظریں اٹھا کر اسے گھورا۔۔یہ دوپٹہ پٹا بنا کر گلے میں ڈالنے کے لیے نہیں خود کو کور کرنے کے لیے ہوتا ہے۔۔کافی ادھر ہی لے کر آؤ۔۔وہ کہتا فون کان سے لگاتا دوسری طرف بڑھ گیا۔۔روشانے جو منہ کھول کر اسے جواب دینے ہی لگی تھی خود پر نظر پڑتے خودبخود زبان کو بریک لگی۔۔فراک کا گلہ تھوڑا سا ڈیپ تھا نظر تو کچھ نہیں آ رہا تھا لیکن پھر بھی اپنی حالت پر شرمندگی ہوئی اس کی بیک دیکھتی دوپٹہ کھول کر خود کو اچھے سے کور کیا۔۔چل آ جا اس سے پہلے کہ ڈریگن واپس آ کر پھر سے برسے۔۔نوید اس کی شرمندگی محسوس کرتا اس کا دھیان بھٹکانے کے لیے سرگوشی میں بولا۔۔دونوں مسکراتے نیچے اتر گئے۔۔
پھر حیدر نے دیکھا کہ بڑے سے سٹالر سے اس نے خود کو اچھے سے کور کر کے دوپٹہ شانوں پر اچھے سے پن اپ کیا ہوا تھا۔۔اس حیلے میں وہ بہت پیاری ساری محفل میں الگ ہی لگ رہی تھی عائزہ اور بھابھی لوگوں نے اسے منع بھی کیا کہ اس کے کھلے بال بہت پیارے لگ رہے ہیں وہ کندھوں پر دوپٹہ سٹ کر لے۔۔لیکن اس نے کسی کی نہیں مانی۔۔چلو شکر ہے کوئی بات تو اس کی چھوٹی سی عقل میں سمائی۔۔حیدر نے بےاختیار سوچا۔۔سارا ارینج لان میں کیا گیا تھا ایک بڑے سے ٹیبل پر بہت سارے کیک رکھے ہوئے تھے۔۔کیک سرمنی کے بعد کیک کھانے کا دور شروع ہوا۔۔حاشر نوید بھابھی اور اس نے ملازموں کے ساتھ سب مہمانوں کو سرو کیا۔۔جاؤ اپنا کیک لے کر آؤ مجھے بھی وہی کھانا ہے نوید اس سے بولا۔۔جی نہیں آپ اپنی فیانسی کے ساتھ انجوائے کریں میں بلکل نہیں کسی سے شیئر کرنے والی وہ عائزہ کی طرف آنکھ سے اشارہ کرتی سرگوشی میں بولتی حویلی کے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔تانیہ کب سے موقع ڈھونڈ رہی تھی اس کی شاطر آنکھوں میں چمک آئی کیونکہ وہ باسل کی نگاہیں کب سے اسی کے اردگرد محسوس کر رہی تھی۔۔
جو اس کے ساتھ نصرت چچی کو بھی جلتی آگ پر بیٹھا رہی تھیں۔۔ماں جیسی جادوگرنی پتہ نہیں میرے بیٹے پر کیا پڑھ کر پھونکا ہے کہ اسے آج کچھ اور نظر ہی نہیں آ رہا۔۔چچی مسلسل عائشہ پھپھو کے پاس بیھٹی اسے کوس رہی تھی۔۔وہ پلیٹ میں اپنا کیک لیے عائزہ اور نوید کی طرف بڑھی جو حنان بھائی اور بھابھی لوگوں کے پاس کھڑے تھے جب اچانک چچی کے اشارہ کرنے پر تانیہ اس کے رستے میں آئی۔۔روشانے اس بلا کو دیکھتی ماتھے پر بل ڈالتی اسے دیکھنے لگی۔۔تم یہاں انجوائے کر رہی ہو پھپھو کب سے تمہیں بلا رہی ہیں تانیہ ادا سے آنکھیں گھماتی پھپھو کی طرف اشارہ کرتی بولی۔۔روشانے نے بے اختیار نظریں گھما کر پھپھو کو دیکھا جو حیدر کے پاس کھڑی تھی۔۔اس محفل میں چار عورتوں کو اس کی موجودگی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔اوپر سے اس کے اخلاق اور خوبصورتی کی تعریفیں اس وقت ان چاروں سے پوچھتا کہ جلتی آگ پر بیٹھنا کیا ہوتا ہے۔۔وہ خود تو اتنے لوگوں کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتی تھیں لیکن یہ جانتی تھیں کہ اس بھری محفل میں بھی کونسا واحد انسان ہے جو اسے ذلیل کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔۔
روشانے لمبا سانس لیتی پھپھو کی طرف بڑھ گئی آج صبح سے اس کی صرف دادی نے ہی کافی دفعہ عزت افزائی کی تھی چچی اور پھپھو کے ہاتھ ابھی تک نہیں لگی تھی۔۔اپنے دھیان میں خود کو تیار کرتی اس طرف بڑھ گئی۔۔نوید جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے ادھر نظر کی جدھر وہ جا رہی تھی تو نفی میں سر ہلایا۔۔جب وہ بلکل حیدر کے برابر پہنچی تو تانیہ چلتے اس کے پاؤں میں اپنا پاؤں اٹکا کر خود بھی لڑکھڑا کر گرنے کی ایکٹنگ کرتی آگے نکل گئی۔۔وہ بےچاری کیک سمیت حیدر کے سینے میں سمائی۔۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ اسے بلکل سنھبلنے کا موقع نہیں ملا۔۔ایک دم حیدر پر گرنے سے وہ دونوں کو سنھبالتا اس کے گرد اپنا بازو لپٹ گیا۔۔اب دونوں کی نظریں اس کیک پر تھیں جو حیدر کے سینے پر پڑا تھا۔۔ایک کی نظریں شاک تو دوسرے کی سچویشن کے عین مطابق غصے سے بھری ہوئی تھی۔۔ساری محفل میں ایک دم سناٹا چھایا۔۔کون اس آگ کے گولے کو نہیں جانتا تھا۔۔سب اپنی اپنی جگہ پر پلیٹس رکھتے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔۔نوید جو اسی طرف آ رہا تھا اپنی جگہ پر سٹک ہوا۔۔
آئے ہائے بیڑہ غرق تیرا خانہ خراب کبھی جو کوئی کام اس لڑکی نے ڈھنگ سے کیا ہو۔۔بےعقل منحوس ماری جاہل لڑکی ماں کی طرح صرف فیشن کروا لو یا زبان چلوا لو بس دو ہی کاموں میں دماغ چلتا ہے۔۔پھپھو بھری محفل میں شروع ہو چکی تھی۔۔روشانے بڑا سا گھونٹ بھرتی اپنا حلق تر کر گئی۔۔کیونکہ جو کچھ وہ کر چکی تھی وہ سامنے کھڑے شخص کے سامنے ناقابل معافی تھا۔۔اونٹ جتنی ہو گئی اور کھا کھا کر جسم بھینس کی طرح پھیل گیا ہے پر مجال ہے جو اس لڑکی کو ماں کی طرح تھوڑی سی بھی عقل ہو ہر وقت کسی نا کسی مرد کے گلے کا ہار بننے کو تیار رہتی ہے۔۔دادی کیوں پیچھے رہتی آگے بڑھ کر پورا پورا حق ادا کیا دادی ہونے کا۔۔حیدر نے نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو ہر قسم کے میک اپ سے پاک تھا وہ اپنی لپسٹک تک صاف کر چکی تھی۔۔روشانے نے اپنی نم کوپر آنکھیں اٹھا کر حیدر کو دیکھا۔۔ایک پل کو حیدر بھی اس کی آنکھوں میں درد کی نمی دیکھ کر سٹک ہوا۔۔جو اپنے درد کو گھونٹ بھر کر خود میں اتار رہی تھی۔۔
حیدر کو لگا کہ اس کی آنکھیں بولتی ہیں اور وہ ان میں درج اپنوں کے دئیے گئے درد کی تحریر صاف پڑھ سکتا تھا کتنی شفاف تھیں اس کی آنکھیں۔۔بےشک وہ زبان سے نہ بولے لیکن آنکھوں کی معصومیت سب بول رہی تھی۔۔زندگی میں پہلی دفعہ حیدر نے کسی کی آنکھوں کی اتنی صاف تحریر پڑھی تھی یا وہ تحریر صرف اسے ہی نظر آئی تھی۔۔اس کی آنکھوں سے نظریں سامنے کھڑے باسل پر پڑیں جو ہمیشہ کی طرح بجائے اس کے ساتھ کھڑا ہونے کے آنکھوں میں آگ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔حیدر نے اسے آہستہ سے سیدھی کھڑی کیا تو پلیٹ اور کیک کے چھوٹے چھوٹے پیس دونوں کے درمیان میں زمین پر گرے کچھ حیدر کے چمکتے ہوئے جوتے پر۔۔حیدر کے ساتھ سب کی نظریں اس کے بلیک تھری پیس پر تھیں سینے سے شرٹ اور کوٹ پر پورا کیک چھپا ہوا تھا نظریں اپنے جوتے پر کیں ان کا بھی کچھ ایسا ہی حشر نظر آ رہا تھا۔۔اندھی لڑکی میرے بچے کی دشمن کیوں ہاتھ دھو کر میرے بچے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کبھی تو اپنی نحوست سے ہمیں آزادی دے دیا کر۔۔دادی نے اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو حیدر بےاختیار اس کے سامنے آ گیا۔۔
کیا ہو گیا ہے دادی جان یہ سب غلطی سے ہوا ہے۔۔سب حیران ہو کر آنکھیں بڑی کیے منہ کھولے حیدر کو دیکھ رہے تھے جو بجائے اس لڑکی پر برسنے کے اسے پروٹیکٹ کر رہا تھا۔۔اور حیدر کی نظریں سامنے کھڑے اس انسان کی طرف اٹھیں جو کہنے کو اس لڑکی کا شوہر گھر والوں نے اس کے لیے محافظ چنا تھا۔۔بیٹا تجھے نہیں پتہ اس کی معصوم شکل پر مت جانا یہ جان بوجھ کر سب کرتی ہے ہماری بےعزتی کروانے کے لیے ہماری جان ستانے کے لیے جیسے اس کی ماں کرتی تھی جس نے ہمیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا تھا۔۔پھپھو حیرانگی کے کوما سے نکلتی میدان میں کودی۔۔بیٹا اس کو اتنی ڈھیل نہ دو ورنہ کل کو ہمارے سروں میں اپنی ماں کی طرح خاک ڈالے گی۔۔دادی کی بات پر حیدر نے باسل کی طرف دیکھا جو ابھی بھی آگ برساتی نظروں سے روشانے کو گھور رہا تھا۔۔دادی جان کیا بول رہیں ہیں آپ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے آپ لوگ کہاں کی بات کو کہاں جوڑ رہیں ہیں۔۔بیٹا اس نے غلطی کی ہے تو اسے غلطی کا احساس کروانا ضروری ہے تاکہ کل کو کوئی بڑی غلطی کرنے کا سوچے بھی مت۔۔
پھپھو پھر سے آگ لگاتی بولی کیونکہ ان سے حیدر کا رویہ کسی طور پر ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔پھپھو جب بچوں سے غلطی ہوتی ہے تو انھیں بھری محفل میں احساس کے نام پر ذلیل نہیں کیا جاتا بلکہ اکیلے میں پیار سے سمجھایا جاتا ہے سپیشلی بیٹیوں کو جیسے آپ اپنی بیٹیوں کو سمجھاتی ہیں۔۔وہ اپنی ٹون میں آتا سختی سے بولا آواز گرج سے کم لیکن معمول سے اونچی تھی۔۔جی بیٹا آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اور خاص کر جن بچیوں کے ماں باپ نہیں ہوتے ایسے یتیم مسکین لاوارث بچوں کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھنے پر رب بھی راضی ہوتا ہے۔۔خاندان کی ایک بزرگ عورت نے آگے بڑھ کر روشانے کے سر پر ہاتھ رکھتے نصیحت کے ساتھ اپنی نیکیوں میں اضافہ بھی کیا۔۔ان کی بات سنتے حیدر کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا۔۔اس نے پھر باسل کی طرف دیکھا جو واپس مڑتا لان سے باہر نکل رہا تھا۔۔حیدر نے ساری محفل پر نظر ماری جو نظروں میں ہمدردی اور ترس لیے اس کے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھ رہے تھے سب سے ہوتی اس کی نظر اپنے باپ پر ٹکی جو نظروں سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے۔۔
یہ روشانے لاشاری ہے لاشاری خاندان کی پوتی یہ نہ تو یتیم مسکین ہے اور نہ ہی بےگھر اور لاوارث۔۔وہ اس کا بازو اپنے ہاتھ میں جکڑتا عادت کے مطابق بولا کم گرجا زیادہ تھا۔۔اس کو اتنا غصے میں دیکھ کر دادی اور پھپھو کے ساتھ وہ عورت جو ثواب کمانے ان کے پاس کھڑی تھی بےاختیار چار قدم دور ہوئیں۔۔وہ سب کو حیران چھوڑ کر ایسے ہی روشانے کا بازو جکڑے اسے لیتا حویلی کی اندر والی سائیڈ بڑھ گیا۔۔سب مرد وخواتین کی نظروں نے حال کے دروازے تک ان کا پیچھا کیا۔۔یار مجھے چٹکی کاٹ یہ ہمارے ڈریگن مطلب حیدر بھائی ہی تھے نا۔۔نوید حاشر اور عائزہ سے بولا ان دونوں نے حال کے دروازے کی طرف دیکھتے اثبات میں سر ہلایا۔۔باہر کیا زبان کرائے پر دی ہوئی تھی یا یہ صرف میرے سامنے ہی اپنے سارے فن دکھاتی ہے۔۔اس کے کمرے کے سامنے پہنچ کر اسے اپنے سامنے کرتے اس کا ہاتھ چھوڑتا وہ اس پر تپا۔۔روشانے نے اپنا بازو دیکھا جہاں اس کی انگلیاں چھپی ہوئی تھیں۔۔میری پہلی دفعہ کی کی گئی بکواس تو تمہاری سمجھ میں آتی نہیں ہے وہ اس کے اردگرد دروازے پر ہاتھ رکھتا اس پر چھاتا سختی سے بولا۔۔
روشانے نے خود پر سیایہ بنے کھڑے اس انسان کی طرف گلابی ڈوروں سے سجی آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔۔آنسو لڑی کی مانند پلکوں کی دہلیز پار کرتے اس کے شفاف عارضوں کو بھگونے لگے۔۔کیا کچھ نہیں تھا ان بہتی آنکھوں میں یتیم مسکین لاوارث بےگھر کونسا دکھ تھا جو ان بہتی آنکھوں میں نہیں تھا۔۔ایک پل کو حیدر کو وہ آنکھیں شکوہ کرتی لگیں۔۔وہ چپ چاپ یک ٹک ان آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جب وہ آہستہ سے نظریں جھکاتی رخ موڑ کر دروازہ انلاک کرتی اندر چلی گئی۔۔حیدر اپنے پہلوؤں پر ہاتھ رکھے کتنی دیر بند دروازے کو دیکھتا رہا۔۔لوگوں کا ری ایکشن یاد کرتے نئے سرے سے تپ چڑھی۔۔سب کیسے خاموشی سے تماشا دیکھنے میں مصروف تھے اس کے اپنے گھر والے کیسے خاموش رہ سکتے تھے کیا وہ صرف دینا والوں کے ڈر سے اسے اپنے گھر میں رکھ کر اپنا فرض پورا کر رہے تھے تاکہ دینا والے باتیں نہ کریں۔۔پتہ نہیں بابا جان نے کیا سوچ کر دادا جان کا ساتھ دیا اور اس کا نکاح اس بزدل درندے سے کر دیا جو کبھی بھی محافظ بن کر اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔۔
وہ خود سے باتیں کرتا سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں داخل ہوتا زوردار آواز میں دروازہ بند کر گیا۔۔۔
