Ziddi (ضدی) — Episode 06
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 6
قسط 6 · کہانی
ماضی
ایک دن وہ نازیہ کے چاروں بچوں اور حنان کے دونوں بچوں کے ساتھ لان میں کھیل رہی تھی۔۔آندھی کے بعد آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا لیکن بارش نہیں ہو رہی تھی۔۔ہر طرف گرمی کی وجہ سے حبس ہو رہا تھا۔۔سب باہر لان میں کرسیاں لگائے بیٹھے تھے۔۔پہلے تو وہ بارش کا انتظار کرتی رہی لیکن جب بارش نہ ہوئی تو پانی والا پائپ چلا کر بچوں پر پانی پھینکنا شروع کر دیا۔۔لان سے ہٹ کر گارڈن کے شروع میں کچی جگہ پر وہ اور عائزہ بچوں کے ساتھ ہلا مچا رہیں تھیں۔۔کچڑ مٹی ایک کر کے اس میں فٹبال سے ایک دوسرے کے نشانے لیتے چکنی مٹی سے ایک دوسرے کی حالت خراب کر رہے تھے۔۔اس بےچاری پر دادی کافی دفعہ برس چکی تھی۔۔لیکن سب کی موجودگی میں وہ ایک کان سے سنتی دوسرے سے نکال رہی تھی۔۔کچھ نازیہ اور حاشر اس کی فیور کر دیتے کہ بچے کھیل رہے ہیں کوئی بات نہیں وہ بھی تو سترہ سال کی بچی ہی ہے نا۔۔
اس نے عائزہ کا نشانہ لے کر فٹبال کو کک ماری عائزہ کے نیچے بیٹھنے پر کچڑ مٹی سے بھرا فٹبال پودوں کی باڑ کے اوپر سے سیدھا حیدر لاشاری کے کندھے کو چومتا اس کے چمچماتے سکیچر کی قدم بوسی کرتا لڑکھڑاتا گھاس پر آرام فرمانے لگا۔۔حیدر جو باہر جانے کے لیے بلکل تیار لان میں اپنے بابا کے بلانے پر اس طرف آیا تھا۔۔سرخ چہرے سے اپنی شرٹ پر چھپے مٹی کے اس بڑے سے نشان کو دیکھ رہا تھا نظریں کندھے سے اپنے سکیچر پر گئی تو چہرے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بھی بدلا۔۔حیدر کی طرف دیکھتے سب اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔لان میں ایک دم سناٹا چھایا۔۔وہ سب کھلکھلاتے فٹبال کے پیچھے بھاگ کر اٹھانے آ رہے تھے کہ سامنے کا منظر دیکھ کر اپنی اپنی جگہ پر سٹک ہوئے۔۔روشانے کا تو دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔وہ آنکھیں بڑی کیے سامنے کھڑے اس آتش فشاں کے پہاڑ کو دیکھ رہی تھی جو پھٹنے کے لیے بلکل تیار کھڑا تھا۔۔بچے اور عائزہ کبھی حیدر کو تو کبھی روشانے کو دیکھ رہے تھے۔۔وہ بچاری بڑے سے گھونٹ سے اپنا خشک حلق تر کر رہی تھی۔۔
لان میں کھڑے سب حضرات کی نظریں ان کی طرف اٹھی شکل سے ہی پتہ چل رہا تھا کہ بھڑ کے چھتے پر ہاتھ کس کا پڑا ہے۔۔حیدر نے اپنی آگ برساتی نظریں اٹھا کر ان سب کی طرف دیکھا جو روشانے کو دیکھ رہے تھے اور نظروں کا رخ اس ہستی پر کیا اس کی شکل اور حلیہ دیکھتے ہی دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا عادت کے مطابق ساری سر سے پاؤں تک مٹی سے لت پت بھری ہوئی تھی اتنے تو بچے مٹی میں اودھم نہیں مچاتے تھے جتنا وہ مچاتی تھی۔۔سب کی شکلیں بتا رہیں تھیں کہ یہ کارنامہ کس ہستی نے سر انجام دیا ہے۔۔کس نے پھینکا فٹبال۔۔؟وہ چھے قدموں کا فاصلہ اڑھائی قدموں میں طے کرتا ان کے سروں پر پہنچتا گرجا۔۔آواز میں حد درجے سختی تھی۔۔جو روشانے کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی۔۔سارے بچے بھاگ کر اپنی اپنی ماؤں کے پیچھے چھپے۔۔آج نوید نہیں تھا ان کے ساتھ ورنہ وہ ضرور اسے بچانے کیلئے ساری بات خود پر لے لیتا۔۔عائزہ کی تو حیدر کا غصہ دیکھتے ہی ہمت ختم ہوئی وہ اس کے پاس آنے پر بےاختیار پیچھے قدم لیتی حاشر کے ساتھ لگی۔۔اب وہ اکیلی اس جلاد کے سامنے کھڑی تھی۔۔کچھ پوچھا ہے کہ فٹبال کس نے پھینکا۔۔
وہ اپنی نظریں اسی پر جمائے پھر سے دھاڑا۔۔اتنا غصہ اسے خود پر پھینکے گئے فٹبال کا نہیں تھا جتنا اس کا حلیہ دیکھ کر آیا تھا۔۔وہ اپنے مٹی سے بھرے ہاتھ بےاختیار ایک دوسرے میں جکڑتی اس کی دھاڑ پر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔خود کو تنہا محسوس کرتی خوفزدہ نظروں سے ادھر اُدھر دیکھا تو کہیں بھی جائے پناہ نظر نہیں آئی۔۔تم نے پھینکا ہے نا۔۔اس کے دو قدم پیچھے ہونے پر وہ ایک قدم سے فاصلہ مٹاتا اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتا بولا۔۔کہاں وہ پلا ہوا باڈی بلڈر سانڈ اور کہاں وہ دھان پان سی بچی۔۔اس کے جھنجھوڑنے سے وہ ڈس بیلنس ہوتی گرنے سے بچنے کے لیے بےاختیاری میں دوسرا مٹی سے بھرا ہاتھ سامنے اس کے سینے پر جما گئی۔۔سب کے دل زور سے دھڑکے۔۔سب کو آج حیدر کے ہاتھوں روشانے کی پکی موت نظر آ رہی تھی۔۔سانسیں تو روشانے کی بھی رکی تھی وہ حیران نظروں سے پلکیں جھپک جھپک کر کبھی اسے اور کبھی اس کے سینے پر پڑے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔حیدر آنکھوں کے ساتھ منہ کھولے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا جو کندھے کے ساتھ سینے پر اپنی پوری چھاپ چھوڑ چکا تھا۔۔
نظریں اٹھا کر اس کی بڑی بڑی کوپر آنکھوں میں دیکھا جو ڈر لیے گلابی ڈوروں سے سجی جن میں نمی کی لکیر بھر رہی تھی معصومیت سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔وہ لمبا سانس کھینچ کر چھوڑتا اپنا دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر سجے اس کے ہاتھ کی طرف لایا۔۔روشانے خوف سے آنکھیں بند کرتی اس کے سینے سے اپنا ہاتھ اٹھاتی اپنے چہرے کے سامنے کر گئی۔۔وہ جو اس کی آنکھوں میں نمی دیکھتا اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر چپ چاپ اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا اس کی حرکت دیکھتے کچھ دیر سٹک ہوا۔۔حیدر غصے کا بےحد برا انسان تھا لیکن آج تک اس نے کسی صنف نازک پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔۔شڑٹ کو بھولتا اس کی حرکت سمجھتا نئے سرے سے اس کا دماغ کھول اٹھا یعنی وہ اسے اتنا گرا ہوا انسان سمجھتی ہے کہ وہ اس پر ہاتھ اٹھائے گا۔۔حیدر کی سب کی طرف بیک اور روشانے کا چہرہ تھا۔۔بھائی۔۔حاشر روشانے کو اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتے دیکھ حیدر کو پکارتا بھاگ کر ان کی طرف آیا۔۔ایک پل کو حاشر کے ساتھ سب کو یہی لگا کہ وہ روشانے کو تھپڑ لگانے لگا ہے۔۔نان سینس لڑکی۔۔
زندگی میں کبھی عقل کا استعمال بھی کیا ہے۔۔آنکھیں ہونے کے باوجود ہمشیہ اندھوں والے کام کرتی ہو۔۔وہ اس پر اپنا غصے اتارتا جھٹکے سے ایک طرف کیا۔۔حیدر کے جھٹکے دے کر چھوڑنے سے وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس سے پہلے کہ نیچے گرتی حاشر نے اسے تھام لیا۔۔سٹوپڈ گرل نہ ہو تو۔۔وہ کہتا واپس موڑا تو سامنے نظریں چچا کے خاندان پر پڑی جو باسل سمیت پتہ نہیں کب وہاں نازل ہوئے تھے۔۔باسل اور چچی کی نظروں کے تعاقب میں حیدر نے بےاختیار پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ حاشر کے حصار میں تھی۔۔گڑیا آپ ٹھیک ہو کہیں لگی تو نہیں۔۔وہ اسے سیدھی کھڑی کرتا اس کے چہرے سے بال ہٹاتا بولا جو دھکا لگنے سے اس کے چہرے اور اطراف میں بکھر گئے تھے۔۔زمین سے یہ لڑکی ابھی نکلی نہیں اور مردوں کے گلے کا ہار بننے کا کتنا شوق ہے اسے۔۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی دادی کی آواز پر سب حیرانگی سے دادی کی طرف متوجہ ہوئے۔۔ایوب صاحب میں تو کہتی ہوں اس کی رخصتی کر کے اس کو دفعہ کریں نہیں تواپنی ماں کی طرح یہ لڑکی خاندان کے کسی مرد کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑے گی۔۔
دادی کے منہ سے اپنے لیے نکلتے الفاظ سن کر سب کے ساتھ وہ بھی حیران ہوئی۔۔حاشر کو وہ بلکل ایسے ہی بھائی مانتی تھی جیسے وہ عائزہ کا بھائی تھا۔۔وہ بچپن سے ان کے ساتھ رہتی آ رہی تھی۔۔بےشک وہ ان کی سگی بہن نہیں تھی لیکن وہ بلکل سگے بھائی کی طرح ان کی عزت کرتی تھی۔۔کہنے کو وہ سترہ سال کی بچی تھی لیکن ہمیشہ اپنے بڑوں کی طرف سے ملنے والے طعانوں اور اس کی ماں کے کردار کو نشانہ بنانے پر حالات نے اسے اپنی عمر سے بہت پہلے بڑا کر دیا تھا دادی کی باتوں کا مطلب سمجھتے اس کا چہرہ سرخ ہوا۔۔اس کے اندر لگی آگ تو آج میں ٹھنڈی کرتی ہوں ماں جیسی بغیرت لڑکی۔۔ابھی سب دادی کو حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ چچی کی آواز گونجی۔۔اور وہ جارحانہ تیور لیے چیل کی طرح حاشر کے حصار سے اسے نکالتی اس پر چھپٹی۔۔اسے بالوں سے پکڑ کر ایک کے بعد ایک تھپڑ اس کے چہرے پر مارا۔۔یہ سب اس قدر اچانک ہوا کہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آئی۔۔چچی جان یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔ہوش میں آتے حنان نے بھاگ کر چچی کو اس سے دور کیا۔۔بابا جان یہ سارے جہان کا گند ہی رہ گیا تھا میرے بیٹے کے منہ پر ملنے کے لیے۔۔
پہلے اس کی ماں اپنی اداؤں سے جواد کو پھنسا کر میری بہن کے حق پر قابض ہوئی۔۔اب یہ نحوست میری بھانجی کی جگہ زبردستی ہمارے سروں پر مسلط کر دی ہے۔۔باسل میں کہہ رہی ہوں یہ لڑکی تجھے کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑے گی۔۔ابھی چھٹانک بھر کی اور اس کی حرکتیں دیکھ لو۔۔وہ باسل کو دیکھتی چیختی بولی۔۔باسل جو اسے ہمیشہ کی طرح شک کی آگ لیے گھور رہا تھا وہ حنان کے پیچھے چھپی کھڑی تھی غصے سے نتھنے پھلاتا تیزی سے اس کی طرف بڑھتا اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کرتا ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔تھپڑ کی شدت اتنی تھی کہ اس کا ہونٹ پھٹ کر تیزی سے خون بہتا اس کی گردن کی طرف جانے لگا۔۔کھینچنے سے اس کا دوپٹہ جو پہلے ہی کندھوں پر جھول رہا تھا باسل کے قدموں میں جا گرا۔۔باسل۔۔دادا جان،جاوید،حنان،حاشر سب ایک آواز میں اسے پکار گئے۔۔سوائے تین عورتوں کے باقی سب منہ پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔۔حیدر آنکھوں میں خون کی سرخی لیے اس درندہ صفت انسان کو دیکھ رہا تھا جو بجائے اپنی ماں اور دادی کو سمجھانے کے اپنی بیوی پر مردانگی دکھا رہا تھا۔۔
بیوی بھی وہ جو ابھی خود بچی تھی۔۔باسل چھوڑ بچی کو۔۔تایا جان آپ درمیان میں نہ آئیں۔۔یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے یہ جو آپ سب نے مل کر کالک میرے منہ پر ملی ہے نہ اگر کسی نے درمیان میں آنے کی کوشش کی تو میں اسے یا تو ابھی طلاق دے دوں گا یا اسے جان سے مار ڈالوں گا تاکہ روز روز کے فتنوں سے جان چھوٹے۔۔اس کی بات سنتے سب اپنی اپنی جگہ پر سٹک ہوئے۔۔میں تو کہتی ہوں اس نحوست کا گلہ دبا کر یہ کالا سیایہ ختم کر ہمارے سروں سے۔۔ماں نے چار دن میرے بیٹے کو پھنسا کر عیاشی کی جب ایک مرد سے دل بھر گیا تو اپنے پاپوں کی گھٹلی ہمارے سروں پر مسلط کر کے خود دوسرے کے ساتھ منہ کالا کرنے دفع ہو گئی۔۔خدیجہ بیگم۔۔ایوب صاحب اپنی بیوی کی بات سنتے گرجے۔۔بابا جان آج ہم کو تو چپ کروا لیں گے کل کلاں کو جب یہ سب کے منہ پر کالک ملے گی تو کس کس کو چپ کروائیں گے منہ تو میرے بیٹے کو ہی چھپانا پڑے گا نا۔۔چچی کی بات سنتے سب مردوں کے چہرے سرخ ہوئے۔۔حیدر اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچیے کھڑا تھا اب اس کی سرخ نگاہیں اپنے بڑوں سے ہوتی اپنے باپ پر جمی ہوئی تھیں۔۔
وہ روشانے اور باسل کی فیملی کو لے کر اپنے بڑوں سے بات کر چکا تھا بات کیا بلکہ اچھا خاصا جھگڑا ہوا تھا۔۔تب اس کے باپ نے کہا تھا کہ جب اسے روشانے سے نکاح کرنے کو کہا گیا تھا تب اس نے انکار کر دیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی ماں بھی یہی خواہش تھی جب تمہیں وہ اپنے لیے پسند نہیں ہے تو اس کے معاملے سے دور رہو اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کیا نہیں یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے باسل اس سے جیسا بھی سلوک کرتا ہے اس نے کم از کم اپنے بڑوں کی بات کا مان رکھتے اس سے نکاح تو کیا ہے۔۔حالانکہ حیدر نے ہمیشہ کی طرح انکار نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ اسے پڑھنے دیں ابھی وہ بچی ہے اور اسے ایسی خرافات سے ابھی دور رکھیں۔۔اپنے باپ کی بات سنتے وہ شاک نظروں سے اپنے بڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا جو سب اس بات سے متفق نظر آرہے تھے۔۔حالانکہ وہ تب ملک میں تھا ہی نہیں جب روشانے کا نکاح ہوا تھا۔۔
اس کے کچھ بھی نہ بولنے پر جاوید لاشاری نے اسے آخری وارننگ دی تھی کہ اب اگر وہ روشانے اور باسل کے معاملے میں ایک لفظ بھی بولا یا کچھ بھی کرنے کا سوچا تو وہ فورا روشانے کی رخصتی کر دے گا نہ اس کی عمر دیکھے گا نہ ہی ان کے تعلقات پھر وہ جانے اور ان کی بہو۔۔اور آج وہ اپنے باپ کی اسی وارننگ کی وجہ سے خون کے گھونٹ پیتا چپ چاپ کھڑا سارا تماشہ دیکھ اور سن رہا تھا آنکھوں کی سرخی ہر گزرتے لمحے بڑھتی جا رہی تھی۔۔دوسرے معنوں میں اپنا ضبط آزماتا اپنے بڑوں کے چہروں پر غلط ہونے کا احساس ڈھونڈ رہا تھا۔۔روشانے کو ہمیشہ اس کی ماں کے حوالے سے ایسے ٹارچر کیا جاتا جیسے اس کی ماں نے اس گھر کے بیٹے سے زبردستی گناہ کر کے اسے پیدا کیا ہو اور اس کا وجود ناپاک ہو۔۔وہ ہمیشہ کی طرح اپنے بارے میں وہ باتیں بھی چپ کر کے سن رہی تھی جن کے مطلب کا بھی ابھی اسے نہیں پتہ تھا۔۔تجھے میں نے کتنی دفعہ بکواس کی ہے کہ تو اپنے کمرے تک رہا کر وہ اسے ایک اور تھپڑ لگاتا گھسیٹ کر اس کا دوپٹہ اپنے قدموں تلے روندتا اندر کی طرف لے جاتا اس پر چیخ رہا تھا۔۔
حیدر بے اختیار ایک قدم آگے بڑھا جب اس کا باپ دو قدم اس کی طرف بڑھا تو وہ وہیں اپنی جگہ پر سٹک ہوا۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے اٹھائے گئے کسی بھی قدم کو بنیاد بنا کر اس کے بڑے اپنا کہا پورا دیں جیسے وہ پہلے ایک غلط فیصلہ کر چکے تھے۔۔سب اپنی اپنی جگہوں پر بےبس کھڑے تھے۔۔حیدر کی نظریں اس دوپٹے پر جمی ہوئی تھیں جس کو وہ انسان اپنے ہی قدموں میں روند چکا تھا۔۔کیا وہ اپنی بیوی کا محافظ تھا۔۔؟اس کے ذہن میں باسل کو دیکھتے ایک ہی سوال آ رہا تھا۔۔روشانے لاشاری جو اٹھتی گرتی اس کے ساتھ گھسٹ رہی تھی سب مردوں کو دیکھتی ہمیشہ کی طرح ایک ہی سوال سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اس گھر کی بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی کوئی باہر سے آ کر اس کے ساتھ یہ سلوک کر سکتا تھا اگر میری جگہ اس گھر کی بیٹی ہوتی تو کیا پھر بھی اس گھر کے مرد اپنی روایات کا پاس رکھتے ایسے ہی چپ چاپ کھڑے رہتے۔۔اس بےچاری کو اس درندے کے چنگل میں سب ملازم ترس بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔جب گھر کے مالک خاموش تماشائی تھے تو وہ تو پھر ملازم تھے۔۔باسل نے اسے کمرے میں دھکا دیتے باہر سے دروازہ لاک کر دیا۔۔
وہ وہیں فرش پر گھٹنوں کے بل سجدے کی حالت میں گرتی ٹوٹ کر خدا کے سامنے بکھری وہ صرف ہچکیوں سے رو رہی تھی زبان سے ایک بھی حرفِ شکایت نہیں نکالا تھا۔۔کیا خدا کو بتانے کے لیے کسی کی شکایت کرنا ضروری ہے زبان سے لفظوں کی ادائیگی ضروری ہے۔۔؟اپنے رب کو اپنا دکھ اپنی تکلیف بتانا ضروری ہے۔۔؟بےشک ہمارا رب ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے والا ہے وہ تو بنا کہے سب سن اور جان لیتا ہے۔۔وہ سب دیکھ اور سن رہا ہے جب مظلوم اور کمزور انسان اپنا مقدمہ خدا کے سامنے پیش کر دیتا ہے تو ظلم کرنے والے کے لیے تباہی ہے۔۔پھر اسے اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔۔
ڈنر پر حیدر حویلی نہیں تھا تو پھر سے اس کی شامت آئی ہوئی تھی۔۔آج تو چچی اور تانیہ کے ساتھ ان کی دونوں بیٹیاں آئمہ اور نائمہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔۔آج اس پلٹن کے ساتھ اسے زچ کرنے میں عائزہ برابر شامل تھی۔۔حیدر کے حوالے سے اس پر ایک کے بعد ایک طنز پھینکا جا رہا تھا۔۔حاشر بھی دو دن سے باہر تھا۔۔حنان نے ایک دو بار عائزہ کو ڈانٹا تو اس نے رو رو کر وہ ایموشنل بلیک میل کیا کہ خدا کی پناہ۔۔اس کے رونے سے دادی کی توپوں کا رخ حنان کی طرف مڑ گیا۔۔سو وہ بچارہ چپ چاپ ڈنر کر کے زمینوں کے کام سے ڈیرے پر نکل گیا۔۔جاوید صاحب اور دادا جان پہلے ہی اس کے معاملے میں بہت کم بولتے تھے۔۔حیدر بھائی میری پسند کی لڑکی سے شادی کریں گے انھوں نے مجھ سے پرامس کیا ہوا ہے۔۔عائزہ بولی۔۔اب تو تم بھول جاؤ اب تو ان کی شادی کے ساتھ ان کو اپنی بیوی سے عشق بھی ہو گیا ہے۔۔تانیہ اپنے بالوں کی لٹ اپنی انگلی پر لپیٹتی نظریں روشانے پر جمائے ادا سے بولی جو سب کو چائے سرو کر رہی تھی۔۔تانیہ کی بات پر عائزہ کی نظروں میں صبح والا سین آیا تو دل میں نئے سرے سے آگ بھڑکی۔۔
ایسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جو میرے بھائی کی ایک نظر کی منتظر ان کے آگے پیچھے گھومتی ہیں تو کیا میرے بھائی کو سب سے عشق ہے۔۔یہ بات سارا خاندان بہت اچھے سے جانتا ہے کہ میرا بھائی حیدر لاشاری کبھی اپنے سٹینڈرڈ سے کم پر کمپرومائز نہیں کرتا۔۔یہ نکاح عشق وشق کچھ بھی نہیں ہے صرف اپنی گڑیا کی سیوٹی کے لیے کمپرومائز ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔۔عائزہ آگ برساتی نظروں سے اسے دیکھتی بولی۔۔روشانے کا دل کر رہا تھا کہ وہ ان سب کی نظروں اور باتوں سے دور کسی ایسی جگہ پر چلی جائے جہاں اسے باتوں سے درد دینے والا کوئی نہ ہو کچھ پل سکون سے گزار لے۔۔آج کل سب سے زیادہ تکلیف اسے عائزہ کی باتوں سے ہوتی تھی۔۔باقی سب کی تو وہ عادی تھی لیکن جب ان لوگوں کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں جن پر آپ کو مان یقین ہوتا ہے تب برداشت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔وہ چائے کی ڈش لے کر عائزہ کے سامنے گئی جو اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر پہلے ہی اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔بیٹھو بیٹا کہاں جا رہی ہو چائے پیؤ۔۔پھپھو چائے لے کر اپنے روم میں جا رہی ہوں۔۔
وہ چائے کا کپ اٹھاتی اس کے پاس سے گزرانے لگی تو گرنے کے انداز میں اس کے بازو کو زور سے دھکا مارتی گرتی گرتی سنھبل گئی۔۔وہ جو ڈش میں سب کے لیے گرم گرم چائے لیے کھڑی تھی دھکا لگنے سے سارے کپ الٹتے اس کے ہاتھ اور پاؤں کو بری طرح جلا گئے۔۔پھپھو اور عائزہ کے ساتھ باقی سب کی بھی چیخیں نکلیں۔۔حالانکہ عائزہ پر چند چھینٹے پڑے تھے البتہ پھپھو کے ایک ہاتھ پر تھوڑی سی چائے گر گئی تھی۔۔تیرا ستیاناس جاہل گنوار اندھی لڑکی تجھے نظر نہیں آتا سارا ہاتھ جلا دیا۔۔پھپھو اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی اس کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑتی چیخی۔۔ڈش میں موجود کپ لڑکھڑاتے زمین بوس ہوئے۔۔دو کپ اور ان میں موجود چائے روشانے کے اسی پاؤں پر گرے جس پر پہلے گرم چائے گر چکی تھی۔۔وہ اپنا پاؤں اوپر اٹھاتی زور سے آنکھیں بند کر گئی جلن اور درد سے دل بند ہو رہا تھا۔۔منحوس ماری اپنی ماں کی طرح تو یہی چاہتی ہے کہ ہم سب مر جائیں یا اس گھر میں ہی نہ آیا کریں اور تو یہاں راج کرے۔۔میں نے جان بوجھ کر نہیں گرائی۔۔وہ اپنی آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیلتی پھپھو کی بات پر ان کو دیکھتی بولی۔۔
بغیرت آوارہ لڑکی ایک غلطی کرتی ہے اوپر سے بجائے معافی مانگنے کے زبان درازی کرتی ہے۔۔پھپھو اس کے ہاتھ سے ڈش چھین کر اسے مارنے کے لیے فضا میں بلند کرتی چیخی۔۔پھپھو۔۔حال کے دروازے پر کھڑے انسان کی گرج پر ان کا ڈش والا ہاتھ فضا میں ہی رک گیا۔۔حال میں ایک دم سناٹا چھایا۔۔اتنی خاموشی کہ سوئی گرنے کی آواز بھی آئے۔۔سب کی نظریں پھپھو کے ہاتھ سے حال کے دروازے میں کھڑے انسان کی طرف گھومی جو آنکھوں میں خون لیے پھپھو کے اٹھے ہوئے ہاتھ میں پکڑی ڈش کو دیکھ رہا تھا۔۔روشانے جو زور سے آنکھیں بند کیے اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے کیے کھڑی تھی وہ بےاختیار اس گرج پر آنکھیں کھولتی دوسروں کی نظروں کے تعاقب میں اُدھر دیکھنے لگی۔۔زندگی میں پہلی دفعہ اس انسان کے آنے پر دل نے سکون محسوس کیا۔۔جس کی آنکھوں کی سرخی ہر گزرتے لمحے بڑھ رہی تھی۔۔اس کے پیچھے ہی حاشر اور حنان کھڑے تھے۔۔حاشر جو اس کے ساتھ ہی آیا تھا اور حنان رستے میں ان سے ملا۔۔وہ تین قدموں سے فاصلہ طے کرتا پھپھو کے ہاتھ سے ڈش کھینچ کر نکالتا پوری قوت سے سامنے گلاس وال پر ماری۔۔
ڈش گلاس وال میں لگتی ایک دھماکے سے چکنا چور ہوئی۔۔سب ہی خوفزدہ ہوکر آنکھیں بند کر گئے۔۔روشانے تو آنکھوں کے ساتھ اپنے منہ پر بھی ہاتھ جما گئی۔۔حال میں دھماکے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز سن کر ایوب صاحب جاوید لاشاری اور واجد لاشاری جو زمینی معاملات ڈسکس کر رہے تھے بھاگ کر باہر نکلے ناسمجھی سے سامنے حال میں سب کی طرف دیکھتے نظریں آتش فشاں بنے ہوئے انسان پر ٹکی۔۔کسی کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔وہ پھر سے گرجا۔۔سب بےاختیار اپنی اپنی جگہ سے دو دو قدم دور ہوئے سوائے روشانے کے کیونکہ اس کے سرکنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔۔حیدر بیٹا اس نے جان بوجھ کر تمہاری پھپھو پر گرم چائے پھینک۔۔۔دادی جان میں نے منع کیا تھا نا کہ روشانے کو کوئی کام نہیں کہے گا۔۔وہ دادی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول اٹھا آواز پہلے سے کم پر گرج اور سختی ابھی بھی تھی۔۔بھیا۔۔یہ سب دیکھتی عائزہ ایک دم سے زور و شور سے روتی اٹھتی حیدر کے سینے سے لگی۔۔مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی حیران ہو کر اسے ایسے روتے دیکھا۔۔گڑیا کیا ہوا۔۔حیدر پریشانی سے اسے ساتھ لگاتا بولا۔۔
بھیا اس نے میرا ہاتھ جلا دیا۔۔میں چائے لینے لگی اس نے جان بوجھ کر ساری چائے مجھ پر گرا دی۔۔وہ زور زور سے روتی بولی۔۔حیدر نے بےاختیار نظریں اس لڑکی پر کی جو خود ساری چائے سے بھیگی سرخ بازو اور ہاتھ لیے چائے کے تالاب میں کھڑی تھی اس کے پیروں میں کپ گرے ہوئے تھے۔۔وہ عائزہ کے رو کر شکایت کرنے پر عادت کے مطابق حیرانگی سے منہ کھولے آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔عائزہ کہاں سے جلا ہاتھ دکھاؤ مجھے۔۔حاشر بھی روشانے کی حالت دیکھتا آگے ہوتا عائزہ سے بولا۔۔ہاں وہ تو میں جلدی سے سامنے آ گئی ورنہ اس لڑکی نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی میری بچی کو جلانے کی۔۔ابھی بھی میری بچی کو تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی یہ کالے منہ والی اسے خوش دیکھ ہی نہیں سکتی۔۔حاشر کے پوچھنے پر پھپھو جلدی سے میدان میں کودی۔۔عالیہ یہ چائے کیسے گری۔۔؟حنان اپنا رخ عالیہ کی طرف کرتا اچانک سے بولا۔۔انداز میں بےحد سختی تھی۔۔عالیہ ایک دم گھبراتی کبھی اپنی ماں کی طرف تو کبھی عائزہ کی طرف دیکھنے لگی۔۔اپنی ماں کی نظروں میں واضح پیغام نظر آیا کہ روشانے کا نام لے دے۔۔
عالیہ۔۔کچھ پوچھا ہے میری بکواس سمجھ آئی کہ دوبارہ کروں اب انداز میں واضح وارننگ تھی۔۔حنان زور سے اسے پکارتا بولا۔۔عالیہ ہڑبڑاتی جلدی سے کچھ نہ سمجھ آنے پر سب سچ سچ بتا گئی۔۔رشیدہ آپا۔۔تمام ملازمائیں جو کچن میں کھڑی لرز رہی تھی حیدر کی ایک گرج پر اپنے حلق تر کرتی ایک دوسرے کے پیچھے لائن میں باہر نکلیں۔۔اس کے اتنا اونچا گرجنے پر عائزہ بےاختیار اس سے دور ہوتی حاشر کے ساتھ لگی۔۔کیا بکواس کی تھی میں نے۔۔وہ اپنا رخ سخن ان کی طرف کرتا ان پر برسا۔۔حیدر بابا میں نے کھانے پر اور اب چائے پر بھی منع کیا تھا لیکن بڑی بیگم اور دونوں چھوٹی بی بی کو روشانے بیٹی کے ہاتھوں سے سب کچھ چاہیے۔۔رشیدہ آپا جو سب سے پرانی اور ادھیڑ عمر ملازمہ تھی دادی کے ساتھ پھپھو اور چچی کی طرف اشارہ کرتی جلدی سے بولی ورنہ آج اس کے ساتھ باقی سب کی بھی چھٹی ہو جانی تھی۔۔سب کی سب ابھی اور اسی وقت حویلی سے باہر نکل جاؤ اگر مجھے اگلے ایک ہفتے تک کسی کی بھی شکل حویلی میں نظر آ گئی تو اپنی حالت کی وہ خود ذمہ دار ہو گی۔۔
حیدر کی آواز میں اتنی سختی تھی کہ اسی وقت ساری ملازمائیں سارے کام وہیں چھوڑ کر حویلی سے باہر اپنے اپنے کوارٹر کی طرف بھاگنے کے انداز میں نکل گئیں۔۔ساری عورتوں نے حیران ہو کر اپنے گھر کے دوسرے مردوں کی طرف دیکھا۔۔سب چپ چاپ کھڑے تھے کسی نے بھی حیدر کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی بلکہ جاوید صاحب کے ساتھ حنان اور حاشر حیدر کے حق میں تھے۔۔کیونکہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا تھا جس دن ان کی حویلی میں تماشا نہ ہوتا ہو اب تو دو ٹائم کا کھانا بھی گھر کی عورتوں نے سکون سے کھانا حرام کر دیا تھا۔۔بابا جان آج میں عزت کے دائرے میں رہ کر یہ بات کہہ رہا ہوں اگر دوبارہ اس گھر تو کیا لاشاری خاندان کے کسی بھی فرد نے میری بیوی کی طرف سخت نظر سے بھی دیکھا ہاتھ لگانا تو بہت دور کی بات میں اپنی بیوی کو لے کر اس حویلی سے نکل جاؤں گا۔۔
آپ کی بہن کا دل اگر اپنے گھر سے زیادہ ادھر لگتا ہے تو اس گھر میں ان کی بیٹی بھی ہے اگر اپنی بیٹی سے اپنا کوئی کام کروانا گوارا نہیں ہے تو اپنی کسی بہو کو ساتھ لے کر آیا کریں اگر ایسا بھی نہیں کر سکتی تو آپ کی بہن آپ کی ذمّہ داری ہے میری بیوی کی نہیں۔۔آپ ان کے لیے الگ سے کوئی ملازمہ رکھ کر دیں۔۔حیدر کے جاوید صاحب کو کہنے پر عالیہ نے بےاختیار نظریں حنان پر کیں جو اسے ہی گھور رہا تھا آج آنکھوں میں الگ ہی غصہ اور سختی تھی جو عالیہ کی جان خشک کر رہا تھا۔۔دادا جان آپ کی بیوی صرف میری بیوی کی زمہ داری نہیں ہے اس حویلی میں ملازمہ کے علاؤہ اور بھی بہت ساری لڑکیاں ہیں۔۔اگر ان کو کسی کا بھی کام پسند نہیں تو اپنی بیوی کے لیے ان کی پسند کے مطابق ملازمہ کا انتظام کریں۔۔اور چچا جان آج آپ کی ساری فیملی ایک بات اپنے ذہن میں بیٹھا لے یہ جو لڑکی آپ کے سامنے کھڑی ہے نا وہ روشانے کو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑی کرتا بولا اس کا لاشاری خاندان کے ہر فرد کے ساتھ صرف ایک ہی رشتہ ہے یہ صرف حیدر لاشاری کی بیوی اور جاوید لاشاری کی بہو ہے۔۔
آج کے بعد اس کا حویلی کے کسی بھی بیٹے یا کسی بھی باہر کی عورت سے کوئی رشتہ نہیں۔۔اس کی صرف ایک ہی پہچان ہے۔۔اور وہ ہے روشانے۔۔ حیدر۔۔لاشاری۔۔ اس پہچان کو آج کے بعد سب اپنے اپنے ذہنوں میں بیٹھا لیں۔۔اگر آپ کی بیوی کو تین ٹائم ملازموں کے ہاتھ کا کھانا بنا نہیں کھانا تو ان کی بہو اور بیٹیاں ان کے ساتھ ہوتی ہیں ان سے اس حویلی میں بیٹھ کر اپنی جتنی چاہیں خدمت کروائیں۔۔میری بیوی آج کے بعد آپ کی بیوی کے سامنے کچھ بھی بنا کر نہیں رکھے گی نہ ہی وہ ان کا کوئی کام کرنے کی پابند ہے۔۔وہ اپنے چچا پر نظریں جمائے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتا چباتا بولا۔۔آواز آہستہ مگر سرد اور بے حد سنجیدہ تھی۔۔سب مردوں کی نظریں روشانے پر تھیں جو پوری چائے سے بھیگی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔سب عورتیں حیرت سے منہ کھولے کھڑی تھی کیا لاشاری خاندان کا کوئی بھی مرد اپنی بیوی سے اتنا پیار کرتا تھا کیا کبھی کوئی مرد اپنی بیوی کے لیے ایسے سب کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔۔جیسے وہ اپنی بیوی کا محافظ بنا کھڑا تھا۔۔کیا حیدر لاشاری کو واقعی محبت ہو گئی تھی۔۔
جواد نے تو صرف منہ زور ہو کر پسند کی شادی ضرور کی تھی لیکن اس کے لیے ایک پل بھی کسی کے سامنے کھڑا نہیں ہوا تھا۔۔سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال چل رہا تھا۔۔واجد نے آنکھوں میں وارننگ لیے اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دیکھا۔۔جب تک روشانے باسل کے نکاح میں تھی تب تک وہ گھر والوں کی ہر وقت جلی سڑی چپ کر کے سن لیتے تھے کیونکہ وہ مجبور تھے اور اپنی بیوی کی تو ساری عمر سنتے آئے تھے۔۔لیکن اب حد ہو گئی تھی اپنے باپ اور شوہر کی گھورتی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ بےچینی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگیں۔۔اور تم۔۔روشانے حیدر لاشاری۔۔تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔وہ اس کا بازو پکڑ کر ہاتھ اور بازو کی سرخی دیکھتا بولا جو پہلے سے زیادہ ہو گئی تھی۔۔جلد ابھر کر اوپر کو آ گئی تھی۔۔ماتھے پر انگنت بل اور لفظوں میں سختی تھی۔۔اس کے سخت انداز پر روشانے کا دل زور سے دھڑکا۔۔وہ اس کے ہاتھ میں اپنا بازو دیکھتی بڑے سے گھونٹ سے اپنا حلق تر کرتی چہرہ اوپر اٹھا گئی۔۔روشانے اپنی ساری تکلیف بھولتی عادت کے مطابق پلکیں جھپک جھپک کر اسے دیکھتی اس کے برسنے کا انتظار کرنے لگی۔۔
حیدر نے اس کے ہاتھ سے نظریں اس کی آنکھوں میں ڈالی۔۔میری بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔وہ اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھتا اپنے چہرے کو بےتاثر رکھتا پھر سے بولا۔۔وہ معصوم نگاہوں سے اسے دیکھتی زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔حیدر اس کی بچوں جیسی حرکت پر بےاختیار دوسرے ہاتھ سے اپنی نوز رب کرنے لگا۔۔بھائی گڑیا کو روم میں لے کر جائیں اور ان کے بازو ہاتھ اور پاؤں پر کچھ لگائیں ورنہ صبح تک چھالے بن جائیں گے۔۔حاشر حیدر کو دیکھتا بظاہر سنجندہ انداز میں بولا لیکن آواز میں واضح شرارت تھی جو حیدر نے صاف محسوس کی۔۔بھائی موقع اچھا ہے اٹھا کر بھی لے جا سکتے ہیں۔۔وہ آگے کو ہوتا روشانے کا ہاتھ اور پاؤں دیکھتا سرگوشی میں حیدر کے کان میں بولا۔۔حیدر کے گھور کر دیکھنے پر گردن رب کرتا ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔حاشر ٹھیک کہہ رہا ہے حیدر اسے روم میں لے کر جاؤ اور اس کے زخموں پر کچھ لگاؤ۔۔جاوید صاحب نے آگے بڑھ کر روشانے کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا۔۔
حیدر کی نظر اس کے پاؤں پر گئی جو بلکل سرخ ہو رہا تھا وہ جوتے سے باہر نکل کر کھڑی کبھی اوپر اٹھا تھی کبھی فرش پر رکھ رہی تھی۔۔وہ حال میں کھڑے سب افراد کو ہائی وولٹیج کا جھٹکا دیتا جھک کر روشانے کو اٹھاتا اپنے روم کی طرف اوپر چڑھ گیا۔۔عورتوں کے ساتھ مرد حضرات بھی پوری آنکھوں کے ساتھ منہ کھولے آگ کے اس گولے کو دیکھ رہے تھے۔۔لاشاری خاندان کا پہلا مرد تھا جس نے ہر لحاظ مروت ایک طرف رکھ کر یہ کام بڑے بےباک انداز میں کیا تھا۔۔روشانے تو حیرانگی سے مرنے والی ہوگئی۔۔مم۔۔مجھے۔۔نیچے۔اتاریں۔۔وہ اٹکتی بمشکل بولی۔۔اگر تمھاری ذرا سی بھی آواز آئی تو ادھر سے سیدھا نیچے پھینک کر تیرا کام ابھی تمام کر دوں گا۔۔وہ سیڑھیاں چڑھتا بولا کم اس کے چہرے پر غرایا زیادہ تھا۔۔اسے اتنا غصے میں وہ بھی اتنا قریب سے دیکھ کر وہ بےاختیار اپنی سانسیں روکتی اس کی گردن میں چہرہ چھپا گئی۔۔
