Ziddi (ضدی) — Episode 05
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 5
قسط 5 · کہانی
ماضی
وہ ایک گھنٹے کی تھی جب اس حویلی آئی تھی اور تب سے ہی جاوید لاشاری کی حویلی میں رہ رہی تھی۔۔ایوب لاشاری اور خدیجہ لاشاری کے اس حویلی میں ہونے کی وجہ سے یہ حویلی بڑی حویلی مانی جاتی تھی اسی لیے اس حویلی میں سب کا آنا جانا زیادہ تھا۔۔کوئی بھی فنکشن یا کوئی تقریب ہوتی تو اسی حویلی میں سب ارینج کیا جاتا۔۔جاوید لاشاری کی بیوی نے کبھی اپنے بچوں اور روشانے میں کوئی فرق نہیں کیا تھا۔۔اس حویلی کا صرف ایک ہی انسان تھا جو اس سے سب سے زیادہ چڑتا تھا اور اس چڑ کی بھی ایک وجہ تھی۔۔وہ تھا حیدر لاشاری۔۔حیدر کی ماں جب تک زندہ رہی اسے پاس بٹھا کر بڑے پیار سے سمجھاتی رہتی تھی کہ روشانے بہت معصوم سی بچی ہے تم اس پر غصہ نہ کیا کرو۔۔حیدر اپنی ماں کے بہت زیادہ قریب تھا لیکن جب اس کے حصے کا وقت اور لاڈ پیار بھی اس کی ماں روشانے کو دیتی تو حیدر کو اس پر تپ چڑھتی کہ وہ اپنے ماں باپ کے پاس جائے کیوں لاوارثوں کی طرح دوسروں کے گھر رہتی ہے۔۔اسے شروع سے ہی لڑکیوں کا دوسروں کے گھروں میں رہنا پسند نہیں تھا۔۔وہ اپنی بہنوں کو بھی جا کر کہیں نہیں رہنے دیتا تھا۔۔
حیدر کے گھور کر دیکھنے پر بھی روشانے رو رو کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتی یہ الگ بات تھی کہ آنکھوں میں کبھی ایک آنسو بھی نہیں آتا تھا اور جب تک حیدر کی ماں حیدر کو ڈانٹ نہیں دیتی تھی وہ چپ نہیں کرتی تھی یہی وجہ تھی اس کی چڑ کی۔۔لیکن یہ سب کچھ تب تک تھا جب تک اس کی بڑی تائی زندہ رہی اس کی وفات کے بعد صحیح معنوں میں روشانے یتیم اور مسکین ہوئی۔۔اس کے بعد وہ سب کو پلٹ کر جواب تو دیتی تھی لیکن اپنی ذات کو وہ خود میں ہی سمیٹ گئی۔۔کسی کی بھی توجہ نہ ملنے پر وہ خود پر بے حسی کا خول چڑھاتی گئی اس کے صرف دو ہی دوست تھے نوید اور عائزہ۔۔لیکن ان کے ساتھ بھی کبھی اس نے اپنے دل کی کوئی بات شیئر نہیں کی تھی۔۔اپنی تائی جیسے وہ عائزہ کی طرح مما بولتی ان کی وفات کے بعد جس دن اس کا نکاح باسل لاشاری سے ہوا اس دن وہ ٹوٹ کر روئی تھی اپنا منہ تکیے میں دے کر چیخ چیخ کر روئی تھی۔۔لیکن اس کی چیخیں تکیے میں ہی دب گئی تھیں۔۔ایسے ہی ایک دن سیاہ بادل ٹوٹ کر برس رہے تھے۔۔
وہ نوید اور عائزہ کچن والی سائیڈ لان کے ساتھ بنے کچے پلاٹ میں کیچڑ مٹی کیے ان میں زور زور سے جمپ کرتے ایک دوسرے پر چھینٹے ڈال رہے تھے۔۔اسے بارش میں مٹی سے کھیلنا بہت اچھا لگتا تھا ابھی بھی وہ تینوں یہی کام کر رہے تھے۔۔اب وہ ہاتھوں سے گارا مٹی اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے کے اوپر ڈال رہے تھے۔۔تینوں کی کھلکھلاٹوں سے لان گونج رہا تھا۔۔اس نے ہاتھ میں کیچڑ بھر کر نوید کی طرف اچھالا تو وہ سیدھا اس کے منہ پر پڑا۔۔شانی کی بچی اب تو بچ مجھ سے۔۔نوید بازو سے اپنا چہرہ صاف کرتا ہاتھ میں کیچڑ بھرے اس کے پیچھے بھاگا۔۔وہ کھلکلاتی سیدھی کچن کے دروازے کی طرف بھاگی جب اس کی کسی سے زور دار قسم کی ٹکر ہوئی۔۔حیدر جو آج آفس سے آف ہونے کی وجہ سے روم میں آفس ورک کر رہا تھا کیچن میں داخل ہوا تو اسے لان سے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھی اس نے ملازموں سے عائزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لان کی طرف اشارہ کیا۔۔اسے بارش صرف اپنے کمرے کی بالکنی میں بیٹھ کر کافی کے ساتھ پکوڑے کھانے کی حد تک پسند تھی۔۔
وہ ابھی بھی پکوڑوں کا کہہ کر کافی کا آڈر جس ہستی کو دینا تھا جانتا کہ وہ کہاں ملے گی۔۔وہ کچن کے بیک دروازے سے ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ کوئی زور سے اس سے ٹکرایا۔۔اپنی سفید ٹی شرٹ پر چھپے اس کے دونوں ہاتھ اور سامنے کھڑی ہستی اور اس کی بچوں جیسی حالت دیکھ کر حیدر کا دماغ ساتویں آسمان پر جا پہنچا۔۔اس کی ٹی شرٹ کا حشر دیکھ کر جان تو ہوا ایک دفعہ اس کی بھی ہو گئی تھی۔۔واحد ایک یہی انسان تھا جو اپنی ڈریسنگ پر کمپرومائز نہیں کرتا تھا۔۔وہ ابھی بھی اس کے ساتھ لگی کھڑی حیرانگی سے اس کی شرٹ پر جمے اپنے مٹی سے بھرے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔نوید اور عائزہ نے بھی جلدی جلدی اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں سے صاف کرتے اپنے پیچھے باندھ لیے۔۔کیونکہ ایک اسی جلاد سے تو ڈر لگتا تھا حاشر اگر گھر ہوتا تو ان کی شرارتوں میں ان کا پورا ساتھ دیتا حنان بھائی البتہ ساتھ تو نہیں دیتے تھے بٹ ڈانٹتے بھی نہیں تھے۔۔اللہ نے جو اتنی بڑی بڑی آنکھیں دیں ہیں یہ صرف سجاوٹ کے لیے رکھی ہوئی ہیں کبھی زندگی میں ان کا استعمال بھی کیا ہے ہمیشہ اندھوں کی طرح بھاگتی ہو۔۔
بچی ہو جو ایسی حرکتیں کرتی رہتی ہو۔۔وہ اس کی ایک بازو پکڑ کر پیچھے کرتا بول کم عادت کے مطابق گرج زیادہ رہا تھا۔۔۔۔ساری شرٹ کا ستیاناس کر دیا۔۔وہ جو سوری بولنے کا سوچ رہی تھی اس کے گرجنے پر ایک قدم پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی۔۔بازو ابھی بھی اس کی جارحانہ گرفت میں تھا۔۔باسل اور تانیہ جو دادی سے ملنے آئے تھے لان سے آتی کھلکھلاہٹوں کی آواز پر باسل کو لے کر اس طرف آ گئی۔۔اچھی طرح جانتی تھی کہ بارش ہو رہی ہو اور نوید روشانے کے ساتھ نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔ایک اچھی سٹوری مل سکتی ہے انجوائے کرنے کے لیے وہ اپنے شاطر دماغ میں سوچتی خباثت سے مسکرائی۔۔ابھی وہ وہاں پہنچے ہی تھے کہ کھلکھلاہٹوں میں بادلوں کے برسنے کے ساتھ کسی کی گرجنے کی آواز بھی شامل ہوئی۔۔اور گرجنے والا کون ہو سکتا ہے سب جانتے تھے اس گھر میں ایک ہی تو انسان تھا جو کسی پر بھی بنا بادل اور بجلی کے گرج اور برس سکتا تھا۔۔سامنے کا منظر دیکھ کر تانیہ کے تن بدن میں ٹھنڈ پڑ گئی۔۔میں اندھوں کی طرح بھاگ رہی تھی آپ تو دیکھ کر چل رہے تھے نا آپ سائیڈ پہ ہو جاتے۔۔
روشانے عادت کے مطابق جواب دیتی بولی۔۔جتنا تم اپنے اوپر والے پورشن کا کم استعمال کرتی ہو نا زبان کا اتنا ہی اضافی استعمال ہے۔۔حیدر نے اس کا بازو جھنجھوڑتے سائیڈ پر کرتے کہا۔۔اس کے جواب دینے پر حیدر کا مزید دماغ خراب ہوا۔۔حیدر کو زبان چلانے والی لڑکیاں سخت بری لگتی تھی۔۔خاص کر جو غلطی بھی کرتی اوپر سے زبان بھی چلاتی۔۔اپنی طرف سے اسے سائیڈ پر کیا تھا پر اس کے چھوڑنے پر وہ اپنا بیلنس نہ رکھ پائی اور اس سے پہلے کہ لڑکھڑاتی منہ کے بل زمین بوس ہوتی۔۔شانی۔۔نوید کے ساتھ عائزہ بھی چلائی اس کے گرنے سے پہلے ہی نوید نے اسے تھام لیا۔۔وہ گرنے کے ڈر سے زور سے آنکھیں بند کر گئی تھی۔۔شانی تم ٹھیک ہو کہیں لگی تو نہیں۔۔نوید اور عائزہ کے پوچھنے پر اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی۔۔حیدر جو اسے سائیڈ پر کر کے واپس مڑا تھا نوید اور عائزہ کے چلانے پر فورا گردن گھما کر پیچھے دیکھا۔۔اس سے پہلے کہ وہ اسے بازو سے پکڑ کر سیدھی کرتا نوید اسے اپنے ایک بازو کے حصار میں لے چکا تھا۔۔باسل۔۔کہنے کو بیوی تو وہ تمہاری ہے لیکن ہمیشہ پائی کسی اور کی بانہوں میں جاتی ہے۔۔
تانیہ نے موقع دیکھ کر نشانہ لگانا ضروری سمجھا۔۔باسل کی آنکھوں سے شرارے نکلے۔۔روشانے نوید کا بازو پکڑے سیدھی کھڑی ہوئی تو نظریں سامنے آگ برساتے اپنے شوہر پر پڑی تو وہیں سٹک ہوئی۔۔مطلب اسے دیکھتی اب اس کے وار کا انتظار کرنے لگی۔۔اس کی نظروں کے تعاقب میں حیدر سمیت سب نے اس طرف دیکھا جہاں وہ آنکھوں میں شک کی آگ لیے اسے گھور رہا تھا۔۔اگر تم اسے اپنی بانہوں میں نہ بھی بھرتے تو یہ گر کر مرنے نہیں لگی تھی۔۔وہ آگے بڑھتا روشانے کا بازو پکڑ کر روز سے کھینچ کر نوید سے دور کرتا دوسری سائیڈ دھکا دیتا بولا۔۔اچانک اس پڑنے والے زور کے دھکے سے وہ لڑکھڑاتی ہوئی سنھبلنے کے باوجود حیدر کے قدموں میں جاگری۔۔اللہ جی۔۔اس کے منہ سے بےاختیار نکلا۔۔اس ایریا میں فرشی ٹائل لگی ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ اور گھٹنے پر بہت زور سے لگی۔۔وہ اپنا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبا گئی۔۔پاس کھڑا ہونے کی وجہ سے حیدر کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی جو بری طرح چھل چکا تھا۔۔شانی۔۔نوید اور عائزہ اسے گرتا دیکھ کر پھر سے زور سے چلائے۔۔
اس سے پہلے کہ نوید آگے بڑھ کر اسے دیکھتا باسل اس کے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا۔۔صرف گری ہے مری نہیں ہے جو تیری اتنی جان جا رہی ہے۔۔باسل۔۔نوید زور سے چلایا۔۔اور تم دفع ہو جاؤ اپنے کمرے میں اگر دوبارہ مجھے بارش میں بھیگتی ہوئی نظر آئی تو گردن کاٹ کر قصہ ہی ختم کر دوں گا۔۔وہ روشانے کی طرف رخ موڑتا جاہلوں کی طرح اس پر چلایا۔۔وہ ایک ہاتھ سے زور لگاتی چپ چاپ اٹھ کر آہستہ سے چلتی کچن کے دروازے سے اندر غائب ہو گئی۔۔چال میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی۔۔ہاتھ کے ساتھ اسے گھٹنے پر بھی بہت زور سے لگی تھی۔۔باسل تانیہ کا ہاتھ پکڑتا نوید کو شرر باز نظروں سے گھورتا واپس مڑ گیا۔۔نوید بھی سرخ چہرہ لیے لان سے اپنی حویلی کی طرف نکل گیا۔۔بھیا آپ کو شانی کو دھکا نہیں دینا چاہیے تھا۔۔بچے میں نے اسے دھکہ نہیں دیا سائیڈ پہ کیا تھا۔۔حیدر بولا۔۔دیکھیں اب اسے باسل بھائی کی وجہ سے کتنی زور سے لگی ہے اور نوید بھی ناراض ہو کر چلے گئے ہیں۔۔ٹینشن نہ لو وہ شام کو واپس آ جائے گا پتہ ہے نا اس کی دوست کے چوٹ لگی ہے تو وہ شام کو اس دیکھنے ضرور آئے گا۔۔
حیدر عائزہ کے اترے چہرے سے نظریں ہٹاتا اس جگہ کو دیکھتا بولا جہاں وہ ابھی گری ہوئی تھی۔۔کیسا تھا اس کی زندگی کا پارٹنر جو اسے کہیں بھی کسی کے بھی پاؤں میں گرا دیتا تھا۔۔کیا وہ ایسا لائف پارٹنر ڈیزرو کرتی تھی جیسا گھر کے بڑوں نے اس کی زندگی میں شامل کر دیا تھا کیا واقعی اس نے اسے اپنے لیے خود چنا ہے۔۔وہ سر جھٹکتا عائزہ کو لے کر کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔
وہ ہاتھ میں کافی لیے روم میں داخل ہوئی آہستہ سے چلتی کافی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کنفیوز سی صوفے کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی۔۔وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا فون پر کسی کی شامت لایا ہوا تھا۔۔افف کبھی جو یہ انسان کسی سے نارمل انداز میں بات کر لے۔۔اس گھر کے سارے مردوں کا غصہ اللہ پاک نے اسی انسان میں ڈال دیا تھا۔۔ہر وقت کسی نہ کسی مظلوم پر برستے رہتے ہیں۔۔جنگلی،کڑوا کریلا وہ بھی سخت قسم کا پیور سبز والا۔۔روشانے عادت کے مطابق دل میں اسے اپنے من پسند ناموں سے نوازتی اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔۔مجھے دو گھنٹوں کے اندر اندر یہ ڈیل فائنل چاہیے چاہے اس کے لیے اس انسان کی ہڈیاں توڑو یا سانسیں بند کرو۔۔آئی۔۔ڈونٹ۔۔کئیر۔۔وہ شدید غصے میں اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتا بولا کم اور گرجا زیادہ تھا۔۔زور سے ڈریسنگ ٹیبل پر اپنا فون پٹختا دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھے لمبے سانس لینے لگا۔۔روشانے اس کی ہڈیاں توڑنے اور سانسیں بند کرنے والی بات پر بےاختیار منہ کھولے حیرانگی سے آنکھیں بڑی کیے عادت کے مطابق اسے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ جو ریلکس ہوتا کافی اٹھا کر لبوں سے لگائے نظریں سامنے کھڑی ہستی پر پڑی تو اس کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر کافی کا مگ وہیں سٹک ہوا۔۔وہ ابھی بھی انہی ایکسپریشن سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔وہ کافی کا مگ واپس رکھتا اپنی مخصوص چال میں قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا۔۔پاس آنے پر وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوتی صوفے کے ساتھ لگی۔۔وہ انگلی سے اس کا ماتھا بجاتا آئبرو اور آنکھ کے اشارے سے پوچھا کہ کیا ہوا سٹیچو کیوں بنی ہوئی ہو۔۔آآ۔۔آپ۔۔ڈیل کے لیے۔۔کک۔۔کسی کی بھی۔۔جج۔۔جان۔۔لے لیتے ہیں۔۔وہ ابھی بھی اسی ایکسپریشن کے ساتھ پلکیں جھپک جھپک کر اسے بے یقین نظروں سے دیکھتی اٹکتی بولی۔۔اس کی قسطوں میں ادا ہوتی بات سنتا حیدر حیران ہوا لیکن چہرے پر کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔پھر اپنے ہی اے سے کہے آخری جملے ذہن میں آتے ہی اس کی آنکھوں میں وائلڈ سمائل آئی۔۔ہاں اسپیشلی ان لوگوں کو تو میں ایک سیکنڈ میں ہی ختم کر دیتا ہوں جو زبردستی میری زندگی میں گھس کر میرے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
وہ اس کی کمر میں ایک ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے خود میں بینھچے دوسرے سے اس کی بازو جکڑے اس پر جھکتا اس کی حیرانگی سے کھلی بڑی بڑی کوپر آنکھوں میں دیکھتا بےحد سرد آواز میں غرایا۔۔انداز عادت کے مطابق جارحانہ تھا۔۔سرخ آنکھوں میں جتنی بے مہری تھی آواز اتنی ہی سرد اور سختی لیے ہوئے تھی۔۔حیدر نے اس کی کوپر آنکھوں میں واضح نمی کے ساتھ خوف اترتے دیکھا۔۔اس نے اپنی لائف میں بہت سارے لوگ خود سے ڈرتے دیکھے تھے لیکن آج اتنے قریب سے یہ نظارہ انوکھا اور کافی دلچسپ لگا۔۔اور جو لوگ میری بات نہیں مانتے نا ان کو تو میں سانسوں کے لیے تڑپا دیتا ہوں۔۔وہ مزید اس کے چہرے پر جھکتا اپنی آواز کو پرسرار بناتا سرگوشانہ انداز میں بولا۔۔اس کے مزید پاس آنے پر وہ اپنی گردن مزید پیچھے کو لے گئی۔۔جھٹکا لگنے سے اس کا دوپٹہ اتر کر کندھوں پر جھولنے لگا۔۔دوپٹہ اترنے سے اس کی شفاف لمبی گردن واضح ہوتی اس کی نظروں میں آئی۔۔اس کی گردن کے دائیں سائیڈ پر تین تلوں سے تکون بنی ہوئی تھی۔۔
وہ اتنا اس پر جھکا ہوا تھا کہ روشانے کو اس کی آواز کی گرمی کے ساتھ سانسوں کی تپش بھی اپنے چہرے پر واضع محسوس ہو رہی تھی بےاختیار بڑے سے گھونٹ سے اپنا حلق تر کرتی اس کی گلابی شفاف گردن پر تینوں تل تکون کی شکل میں پوری آب و تاب سے چمکتے اس کی نظروں میں آئے۔۔یہ تل اسے اپنے باپ کی طرف سے ملے تھے۔۔باقی وہ بلکل اپنی ماں جیسی تھی۔۔سمجھ میں آیا نا کہ میں کیا بول رہا ہوں۔۔وہ اپنا ہاتھ اس کے بازو سے سرکاتا اس کے تکون تل پر لایا اور انگوٹھے سے رب کرتا کمر والے بازو کو ہلکا سا جھٹکا دیتا اسے مزید خوفزدہ کرتا بولا۔۔آواز کی سختی ابھی بھی برقرار تھی۔۔وہ اس کا ہاتھ اپنی گردن پر محسوس کرتی خوف سے پوری لرزتی جلدی سے زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔کیا۔۔؟حیدر نے سرگوشی کرتے اس کی بڑی بڑی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتے پوچھا جو ٹکر ٹکر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ہمیشہ کی طرح ٹر ٹر چلنے والی زبان آج خشک ہو کر تالو سے لگی ہوئی تھی۔۔وہ خوفزدہ ہو رہی تھی اور حیدر کو اسے خوفزدہ کرنے میں آج مزہ آرہا تھا۔۔
انگوٹھا ابھی بھی تل کو رب کر رہا تھا وہ یہ حرکت بلکل بےخود ہو کر رہا تھا۔۔روشانے کو لگا اگر وہ جلدی سے نہ بولی تو وہ اپنے کہے کے مطابق ابھی اس کا گلہ دبا کر کام تمام کر دے گا۔۔یہ۔۔یہی۔۔کہ آآ۔۔آپ کی ہر۔۔بات مم۔۔ماننی ہے۔۔وہ پھر سے اٹکتی روہانسی سرگوشی میں بولی کیونکہ کوشش کے باوجود بھی وہ سرگوشی سے زیادہ آواز نہیں نکال پائی۔۔روشانے کے بولنے سے اس کی گرم سانسیں حیدر کو اپنے لبوں پر محسوس ہو رہی تھی۔۔حیدر کی نظریں اس کی آنکھوں سے ہوتی لبوں پر گئی گلابی نرم بھرے بھرے ہونٹ جو خوف کی وجہ سے خشک ہو رہے تھے وہ بار بار بڑا سا گھونٹ بھرتی ان کو اپنی زبان سے تر کر رہی تھی۔۔اگر وہ ذرا سا بھی اور جھکتا تو بولنے سے دونوں کے لب ایک دوسرے سے ٹچ ہوتے۔۔پھر نظروں نے لبوں سے اس کی گردن تک کا سفر کیا۔۔اس کی بڑی بڑی کوپر آنکھوں میں اب نمی بھرنا شروع ہوئی۔۔بھیا۔۔عائزہ کی آواز پر وہ ہوش میں آتا اس کی گردن سے نظریں اٹھا کر آنکھوں میں دیکھا جہاں خوف کے ساتھ نمی بھری ہوئی تھی۔۔
نظریں دوبارہ بے اختیار اپنے انگوٹھے پر کیں جو اس کی گردن کے اس حصے کو بالکل سرخ کر چکا تھا۔۔وہ اسے بلکل خود میں بینھچے اس انداز میں اس پر جھکا کھڑا تھا جیسا اسے رومانٹک کس کر رہا ہو۔۔حالت روشانے کی بھی خراب ہو رہی تھی چہرے کے ساتھ سرخ گردن نم آنکھوں کے ساتھ ماتھے پر پسینے کی نمی کندھوں پر جھولتا دوپٹہ۔۔اس بیچاری کی حالت تو اس پر جھکے ڈریگن نے خراب کی تھی بٹ دیکھنے والا وہی سمجھتا جو اس وقت عائزہ سمجھ رہی تھی۔۔عائزہ جو دروازہ ناک کر کے اجازت کا انتظار کیے بنا ہی اندر داخل ہو چکی تھی ان دونوں کو اس کنڈیشن میں دیکھتی جلدی سے اپنا رخ موڑ گئی۔۔بے وقوف لڑکی۔۔حیدر لمبی سانس لیتا آہستہ سے اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا دل میں اسے اپنے من پسند نام سے نوازتا دو قدم پیچھے ہوا۔۔اگر وہ اسے اپنی عادت کے مطابق جھٹکے سے خود سے دور کرتا تو وہ اسی کے قدموں میں زمین بوس ہو جانی تھی کیونکہ وہ اسی کے آسرے پر کھڑی تھی۔۔روشانے جس کی سانسیں بھی رک رک کر آ رہی تھی اس کے صحیح سلامت چھوڑ دینے پر جلدی سے اپنی سانسیں بحال کرنے لگی۔۔
عائزہ نے چور نظروں سے روشانے کو دیکھا تو اس کی حالت دیکھتے دل میں آگ لگی۔۔جی میرے بیٹے کو کوئی کام تھا۔۔حیدر گلہ صاف کرتا اس کی طرف رخ موڑتا بولا۔۔وہ جو روشانے کو شعلہ بار نظروں سے گھور رہی تھی فوراً چہرے پر شرمندگی لے آئی۔۔سوری بھیا وہ۔۔اٹس اوکے۔۔بٹ صرف دروازہ ناک نہیں کرتے اجازت کا بھی انتظار کرتے ہیں ٹھیک ہے نا حیدر اسے اپنے حصار میں لیتا لاڈ سے اس کی نوز دباتا نرمی سے سمجھتا بولا۔۔انداز میں نرمی کے ساتھ دینا جہان کا پیار ہی پیار تھا۔۔روشانے نے اس ڈریگن کو دیکھا جو ابھی آگ برسا رہا تھا۔۔اب اس کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے کبھی اسے غصہ آیا ہی نہ ہو۔۔بھیا میرا گفٹ کہاں ہے۔۔جو میرے لیے لائے ہیں۔۔وہ اس کے ساتھ چلتی بیڈ پر بیٹھتی بولی۔۔کہیں شادی کے بعد اپنی گڑیا کا گفٹ لانا بھول تو نہیں گئے۔۔عائزہ نے چبتے ہوئے لہجے میں روشانے کو دیکھتے کہا۔۔وہ جب بھی کسی بھی ملک میں جاتا تو اس کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ لے کر آتا۔۔ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کا گفٹ بھول جاؤں۔۔
میں بھولنے بھی نہیں دوں گی اور نہ ہی کبھی کسی ایرے غیرے کو اپنی جگہ لینے دوں گی۔۔وہ حیدر کے کہنے پر اس کے سینے سے لگتی روشانے کو گھورتی نظروں کے نشانے پر رکھتی بولی۔۔نظروں کے ساتھ آواز میں بھی سامنے کھڑی لڑکی کے لیے واضح وارننگ تھی جو حیدر نے محسوس کرتے ہوئے بھی اگنور کیا۔۔بیٹا جو جگہ آپ کی ہے وہ آپ کی ہی ہے وہ کوئی بھی نہیں لے سکتا۔۔وہ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرے اسے یقین دلاتا بولا۔۔اچھا آپ ادھر بیٹھو میں آپ کا گفٹ لے کر آتا ہوں۔۔وہ کہتا اٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔ویسے تم جیسی چال باز لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھنی۔۔عمر میں کتنی چھوٹی سی اور کتنی معصوم سی لگتی ہو تم۔۔پر حرکتیں توبہ توبہ۔۔بازاری عورتوں کو بھی مات دی ہوئی ہے تم نے۔۔عائزہ چلتی اس کے پاس کھڑی ہوتی اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑتی بولی زبان کے ساتھ نظریں بھی آگ برسا رہیں تھیں۔۔وہ بیچاری اسے دیکھتی اپنا قصور ڈھونڈ رہی تھی کہ اب اس نے کیا کیا ہے۔۔مطلب۔۔
کیا ہے تجھ میں ایسا جو مجھ میں یا لاشاری خاندان کی دوسری لڑکیوں میں نہیں ہے جو حویلی کے سارے مرد ہی تمہارے پیچھے پیچھے گھوم رہے ہیں۔۔صحیح کہتی ہیں دادی پھپھو اور چچی جان کہ مظلومیت کا ڈھونگ رچا کر حویلی کے سارے مردوں کو ہی تم نے اپنے پیچھے لگایا ہوا ہے۔۔مطلب حیدر بھائی کو بھی۔۔جو لڑکیوں کو دیکھنا تو دور ان سے بات کرنے میں بھی الرجک ہیں۔۔تم نے ان کو بھی اپنی چالوں میں پھنسا لیا اور سپیشلی تم سے تو وہ کتنی نفرت کرتے تھے اتنا چڑتے تھے تمہاری شکل دیکھ کر۔۔اور اب وہی حیدر بھائی۔۔وہ تھوڑی دیر پہلے کا سین یاد کرتی اسے پھر زور سے جھنجوڑتی اپنا فقرہ ادھورا چھوڑتی چپ ہوئی۔۔ویسے صحیح فائدہ اٹھاتی ہو تم اپنی اس معصوم شکل کا بالکل اپنی ماں کی طرح عائزہ اس کی گردن پر نظریں جمائے بولی۔۔بار بار جنجوڑنے سے اس کا دوپٹہ سر سے اترتا اس کی گردن کو ظاہر کرنے لگا جہاں واضح سرخ نشان بنا ہوا تھا۔۔روشانے کو لگا تھا کہ بھرے بازار میں کسی نے اس کے سر سے چادر چھین کر اسے بے لباس کر دیا ہو۔۔
پہلے تو وہ ناسمجھی سے اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن سمجھ آنے پر اس کی آنکھوں میں بےاختیار نمی بھرنا شروع ہوئی جسے وہ پلکیں جھپک جھپک کر پیچھے دھکیل رہی تھی۔۔اسے اپنی انیس سالہ زندگی میں کبھی کسی تانے طنز یا کسی کے بولے گئے فقرے نے اتنی تکلیف نہیں دی تھی جتنی وہ اس وقت محسوس کر رہی تھی۔۔اسے لگتا تھا کہ کبھی زندگی میں اسے مدد کی ضرورت پڑی تو عائزہ لاشاری سب سے پہلے اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔۔لاشاری خاندان کا کوئی فرد اس پر یقین کرے یا نہ کرے لیکن عائزہ لاشاری ضرور اس پر یقین کرے گی۔۔اسے کبھی اپنی دوست کو خود کی وضاحت نہیں دینی پڑے گی۔۔اب اس کے کردار کی دھجیاں اڑانے میں سب سے آگے عائزہ لاشاری ہی تھی۔۔کیا وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی جس کے ساتھ وہ بچپن سے رہتی آرہی تھی۔۔کیا وہ صرف اسے اتنا سا ہی جان پائی تھی۔۔روشانے کا آج صحیح معنوں میں ہر رشتے سے اعتبار ختم ہوا تھا۔۔اس نے بھی باقی سب کی طرح صرف ایک طرفہ سن کر اس کے لیے عدالت لگا کر مجرم ثابت کر کے فیصلہ سنا دیا تھا۔۔
ایک بات یاد رکھنا کسی خوش فہمی میں مت رہنا تم جیسی لڑکی کو تو میں اپنے بھائی کی زندگی میں کیا اس حویلی میں بھی نہیں رہنے دوں گی اب۔۔وہ اسے دھکا دیتی بولی۔۔کتنی نفرت تھی اس کی دھتکار میں۔۔ایک پل تو روشانے بھی حیران ہوئی۔۔اس کے دھکا دینے پر وہ سنبھلنے کے باوجود صوفے پر گری۔۔بیٹا یہ آپکا گفٹ حیدر عائزہ کے پیچھے آ کر بولا۔۔اپنے پیچھے بھائی کی آواز سنتی وہ چہرے کے تاثرات بدلتی فوراً مسکراہٹ لاتی رخ موڑتی حیدر سے اپنا گفٹ پکڑ گئی۔۔ارے واہ بھیا تھینک یو۔۔ویسے اپنی بیوی کے لیے کیا لائے ہیں میں آپ کے آنے سے پہلے یہی بات آپ کی بیوی سے پوچھ رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح اپنے دل کی بات نہیں بتائی شاید سرپرائز دینا چاہتی ہے۔۔سرپرائز بھی تو بڑے بڑے دیتی ہے نا کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔۔عائزہ اپنا گفٹ کھولتی بات کا رخ بدلتی جھوٹ کا سہارا لیتی بات کو کدھر جوڑتی بولی۔۔عائزہ کی بات سنتے حیدر نے نظریں سامنے بیٹھی ہستی پر کی جو اپنا بازو زور سے ہاتھ میں پکڑے رخ بالکنی کی گلاس وال کی طرف کیا ہوا تھا۔۔کتنا پیارا ہے۔۔
وہ گولڈ کا بریسلٹ ہاتھ سے اوپر اٹھاتی جوش سے بولی۔۔اس کی خوشی کا اندازہ اس کی آواز سے ہی لگایا جا سکتا تھا۔۔تھینک یو بھیا اینڈ لو یو سو مچ۔۔وہ حیدر کے سینے سے لگتی زور سے بولی۔۔لو یو ٹو بھیا کی جان۔۔حیدر نے مسکراتے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا۔۔بھیا آپ ایک وعدہ کریں۔۔وہ حیدر کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑتی بولی۔۔حیدر نے ناسمجھی سے عائزہ کو دیکھا۔۔آپ کبھی بھی کسی تھرڈ پرسن کے لیے خود کو ہم سے اور اس گھر سے ایک دن کے لیے کیا ایک گھنٹے کے لیے بھی دور نہیں کریں گے۔۔بلکہ ان لوگوں کو ہی اس گھر سے دور پھینک دیں جو ہماری زندگیوں پر زبردستی مسلط ہوئے بیٹھے ہیں۔۔روشانے عائزہ کی بات سنتی زور سے آنکھیں بند کر گئی۔۔حیدر نے بےاختیار اسے دیکھا جو ابھی بھی اپنا بازو پکڑے صوفے پر رخ موڑے بیٹھی تھی۔۔آج روشانے لاشاری کو یتیم مسکین ہونے کے ساتھ پہلی دفعہ لاوارث اور بے گھر ہونے کا احساس شدت سے ہوا۔۔اسے لگا اس کا وجود کسی کچرے کے ڈھیر سے اٹھایا گیا ہو جو زبردستی سب پر مسلط کیا گیا ہے۔۔آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر اس کی گود میں گرتے بےمول ہوئے۔۔
گڑیا میں یہ بات پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میری میٹنگز تھی جس وجہ سے مجھے ایمرجنسی نکلنا پڑا اور رہی بات کہ ہماری زندگیوں پر کوئی زبردستی مسلط ہے تو یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ ہماری زندگیوں پر کوئی بھی زبردستی مسلط نہیں ہو سکتا ہے ہم سب ہی اپنی زندگیوں میں آزاد ہیں۔۔بھیا گفٹ بہت پیارا ہے۔۔وہ حیدر کی آواز میں تھوڑی سختی محسوس کرتی بات گھماتی جلدی سے بولی کیونکہ حیدر کو بار بار اپنی بات کی وضاحت دینا بلکل بھی پسند نہیں تھا یہ بات لاشاری خاندان تو کیا اس کا سارا سرکل جانتا تھا۔۔عائزہ کے بات بدلنے پر حیدر نے بس ہاں میں سارا ہلایا۔۔اچھا بھیا میں چلتی ہوں سب ہمیشہ کی طرح میرے گفٹ کا نیچے انتظار کر رہے ہیں۔۔سب کہہ رہے تھے کہ آپ اس دفعہ میرے لیے کچھ بھی نہیں لائے ہونگے ابھی سب کو دکھاتی ہوں کہ میرے بھیا آج بھی صرف میرے ہی بھیا ہیں۔۔وہ مسکراتی اپنے لفظوں پر زور دیتی کہتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔عائزہ جاوید لاشاری۔۔حیدر کے پکارنے پر اس کا دل شدت سے ڈھڑکا۔۔حیدر نے کبھی اسے نام لے کر نہیں پکارا تھا وہ ہمیشہ اسے گڑیا یا بیٹا کہتا تھا۔۔
پورے نام صرف تب پکارتا جب وہ غلطی پر ہوتی اور اسے کوئی تنبیہ کرنا ہوتی۔۔عائزہ کے دروازے کی طرف بڑھتے قدم رکے۔۔کسی بھی چیز کا زیادہ استعمال ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے چاہے وہ لفظ ہی کیوں نہ ہوں۔۔اور جب ہمیں اپنے نقصان کا اندازہ ہوتا ہے تب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔۔پھر یا تو ہمارے پاس شرمندگی ہوتی ہے یا پھر پچھتاوا۔۔وہ اسے اس کے لفظوں کی طرف دھیان دلاتا بولا۔۔بھیا میں ہمیشہ سوچ سمجھ کر ہی ہر چیز کا استعمال کرتی ہوں۔۔اور اس دفعہ تو بروقت استمعال کیا ہے ورنہ ساری زندگی نہ استمعال کرنے پر پچھتاوا رہتا۔۔عائزہ مسکرا کر کہتی دروازہ کھولتی باہر نکل گئی۔۔فون کی بل ہونے پر حیدر نفی میں سر ہلاتا اپنے فون کی طرف متوجہ ہوا۔۔
