Ziddi (ضدی) — Episode 04
Shaheen Choudary · شاہین چوہدری · قسط 4
قسط 4 · کہانی
بابا جان ہم نے ان دونوں کے ساتھ زیادتی نہیں کر دی اسپیشلی حیدر کے ساتھ۔۔حنان لاشاری اپنے باپ جاوید لاشاری کے پاس بیٹھا کچھ سوچتا ہوا بولا۔۔کیونکہ آج ایک ہفتہ ہو گیا تھا حیدر کے نکاح کو اور وہ اس رات کے بعد ابھی تک حویلی نہیں آیا تھا۔۔جانتے تو وہ تھے کہ حیدر کہاں ہے لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں وہ یہ سب اس کا غصہ ہی سمجھ رہے تھے۔۔روشانے کو اس حوالے سے روز الگ سننے کو ملتا تھا کہ اس کی وجہ سے اس حویلی کا بیٹا اپنوں سے دور بے گھر ہو گیا ہے۔۔چچی اور پھوپھو اپنی حویلی سے اب ادھر ہی پائی جاتیں تھیں۔۔وہ گزرتے ہر دن کے ساتھ اور بے حس ہوتی جا رہی تھی۔۔تو کیا ہم بھی اسے لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیتے جاوید لاشاری کچھ سوچتے لمبا سانس کھینچتے بولے۔۔بابا جان یہ بات تو اس کے ماں باپ نے آج تک نہیں سوچی کہ ان کی کوئی اور بیٹی بھی ہے۔۔چلو اس عورت کو تو چھوڑیں مجھے چچا جان سے یہ امید نہیں تھی۔۔
حنان بیٹا مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر اس بیٹی کے آنسوؤں کا حساب دینے پہ آگئے تو ہم پوری حویلی والوں کو دینا پڑے گا۔۔پہلے تو صرف بھتیجی کا رشتہ تھا اب تو وہ ہمارے گھر کی عزت ہے اب اس کے ایک ایک آنسو کے ہم قرضدار ہیں اوپر سے تمہاری پھپھو اور چچی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اماں جان نے الگ اسے اپنا دشمن سمجھا ہوا ہے اگر وہ اس عورت کی بیٹی ہے تو وہ اس کی ماں لاشاری خاندان کے بیٹے کی وجہ سے بنی تھی جیسے دوسری بچیاں لاشاری خاندان کا حصہ ہیں ویسے ہی وہ بھی ہے۔۔میری بھی بیٹیاں ہیں اور تم بھی بیٹیوں کے باپ ہو بس تھوڑی دیر کے لیے اپنی بیٹیوں کو سامنے رکھ کر اس بچی کی حالت کا سوچو۔۔جس نے بچپن سے لے کر آج تک ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم مسکین والی زندگی گزاری ہو جیسے کوئی رشتہ ملا ہی نا ہو۔۔بابا جان میرا وہ مطلب نہیں تھا مجھے وہ بالکل اپنی بیٹیوں کی طرح عزیز ہے حنان لاشاری شرمندہ سے لہجے میں بولا۔۔
اس نے اپنی شادی کی پہلی رات اپنی بیوی عالیہ کو صرف ایک ہی نصیحت کی تھی اور وہ تھی روشانے لاشاری کے بارے میں۔۔کہ اس کے گھر والے چاہے اس کے ساتھ جیسا بھی سلوک کر رہے ہیں لیکن اس کی طرف سے حنان لاشاری کو کبھی کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے وہ بالکل عائزہ کی طرح ہی اسے عزیز تھی۔۔روشانے نے عائزہ سے بات کر کے اسے منانے کی بہت کوشش کی تھی۔۔لیکن ہر دفعہ اس نے اس کی ایک بھی سنے بغیر اسے اپنے روم سے دفع جانے کو بولا تھا۔۔اس دوران نوید نے اس سے ہر طرح رابطہ کر کے بات کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ اسے بلاک کر چکی تھی اور سامنے آنے پر اپنا راستہ بدل لیتی۔۔اسی انسان کی وجہ سے آج وہ ان حالات میں تھی۔۔جیسے اس کی اس سائیکو انسان سے جان چھوٹ گئی تھی نہ وہ اپنا پروپوزل سامنے رکھتا نہ اس کا زبردستی حیدر سے نکاح ہوتا اور نہ اس کی زندگی مزید اس پر تنگ ہوتی۔۔
اس کی چھوٹی پھپھو اور نوید کی دونوں بہنوں نے بھی اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بے حس بنتی سب کو اگنور کر رہی تھی۔۔آج بھی صبح موبائل کے لارم پر روٹین کے مطابق اس کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے دھیان میں صوفے پر اٹھ کر بیٹھی وہ پہلی رات سے ہی صوفے پر سو رہی تھی ایک زوردار انگڑائی لی۔۔لارم بند کرتی تھوڑی دیر بیٹھی نیند میں جھولتی رہی پھر کھڑی ہوتی دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھتی جھک کر اپنی کمر سیدھی کرنے لگی۔۔کیونکہ صوفے پر سونے کی وجہ سے صبح اٹھ کر سب سے پہلے اسے اپنا جوڑ جوڑ کھولنا پڑتا تھا۔۔وہ بنا دوپٹے کے بیڈ کی طرف منہ کیے آنکھیں بند کیے جھک رہی تھی کبھی سیدھی ہوتی اپنی ایکسرسائز کرنے میں مگن تھی۔۔جب اپنے جسم کو تھوڑا سا ریلیکس فیل کیا تو ایک بار پھر دونوں بازو اوپر اٹھاتی زوردار انگڑائی لیتے نظر سامنے بیڈ پر گئی تو وہیں سٹک ہوئی۔۔کیونکہ سامنے ہی وہ بیڈ پر الٹا لیٹا ہوا تھا۔۔
وہ آہستہ سے اپنے بازو نیچے کرتی پہلوؤں پر رکھتی غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔پتہ نہیں وہ رات کے کس پہر آ کر لیٹا تھا افف وہ کتنی گہری نیند سو رہی تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔وہ کتنی دیر اس کے ہلنے جلنے یا دوسرے لفظوں میں اس کے برسنے کا انتظار کرتی رہی۔۔پنجوں کے بل آہستہ سے قدم اٹھاتے بیڈ کے پاس ہوتی غور سے اسے دیکھنے لگی کیونکہ روم میں صرف لیمپ کی لائٹ تھی اور اس کے چہرے کے سامنے ایک بازو تھا جس وجہ سے اسے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔۔یہ یقین کر لینے کے بعد کہ وہ سو رہا ہے واپس مڑتی جھک کر دوپٹہ اور اپنی چپل ہاتھ میں اٹھاتی ویسے ہی پنجوں کے بل بنا آواز کیے آہستہ آہستہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔نماز اور تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد اب صوفے پر بیٹھی جھولتی تسبیح پڑھ رہی تھی۔۔اپنے اذکار پورے کرنے کے بعد خود پر پھونک مار کر بیڈ پر لیٹے اس انسان کی طرف دیکھنے لگی۔۔
کچھ سوچتی اٹھ کر آہستہ سے اس کے بیڈ کے پاس آکر اس پر بھی پھونک ماری اور اوپر منہ کر کے اللہ تعالی کی امان میں دیا کیونکہ اس ایک ہفتے میں بھابھی نے اسے یہی سمجھایا تھا کہ اب جو بھی ہے وہ اس کا شوہر ہے۔۔ بنا آواز کیے چلتی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔۔وہ جو آدھی رات اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا خالی بیڈ پر نظر پڑتے ہی بےاختیار ادھر اُدھر دیکھا تو محترمہ صوفے میں گھسی سوئی نظر آئی۔۔یعنی اس کی غیر موجودگی میں بھی وہ اس کے بیڈ پر نہیں سوئی تھی۔۔یہ سوچتے ہی اسے پھر سے اس سوئی ہوئی لڑکی پر تپ چڑھی۔۔لیکن لمبا سانس لے کر خود کو کنٹرول کیا۔۔وہ فریش ہو کر آنکھیں بند کیے لیٹا سونے کی کوشش کر رہا تھا جب اس کے نیند میں جھولتے صوفے پر اٹھ کر بیٹھنے سے ہی آنکھیں کھول کر اس کی ایک ایک حرکت ملاخط کر رہا تھا اب سر اٹھا کر اسے دروازے سے باہر نکلتے دیکھا۔۔اسے اپنے روم میں کسی اور کی موجودگی میں نیند نہیں آتی تھی۔۔
ماں کی وفات کے بعد آج پہلی دفعہ اسے کسی نے یوں پھونک مار کر اللہ کی امان میں دیا تھا۔۔وہ کتنی دیر دروازے کی طرف دیکھتا رہا۔۔بے وقوف لڑکی۔۔کہتا تکیہ اٹھا کر چہرے پر رکھتا رخ موڑ کر پھر سے آنکھیں بند کر گیا۔۔
نو بجے کے قریب وہ کچن کے پچھلے لان والے دروازے سے کچن میں داخل ہوئی کیونکہ حال لانچ اس وقت سب افراد سے بھرا پڑا تھا چچی اور پھوپھو نے آج کل ادھر ہی ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔۔اس بیچاری کی شامت آئی رہتی تھی بنا کسی بات کے ہی اس پر برسنا شروع ہو جاتی تھیں۔۔کچن میں ملازمائیں سب کی پسند کا ناشتہ بنا رہی تھیں وہ بھی ایک طرف چیئر کھینچ کر بیٹھتی سیب اٹھا کر کھانے لگی۔۔اووو تو مہارانی صاحبہ یہاں تشریف فرما ہیں۔۔چچی اپنی چیل جیسی نظروں سے اسے ڈھونڈتی کیچن میں داخل ہوتی بولی ان کی رسیلی آواز کانوں میں پڑتے ہی وہ زور سے آنکھیں بند کرتی سیب والا ہاتھ ٹیبل کے نیچے لے گئی ورنہ ابھی اس کے کھانے پینے پر لیکچر شروع ہو جاتا۔۔ویسے تم جیسی ڈھیٹ لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھنی۔۔جس کی اتنی ہونے کے باوجود بھی وہیں سر دیے پڑی ہوئی ہے۔۔جس کے آسرے پر یہاں اس حویلی میں پڑی ہوئی ہو نا وہ اب واپس نہیں آنے والا بلکہ تجھے طلاق نامہ ہی بھجوائے گا۔۔
اچھا ہی ہے جتنی جلدی تم جیسی بلا سے جان چھڑوا لے اتنا ہی بہتر ہوگا ورنہ جیسے تیرے لچھن ہیں نا اسے بھی تیرے باپ کی طرح منہ چھپا کر دوسرے ملک بھاگنا پڑے گا جیسے وہ تیری ماں سے بھاگا آج تک واپس نہیں آیا۔۔چچی یہ آپ کس لہجے میں روشانے سے بات کر رہی ہیں یاد رکھیں کہ آپ کا اب اس کے ساتھ ایسا کوئی بھی رشتہ نہیں ہے کہ آپ اس کی انسلٹ کریں یہ اب ہمارے گھر کی عزت ہے۔۔حاشر کچن میں داخل ہوتا آہستہ مگر تھوڑی سخت آواز میں بولا کیونکہ وہ چچی کے آخری الفاظ سن چکا تھا وہ پہلے ہی باسل کی حرکت پر تپا ہوا تھا اوپر سے چچی کے الفاظ۔۔وہ باہر سے آیا تھا اور عالیہ بھابھی کے اشارہ کرنے پر سیدھا ہی کچن میں گیا۔۔ارے جس کی عزت ہے پہلے اس سے بھی تو پوچھ لو کہ وہ اسے کیا سمجھتا ہے جس نے اسے ایک گھنٹہ بھی قبول نہیں کیا اور تب سے لاپتہ ہے اس رات کے بعد اس کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کی آئے بڑے عزت والے۔۔چچی تنک کر حیدر کا حوالہ دیتی بولی۔۔
روشانے چپ چاپ ایسے بیٹھی ان کی یہ تلخ باتیں سن رہی تھی جیسے کسی اور کے بارے میں ہو رہی ہوں۔۔گڑیا بیٹا آپ اٹھ کر اپنے روم میں جائیں حاشر چچی کو کوئی جواب دینے کی بجائے اس کی طرف گھوما جو بے حس بنی بیٹھی تھی۔۔حاشر بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ ٹینشن نہ لیں یہ تو روز کا ہے۔۔وہ آہستہ سے بولی۔۔ماں کی طرح ایک زبان ہی ہے جو ہر وقت چلتی مردوں کی ہمدردیاں سمیٹتی رہتی ہے۔۔مہارانی صاحبہ اگر ہمدردیاں سمیٹ لی ہوں تو باہر نکل کر مہمانوں کو بھی دیکھ لو سب بھوکے پیاسے ناشتے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں میرے لیے چائے لے کر جلدی باہر آؤ شکل دیکھتے ہی سر میں درد شروع ہو گیا ہے پتہ نہیں کب یہ نحوست ہمارے سروں سے ٹلے گی۔۔وہ چبا کر کہتی اپنی زبان کے جوہر دکھاتی اسے چائے کا آرڈر دیتی لفظوں کے تیر مارتی کچن سے باہر نکل گئی۔۔حاشر نے افسوس سے چچی کے الفاظ سنے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ اسے دیکھتی آنکھوں میں نمی کی لکیر لیے پھیکا سا مسکرائی۔۔
خوش رہا کرو انشاءاللہ یہ دن بھی گزر جائیں گے۔۔وہ ہلکا سا مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا روشانے سے آمین بھی نہ کہا گیا۔۔بےاختیار دھیان کمرے میں سوئے اس انسان کی طرف گیا جس کی وجہ سے وہ پچھلے ایک ہفتے سے ذہنی اذیت سے گزر رہی تھی۔۔جب صبح سب کو پتہ چلا تھا کہ وہ رات ہی گھر سے چلا گیا تھا اوپر سے ریسپشن بھی کینسل کر دیا ہے تو باسل سپشل اسے مبارک باد دینے آیا تھا ساتھ میں ماں بہین اور تانیہ بھی تھی واہ کیا رونمائی کا تحفہ ملا ہے چچی تو روم میں آ کر سنا کر گئی تھی۔۔پھر بڑی پھپو کو پتہ چلا کہ ان کا لاڈلا بھتیجا بے گھر ہو کر لاوارثوں کی طرح لاپتہ ہو چکا ہے دادی جان کو الگ ہول اٹھ رہے تھے پھر تو جیسے اس کی شامت آ گئی تھی۔۔روز اسے بنا کسی جرم کے کہڑے میں کھڑا کیا جاتا اور اس پر دفاع لگا کر سزا سنائی جاتی۔۔
دو دن بعد باسل پھر اسے لان میں گھیرے کھڑا تھا تم جیسی لڑکی کو کوئی مرد بھی نہیں اپنائے گا میری طرح بہت جلد حیدر بھی تم سے جان چھڑوا لے گا کیونکہ اس کی نیچر کو سب بہت اچھے سے جانتے ہیں وہ تو واش روم کے استعمال کا جوتا بھی برانڈڈ لتیا ہے تو تم جیسی لڑکی کہاں بیوی کے طور پر قبول کرے گا جو پہلے ہی میرے استعمال میں۔۔چٹاخ۔۔اس کے خباثت سے مسکرا کر آنکھ دبانے پر وہ جو چپ چاپ کھڑی اس کی بکواس سن رہی تھی بےاختیار اس کی بات پوری ہونے سے پہلے روشانے کا ہاتھ اٹھتا اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا۔۔باسل اتنی زور سے پڑنے پر ایک دم سٹک ہوا۔۔کیونکہ یہ بلکل غیر متوقع تھپڑ تھا۔۔خبردار جو اپنی گندی غلیظ زبان سے میرا نام لینے کی کوشش بھی کی تو۔۔تھپڑ سے زیادہ اس کے لفظوں نے باسل کو آگ لگائی تھی کیونکہ نکاح کے بعد وہ لڑکی اس کی ہر بات نظریں جھکا کر چپ چاپ سنتی تھی۔۔
تمھاری اتنی ہمت تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا وہ اس کا ایک بازو پکڑ کر جاہلوں کی طرح اسے جھنجھوڑتا بولا اب دیکھ میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہوں کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا۔۔سب تجھے دھکے دے کر یہاں سے نکالیں گے۔۔اور وہ جو تجھے اپنے نکاح میں لے کر خود لاپتہ ہو گیا ہے نا جب اسے پتہ چلے گا کہ تو کسی کے ساتھ منہ کالا کر چکی ہے تو تجھے زندہ اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارے گا۔۔باسل اسے بازو سے حویلی کے بیک سائیڈ کی طرف کھینچتا بولا۔۔میرا بازو چھوڑو جاہل غلیظ انسان۔۔وہ اس کے ارادے جانتی اپنی پوری جان سے مزاحمت کرتی اپنا بازو چھڑوانے لگی کیونکہ اس ایریا میں وہ اکیلی اس کے ساتھ تھی اور گھر والے وہی سنتے جو یہ انسان بکواس کرتا۔۔چھوڑو مجھے وہ بےاختیار روتی ہوئی اونچی آواز میں چیخی۔۔باسل اس کے منہ پر ہاتھ جما کر اس کی آواز بند کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن وہ کسی بھی طرح قابو میں نہیں آ رہی تھی۔۔
حاشر اور نوید جو باتیں کرتے گارڈن کی روش پر جا رہے تھے اس کی روتی آواز اور شور سنتے حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رکے۔۔پھر دونوں پوری سپیڈ سے آواز کی سمت دوڑے سامنے کا منظر دیکھ کر دونوں کا خون کھولا۔۔حاشر کے دماغ میں فوراً سے کچھ کلک ہوا اس نے جلدی سے اپنا فون نکالا۔۔باسل ذلیل انسان چھوڑ اسے۔۔نوید جسے پہلے ہی باسل بہت برا لگتا تھا اس کے منہ پر دو پنچ مارتا بولا۔۔اس اچانک افتاد پر وہ گھبرا گیا اور روشانے کا بازو چھوٹ گیا۔۔بےغیرت انسان تجھے شرم نہیں آتی ہماری ہی حویلی میں آ کر ہماری عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے حاشر اس پر ٹوٹ پڑا۔۔نوید نے اس کے مزاحمت کرتے ہاتھ اس کی کمر کی طرف مروڑ کر پن کیے اور حاشر اس کی سنے بغیر اس کی پسلیوں اور پیٹ میں گھونسوں اور مکوں کی بارش کر رہا تھا۔۔اس نے مجھے یہاں خود بلایا تھا۔۔میرا کوئی قصور نہیں اس نے مجھے ورغلایا تھا۔۔حاشر اس کی بات سنتا اس کا جبڑا دبوچ گیا اس نے تجھے بلایا تھا۔۔
؟ہاں میں سچ کہہ رہا ہوں میں تو خود اسے یہی سمجھا رہا تھا کہ تمہارا نکاح ہو چکا ہے اب تم حیدر کی عزت اور امانت ہو تو یہ ٹھیک نہیں ہے لیکن یہ مان نہیں رہی۔۔روشانے کوپر آنکھوں میں آنسو لیے حیرانگی سے اس جھوٹے انسان کی کہانی سن رہی تھی۔۔حیدر اسے بیوی نہیں مانتا شاید اسی لیے یہ میرے ساتھ۔۔حرام زادے تیری جان لے لوں گا اگر ایک لفظ بھی اور بکواس کی تو حاشر اس کا گلہ اپنے دونوں ہاتھوں سے دباتا غرایا۔۔حاشر چھوڑ اسے مر جائے گا نوید اسے کھینچتا بولا مر جائے سالا بےغیرت انسان۔۔حاشر کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑی تو باسل خود کو چھڑواتا وہاں سے بھاگ نکلا۔۔یہ سب سنتے اور دیکھتے روشانے کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔حالات نے اسے کس موڑ پر کھڑا کر دیا تھا کیا بن گئی تھی وہ اس گھر کے مردوں کی نظروں میں۔۔دونوں کی نظر اس پر پڑی جو بھری آنکھوں سے اپنی بازو پکڑے سٹل کھڑی تھی۔۔گڑیا آپ ٹھیک ہو۔۔شانی ٹھیک ہو۔۔وہ دونوں اس کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے بولے۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر نوید کو دیکھا آنسو نکلتے شفاف گالوں ہر بہہ گئے کیا کچھ نہیں تھا اس کی کوپر بہتی آنکھوں میں۔۔شانی۔۔نوید اسے پہلی دفعہ یوں روتے ہوئے دیکھ رہا تھا تو بےاختیار اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پکار گیا۔۔وہ شدت سے اس کا ہاتھ جھٹکتی ان دونوں کے درمیان سے نکلتی حویلی کی طرف بھاگ گئی گڑیا۔۔شانی۔۔دونوں نے اسے پکارا۔۔حاشر اسے حویلی کے رہائشی حصّے میں گم ہوتا دیکھ کر اپنا فون نکال کر کچھ ٹائپ کرنے لگا جبکہ نوید ابھی بھی نم آنکھوں سے کبھی اپنا جھٹکا ہوا ہاتھ دیکھ رہا تھا کبھی اس طرف جدھر وہ گئی تھی۔۔اگلے دن اسے بھابھی سے پتہ چلا کہ رات کو باسل کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے جس میں اس کا ہاتھ اور بازو ٹوٹ گئے ہیں ایک ٹانگ بھی فکچر ہو گئی یے۔۔اور بھی بہت بری چوٹیں آئیں ہیں۔۔زندگی میں پہلی بار کسی کے درد اور چوٹ پر اسے اتنی خوشی محسوس ہوئی اور اس نے بےاختیار اللہ کا شکر ادا کیا اب کم از کم وہ ادھر تو نہیں آ پائے گا کل سے وہ سچ میں ڈر گئی تھی۔۔
دو دن اس کی جان کو بھی سکون رہا کیونکہ دادی پھپھو سمیت سب واجد لاشاری کی حویلی میں چلے گئے تھے دو دن بعد ساری پلٹن پھر سے واپس ادھر شفٹ ہو گئی تھی۔۔چچی تو رات کا کھانا کھا کر چلی جاتی لیکن پھپھو نے ادھر ہی ڈیرہ لگایا ہوا تھا۔۔اتنی ملازمہ ہونے کے باوجود ناشتے کے لیے دادی پھپو اور چچی نے اس کی دوڑیں لگوائی ہوئی تھی۔۔اے لڑکی یہ لے کر آ۔۔اے لڑکی وہ لے کر آ۔۔وہ چپ چاپ کچن سے حال کے چکر لگا رہی تھی۔۔اے لڑکی تجھے سنائی کم دیتا ہے کب سے تجھے تانیہ کے لیے فریش جوس لانے کا بول رہی ہوں۔۔ روشانے حیدر لاشاری۔۔ چچی کے آڈر دینے پر وہ ٹراؤزر کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اپنے لاپروا انداز میں سیڑھیاں اترتا اپنی سنجیدہ چھا جانے والی شخصیت سے حال میں داخل ہوتا اپنی مخصوص سخت آواز میں بولا کم گونجا زیادہ تھا۔۔وہ جو دادی کے سامنے پراٹھا رکھ رہی تھی چونک کر اسے ہال میں قدم رکھتے ہوئے دیکھا۔۔چونکنے کے ساتھ اسے دیکھ کر شاک تو ٹیبل پر بیٹھے سارے افراد ہوئے تھے۔۔
جس کسی کو اس کے نام کا نہیں پتہ وہ آج اچھی طرح سن کر ذہن نشین کر لے کہ اس کا نام۔۔ روشانے۔۔حیدر۔۔لاشاری۔۔ہے۔۔ وہ دادی چچی اور پھوپھو کو دیکھتا تینوں ناموں پر زور دیتا الگ الگ وقفے سے بولا۔اس کے بولنے کے انداز پر ایوب صاحب جاوید صاحب حنان اور حاشر کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔۔سب افراد ابھی بھی اسے حیرانگی سے دیکھ کم اور سن زیادہ رہے تھے۔۔کیونکہ اس کے بولے گئے الفاظ کسی کو بھی ہضم نہیں ہو رہے تھے۔۔جہاں کچھ لوگوں کو اس لڑکی کا یہ نیا تعارف ایک خوشگوار حیرت میں ڈال گیا وہیں کچھ کو بہت ہی ناگوار لگا کیونکہ دور دور تک کسی کے وہم و گمان میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔۔بلکہ وہ تو تین کاغذوں کا انتظار کر رہے تھے۔۔وہ ایسا ہی تھا اپنے کسی بھی انداز سے سب گھر والوں کو شاک کر دیتا تھا۔۔اصل جھٹکے تو دادی پھپو چچی کے ساتھ اس کی بھانجی اور بیٹیوں کو لگ رہے تھے۔۔حیرت تو عائزہ کو بھی ہوئی تھی کہ اس کے بھائی نے اسے اتنی جلدی اپنا نام کیسے دے دیا۔۔بھیا۔۔
عائزہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بھاگنے کے انداز میں اس کے سینے سے لگی۔۔کیسا ہے میرا بیٹا وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتا اسے اپنے ساتھ لگاتا بولا۔۔میں ٹھیک۔۔آپ کیسے ہیں میں بھی بالکل ٹھیک۔۔کب آیا میرا شیر۔۔حنان مسکراتا ہوا اٹھ کر اسے خود سے لگاتا بولا۔۔رات آیا تھا۔۔وہ اس کے گلے ملتا بولا۔۔بھائی۔۔جان۔۔حاشر اٹھ کر اس کے گلے لگتا اس کے کان میں بالکل اسی کے انداز میں اپنے دونوں لفظوں پر زور دیتا شرارت سے بولا۔۔چھوٹو باز آ جا۔۔وہ بھی زور سے اسے اپنے ساتھ لگاتا سرگوشی میں بولا۔۔اپنے والد چچا اور دادا جان سے ملنے کے بعد ابھی سیدھا ہوا ہی تھا کہ پھپھو اٹھ کر اس کے سینے سے لگی۔۔ہائے میرا بچہ۔۔میرا لاڈلا۔۔شکر ہے صحیح سلامت گھر واپس آگیا۔۔مجھے تو یہ سوچ سوچ کر ہی ہول پڑھ رہے تھے کہ پتہ نہیں میرا بچہ بے گھر ہو کر لاوارثوں کی طرح کہاں کی خاک چھان رہا ہوگا۔۔
وہ اس کے بازوں اور سینے پر ہاتھ پھیرتی ایسے بول رہی تھی جیسے وہ ایک چھوٹا سا ناسمجھ بچہ پتہ نہیں کتنے بڑے محاذ سے بچ کر واپس آیا ہو۔۔ابھی پھپھو کا ختم نہیں ہوا کہ دادی کے لاڈ نے جوش مارا۔۔شکر ہے میرے جیتے جی اپنے لال کو دوبارہ دیکھ لیا۔۔جب سے نحوست کے کالے بادل میرے بچے کے سر پر ڈالے ہیں میں تو آدھی ختم ہو گئی ہوں۔۔ہر وقت دل گھبراتا رہتا ہے وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرے بولیں۔۔اووو۔۔ہووو۔۔دادی جان۔۔پھپھو جان میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔میں کوئی چھوٹا سا بچہ نہیں ہوں اور آپ کو کس نے بولا کہ میں بے گھر ہو گیا ہوں میں پاکستان میں نہیں تھا دبئی میں میری بہت ضروری میٹنگز تھی جو شادی سے پہلے ہی طے تھی جانا بہت ضروری تھا اس لیے حویلی نہیں آیا۔۔وہ دادی کے لفظوں پر بے اختیار نظریں تین قدم کے فاصلے پر کھڑی ہستی پر ڈالتا بولا۔۔جو اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی بنائے دوسرے ہاتھ میں سختی سے جکڑے نظریں جھکائے کسی مجرم کی طرح کھڑی تھی۔۔
حیدر لاشاری تو اپنے باپ کو خود کی وضاحت نہیں دیتا تھا چاہے وہ ایک ماہ گھر نہ آئے عورتیں تو بہت دور لیکن آج اس نے خود کے بارے میں بتایا کہ وہ گھر کیوں نہیں آ سکا سب نے چونک کر اسے اپنا شیڈول بتاتے سنا۔۔آئے ہائے کیسا منحوس سایہ میرے بچے کے سر پر پڑا ہے کہ آتے ہی دیس نکالا مل گیا۔۔حیدر نے افسوس سے سر ہلاتے اپنے گھر کی ان عورتوں کی طرف دیکھا ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔اور تم۔۔اگر تمہیں دوسروں کی خدمت سے فرصت مل گئی ہے تو میرے لیے ناشتہ لے کر آؤ۔۔روشانے نے چونک کر آنکھیں بڑی کیےنظریں اٹھا کر اسے دیکھا جیسے کنفرم کر رہی ہو کہ کیا واقعی اس نے اسے ہی کہا ہے۔۔تم سے ہی کہا ہے۔۔وہ اس کے یوں بے وقوفوں کی طرح آنکھیں بڑی کر کے پلکیں جھپک جھپک کر دیکھنے پر پھر سے بولا۔۔بھیا آپ بیٹھیں میں لے کر آتی ہوں آپ کے لیے ناشتہ۔۔عائزہ کے جلدی سے کہنے پر دادی پھپھو کے ساتھ چچی نے بھی زور سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
نہیں گڑیا بیٹھو آپ اپنا ناشتہ ختم کرو وہ بنا کر لے کے آتی ہے۔۔وہ گھر کے باقی افراد سے دعا سلام کرتا بولا۔۔عائزہ نے ایک سخت نظر روشانے پر ڈالی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔روشانے چپ چاپ کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔حیدر عائزہ کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھا۔۔افف اتنا عجیب ہے اس انسان کا ناشتہ کافی کے ساتھ بھلا پراٹھا آملیٹ اور پھر ساتھ اچار یہ کون سا کمبینیشن ہے۔۔جیسے عجیب خود ہیں ویسا ہی عجیب کھاتے ہیں۔۔وہ رشیدہ آپا کو پراٹھے اور آملیٹ کا بولتی خود اس کے لیے کافی بنانے لگی۔۔اس کو ہمیشہ سے ہی اس کے اس عجیب و غریب ناشتے سے چڑ ہوتی تھی وہ اچار اور آملیٹ کے ساتھ پراٹھا کھاتا ساتھ میں گھونٹ گھونٹ کافی کا پیتا۔۔وہ کافی ہمیشہ اسی سے بنواتا تھا۔۔اس کے سر پر کھڑے ہو کر اس نے خود کے لیے کافی بنانا سکھائی تھی۔۔پہلے پہل تو وہ منہ توڑ جواب دیتی کہ وہ اس کے لیے نہیں بنائے گی تو وہ بازو سے کھنچ کر کچن میں لے آتا اس کے لاکھ ضد،انکار،منع کرنے پر بھی وہ اسی سے بنواتا۔۔
جیسے خود ہیں سڑے ہوئے شوگر لیس ویسی ہی کافی پیتے ہیں۔۔ وہ اس کی کڑوی کسیلی کافی تیار کرتی مسلسل عادت کے مطابق بڑبڑا رہی تھی۔۔ناشتے کی ڈش سجا کر اس کے سامنے لا کر رکھی اور خود پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔۔تم نے ناشتہ کر لیا ہے۔۔؟اس کے پیچھے ہو کر کھڑے ہونے پر اس نے گردن گھما کر پوچھا۔۔وہ حیران ہوتی نفی میں سر گئی۔۔بیٹا آپ اپنا ناشتہ کرو کر لے گی بعد میں ویسے بھی سارا دن سوائے کھانے کے اسے کام کون سا ہے اگر ایک دو گھنٹے نہیں کھائے گی کچھ تو مر نہیں جائے گی۔۔اس سے پہلے کہ حیدر کچھ کہتا دادی جان فوراً میدان میں آئی۔۔اماں جان صحیح کہہ رہی ہیں۔۔آپ اپنا ناشتہ کرو دیکھو تو ایک ہفتے میں کتنا سا منہ نکل آیا ہے میرے بچے کا۔۔اس کا منہ تو سارا دن چلتا ہی رہتا ہے دو ہی تو کام ہیں جو یہ پورے دل سے کرتی ہے ایک زبان چلانا دوسرا منہ چلانا۔۔پھپھو نے بھی اس کاراءخیر میں اپنا حصہ ڈالنا فرض سمجھا۔۔بیٹھو ناشتہ کرو سب کے ساتھ۔۔
پھپھو اور دادی کی بات سنتا وہ اس سے بولا لہجے میں خود بخود سختی آئی۔۔اس کی شروع سے ہی عادت تھی وہ گھر کی عورتوں کی صرف چپ چاپ سنتا تھا کبھی پلٹ کر جواب نہیں دیتا تھا لیکن کرتا وہی تھا جو اس کا اپنا دل کہتا۔۔روشانے ابھی بھی کنفیوز سی کھڑی اپنے ہاتھ مروڑ رہی تھی۔۔اس نے گردن موڑ کر اسے گھور کر دیکھا۔۔نظروں میں واضح تنبیہ تھی۔۔وہ اس کی گھورتی نظریں خود پر محسوس کرتی جلدی سے اس کی ساتھ والی چیئر گھسیٹ کر بیٹھی۔۔وہ شروع سے ہی دودھ کے گلاس یا جوس کے ساتھ تھوڑا سا پراٹھا ساتھ میں آملیٹ لیتی تھی۔۔بھابھی نے جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھایا اس نے آملیٹ کے لیے ادھر ادھر دیکھا تو وہ چچی کی رینج میں پڑھا تھا۔۔وہ آملیٹ پر فاتحہ خوانی کرتی جوس کے ساتھ پراٹھا کھانے لگی۔۔حیدر نے اپنی پلیٹ سے آدھا آملیٹ اٹھا کر اس کی پلیٹ میں رکھتے ٹیبل پر موجود سب افراد کو دوسرا بڑا جھٹکا دیا روشانے کو تو اٹیک ہوتے ہوتے بچا۔۔ان کو کیسے پتہ کہ وہ پراٹھے کے ساتھ آملیٹ لیتی ہے۔۔
آج زندگی میں پہلی بار اس نے اپنا کھانا کسی سے شیئر کیا تھا۔۔حاشر کو زور سے اچھو لگا دادی پھپو اور چچی کے ساتھ اور لوگوں کا تو نوالہ ہی حلق میں پھنس گیا تھا جو سب نے پانی پی کر بمشکل نیچے کیا۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔زہرہ حاشر کی بیوی اس کی بیک رب کرتی آہستہ سے بولی۔۔جبکہ وہ سب سے لاپروا اپنا ناشتہ کرنے میں مگن تھا۔۔اب اپنا ناشتہ شروع کرو گی یا محترمہ کے منہ میں خود اپنے ہاتھوں سے بائٹ بنا کر ڈالوں۔۔وہ جو اسے آنکھیں بڑی کیے منہ کھولے دیکھنے میں مصروف تھی قریب سے اس کی سرگوشی سنتی جلدی سے اپنے ناشتے پر جھک گئی۔۔بےوقوف لڑکی۔۔دل میں اسے خطاب دیتا پھر سے اپنے ناشتے میں مگن ہو گیا۔۔اے لڑکی۔۔مطلب روشانے اگر تیرا ناشتہ ہو گیا ہو تو مجھے ایک کپ چائے کا بنا کر دو یہ چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے۔۔پھپھو جس کو اس کا پانچ منٹ بیٹھنا بمشکل ہضم ہوا اے لڑکی بولنے پر حیدر نے ان کو دیکھا تو فورا اس کا نام لیتی اپنا آرڈر جاری کیا۔۔
بیٹھو اپنا ناشتہ جلدی ختم کر کے روم میں جاؤ اور میرے کپڑے ریڈی کرو۔۔رشیدہ آپا کہاں مر گئے ہیں سب ملازم۔۔وہ اپنی چیئر پر بیٹھا زور سے گرجا۔۔تو کیچن سے دس ملازمائیں نکل کر لائن میں کھڑی ہو گئیں۔۔آج کے بعد جب بھی سب لوگ یہاں ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے ہوں تو تین ملازم یہاں موجود ہونے چاہیے سب کی ضرورت کا خیال رکھنے کے لیے۔۔مجھے یہ بات آج کے بعد دوبارہ نہ کہنی پڑے۔۔رشیدہ آپا یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ تین ملازم صبح تین دوپہر اور تین شام الگ الگ ان کی ڈیوٹی لگائیں اور آج کے بعد مجھے اپنی بیوی کچن میں کام کرتی ہوئی نظر آگئی تو اگلے ہی پل تم سب کی چھٹی ہو جائے گی۔۔سمجھ میں آگئی نا بات کہ میں کیا بول رہا ہوں۔۔جی چھوٹے صاحب۔۔اپنی مخصوص سخت آواز میں دوبارہ پوچھنے پر سب ملازمہ بولنے کے ساتھ زور سے اثبات میں سر ہلانے لگیں۔۔رشید آپا جائیں اور پھپھو کے لیے گرم چائے کا کپ بنا کر بھیجیں۔۔
گھر والے ابھی پہلے شاک سے سنبھلے نہیں تھے کہ اب پھر سے سب منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔۔سب کو وہ عجیب مخلوق لگ رہا تھا۔۔حنان بیٹا ذرا مجھے چٹکی کاٹو یہ ہمارا حیدر ہی ہے نا۔۔جاوید صاحب اپنے بیٹے حنان سے سرگوشی میں بولے۔۔بابا جان لگ تو مجھے بھی وہی رہا ہے۔۔وہ بھی اپنا نوالہ نگلتا حیران سا سرگوشی میں بولا۔۔کیونکہ آج تک گھر کے کسی بھی معاملے میں اس نے دلچسپی نہیں لی تھی۔۔اور تم اگر دوبارہ مجھے سوائے میرے کسی اور کا کام کرتی کچن میں نظر آئی تو تمہاری ٹانگیں میں اپنے ہاتھوں سے توڑوں گا۔۔آج یہ پراٹھا اور آملیٹ رشیدہ آپا سے بنوائے ہیں کل سے میرا ناشتہ تم خود بناؤ گی۔۔وہ جو اپنی کوپر آنکھوں کو بڑا کیے منہ کھولے حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اس کا منہ اپنی دو انگلیوں سے بند کرتا بولا۔۔سن رہی ہو نا میں نے کیا بولا ہے۔۔وہ اس کی بڑی بڑی حیران آنکھوں میں دیکھتا بولا تو وہ ایسے ہی اسے دیکھتی زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔
صرف سننا ہی نہیں ہے اسے ادھر بٹھانا بھی ہے۔۔وہ اس کے ماتھے پر انگلی بجاتا بولا۔۔وہ پھر زور سے ہاں میں سر ہلا گئی۔۔چلو فٹا فٹ ناشتہ ختم کر کے میرے لیے کافی کا ایک کپ بنا کر جلدی اوپر آؤ۔۔بےوقوف لڑکی۔۔وہ اسے کافی کا آرڈر دیتا دل میں اسے مخصوص نام سے پکارتا اٹھ کر اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔روشانے۔۔بھابھی نے جب اسے ایسے ہی سکتے کی حالت میں بیٹھے دیکھا تو اسے پکارا۔۔جج۔جی۔۔بھابھی۔۔وہ دماغ کو حاضر کرتی اٹکتی بولی۔۔حیدر کافی کا کہہ کر گیا ہے جلدی کرو۔۔جج۔جی۔۔بھابھی کے یاد کروانے پر وہ پھر سے اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔
