Want to read in your Language
روشانے کی دادی،نصرت تائی اور بڑی پھوپھو عائشہ شروع سے ہی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں اسے ماں کے حوالے سے ٹارچر کرنے کا۔۔کیونکہ جب اس کے بھائی نے اس کی نند کو چھوڑ کر اس کی ماں سے شادی کی تھی تو اپنے سسرال میں عائشہ کا جینا حرام ہو گیا تھا۔۔وہ جیسے جیسے بڑی ہوتی جا رہی تھی وقتگزرنے کے ساتھ اس کا دل بھی سخت ہوتا جا رہا تھا خاص کر اپنے والدین کے معاملے میں۔۔وہ کسی کے سامنے نہیں روتی تھی نہ ہی کمزور پڑتی تھی۔۔اور چپ تو بالکل بھی نہیں رہتی تھی چاہے اس کو تھپڑ ہی کیوں نہ کھانے پڑیں لیکن جواب
دینا اپنا فرض سمجھتی تھی۔۔گھر کے دوسرے بچوں کی طرح وہ بھی سکول سے کالج،کالج سے یونی تک پہنچ چکی تھی۔۔
اس کی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ کبھی بھی اس سے پوچھ کر نہیں کیا گیا۔۔اس
سے کبھی کسی بھی معاملے میں نہیں پوچھا گیا تھا یہاں تک کہ پڑھائی کے
معاملے میں بھی نہیں کہ وہ کیا پڑھنا
چاہتی ہے کہاں پڑھنا چاہتی ہے کس
سبجیکٹ یا کس کالج میں جانا چاہتی ہے۔۔
حتی کہ سترہ سال کی عمر میں اس سے
پوچھے بغیر اس کا نکاح باسل لاشاری سے کر دیا گیا۔۔
اس دن وہ بہت روئی تھی کیونکہ وہ
اس خاندان کی بہو نہیں بننا چاہتی تھی
جو ہمیشہ اسے ٹارچر کرتے تھے۔۔نصرت نے
اس لڑکی سے اپنے بیٹے کے نکاح پر بہت
واویلا مچایا۔۔کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی
شادی اپنی بھانجی تانیہ سے کرنا چاہتی تھی
جو اسی گھر میں اس نے رکھی ہوئی
تھی۔۔وہ دونوں کلاس فیلو ہونے کے ساتھ
باسل کی بیسٹ فرینڈ بھی تھی۔۔پہلے اس کی ماں نے اس کی بہن کے حق پر ڈاکہ ڈالا اب بیٹی اس کی بھانجی کے حق پر قابض ہو رہی تھی۔۔واجد
لاشاری نے اسے یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ
جواد کی آدھی جائیداد اس کے نام ہے اور
اس طرح جائیداد کا ایک بہت بڑا حصہ
ہمارے پاس آ جائے گا۔۔اس طرح ماں کے
ساتھ بیٹا اور بیٹیاں بھی اس نکاح کے لیے
مان گئیں۔۔جس دن اس کی بنا مرضی کے
اس کا نکاح باسل سے ہوا تھا اس دن اپنے
ماں باپ کی طرف سے اس کے دل میں
عجیب سی سختی بھر آئی تھی اسے نہیں
پتہ تھا کہ جب کبھی وہ اپنے ماں باپ کا
سامنا کرے گی تو وہ کیسا ری ایکٹ کرے
گی۔۔باسل جس کے دل میں نکاح کے بعد
اس کے لیے سافٹ کارنر پیدا ہو رہا تھا وہ
تانیہ نے محسوس ہوتے ہی
ختم کر دیا۔۔باسل میں ایک برائی تھی کہ
وہ کانوں کا بہت کچا انسان تھا۔۔روشانے
لاشاری کے پورے خاندان میں صرف دو ہی
دوست تھے ایک نوید لاشاری دوسری عائزہ
لاشاری۔۔نوید کے حوالے سے تانیہ نے بہت
غلط باتیں باسل کے کانوں میں ڈالی ہوئی
تھی۔۔باسل وہی دیکھتا جو تانیہ اور اس
کی ماں اسے دکھاتی اور وہ انہی باتوں پہ
یقین کرتا جو وہ اسے بتاتی۔۔اب باسل اسے
اذیت دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں
جانے دیتا تھا۔۔کیونکہ اس کی ماں بہنوں
کا کہنا تھا کہ وہ اسے ابھی سے اپنے رعب
میں رکھے اور اسے اس کی اوقات بتاتا
رہے۔۔کیونکہ بیوی کے معاملے میں ان کا بڑا
بھائی علی لاشاری ان کی کوئی بات نہیں
سنتا تھا۔۔اس کی ہونے والی بیوی اس سے
زیادہ جائیداد کی مالک ہے تو یہ نہ ہو کہ
وہ کل کو اس کے ہاتھ سے نکل جائے یا اس
پر اپنی دولت کا رعب جمائے۔۔روشانے کی
کوشش ہوتی کہ اس کا سامنا باسل سے نہ
ہو کیونکہ وہ بنا کسی بات کے بھی لفظوں
کے تیر چلانے سے باز نہیں آتا تھا۔۔حالانکہ
نوید اسے کتنا سمجھاتا تھا کہ وہ اپنے دادا
جان یا بڑے ماموں کو بتائے کہ باسل اس سے کیا سلوک کرتا ہے۔۔
تو وہ آنکھوں میں نمی کی لکیر لیے زور سے ہنس دیتی۔۔نوید کتنی کتنی دیر اس کی درد میں ڈوبی وہ ہنسی چپ چاپ کھڑا دیکھتا اور سنتا رہتا۔۔عائزہ اس سے تین سال اور نوید پانچ سال بڑا تھا لیکن وہ ان دونوں کو ان کے ناموں سے ہی پکارتی تھی۔۔باسل نے اسے نوید سے دوستی ختم کرنے کا کہا تو اس نے تانیہ کا حوالہ دیا کہ وہ بھی اپنی کزن سے دوستی ختم کرے۔۔باسل نے بہت زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ وہ اس کے سامنے ابھی سے زبان درازی کرتی ہے۔۔یہ سب بھی تانیہ اور اس کی ماں بہنوں کے کہنے پر اس نے کیا۔۔
روشانے کتنی دیر چپ چاپ کھڑی اس انسان کو دیکھتی رہی جو اس کے خاندان والوں نے اس کے لیے چنا تھا۔۔
کیا واقعی وہ اسی خاندان کا حصہ تھی۔۔
کیونکہ اسے ہمیشہ سے ہی ماں کے حوالے
سے آوارہ اور بد کردار کہا جاتا۔۔وہ اکثر
سوچتی کیا اس کا باپ بہت ہی مضبوط
کردار کا انسان تھا جس کے نکاح میں ابھی
ایک عورت تھی اور اس نے دوسری شادی
کر لی تھی۔۔وہ چھوٹی ہوتی ایک دو دفعہ
ہی اپنے دودھیال گئی تھی وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی تائی امی کے ساتھ جیسے وہ مما بولتی تھی اور اسے ادھر اپنے باپ کے بارے میں بہت کچھ سننے کو
ملتا تھا۔۔جب تک اس کی بڑی تائی زندہ
رہی تو تب تک وہ سب کے عتاب سے بچی
رہی تھی۔۔وہ سات سال کی تھی جب اس
کی بڑی تائی کا انتقال ہو گیا۔۔پھر تو
جیسے سب کھل کر میدان میں آگئے۔۔اپنی
تائی کے وفات کے بعد وہ کبھی اپنے
دودھیال نہیں گئی کیونکہ اسے وہاں اس کی تائی ہی گھر والوں کے علم میں لائے بغیر لے کر جاتی تھی تاکہ یہ بچی اپنے رشتوں سے جڑی رہے اس بات کے بارے میں صرف حیدر جانتا تھا۔۔
—-^^^^—–^^^^^—–
اسے سموکنگ کرتے ہوئے صبح کی اذانیں
شروع ہو گئی تو وہ اپنے کمرے میں داخل
ہوا۔۔نظریں بے اختیار ادھر ادھر اٹھیں تو
محترمہ خود کو چادر میں چھپائے صوفے
پر پرسکون نیند میں ڈوبی نظر آئی۔۔اسے
اتنی پرسکون نیند سوتے دیکھ کر اسے نئے
سرے سے تپ چڑھی۔۔اس کی ساری زندگی
کا حشر بگاڑ کر خود کتنے سکون سے
سوئی ہوئی تھی۔۔پہلے تو اس کا دل کیا کہ
اسے اٹھا کر بالکنی سے نیچے پھینک دے۔۔
لیکن پھر خود پر کنٹرول کرتا سائیڈ ٹیبل
سے گاڑی کی چابی اٹھاتا روم سے باہر نکل
گیا۔۔روشانے اپنی روٹین کے مطابق اٹھ
گئی سوتے دماغ اور کھلی آنکھوں سے وہ
صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی
تھی کہ وہ کہاں ہے۔۔جب دماغ نے جاگتے
صورتحال سمجھائی تو بے اختیار نظریں
ادھر ادھر دوڑائیں وہ اسے روم میں کہیں
بھی نظر نہیں آیا۔۔بالکنی کی طرف دیکھا
تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔مطلب وہ ابھی
ادھر ہی تھا۔۔وہ اٹھ کر واش روم کی
طرف چلی گئی نماز سے فارغ ہونے کے بعد
اس نے ادھر ادھر قران پاک ڈھونڈا لیکن
اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔۔وہ پھر روم
میں آگئی۔۔بالکنی کا دروازہ ابھی بھی کھلا
ہوا تھا باہر ہلکی ہلکی روشنی پھیلنا شروع
ہوئی۔۔اسے محسوس ہوا کہ بالکنی میں
کوئی بھی نہیں ہے وہ آہستہ قدموں سے
آگے بڑھی کارٹن اٹھا کر گلاس وال سے باہر
دیکھا تو واقعی بالکنی خالی تھی۔۔مطلب
رات جب وہ نماز پڑھ کر روم میں آئی تو
وہ روم سے جا چکے تھے۔۔کیونکہ نئی جگہ
اور حالات کے مطابق اسے بھی کافی لیٹ
نیند آئی تھی۔۔وہ اپنے ذہن کے گھوڑے
دوڑاتی بالکنی کا دروازہ بند کر کے سوچتی
صوفے پر بیٹھی۔۔دل ایک دم سے خالی ہوا
نہ چاہتے ہوئے بھی دو آنسو ٹوٹ کر گود
میں گرے۔۔کاش کہ ایک دفعہ آپ دونوں کو
میری ضرورت پڑے تو میں آپ دونوں کو
پہچاننے سے انکار کر دوں۔۔پھر وہ درد آپ
دونوں محسوس کریں جو میں چوبیس
گھنٹوں کے ہر پل محسوس کرتی ہوں۔۔وہ
بے دردی سے اپنے آنسو رگڑتی اوپر منہ کر
کے آنکھیں بند کرتی دل میں اپنے ماں باپ
کو مخاطب کرتی خود سے بولی۔۔اسے وہاں
بیٹھے پتہ نہیں کتنی دیر گزر چکی تھی
جب دروازہ نوک کرتے بھابھی اندر داخل
ہوئی۔۔کیسی ہو۔۔؟عالیہ اس کے پاس
بیٹھتی آہستہ سے بولی۔۔ٹھیک ہوں
بھابھی۔۔ وہ عادت کے مطابق ہلکا سا
مسکراتی بولی۔۔بڑی پھپو کے گھر سے ایک
عالیہ کا رویہ ہی اس سے ٹھیک تھا۔۔
وووہ۔۔۔میں۔۔یہ بتانے آئی تھی کہ حیدر نے
ریسپشن کینسل کر دیا ہے۔۔عالیہ نے وہ کو
لمبا کھینچ کر آہستہ آہستہ رک کر اسے
بتایا۔۔روشانے نے محض سر ہلانے پر اکتفا
کیا۔۔وہ کچھ بھی بولنا نہیں چاہتی تھی
کیونکہ اسے اس وقت بہت رونا آ رہا تھا
اور وہ رو کر کمزور پڑ کر اپنی ذات کا تماشا نہیں بنوانا چاہتی تھی کہ خاندان کے لوگ اسے ہمدردی اور ترس بھری نگاہوں سے دیکھیں۔۔
عالیہ نے چور نظروں سے پورے کمرے کا
جائزہ لیا کمرے کی حالت دیکھتے ہی اسے
سمجھ آگیا تھا کہ وہ صرف حیدر کے
کمرے میں ہی داخل ہوئی ہے حیدر نے اسے
اپنی زندگی میں شامل نہیں کیا۔۔پھر وہ
کتنی دیر بیٹھی اس سے ادھر اُدھر کی
باتیں کرتی رہی۔۔چلو آجاؤ ناشتہ کرتے
ہیں۔۔عالیہ اٹھتے ہوئے بولی۔۔نہیں بھابھی
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔چلو ٹھیک ہے میں
کچھ ہلکا پھلکا سا روم میں بھجوا دیتی
ہوں تم ضرور کھا لینا رات بھی تم نے کچھ
نہیں کھایا تھا۔۔عالیہ اس کے منع کرنے پر
اسے کہتی روم سے باہر نکل گئی۔۔وہ کتنی
دیر اس دروازے کی طرف دیکھتی رہی
جہاں سے بھابھی باہر گئی تھی کتنی
خوش قسمت ہے نا بھابھی۔۔حنان بھائی ان سے کتنا پیار کرتے ہیں بلکہ اس خاندان کی
ساری ہی عورتیں سب کے شوہر اپنی
بیویوں سے کتنا پیار کرتے ہیں۔۔پتہ نہیں
میں ہی سب سے عجیب اور الگ قسمت لے
کر کیوں پیدا ہوئی کاش میں بھی اسی خاندان کی کسی عورت کی بیٹی ہوتی۔۔وہ حسرت سے سوچتی ایک دفعہ پھر مایوسی کا شکار ہوئی۔۔آنسو بے اختیار پلکوں کی باڑ توڑتے شفاف عارضوں پر بہہ گئے۔۔
کافی دیر وہ آنکھوں کو مسلتی رونے سے خود کو باز رکھنے کی کوشش کرتی رہی لیکن جب خود پر اختیار ختم ہوا تو خود کو آنسوؤں کے حوالے کر دیا۔۔وہ اس وقت خود کو بہت ہی تنہا محسوس کر رہی تھی کیونکہ رشتے کے نام پر اس کے پاس دو ہی تو دوست تھے وہ رشتہ بھی ختم ہو گیا تھا۔۔دروازہ ناک ہونے پر اس نے اٹھ کر دروازے پر دیکھا تو ملازمہ ناشتے کی ٹرے
لیے کھڑی تھی اس نے چپ چاپ ناشتہ پکڑ
کر دروازہ بند کر دیا۔۔حیدر کی غصیلی
طبیعت کی وجہ سے ملازم بھی اس سے
دور ہی رہتے تھے وہ جب گھر ہوتا تو
ملازموں کی جان پر بنی رہتی کیونکہ وہ
چھوٹی سی غلطی کو بھی اگنور نہیں کرتا
تھا۔۔یہی وجہ تھی کہ کسی بھی ملازمہ
کی اس کے کمرے میں جانے کی ہمت نہیں
پڑتی تھی۔۔روشانے نے ہلکا پھلکا سا ناشتہ
کیا کیونکہ اس نے رات بھی کچھ نہیں
کھایا تھا اگر خود کے لیے لڑنا ہے تو پھر
ہمت اور حوصلے کے ساتھ طاقت بھی
چاہیے۔۔اور اس کے لیے کھانا کھانا بہت
ضروری ہے روشانے۔۔وہ خود کو سمجھاتی
بولی۔۔ناشتہ کرنے کے بعد سب سے پہلے اس
نے سارا روم کلین کیا پھر واش روم جس
میں رات اس جنگلی جلاد نے کانچ بکھیرا
ہوا تھا۔۔کیونکہ فلحال کرنے کے لیے اس کے
پاس اور کوئی کام نہیں تھا۔۔حویلی سے
جانے کے بعد حیدر نے اپنے بڑے بھائی کو
فون کیا تھا کہ بہتری اسی میں ہے کہ وہ
لوگ ریسپشن کینسل کر دیں اگر وہ لوگ
کل کی طرح اس کے ساتھ آج بھی زبردستی کریں گے تو وہ ریسپشن میں نہیں آئے گا۔۔سب جانتے تھے کہ وہ کتنا ضدی انسان ہے کل تو اپنی بہن کی وجہ سے وہ نکاح کر چکا تھا لیکن آج جیسا وہ کہہ رہا ہے ویسا ہی کرے گا۔۔اس لیے ایمرجنسی میں ریسپشن کے لیے کی ہوئی سب تیاریاں کینسل کر