Want to read in your Language
پاس کچھ گرنے پر وہ اپنی سوچوں سے باہر آئی اور نظریں بیڈ پر پڑے کیس پر کیں۔۔کچھ سمجھ میں نہ آنے پر نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے مرد کی طرف دیکھا۔۔جس کی ہیزل آنکھیں اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔بھیا اور بھابھی نے دیا تھا اور ساتھ میں مجبور بھی کیا تھا کہ تمہارے حضور لازمی پیشکر دوں یہ بھی کوئی رسم ہے۔۔رسم کا جملہ چبا کر کہتے اپنا حساب پورا کیا۔۔وہ چاہ کر بھی اپنے لہجے کی تپش اور لفظوں کی سختی پر قابو نہیں پا سکا۔۔وہ دونوں ہاتھ اپنے ٹراؤزر کی پاکٹس میں ڈالے کھڑا بولا۔۔روشانے نےاپنی نظریں اس اونچے لمبے مرد سے جو اس پر سیایہ بنا کھڑا تھا دوبارہ کیس کی طرف کی۔۔مطلب رونمائی کا تحفہ۔۔اس کیس کی طرف اس نے دیکھتے سوچا۔۔لفظوں سے زیادہ دینے کے انداز نے دکھ دیا۔۔لیکن اس کے دکھ درد کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔۔اس تحفے کی حقدار میں نہیں ہوں یہ من پسند بیوی کے لیے ہوتا ہے۔۔وہ اپنے دل کے درد کو دباتی جو آنکھوں کے رستے باہر نکلنے کو بیتاب ہو رہا تھا روشانے دو انگلیوں سے وہ
کیس خود سے تھوڑا دور کرتی آہستہ سے بولی۔۔حقدار تو تم میرے روم میں آکر میرے بیڈ پر بیٹھنے کی بھی نہیں تھی لیکن زبردستی مسلط ہو کر بیٹھی ہوئی ہو نا۔۔اور یہ میں کوئی تمھارے لیے تحفہ نہیں لایا جو اتنے نخرے دکھا رہی ہو جیسے مجھ سے دوسری ساری رسمیں زبردستی کروائی گئیں ہیں یہ بھی انہی کا حصہ ہے۔۔اس نے پھر سے اس کے بولے گئے چھوٹے سے جملے کے جواب میں تفصیل سے اپنے اندر کی جلن کو لفظوں کی صورت باہر نکالا۔۔اگر آپ نہ بھی بار بار بتائیں تو میں اس
بات سے بہت اچھے سے واقف ہوں کہ میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ہوں۔۔ناز نخرے دکھانے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے اپنی جگہ اور مقام سے بہت اچھے سے واقف ہوں۔۔وہ اپنا بھاری عروسی دوپٹہ سنبھالتی جسے اس نے بہت اچھے سے خود پر لپیٹا ہوا تھا کھڑی ہوتی چلتی اس انسان سے چار قدم کا فاصلہ بنا کر اس کے بولے گئے لفظوں کا اپنی مرضی کا مطلب نکالتی چہرے پر سخت تاثرات سجائے نم
آنکھوں سے بولی۔۔وہ خود کو رونے سے بمشکل باز رکھے ہوئے تھی۔۔چہرے کی نسبت اس کے لفظوں میں کہیں زیادہ سختی تھی جو اس نے خود کے لیے بولے تھے۔۔اس کا لہجہ اور الفاظ ایک دفعہ پھر سامنے والے کو مشعل کرکے آگ میں دھکیلنے کو کافی تھے۔۔وہ جو خود کو کول کرنے کی کوشش
میں تھا ایک دفعہ پھر ایک قدم میں فاصلہ سمیٹتا اسے بازوں سے جکڑ گیا۔۔کیا مطلب ہے تمھاری اس بکواس کا۔۔وہ اسے زور سے جھٹکا دیتا بولا۔۔جھٹکا لگنے سے بھاری بھرکم دوپٹہ جو اس نے دونوں ہاتھوں سے سنھبالا ہوا تھا ہاتھوں سے نکلتا زمین
بوس ہوا۔۔براؤن گھنے بالوں کا اس نے میسی سا جوڑا بنایا ہوا تھا کھل کر اس کے ارد گرد پھیلا۔۔جدید تراش خراش کی سلیو لیس فل فٹنگ میں پہنی ہوئی کرتی جس کا فرنٹ اور بیک کافی ڈیپ تھے۔۔اس مرد کی تیس سالہ زندگی میں پہلی دفعہ کوئی لڑکی ایسے حلیے میں اس کے اتنا نزدیک کھڑی تھی۔۔اس کی نظریں چہرے سے شفاف گردن پر اور وہاں سے ہوتی ہوئی بے اختیار نیچے کو پھسلیں۔۔گلا ڈیپ ہونے کی وجہ سے نظریں اس کے نظر آتے خوبصورت خدوخال میں الجھی۔۔اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتے روشانے نے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کرتی کے گلے کو کھینچ کر اوپر کرنے کی کوشش کی۔۔چچ چھوڑیں مجھے۔۔وہ سرخ چہرے سے مزاحمت کرتی خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرتی بولی۔۔پہلے مجھے اپنی بکواس کا مطلب سمجھاؤ۔۔وہ اسے مزاحمت کرتے دیکھ ایک بازو چھوڑتا اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا جھٹکے سے خود میں بھینچتا بولا۔۔کیونکہ اس کے ذہین میں دور دور تک ایسا کچھ بھی نہیں تھا جیسا وہ سوچ چکی تھی۔۔اس کی سوچ پر اس کا دماغ کھول اٹھا تھا۔۔جھکٹا لگنے سے وہ بلکل اس کے سینے میں سمائی۔۔وو۔۔وہی جج۔۔جو آپ کو سمجھ میں آیا۔۔وہ بڑا سا گھونٹ بھرتی سرخ کندھاری چہرہ لیے اس سے نظریں چراتی اٹکتی بولی۔۔ایک ہاتھ سے مزاحمت مسلسل جاری تھی جو اس کی گرفت میں تھا۔۔دوسرے ہاتھ سے کبھی اپنا گلا کھینچ کر اوپر کر رہی تھی کبھی چہرے کے اطراف میں جھولتی بالوں کی آوارہ لیئرز کو کانوں کے پیچھے اٹکاتی اپنی کمر پر لپٹی اس کی بازو کو ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔روشانے نے برائڈل ڈریس دیکھ کر اسے پہننے سے صاف انکار کر دیا تھا تو بھابھی کے سمجھانے پر اس نے خود پر دوپٹہ ایسے سیٹ کروایا تھا کہ اس کے ہاتھوں کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔۔اگر میں تمہاری اوقات یا مقام بتانے پہ آگیا نا تو ابھی وہ سلوک کروں گا کہ ساری زندگی کسی سے آنکھیں اٹھا کر بات کرنے کے قابل نہیں رہو گی۔۔یاد رکھو اس وقت میری ملکیت ہو اور میرے ہی بیڈ روم میں میری بیوی کے روپ میں کھڑی ہو۔۔اس کا دوسرا بازو بھی آزاد کرتا جبڑا دبوچ کر چہرہ اوپر اٹھائے اس کے چہرے پر غرا رہا تھا۔۔اس کے لفظوں کی آگ کے ساتھ سانسوں کی تپش بھی روشانے کے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔۔وہ اس کی بے تحاشہ سرخ ہوتی ہیزل آنکھوں میں دیکھتی باتوں کا مطلب سمجھتی بے اختیار لرزی۔۔ویسے کوشش اچھی ہے مجھے زیر کرنے کی۔۔وہ اس کے ڈیپ گلے کھلی کمر اور برہنہ شفاف سڈول بازوں کی طرف آنکھوں سے بے باک اشارہ کرتا طنزیہ مسکرایا۔۔لیکن شاید یہ بھول گئی ہو کہ سامنے حیدر لاشاری کھڑا ہے کوئی عام مرد نہیں جو انتے سستے ہتھیاروں سے گھائل ہو جائے گا۔۔اس کے لفظوں پر روشانے کا اپنے حلیے پر دل کیا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔اففف کتنے بےباک لباس میں وہ اس انسان کے سامنے کھڑی تھی۔۔حیدر لاشاری ایسے نظارے روز اپنے ارد گرد دیکھتا ہے اس لیے ایسی کوششیں بیکار ہیں۔۔وہ مزید اس کے شرمندہ سرخ چہرے پر جھکا اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا۔۔بولنے سے اس کی گھنی مونچھوں کے ساتھ چبتی بیئرڈ اور لب بھی اس کے کان پر ٹچ ہو رہے تھے۔۔وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ اس سے بھی یہ سب کچھ زبردستی کروایا گیا ہے لیکن اتنی قریبی پر اوپر سے اپنے حلیے کو دیکھتے تین سو کی سپیڈ سے بڑھتی دھڑکن نے اسے کچھ بھی بولنے نہیں دیا۔۔وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیک اور لائٹر اٹھاتا جھک کر دوپٹہ اٹھا کر اس کے منہ پر پھینکتا بڑے بڑے قدموں سے باہر بالکنی میں نکل گیا۔۔جھٹکا لگنے سے خود کو سنبھالنے کے باوجود وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔بے اختیار دل پر اپنا ہاتھ رکھ گئی جس کی سپیڈ ابھی بھی زوروں پر تھی۔۔اپنے شفاف بازوں پر نظر کی جہاں اس جلاد کے ہاتھ ویسے ہی چھپے ہوئے تھے۔۔پھر اپنے جبڑے کو دونوں ہاتھوں سے دبانے لگی جو ابھی بھی سن محسوس ہو رہا تھا۔۔جنگلی کڑوا کریلا جلاد انسان۔۔
اللہ تعالی نے ہاتھوں کی جگہ پر ہتھوڑے فٹ کیے ہوئے ہیں۔۔وہ اپنا دوپٹہ خود پر پھیلاتی بڑبڑاتی اٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔یہ ہے لاشاری خاندان کی مربعوں پر پھیلی لاشاری حویلی جو نسل در نسل تھوڑی سی ردوبدل کے ساتھ آج بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔۔لاشاری خاندان کو وراثت میں تین ہی تو چیزیں ملی تھی ایک یہ مربوں پر پھیلی ہوئی حویلی،ہیزل آنکھیں اور دولت کی فراوانی۔۔جب دولت کی فراوانی ہو تو حسن اور وجاہت خود بخود ہی آ جاتے ہیں۔۔ایوب لاشاری اور خدیجہ لاشاری کی پانچ اولادیں تھیں۔۔دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔۔جن کی شادیاں آپس میں ہی خاندان میں کی ہوئی تھی۔۔یہی وجہ تھی کہ سارا لاشاری خاندان اسی مربوں پر پھیلی ہوئی حویلی میں رہائش پزید تھا۔۔بظاہر باہر سے ایک نظر آنے والی یہ حویلی اندر سے کئی حصوں میں تقسیم تھی۔۔ایوب لاشاری کا بڑا بیٹا جاوید لاشاری جس کی شادی اس کے چچا کی
بیٹی سے ہوئی تھی۔۔اس سے چھوٹی عائشہ لاشاری جس کی شادی اپنی خالہ کے گھر ہوئی۔۔پھر دو بیٹے واجد لاشاری اور جواد لاشاری جن کی منگنی ایک ہی گھر یعنی خالہ کے گھر ہوئی تھی جہاں بڑی بیٹی عائشہ کی شادی ہوئی تھی۔۔واجد لاشاری کی شادی تو اپنی خالہ کی بیٹی سے ہی ہوئی لیکن جواد لاشاری نے وہاں شادی کرنے سے انکار کر دیا اور سب کی مخالفت مول لے کر خاندان سے باہر اپنی پسند کی شادی کی۔۔اس سے چھوٹی میمونہ لاشاری جسکی شادی ماموں کے گھر ہوئی۔۔یہ سارے بہن بھائی اسی حویلی میں رہائش پزیر تھے۔۔آگے ان کی اولادوں کی شادیاں بھی آپس میں ہی ایک دوسرے کی اولادوں سے ہوئی ہیں۔۔جاوید لاشاری کی پانچ اولادیں ہیں۔۔سب سے بڑا بیٹا حنان لاشاری اس کے گھر اپنی بڑی پھوپھو عائشہ کی بیٹی عالیہ لاشاری ہے پھر حیدر لاشاری خاندان کا سب سے زیادہ بدلحاظ اور غصے کا تیز مار دھاڑ اور خون خرابے میں سب سے آگے جس نے تیس سال کا ہونے کے باوجود ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔۔
خاندان کے بڑے جب بھی اس کی شادی کی بات کرتے۔۔میں نے جب کرنی ہوئی آپ لوگوں کو بتا دوں گا آپ دوسرے بچوں پر دھیان دیں۔۔کہتے سب کو چپ کروا دیتا۔۔کوئی بھی اس کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا تھا حتی کہ اس کا باپ بھی نہیں۔۔اس سے چھوٹی نازیہ لاشاری اس کی شادی ماموں کے گھر ہوئی۔۔اس سے چھوٹا حاشر لاشاری اس کی بھی خالہ کے گھر شادی ہو چکی تھی۔۔سب سے چھوٹی بائیس سالہ عائزہ لاشاری جو سب بہن بھائیوں کی لاڈلی تھی سب سے زیادہ حیدر کی۔۔اس کا رشتہ چھوٹی پھوپھو میمونہ کے بیٹے سے طے تھا جس سے وہ بہت محبت کرتی تھی۔۔عائشہ پھپھو کے چار بچے تھے دو بیٹے دو بیٹیاں۔۔واجد لاشاری اس کے بھی چار بچے تھے دو بیٹے دو بیٹیاں۔۔بڑا بیٹا علی لاشاری۔۔جس کی شادی بڑی پھپھو کی چھوٹی بیٹی تالیہ سے ہوئی۔۔اس سے چھوٹا باسل لاشاری،پھر نائمیہ لاشاری جو بڑی پھپھو کی بہو تھی اور سب سے چھوٹی آئمہ لاشاری جو اپنی خالہ کی طرف بیاہی ہوئی تھی اسی کی نند تانیہ کو باسل کے لیے سوچ رکھا تھا۔۔
جواد لاشاری جو چھوٹا ہونے کی وجہ سے لاپروا انسان تھا۔۔اس نے اپنی خاندان میں منگنی ختم کر کے باہر اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کی تھی جو اس کی کلاس فیلو تھی سعیدیہ یزدانی۔۔وہ لڑکی اس کی وجاہت اور دولت پر مر مٹی تھی۔۔کیونکہ وہ خود بھی بہت خوبصورت تھی اس لیے بہت جلد وہ جواد لاشاری کو خود کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔۔سب سے اٹریکٹو تھی اس کی کوپر آنکھیں۔۔یوں پورے خاندان کی مخالفت مول لے کر وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کر کے لاشاری حویلی لاچکا تھا۔۔لیکن بہت جلد وہ حویلی کے طرز
زندگی سے اکتا گئی کیونکہ وہ آزاد پنچھی تھی آزادنہ ماحول کی پلی بڑھی اس کی فیملی اور لاشاری فیملی کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔اس نے جو سوچا تھا اتنی دولت کی ریل پیل ہونے کے باوجود حویلی ویسی نہیں تھی۔۔اس حویلی کے مرد کنزرویٹو اور تنگ ذہن تھےحویلی میں ہر قسم کی سہولت تو موجود تھی لیکن عورت کو عزت اور غیرت کے نام پر گھروں میں قید کیا ہوا
تھا۔۔یہ اس کی سوچ تھی۔۔اس کی آزادنہ سوچ کی وجہ سے اسے حویلی میں کسی نے بھی قبول نہیں کیا تھا۔۔سپشیلی اس کی ساس بڑی نند اور اس عورت نے جس نے اس کی بہن کی جگہ لی تھی۔۔اسے ہر چھوٹی چھوٹی بات سے شکایت ہوتی۔۔پھر یہ شکایتیں جھگڑوں میں بدل گئی۔۔ان کا روز کسی نا کسی بات پر جھگڑا ہوتا۔۔ روز روز کے جھگڑوں سے بہت جلد ہی دونوں کی یہ محبت اکتاہٹ اور بیزاریت میں بدل گئی۔۔بہت جلد وہ اس قید سے واپس شہر اپنے گھر چلی گئی جواد نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کیونکہ وہ اس کی ڈیمانڈز کہ سب سے الگ شہر میں گھر لے کر اس کے ساتھ رہے نہیں مان سکتا تھا۔۔پھر نہ وہ خود واپس آئی نہ ہی جواد اسے واپس لے کر آیا۔جب سعیدیہ کو پتہ چلا کہ وہ پریگننٹ ہے تو اس نے اس بچے کو ختم کروانے کی بھی کوشش کی لیکن ڈاکٹرز نے کچھ پیچیدگیاں بتائیں جس وجہ سے اسے یہ بچہ پیدا کرنا پڑا۔۔جب بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے ایک دن بھی اپنے پاس نہیں رکھا ہاسپٹل سے سیدھی لاشاری حویلی میں بھیج دی کہ وہ اپنی بچی خود سنبھالیں۔۔جواد لاشاری جو پہلے ہی اپنے خاندان کی لڑکی سے شادی کر کے دوسرے ملک جا چکا تھا۔۔بیٹی کی پیدائش کے بعد سعدیہ کی ڈیمانڈ پر اس نے اسے طلاق نامہ بھجوا دیا۔۔پھر تھوڑے ہی عرصے بعد سعدیہ نے بھی اپنے کزن سے شادی کر لی۔۔اس بچی کا نام اس کی بڑی تائی امی نے روشانے لاشاری رکھا۔۔یوں بنا ماں باپ کے وہ جاوید لاشاری کی حویلی میں پلنے لگی۔۔چھوٹی پھوپھو کے تین بچے تھے بڑا بیٹا نوید لاشاری جو عائزہ کا منگیتر ہے۔۔ پھر فائقہ لاشاری جس کی شادی اپنے تایا کے بیٹے ہوئی سے ہوئی پھر ملائکہ لاشاری جس کی شادی اپنے چچا کے بیٹے سے ہوئی۔۔اپنے بڑے دونوں بیٹوں کے مشورے سے ایوب لاشاری نے اپنے بیٹے پر زور ڈالنا شروع کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس لے کر جائے ۔۔پہلے تو وہ ٹالتا رہا پھر اس نے صاف منع کر دیا کہ وہ اسے یہاں نہیں لا سکتا کیونکہ روشانے کے وہاں جانے سے اس کی اپنی فیملی ڈسٹرب ہو جائے گی۔۔جواد کے صاف منع کرنے پر ایوب لاشاری نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ اس کی جائیداد کا آدھا حصہ اس کی بیٹی کے نام کروانے لگا ہے۔۔پہلے تو جواد لاشاری نے منع کر دیا لیکن پھر کچھ عرصہ بعد خود ہی اپنی جائیداد کا آدھا حصہ اپنی بیٹی کے نام کروا دیا۔۔دوسری بیوی سے بھی اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے۔۔اس کا ایک مکمل خاندان تھا اس لیے روشانے لاشاری کی اس کے خاندان میں کوئی جگہ نہیں تھی۔۔اور یہ بات وہ بھی جیسے جیسے بڑی ہوتی جا رہی تھی بہت اچھے سے سمجھ گئی تھی اور اس کو ہر بات سمجھانے میں سب سے زیادہ ہاتھ دادی بڑی پھپو دوسرے نمبر والی تائی کا تھا۔۔جس کی بہن کو اس کے باپ نے چھوڑ کر اس کی ماں سے شادی کی تھی اور پھر اسے بھی اپنی زندگی میں
نہیں رکھا۔۔