Want to read in your Language
وہ دولہن کے روپ میں اس کے بیڈ روم میں موجود تھی۔۔دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں سختی سے جکڑے ہر تھوڑی دیر بعد لمبی سانس کے ساتھ اپنی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔لیکن اس کے باوجود دل شدت سے دھڑکتا لرز رہا تھا اور ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ رہی تھی۔۔پتہ نہیں اس کی زندگی میں شامل ہونے والا یہ مرد اس کی قسمت کا کیا فیصلہ کرے گا۔۔ویسے تو جانتی تھی کیونکہ شروع سے اپنے بارے سب سنتی اور دیکھتی آئی تھی اب تو پھر زبردستی اس کی زندگی میں شامل کر دی گئی تھی اس لیے کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔۔وہ روم میں داخل ہوتاہی سینٹر ٹیبل پر پڑا رنگ برنگے پھولوں سے سجا واز اٹھا کر دیوار میں مارتا کرچی کرچی کر چکا تھا۔۔وہ بےاختیار بڑا سا گھونٹ بھرتی آنسوؤں کے گولے کو گلے سے اتارتی پیچھے کو کھسکتی بیڈ کراؤن سے جا لگی تھی۔۔وہ کمرے کے وسط میں کھڑا اپنے دونوں ہاتھ بالوں میں پھنسائے چہرہ اوپر کیے لمبے لمبے سانس لیتا خود کو کنٹرول کر رہا تھا۔۔دل چاہ رہا تھا کہ ہر چیز کو تہس نہس کر ڈالے۔۔کیونکہ وہ غصے کا بےحد برا انسان تھا۔۔جب اسے غصہ آتا تو سب لحاظ بھول جاتا تھا خود پر ہر کنٹرول ختم ہو جاتا۔۔وہ تو کوئی عام فیصلہ اپنی
مرضی کے خلاف برداشت نہیں کرتا تھا یہاں تو اس کی زندگی کا فیصلہ زبردستی اس سے کروایا گیا تھا۔۔اسے سرخ جوڑے میں گھونگھٹ گرائے سامنے بیٹھی ہستی اس پورے فساد کی جڑ لگی جس نے اس کے سارے گھر کا سکون تباہ کر دیا تھا۔۔اپنی گڑیا کی محبت کو بچانے کے لیے زبردستی اسے اپنے گلے ڈالنا پڑا۔۔وہ دونوں ہاتھ اپنے پہلوؤں پر ٹکائے آنکھیں اسی پر جمائے کھڑا تھا۔۔آنکھوں سے آگ نکل رہی تھی جو سامنے لرزتی ہوئی نازک
جان بہت اچھے سے محسوس کر رہی تھی۔۔گزرتا ہر
لمحہ اس کی اذیت کے ساتھ خوف میں اضافہ کر رہا تھا۔۔کاش وہ پیدا ہوتے ہی مر جاتی۔۔وہ اپنی انیس سالہ زندگی میں پہلی دفعہ پچھلے دو دن سے اپنے لیے موت مانگ رہی تھی۔۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں روایتی شوہروں کی طرح تمہارا گھونگھٹ اٹھا کر تمہارے حسن کے قصیدے بیان کرتا اپنی زندگی میں خیر مقدم کروں گا۔۔لفظ کیا تھے۔۔؟آگ کے شعلوں میں لپٹے انگارے تھے جو سامنے بیٹھی نازک سی لڑکی پر پھینکے گئے تھے۔۔وہ زور سے آنکھیں بند کرتی اپنے آنسوؤں کو اندر اتارتی لمبا سانس کھینچ گئی۔۔کیا کبھی اس کی دعائیں بھی قبول ہوں گی۔۔؟اتنی کوشش کہ باوجود بھی دو آنسو بےمول ہوتے ہاتھوں پر گرے۔۔یا اللہ پاک کیا زندگی میں ابھی اور امتحان بھی باقی ہیں۔۔وہ بےاختیار اپنے رب کو پکار گئی۔۔لرزتے ہاتھوں سے خود ہی اپنا گھونگھٹ اوپر کرتی کھسک کر بیڈ سے نیچے پاؤں اتارے۔۔مم۔میں نے منع کیا تھا اس سب کے لیے لیکن بھابھی نے بولا کہ یہ رسم ہوتی ہے۔۔وہ آہستہ سے کہتی بیڈ سے اٹھتی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی اس کی آواز میں واضح نمی تھی جو سامنے بارود بنے شخص کو بھی محسوس ہوئی۔۔وہ جو
اسے لرزتے ہاتھوں سے اپنا پلو اوپر کرتا دیکھ رہا تھا چہرے پر نظر پڑتے ہی کچھ دیر کے لیے نظریں سٹک ہوئیں۔۔بلاشبہ وہ دلہن کے روپ میں غضب ڈھا رہی تھی۔۔لیکن اس کے الفاظ اسے روپ کے سحر سے نکال کر جلتی آگ میں دھکیل گئے۔۔وہ دو قدم سے فاصلہ طے کرتا جارحانہ طریقے سے اس کے بازو پکڑ کر کھینچتا رخ اپنی طرف موڑ گیا۔۔وہ جو اپنے دھیان میں تھی اس افتاد پر اس کے سینے سے ٹکرائی۔۔رسم۔۔مطلب تم صرف بھابھی کے کہنے پر دلہن بن کر رسم نبھانے بیٹھی سب مجبوری میں کر رہی ہو۔۔وہ اپنے لفظوں کو چباتا اس کے دونوں
بازوؤں پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اس کے چہرے پر پھنکارتا بولا۔۔جبکہ وہ ابھی بھی اس کی جارحانہ گرفت میں اس کے سینے سے لگی شدت سے دھڑکتے دل سے سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔وہ جارحانہ تیور لیے سرخ آنکھوں سے اس پر جھکا اس کی نم آنکھوں میں گھورتا اس کی ہر لمحہ بڑھتی دھڑکن اپنے سینے پر صاف محسوس کر رہا تھا۔۔ظاہر ہے دل سے تو تب کرتی نا اگر میری جگہ کمرے میں کوئی اور داخل ہوتا جیسے تم
نے تصور کیا ہوا تھا۔۔وہ اس کے منہ سے اپنے لیے انکار خود سن چکا تھا اور تب سے ان دیکھی آگ میں جل رہا تھا بلکہ کھول رہا تھا۔۔تمھیں کیا لگتا ہے کہ اگر تم۔۔۔۔۔ رسم نبھا رہی ہو تو میں پورے دل سے تمہارے عشق میں پور پور ڈوبا یہ سب کر رہا ہوں۔۔میں بھی اپنی گڑیا کی خوشیاں بچانے کے لیے دنیا داری کی رسم نبھاتے ہوئے تم جیسا طوق اپنے گلے میں ڈال کر اپنے کمرے میں لایا ہوں۔۔ورنہ تم تو وہ خود غرض لڑکی ہو جو اپنی بہن جیسی کزن کا دل بھی ویران کرنے سے باز نہیں آئی۔۔دوست تھی نا تمہاری بیسٹ فرینڈ جیسے اپنی بہن بولتی تھی پھر بھی اسی کی محبت پر شب خون مارا۔۔وہ اپنے
ہاتھوں کی گرفت میں مزید سختی لاتا اسے جھنجھوڑتا لفظوں کے نشتر مارتا بولا۔۔تم نے تو اس گھر کے کھائے ہوئے نمک کی بھی لاج نہیں رکھی۔۔اس کے کہے گئے ایک عام سے جملے کے جواب میں وہ اپنے دل میں موجود سارے تیر اس پر چلاتا بولا۔۔غصے کی آگ میں اسے خود بھی اپنے لفظوں
کا احساس نہیں تھا۔۔وہ پور پور زخمی ہوتی بھری
آنکھوں سے یک ٹک اسے دیکھتی سن رہی تھی۔۔ضبط شدت سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔اس انسان کا ہر لفظ اس کی آنکھوں کی نمی میں اضافہ کر رہا تھا۔۔وہ بہت اچھے سے جانتی تھی کہ وہ زبردستی اس پر مسلط کی جا رہی ہے لیکن اس کے منہ سے سن کر تکلیف ہوئی تھی۔۔اسے اس وقت بازوں میں اٹھتی شدید درد سے اتنی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی جتنی اس کے لفظ دے رہے تھے۔۔اسے پتہ تھا کہ وہ انسان بھی دوسروں کی طرح اسے کچھ بھی بولنے کا کوئی حق نہیں دے گا اگر وہ بولے گی بھی تو اس پر کبھی یقین نہیں کرے گا۔۔اسی لیے وہ اپنی ہمت آزماتی چپ چاپ کھڑی اس کے وار سہہ رہی تھی۔۔جیسی اپنی ماں کی طرح یہ شکل معصوم ہے حرکتیں بھی بلکل ویسی ہی ہیں اس کی چپ پر وہ مزید بھڑکا۔۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی اس وقت اس انسان کے سامنے تو بلکل بھی نہیں لیکن پھر بھی ان کوپر آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر درد کی صورت میں شفاف عارضوں پر بہہ گئے جن کو وہ پلکیں جھپک جھپک کر اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔اسے ہمیشہ ہی تو اس کے ماں باپ کے حوالے سے ٹارچر کیا جاتا تھا۔۔اس انسان نے آج پہلی دفعہ اسے اس کی ماں کا حوالہ دیا تھا آج پہلی دفعہ اس کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہ آج پہلی دفعہ اس کے منہ سے اپنے لیے ایسے الفاظ سن رہی تھی۔۔اس کی شفاف آنکھوں میں درد کے ساتھ آنسو دیکھ کر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوتا زوردار آواز سے دروازہ بند کر گیا۔۔وہ جو جھٹکا لگنے سے ڈریسنگ ٹیبل پر گری تھی لڑکھڑاتی دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھتی خود کو سنبھال گئی۔۔پتہ نہیں آپ دونوں نے مجھے کیوں پیدا کیا۔۔جبکہ دونوں کو ہی میری ضرورت نہیں تھی۔۔وہ بہتے آنسوؤں سے سوچتی اپنا بناؤ سنگھار اتارنے لگی۔۔اس نے بھابھی کو کتنا منع کیا تھا کہ وہ دلہن نہیں بننا چاہتی۔۔کیونکہ بنا سنورا تو ان کے لیے جاتا ہے جن کی آپ من چاہی ہوں۔۔لیکن بھابھی کو لگتا تھا کہ جتنی وہ پیاری ہے دلہن بن کر جب اس شخص کے سامنے جائے گی تو وہ اسے دیکھتا خود بخود ہی پگھل جائے گا کیونکہ نکاح کے وقت وہ واقعی بہت غصے میں تھا۔۔لیکن کچھ لوگ حقیقت میں ہی کسی کے معاملے میں پتھر ثابت ہوتے ہیں جیسے یہ انسان اس کے معاملے میں شروع سے ہے۔۔وہ نظریں اٹھا کر سامنے مرر میں خود کو دیکھنے لگی۔۔وہ بہت پیاری تھی بہت ہی خوبصورت۔۔شاید خاندان کی سب سے
خوبصورت لڑکی۔۔سب سے بڑھ کر اس کی کوپر کلر کی آئیز جو اندھیرے میں بھی ہیروں کی مانند چمکتی تھی ان سے جھلکتی معصومیت۔۔سرخ و سفید رنگت،جس میں گلابیاں گھلی ہوئیں تھیں۔۔
لمبے گھنے براؤن بال،موٹی موٹی کوپر آنکھیں۔۔چھوٹی سی نوز،بھرے بھرے چہرے پر سرخ گلابی ہونٹ۔۔متناسب بھرا ہوا سراپا،بلاشبہ وہ انیس سال کی ایک خوبصورت حسین لڑکی تھی۔۔چہرے اور آنکھوں کی معصومیت اسے اور بھی پیارا بناتی۔۔سب کہتے تھے کہ وہ اپنی ماں جیسی ہے کیونکہ اس کی ماں بھی بہت خوبصورت عورت تھی۔۔وہ لاشاری خاندان کی پوتی تھی۔۔لاشاری خاندان میں
سب کی آنکھیں ہیزل کلر کی تھیں۔۔یہ آنکھیں سب کو وراثت میں ملی تھی۔۔لیکن پورے خاندان میں ایک واحد یہی لڑکی تھی جس کی آنکھیں کاپر کلر کی تھیں۔۔کیونکہ اس کی ماں لاشاری خاندان سے
نہیں تھی۔۔کاش وہ شکل و صورت میں اتنی پیاری نہ ہوتی لیکن اس کی قسمت خوبصورت اور پیاری ہوتی خاندان کی دوسری لڑکیوں کی طرح۔۔وہ کتنی دیر مرر میں خود کے نظر آتے عکس کو دیکھتی خود سے بولی۔۔کیا وہ بھی کبھی کسی مرد کی عزت بن پائے گی۔۔کیا اس کا بھی کبھی کوئی محافظ ہوگا جسے دوسری عورتوں کے ہوتے ہیں۔۔نہیں۔۔مجھے کبھی کوئی اپنی عزت نہیں سمجھے گا۔۔کیونکہ میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ہوں۔۔اور جس لڑکی کے ماتھے پر طلاق کا لیبل لگ جائے وہ عزت ڈیزرو نہیں کرتی۔۔طلاق بھی اسے اسی خاندان کے مرد نے اسی مرد کی وجہ سے دی جس کے نکاح میں وہ اس وقت تھی۔۔خود کے یوں بے توقیر ہونے پر اس کا دل درد سے بھرتا جا رہا تھا۔۔وہ کسی کے سامنے روتی نہیں تھی کیونکہ رونے سے انسان کمزور ہوتا ہے اور وہ کسی کے سامنے کمزور نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔کیونکہ جب لوگوں کے ہاتھ میں آپ کی کوئی کمزوری لگ جاتی ہے تو پھر لوگ ہمدردی کی آڑ میں آپ کو اپنے اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔۔لیکن ابھی اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ روئے چیخ چیخ کر روئے اور سب کو بتائے کہ وہ بھی انسان ہے اسے بھی درد ہوتا ہے۔۔وہ اوپر کو منہ کرتی لمبے لمبے سانس لیتی خود کو ریلیکس کرنے لگی۔۔لیکن آنسو بےاختیار ہو کر لڑی کی صورت بہنے لگے۔۔وہ ان کو بے دردی رگڑ کر صاف کرتی تو اوپر سے اور نکل آتے۔۔کیا زندگی تھی اس کی۔۔اگر وہ انسان ابھی باہر آگیا اور اسے روتے ہوئے دیکھ لیا تو پتہ نہیں اس پر اور کون کون سی دفعہ عائد کرے گا کہ پتہ نہیں کس کی یاد میں رو رہی ہوں یہی سوچتی وہ اپنی آنکھوں کو زور سے دبا کر بہتے پانی کو روکنے کی کوشش کرنے لگی جو اسے آج کمزور ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔۔۔وہ کتنی دیر سے واش روم میں سارے شاورز کھول کر کپڑوں سمیت نیچے کھڑا تھا۔۔یخ ٹھنڈا پانی بھی اس کے اندر لگی آگ کو بجھانے میں ناکام ہو رہا تھا۔۔یہ سوچ ہی اس کے اندر آگ بھر رہی تھی کہ وہ اس سے نہیں کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے سب جانتے بوجھتے کہ وہ انسان انگیجڈ ہے وہ بھی اس کی بیسٹ فرینڈ سے شائد گھر والوں کے مجبور کرنے پر اس سے نکاح کی حامی بھری تھی۔۔جب اس سے نکاح کا کہا گیا تو وہ اس سے بات کرنے اس کے کمرے میں آیا لیکن بھابھی اور اس کی بات سنتا دروازے پر ہی رک گیا جب بھابھی نے اس سے نکاح کے بارے میں پوچھا تو وہ بہتے آنسوؤں سے انکار کر گئی اس بچاری نے تو انکار بھی اسی کے بارے میں سوچتے ہوئے کیا تھا کیونکہ وہ اسے پسند نہیں کرتا تھا بلکہ سب کہتے تھے کہ وہ اس کی شکل دیکھ کر چڑ جاتا تھا۔۔اس کا پہلا نکاح بھی ایسے
ہی مرد سے کیا گیا تھا پھر بھابھی نے اس انسان کے بارے میں پوچھا جو اس کی پھوپھو کا بیٹا تھا اور اس کی بیسٹ فرینڈ اور اسی بارود بنے انسان کی بہن گڑیا کا فیانسی تھا جس کا سن کر وہ کتنی دیر شاک سے آنکھیں کھولے بھابھی کو دیکھ رہی تھی اور اس کی چپ باہر کھڑے انسان کو جلتے لاوے میں دھکیل گئی تھی اور وہ بنا اس سے بات کیے ہی واپس چلا گیا لیکن کاش کہ چند پل اور رک جاتا تو نہ خود اتنی تکلیف اٹھاتا نہ اسے دیتا۔۔
آج حیدر لاشاری کا نکاح اس کے چچا کی بیٹی روشانے لاشاری سے ہوا تھا۔۔وہ اپنے ہی نکاح میں ایسے شامل ہوا تھا جیسے کسی پرائے کے نکاح میں ہوتے ہیں۔۔وہ پہلا دولہا تھا جس نے اپنی شادی رف ٹراؤزر شرٹ میں اٹینڈ کی اور دلہن اپنے کمرے میں لے آیا تھا۔۔آج اس نے اپنی زندگی کے کچھ اصول توڑے تھے وجہ یہ لڑکی تھی۔۔یہی وجہ تھی کہ اس کے غصے میں بجائے کمی کے اور اضافہ ہو رہا تھا۔۔
اس نے اپنی زندگی کے کچھ اصول بنائے ہوئے تھے جن میں ایک اصول یہ تھا کہ اس نے آج تک کسی بھی عورت کے بارے میں غلط الفاظ استعمال نہیں کیے تھے۔۔نہ ہی وہ کسی کی کردار کشی کرتا تھا۔۔لیکن آج اس نے یہ دونوں کام کیے تھے ایک لڑکی کو غلط الفاظ بھی بولے تھے اور اس کی کردار کشی بھی کی تھی اوپر سے اسے اپنے گھر رہنے کھانے تک کا احسان جتلا دیا تھا۔۔لڑکی بھی وہ جو اس وقت اس کے نکاح میں تھی۔۔اس کی درد اور پانی سے بھری آنکھیں پھر سے ذہن میں ابھری۔۔آہہہہ۔۔وہ مرر کے سامنے آتا ایک دم چیختا اپنا ایک ہاتھ زور سے دیوار پر لگے مرر پرمار گیا۔۔کانچ اس کا ہاتھ زخمی کرتا کرچیوں میں تقسیم ہوا۔۔ہاتھ سے بلڈ نکل رہا تھا جیسے وہ بے حس بنا گہرے سانس لیتا دیکھ رہا تھا۔۔ایسے ہی کتنی دیر کھڑا لمبے سانس لیتا خود کو ریلکس کرتا رہا پھر جھک کر ڈراز سے میڈیکل باکس نکال کر اپنے ہاتھ کی بینڈج کرنے لگا۔۔
اس کام سے فارغ ہو کر بکھرے کانچ پر نظر ماری اور باہر نکل گیا۔۔ڈریسنگ روم میں داخل ہوتے چینج کیا اور اپنے بال ہاتھ سے سٹ کرتا وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔۔ڈریسنگ روم سے اپنے بیڈروم میں داخل ہوا تو نظریں بےاختیار بیڈ پر بیٹھی ہستی کی طرف اٹھیں۔۔جو خود کو دولہنپے کے روپ سے آزاد کر چکی تھی تن پر پہنے کپڑوں سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ پہلی رات کی دولہن ہے باقی سب آرائش و زیبائش یہاں تک کہ میک اپ بھی وائپز سے ریمو کر
چکی تھی بس ہونٹوں پر ہلکی ہلکی سی لپسٹک محسوس ہو رہی تھی۔۔نظریں اپنے ہاتھوں پر جمائے پتہ نہیں کن سوچوں میں پہنچی ہوئی تھی۔۔اس نے ایک نظر ڈریسنگ ٹیبل پر ڈالی جس کے اوپر اس کے
زیورات کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔۔وہ چلتا اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہوا اور ہاتھ میں پکڑا ایک کیس اس کے پاس بیڈ پر پھینکا۔۔